آیت اللہ حسن زادہ عاملی اور فال حافظ (رح)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ

آیت اللہ حسن زادہ عاملی اور فال حافظ (رح)

مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری

 

علامہ حسن زادہ آملی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس مختلف علوم پر تسلط رکھتے ہیں، جن میں ریاضی، علم نجوم، فلکیات، عمرانیات وغیرہ شامل ہیں. یہ بزرگ ریاضی میں بہت بڑا مقام رکھتے ہیں.
اپنی سوانح حیات میں فرماتے ہیں:

چھٹی کلاس کے بعد میں نے اسکول چھوڑ دیا اور بابا کی دکان پر منشی لگ گیا، تقریباً ڈیڑھ سال تک بابا کی دکان سنبھالتا رہا... کیونکہ چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد بابا نے مجھ سے فرمایا: بیٹا اب آپ نے جب لکھنا و پڑھنا سیکھ لیا ہے، تو بہتر ہے کہ دکان کا حساب کتاب آپ سنبھالیں. میں نے عرض کیا بابا میرا درس و مباحثہ بہت قوی کے مجھے اجازت دیں کہ ساتوین جماعت میں بیٹھوں اور پڑھائی جاری رکھوں.

بابا نے فرمایا: بیٹا میں تھک گیا ہوں، ھر ایک ادھ سال بعد ایک نیا بندہ دکان کا منشی بنتا ہے. بہتر ہے آپ خود مستقل طور پر دکان سنبھالیں. لیکن میں راضی نہ تھا اور بابا جان چکے تھے کہ میں راضی نہیں.
بھرحال ایک مدت کے بعد اللہ (ج) کی جانب سے ایک ایسا اتفاق ہوا کہ میری زندگی بدل گئی.

ایک کسان تھا جس کی قرآن کی قرآئت بہت اچھی تھی. اس نے قرآن میں میری دلچسپی کو بھانپ لیا اور
اس نے مجھے *نجف* کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تم تحصیل علم کیلئے کیوں نہیں جاتے ابھی وقت ہے.
اس کی بات میرے دل میں بیٹھ گئی اور میرے اندر قہرام بپا کردیا.

آدھی رات کو اٹھا، وضو کیا اور سارے گھر والے سو رہے تھے، میں نہیں چاہتا تھا انہیں پتہ چلے.
ہمارے گھر میں ایک *دیوان حافظ (رح)* تھا میں نے کہا : *جناب حافظ! مجھے نہیں معلوم کہ جو لوگ آپ کے دیوان سے فال دیکھتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں، میں آپ کیلئے ایک فاتحہ پڑھتا ہوں آپ بھی بتائیں کہ میں کیا کروں؟ کیا میں درس کو جاری رکھوں یا نہیں؟*
فاتحہ ختم کر کے دیوان کو کھولا، سارے اشعار تو مکمل طور سمجھ نہ سکا کیونکہ بچہ تھا لیکن میرے فال میں وہ غزل آئی جس میں لفظ
*مدرسہ* تھا. میں اشاتہ سمجھ گیا، اس لفظ نے مجھے بے تاب کردیا اور میں صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا کہ کب صبح ہو اور میں مدرسے جا کر پڑھائی شروع کروں. (۱)


استاد شوشتری کا علامہ حسن زاده آملی سے دیوان حافظ (رح) کے بارے میں سوال اور ان کا جواب:

علامہ نے فرمایہ: ایک کورس ملا صدرا کی اسفار کا، ایک کورس ابن سینا کی اشارات، اور کورس قرآن کی تفاسیر کا مکمل کریں تب آپ کو دیوان حافظ (رح) کی سمجھ آئے گی. (۲)


حوالہ:
(۱)
http://pirastefar.blogfa.com/post-1164.aspx

(۲) کتاب قبول اھل دل

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

شیعہ گرے ہوئے کو لات نہیں مارتا

 بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم

 

شیعہ گرے ہوئے کو لات نہیں مارتا

 

عبدالملک بن مروان، 21 سال ظالمانہ طریقے سے حکومت کرنے کے بعد ، سال 86 هجری میں انتقال کر گیا. اور اس کے بعد اس کا بیٹا ولید حاکم بنا. ولید نے مدینہ کے لوگوں کے دل جیتنے کی بڑی کوشش کی انہی کوششوں کی ایک کڑی یہ تھی کہ اس نے ھشام بن اسماعیل- عبدالملک کے سسر، جو ایک ظالم انسان تھا اور لوگ اس کی حکومت گرنے کی دعائیں کیا کرتے تھے، کو حکومت سے ھٹا کر اپنے چچا زاد بھائی عمر بن عبدالعزیز کو اس کی جگہ مقرر کیا، عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا کہ ھشام بن اسماعیل کو مروان بن حکم کے گھر کے سامنے کھڑا کیا جائے اور جس جس کے ساتھ اس نے برا سلوک کیا وہ آئے اور ھشام بن اسماعیل سے بدلہ لے. یہ سن کر لوگ جوق در جوق ابن حکم کے گھر کی طرف جانے لگے اور کسی نے ھشام پر لعنت کی تو کسی نے اسے گالی دے کر اپنے کلیجے کو ٹھنڈا کیا.
ھشام کو سب سے زیادہ ڈر امام زین العابدین (ع) اور علویوں سے تھا کہ جن کے ساتھ اس نے بہت برا سلوک کیا تھا. ھشام سوچ رہا تھا کہ اس نے امام (ع) اور ان کے بزرگوں پر جتنی لعن طعن و سب و شتم کیا اس کا انتقام قتل سے کم نہ ہوگا.
لیکن
امام (ع) نے علویوں سے فرمایا: *یہ ہمارا شیوہ نہیں ہے کہ گرے ہوئے انسان کو لاتیں مارنا شروع کردیں. اور دشمن کو کمزور پا کر اس سے انتقام لیں.*
جب ھشام بن اسماعیل نے امام (ع) کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ڈر کے مارے اس کے طوطے اڑ گئے اور اس کا رنگ زرد ہوگیا.
لیکن ھشام کی سوچ کے برعکس امام (ع) اس کے قریب گئے اور بلند آواز میں اسے سلام علیکم کہا، اس سے ہاتھ ملایا اور اس کے حال پہ رحم کھایا. اور اسے فرمایا:
*"اگر میں تمہاری کوئی مدد کر سکتا ہوں تو کہو میں حاضر ہوں."*
یہ سننے کے بعد مدینہ کے لوگوں نے بھی ھشام پر لعن طعن کرنا چھوڑ دیا.


حوالہ:
 شهید مطهری، داستان راستان، ج 1، ص 257

 


🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری

+989199714873

arezuyeaab.blogfa.com
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
(اس پیغام کے متن میں تبدیلی متقی انسان کی نشانی نہیں)

شیخ طوسی کی حاضر جوابی

بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم

 

 شیخ طوسی کی حاضر جوابی

 

ﻛﺘﺎﺏ ﻗﺼﺺ ﺍﻟﻌﻠﻤﺎﺀ میں ﻧﻘﻞ ہے: جب ھلاکو خان کی والدہ کا انتقال ہوا تو اس کی دربار میں بہت سے علماء جمع ہوئے. کچھ حاسد علماء نے چال چلی اور ھلاکو سے کہا: قبر میں منکر و نکیر آپ کی والدہ سے اعتقادات و اعمال کے بارے میں سوال کریں گے. چونکہ آپ کی والدہ ان پڑھ ہیں جواب نہ دے سکیں گی، لھذا بہتر ہوگا کہ بزرگ عالم دین خواجہ شیخ طوسی کو ان کے ساتھ قبر میں بھیجیں تاکہ جب سوال جواب ہوں تو شیخ آپ کی والدہ کی طرف سے جواب دے کر منکر و نکیر کو قائل کر سکیں.
شیخ طوسی بھی دربار میں موجود تھے اور انہوں نے اس سازش کو بھانپ لیا سو ھلاکو خان سے کہا: جب آپ کا انتقال ہوگا تو آپ سے زیادہ مشکل سوال ہوں گے اس لیئے مجھے آپ اپنے ساتھ لے جائیے گا. آپ کی والدہ کے ساتھ ان چھوٹے مولویوں کو بھیج دیں.
ھلاکو خان کو یہ تجویز پسند آئی اس نے مولویوں کو مار کر اپنی والدہ کے ساتھ دفن کردیا.

حوالہ:
نشریه ﻧﺼﻴﺤﺖ: ﺷﻤﺎﺭﻩ 6 13/7/1371، ﺹ 2

 

 🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
ترجمہ: الاحقر محمد زکی حیدری

+989199714873

arezuyeaab.blogfa.com
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
(اس پیغام کے متن میں تبدیلی متقی انسان کی نشانی نہیں)

غریب سبزی فروش اور عالم دین

بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم

 
غریب سبزی فروش اور عالم دین

 

ﻋﻠﺎمہ تہرﺍﻧﻰ فرماتے ہیں:
ہمارے نجف کے ایک ھمعصر دوست جو اس وقت نجف کے بزرگوں میں سے ایک ہیں، نے مجھے بتایا کہ :
میں ایک سبزی کی دکان پر گیا، میں نے ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﺮﺯﺍ ﻋﻠﻰ ﺁﻗﺎ ﻗﺎﺿﻰ (ﻗﺪﺱ ﺳﺮﻩ) کو دیکھا کہ جھک کر سبزیاں چھانٹ رہے ہیں. تعجب کی بات یہ کہ وہ بجائے تازہ گوبھی چننے کے سڑی ہوئی گوبھی نکال نکال کر رکھ رہے ہیں. میں غور سے دیکھتا رہا مرحوم نے یہ گلی سڑی گوبھیاں جمع کیں سبزی فروش کو دیں اس نے وزن کر کے پیسے بتائے اور آپ نے گوبھیاں عبا کے نیچے چھپائیں اور چل دیئے.
میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے اچھی گوبھی کی بجائے ان گلی سڑی گوبھیاں خریدنے کی وجہ پوچھی.
ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻗﺎﺿﻰ (رض) نے جواب دیا:
یہ سبزی والا ایک غریب آدمی ہے میں گاہے بگاہے اس کی مدد کر دیتا ہوں، لیکن میں نہیں چاہتا کہ مفت میں اسے کچھ دوں، اس لیئے میں ایسا کرتا ہوں کہ اسے اہانت بھی محسوس نہ ہو اور دوسری بات کہ اسے مفت میں کھانے کی عادت بھی نہ پڑ جائے اور کام کرنے سے اکتا نہ جائے. اس لیئے اس سے وہ چیز لیتا ہوں جو وہ کسی اور کو بیچ نہیں سکتا.
ہمارے لیئے تازہ گوبھی ہو یا دو دن پرانی مسئلہ نہیں، ہم کھالیتے ہیں اور مجھے پتہ تھا یہ گوبھی اس سے کوئی نہیں خریدے گا، وہ ظہر کے وقت جب دکان بند کرے گا تب انہیں پھینک دے گا. سو میں نے سوچا اسے نقصان نہ ہو اس لیئے میں نے یہ گوبھیاں لے لیں اور اسے قیمت دے دی. (۱)

ﭘﻴﺎﻣﺒﺮ ﺍﻛﺮﻡ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ علیہ ﻭﺁﻟﻪ وسلم نے ﻓﺮمایا: 
ﻣَﻦْ ﺍَﻛْﺮَﻡَ ﻓَﻘﻴﺮﺍً ﻣُﺴﻠِﻤﺎً ﻟَﻘِﻰَ ﺍﻟﻠﱠﱠﻪَ ﻳﻮْﻡَ ﺍﻟْﻘِﻴﺎﻣَﺔِ ﻭِ ﻫُﻮَ ﻋَﻨْﻪُ ﺭﺍﺽٍ. 

جو بھی مسلمان غریب کی تکریم کرے اللہ (ج) روز قیامت اس سے راضی ہوکر ملاقات کرے گا (۲)

۱) ﻣﻬﺮﺗﺎﺑﺎﻥ، ﺹ 20
۲) ﺑﺤﺎﺭﺍﻟﺎﻧﻮﺍﺭ، ﺝ 72، ﺹ 38

 
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
مترجم : الاحقر محمد زکی حیدری

989199714873+

arezuyeaab.blogfa.com
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺

مہمان کو گھر سے کیوں نکالا

 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم


مہمان کو گھر سے کیوں نکالا


شہید دستغیب لکھتے ہیں: حضرت ابراہیم (ع) خلیل اللہ کبھی مہمان کے بغیر، تنہا کھانا نہیں کھایا کرتے تھے. اکثر اوقات یہ ہوتا کہ راستے میں کھڑے ہو جایا کرتے، کسی مہمان کو بلا کر گھر لے آتے کہ ساتھ کھانا کھا سکیں. ایک دن انہیں ایک کافر مسافر ملا، آپ نے کھانے کے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور مہمان سے بھی کہا کہ وہ بھی اللہ (ج) کا نام لے کر کھانا شروع کرے. کافر نے کہا میں اللہ (ج) کو نہیں مانتا. ابراھیم (ع) نے کہا ایسی بات ہے تو اٹھو اور چلے جاؤ!
مہمان اٹھا اور چلا گیا.

اللہ (ج) نے ابراھیم (ع) کو وحی کے ذریعے فرمایا: *اے ابراہیم! مہمان کو کیوں بھیج دیا؟ ۷۰ سال سے میں اسے روزی دے رہا ہوں ایک دن اس کی روزی میں نے تہمارے اختیار میں دی تو تم نے اسے منع کردیا.*

ابراھیم (ع) اس کافر کے پیچھے گئے اور اسے جا کر التماس کی کہ واپس آئے. کافر نے کہا جب تک یہ نہیں بتاؤ گے کہ تمہیں کس نے میری طرف بھیجا، میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤنگا.
ابراھیم (ع) نے اسے پورا قصہ سنا دیا، یہ سن کافر نے کہا: وائے ہو مجھ پر! ایسے کریم اللہ (ج) سے روگرداں رہا، یہ کہہ کر اس نے ابراھیم (ع) کے ہاتھ پر بیعیت کی اور مسلمان ہوگیا.

حوالہ: روضہ ھای شہید دستغیب ص ۱۴۸

 

🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری

+989199714873

arezuyeaab.blogfa.com
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
(اس پیغام کے متن میں تبدیلی متقی انسان کی نشانی نہیں)

یبی معصومہ (س) کے حرم کی چھت پر سے بے حجاب عورتوں کو اتارنے کی سزا

 

 

 

بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم

بیبی معصومہ (س) کے حرم کی چھت پر سے بے حجاب عورتوں کو اتارنے کی سزا

 

تحقیق و تحریر: محمد زکی حیدری

 

ایران پر آمریکی پٹھو ظالم رضا شاہ کی حکومت تھی ایک دن عید نوروز کے موقع پر رضا شاہ کا خاندان قم میں بیبی معصومہ (س) کے حرم میں تفریح کی غرض سے آیا اور بے حجابی کی حالت میں بیبی سلام اللہ علیہا کے روضے کی چھت پر چڑھ کر تفریح کرنے لگا.
مرحوم ﺁﻗﺎ ﺳﻴﺪ ﺑﺎﻗﺮ ﻧﺎﻇﻢ
جو کہ مرحوم آیت اللہ ﺷﻴﺦ ﻣﺤﻤّﺪﺗﻘﻰ ﺑﺎﻓﻘﻰ کے ساتھیوں میں سے تھے، چھت پر گئے اور شاہ کے خاندان کو اس بے حجابی سے منع کیا اور نیچے آنے کو کہا.
شاہ کے گھر والوں نے شاہ کو فون گھمایا کہ تمہارے خاندان کی اھانت ہوئی ہے اور تم چپ بیٹھے ہو.  
رضا شاہ کچھ فوجیوں اور توپوں کے زیر سایہ قم میں داخل ہوتا ہے. یہ سوچ کر کہ ملاؤں نے پھر کوئی نیا ڈرامہ کھڑا کیا ہے اور وہ انہیں سبق سکھائے. لہذا وہ جوتوں سمیت بیبی (س) کے حرم میں داخل ہوا، ضریح مبارک کو لات مار کر چیخنے لگا "شیخ تقی کہاں ہے" اس کے کارندے جاکر مرحوم آیت اللہ شیخ محمد تقی بافقی کو لے آتے ہیں. اور یہ ظالم اس بزرگ کو اتنی لاتیں مارتا ہے کہ شیخ آخر عمر تک ان زخموں کے درد کو محسوس کرتے رہے.
پھر شیخ کو قم سے نکال دیا گیا اور شاہ عبدالعظیم (ع) کے روضے میں نظر بند کردیا گیا.
لوگ جوق در جوق شیخ کی عیادت کو آنے لگے اور اپ وہاں بھی امر بالمعروف و نھی عن المنکر کیا کرتے. حتی کہ ایک دن شاہ کے کارندے ان کے پاس گئے کہ آپ اگر حق کہنا چھوڑ دیں تو ہم شاہ سے آپ کی آزادی کیلئے سفارش کریں. شیخ محمد تقی بافقی نے جواب دیا "تم اور تمہارا شاہ ھیچ (کچھ بھی نہیں) ہو اور اور میں ھیچ سے کیا امید رکھوں، میں امام زمانہ (عج) کا خادم ہوں تم لوگوں نے جو کرنا ہے کرو" (1) 

ﺍﻣﻴﺮﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻠﺎﻡ نے ﻓﺮمایا:
ﻣَﻦْ ﺍﺳْﺘَﻐْﻨﻰ ﻋَﻦِ ﺍﻟﻨﱠﱠﺎﺱِ ﺍَﻏْﻨﺎﻩُ ﺍﻟﻠﱠﱠﻪُ ﺳُﺒْﺤﺎﻧَﻪُ. 
جو شخص لوگوں سے بے ﻧﻴﺎز ہونے کی کوشش کرے اللہ (ج) اسے بے نیاز کر دیتا ہے. (2) 

1) ﻣﺠﻠﻪ ﺣﻮﺯﻩ، ﺷﻤﺎﺭﻩ 34، ﺹ 64 ﻭ 65. 
2) ﻏﺮﺭﺍﻟﺤﻜﻢ

 🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺

989199714873+

arezuyeaab.blogfa.com
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
(اس پیغام کے متن میں تبدیلی متقی انسان کی نشانی نہیں)

میں اب امامت کے لائق نہیں رہا

 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم

 

میں اب امامت کے لائق نہیں رہا

 

ایک عالم دین بیان کرتے ہیں: ایک رمضان مبارک میں ہم نے مرحوم شیخ محدث عباس قمی (جنہوں نے مفاتیح الجنان جمع کی)
سے عرض کیا کہ مسجد گوھر شاد (حرم امام رضا علیہ السلام میں واقع) میں نماز پڑھائیں. انہوں نے ہمارے بہت اسرار کے بعد ہماری درخواست قبول کی اور ایک دن نماز ظھر و عصر ہم نے ان کی امامت میں پڑھی. ان بزرگوار کا سن کر ھر روز جماعتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا. ابھی دس دن بھی نہ گذرے تھے کہ جماعت حد سے زیادہ بڑی ھوگئی جم غفیر جماعت میں شریک ہونے لگا.

ایک دن شیخ محدث (رض) نماز ظھر ختم کر کے مجھ سے مخاطب ہوئے، کیونکہ میں ان کے قریب ہی نماز پڑھا کرتا تھا، فرمایا کہ :
میں اب نماز عصر نہیں پڑھا سکتا، یہ کہہ کر وہ مسجد سے چلے گئے اور پھر اُس سال لوٹ کر نمازجماعت پڑھانے نہ آئے. جب ہم نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ترک جماعت کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے: حقیقت یہ ہے کہ میں نے ظھر کی چوتھی رکعت میں محسوس کیا کہ میرے پیچھے نماز پڑھنے والے یا اللہ یا اللہ یا اللہ کی آوازیں لگاتے ہیں. یہ آوازیں دور دور سے آیا کرتی ہیں اور *اس کی وجہ سے میرے دل میں خوشی و فخر پیدا ہونے لگا کہ میرے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے. اس فخر و خوشی کی وجہ سے اب میں سمجھتا ہوں کہ میں پیش امامی کے لائق نہیں رہا.*


نقل از: حسین دیلمی، هزار و یک نکته درباره نماز

 


🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
تحقیق و ترجمہ: الاحقر محمد زکی حیدری

989199714873+

arezuyeaab.blogfa.com
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
(اس پیغام کے متن میں تبدیلی متقی انسان کی نشانی نہیں)

میں کیوں نماز پڑھوں میں تو گنہگار ہوں

 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 

میں کیوں نماز پڑھوں میں تو گنہگار ہوں

 

ایک انصاری جوان رسول (صلي الله عليه و آله) کے پیچھے نماز پڑھا کرتا تھا لیکن گناہ و حرام کام بھی کیا کرتا تھا.

لوگوں نے یہ بات حضور (صلي الله عليه و آله) کو بتائی. پيغمبر (صلي الله عليه و آله)  نے فرمایا:
*ایک دن اس کی نماز اسے گناہوں سے دور کر دے گی*
زیادہ عرصہ نہ گذرا کہ لوگوں نے دیکھا کہ اس نوجوان نے گناہوں سے توبہ کر لی.


حوالہ: ميزان الحکمه، ج5، ص371، ح 10254

🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
تحقیق و تحریر: الاحقر محمد زکی حیدری

+989199714873

arezuyeaab.blogfa.com
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
(اس پیغام کے متن میں تبدیلی متقی انسان کی نشانی نہیں)

آپ کے آنسو اس ماں کو سلام کریں گے*

 

 

بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم
 
آپ کے آنسو اس ماں کو سلام کریں گے

 

شہید عباس علی فتاحی دولت آباد اصفهان کا رہنے والا تھا. اسے چھ مختلف زبانوں پر دسترس تھی، گھر کا اکلوتہ کفیل تھا. ایران-عراق جنگ چھڑی تو اپنی بوڑھی ماں سے کہا: اماں! اجازت دو جنگ پہ جاؤں. ماں نے کہا: میرے عباس! تم میرے اس گھر کا واحد سہارا ہو، تم کہاں چلے؟ عباس علی بولا: امام خمینی نے حکم دیا ہے. ماں بولی: اچھا اگر امام نے کہا ہے تو جاؤ..

عباس محاذ پر آگیا. بہت سے لوگ اسے جانتے تھے. بولے اسے ایسی جگہ رکھو جہاں خطرہ نہ ہو. لیکن عباس نے خود کہا: میرا نام تخریب کاری والے گروہ میں لکھو. دوست سمجھے عباس کو شاید معلوم نہیں کہ تخریب کاری کا کام کیسا ہے بولے: عباس یہ کام مشکل اور خطرناک ہے بموں سے پلوں کو تباہ کرنا، چھوٹی غلطی سبھی کو تباہ کر سکتی ہے.
بالاخر عباس علی نے اصرار کیا تو اسے اس گروہ میں شامل کرلیا گیا.

*ایک دن* شهیدخرازی نے کہا: مجھے کچھ بندے چاہیئیں جو دوویرج دریا پر بنے چالیس دروازہ والے پل کو اڑانے کیلئے جائیں. لیکن پل عراقی فوجیوں کے پیچھے ہے یعنی عراقی فوج سے چھپ کر نکلنا ہے.
پانچ افراد آگے آئے سب سے پہلا فرد عباس علی تھا. ان پانچ افراد کو بھیجنے سے پہلے شہید خرازی نے انہیں اپنے پاس بلا کر کہا:
کسی بھی حالت میں عراقی تمہیں گرفتار نہ کرنے پائیں بس پل اڑا کر واپس آجاؤ، اگر پکڑے گئے تو بھی اسیری میں مت جانا کیونکہ آپریشن کا راز کھل جائے گا"
یہ پانچ بندے چل پڑے کچھ دنوں بعد پتہ چلا پورا گروپ لوٹ آیا پل بھی نہیں اڑا اور عباس علی پکڑا گیا. عباس کے ساتھیوں نے ماجرا سنایا کہ ہم لوگ پل کے قریب تھے کہ عراقیوں کو پتہ چل گیا فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور عباس علی پیر میں گولی لگنے کی وجہ سے گر گیا اور پکڑا گیا.
سس پس شروع ہوگئی کہ پلان ناکام ہوگیا عباس علی پکڑا گیا کہیں ایسا نہ ہو وہ شکنجہ برداشت نہ کر پائے اور زبان کھول دے اور...
عباس علی کے کزن نے کہا: حسین! عباس علی عمر کا کچا ہے لیکن بہت دلیر ہے گردن کٹا دیگا زبان نہیں کھولے گا. چلیں آپریشن آگے بڑھائیں.
فتح المبین نامی آپریشن شروع ہوا اور ہم لوگ کامیاب ہوئے. عراقی فوجی پسپہ ہوئے. ہم جب پل دوویرج پہنچے تو پل کے نیچے ایک لاش نظر آئی نہ اس کا ٹیگ تھا نہ کارڈ اور ... نہ ہی سر.
یہ عباس علی کی لاش تھی اس کے کزن نے کہا: دیکھا میں نے کہا تھا نا سر کٹا دے گا زبان نہیں کھولے گا.
جو عراقی فوجی پکڑے گئے انہوں نے بتایا کہ پل پر عباس کو بہت زیادہ شکنجہ دیا گیا مگر اس نے کچھ نہ بتایا تب انہوں نے اس کا زندہ زندہ سر قلم کردیا.

*اس کے جنازے کو اصفھان لایا گیا کہ اس کی ماں کے حوالے کیا جائے. بولے اس کی ماں کو مت بتانا کہ شہید کا سر موجود نہیں.*
*تشیع جنازے کا وقت ہوا تو ماں بولی: رکو!.یہ میرا اکلوتہ لعل تھا جب تک میں اسے دیکھ نہ لوں دفن کرنے نہیں دونگی*
*بولے بڑی اماں رہنے دیں کیا کرنا ہے دیکھ کر.*
*ماں نے کہا: خدا کی قسم نہیں جانے دوں گی.*
*بولے اچھا اماں لیکن صرف سینے تک دیکھنے کی اجازت ہے اس سے زیادہ نہیں.*
*ماں نے کہا: کہیں تم یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے کہ میرے عباس کا سر نہیں؟*
*بولے اماں عراقیوں نے عباس کا سر کاٹ دیا.*
*ماں نے کہا: مجھے میرا عباس دیکھنے دو!*
*کفن کھولا گیا، ماں آگے آئی جوان بیٹے کے جنازے پر جھکی اور عباس کے جسم کا ذرا ذرا چومنا شروع کیا،* *رقت آمیز منظر، حاضرین کی آہ و بکا کی آوازیں فلک مکینوں کے دل دھلانے لگیں یہ ماں ہے کہ اپنے اکلوتے جوان کا سینہ چومتے ہوئے آگے بڑھی،* *جب گردن کو پہنچی تو دیکھا گردن نہیں اس جگہ زخموں کو ڈھانپنے کیلئے روئی بھر رکھی ہے اس ماں نے کانپتے ہوئے بوڑھے ہونٹوں سے اس روئی کو چوما...*
*اور اس کے بعد عباس کی ماں کچھ نہ بولی.*

 


راوی: مجاہد محمد احمدیان
(از شہر تفحص)

مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری
*_arezuyeaab.blogfa.com_*

ماں کے بیٹے علی (علیہ السلام) کے صحابی بنتے ہیں

 

 

 

بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم

ایسی ماں کے بیٹے علی (علیہ السلام) کے صحابی بنتے ہیں!

 

ام سلیم (رض) رسول اللہ (ص) کے دور کی ایک با ایمان خاتوں تھی. ان کے شوھر ابی طلحہ (رض) بھی سچے مسلمان اور بزرگ صحابی تھے اور بدر، احد، خندق اور دیگر غزوات میں شریک تھے.
جب جنگ کا زمانہ نہ ہوتا تو ابی طلحہ (رض) مدینے میں اپنے معاش کی تلاش اور عبادت میں وقت گذارا کرتے اور ایک زمینی کے ٹکڑے پر کام کر کے زندگی گذارا کرتے.
ان دونوں میاں بیوی کو اللہ (ج) نے ایک بیٹا عطا کیا کہ جو نوجوانی میں ہی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور بستر تک محدود ہوگیا. ام سلیم (رض) اس کی خدمت کیا کرتی. رات کو جب ابی طلحہ (رض) کام کاج سے واپس لوٹتے تو سب سے پہلے اپنے بیٹے کے سرہانے جاکر اس کی خیر خبر لیتے، اسے پیار کرتے اور اس کے بعد اپنے کمرے میں جاکر کھانا کھا کر عبادت کرتے اور آرام فرماتے.
چند روز تک یہ معمول رہا کہ ایک دن عصر کے وقت اچانک باپ کی غیر موجودگی میں بیٹے کا انتقال ہو گیا. صابرہ ماں نے بجائے رونے اور سر پیٹنے کے بچے کا جنازہ سیدھا رکھا اور اس کے منہ پر کپڑا ڈال دیا.
رات ہوئی، ام سلیم (رض) نے اپنے شوہر کی تھکن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سوچا کہ ان کے آرام میں خلل نہیں ڈالے گی اور صبح تک بیٹے کے انتقال کی بات ان سے بیان نہ کرے گی.
ابی طلحہ(رض) گھر میں داخل ہوئے تو حسب معمول بیٹے کے بستر کی جانب بڑھے تو ام سلیم (رض) نے انہیں منع کیا کہ بچے کو آرام کرنے دیں کہ آج وہ ذرا آرام سے سو رہا ہے. یہ بات ام سلیم (رض) نے اس انداز میں کہی کہ شوہر کو محسوس ہوا کہ بیٹا اب صحتیاب ہونے لگا ہے اسی لیئے وہ سکون سے سو رہا ہے. ام سلیم (رض) کا رویہ اتنا اچھا تھا کہ ان کے شوہر نے ان کے ساتھ رات گذاری.

صبح ہوئی. ام سلیم (رض) نے کہا "ابی طلحہ! اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کو کوئی چیز کچھ دن استعمال کرنے کیلئے دے اور وہ اسے ایک مدت تک استعمال بھی کرے لیکن جب مالک اپنی چیز واپس مانگے تو وہ پڑوسی رونا شروع کردے کہ ہم سے اپنی امانت کیوں لے رہے ہو، تو ایسے لوگ آپ کی نظر میں کیا حیثیت رکھتے ہیں؟" ابی طلحہ (رض) نے فرمایا: "وہ پاگل ہی کہے جا سکتے ہیں."
ام سلیم (رض) نے کہا تو پھر ہم بھی پاگل نہ کہلائیں، اللہ (ج) نے اپنی امانت واپس لے لی ہے تمہارے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے. اس مصیبت پر صبر کرو اور اللہ (ج) کی رضا پر راضی رہو اور جنازے و تدفین کا اہتمام کرو.

ابی طلحہ (رض) پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا بیان کردیا. آپ (ص) کو یہ سن کر تعجب ہوا اور آپ (ص) نے اللہ (ج) سے اس عورت کیلئے دعا کی اور اس رات بیوی اور شوہر کے ملنے کو اچھے اور بابرکت طور پر منتج ہونے کی درخواست کی.
ام سلیم (رض) حاملہ ہوئی اور اسے اللہ (ج) نے بیٹا دیا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا.
اپنے والدین کی اچھی تربیت ملنے کی وجہ سے وہ ایک با اخلاق انسان بنا، پاک زندگی بسر کی اور پاک حالت میں دنیا سے چلا گیا.
یہ عبداللہ بن ابی طلحہ (رض) وہی تھے جو حضرت امیر المومنین (ع) کے بھترین اصحاب میں سے تھے.

 


حوالہ: تتمه المنتهی ص 51


مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

کہاں ہیں ہم اور کہاں یہ!

 بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم

کہاں ہیں ہم اور کہاں یہ!

 

ابھی قم کی ایک مسجد میں بعد از ظھر کے درس میں تھا. مولانا صاحب نے فرمایا ایک شخص آیت اللہ بروجردی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا فرمایا آغا مجھے "جوع" کا مرض ( ایسی بیماری کے جس میں جتنا بھی کھانا کھاؤ بھوک نہیں مٹتی) لگ گیا ہے.
آیت اللہ بروجردی (رض) نے اس سے حال احوال پوچھا کہ کب سے ہے یہ مرض بولا پوری طرح کچھ یاد نہیں کہ کس دن ہوا.
پھر بولا میں ایک کسان ہوں، اس بیماری سے کچھ دن قبل میں حسب معمول دوپہر کا کھانہ کھانے بیٹھا تو میرے سامنے ایک کتا آن کھڑا ہوا. اس کی شکل سے لگ رہا تھا وہ بھوکا ہے. لیکن میں نے سوچا میں بھلا جانور کو اپنا کھانا کیوں دوں سو میں نے اس کے سامنے سارا کھانہ کھا لیا اسے ایک نوالہ بھی نہ دیا تھوڑی دیر بعد وہ کتا بھوک کے مارے مر گیا.
آیت اللہ بروجردی (رض) نے فرمایا یہی وجہ ہے بیماری کی.

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری

میں باغی نہیں ہوں

میں باغی نہیں ہوں!


مترجم: محمد زکی حیدری

 

ایک دن مرحوم آخوند کاشی وضو میں مشغول تھے، اتنے میں ایک بندہ آیا جلدی سے وضو کر کے نماز پڑھنے لگ گیا.

جب کہ مرحوم کاشی بڑی تسلی سے وضو کر رہے تھے اور وضو کی تمام تر مستحبات انجام دیتے اور دعائیں بھی پڑھ رہے تھے.
اتنے میں کہ مرحوم کاشی کا وضو ختم ہو وہ شخص ظھر و عصر کی نمازیں ادا کر کے واپس بھی آگیا.
واپسی میں اس کی ملاقات مرحوم کاشی سے ہوئی آپ نے اس سے پوچھا:
کیا کر رہے تھے؟
بولا: کچھ نہیں!

فرمایا: تم کچھ بھی نہیں کر رہے تھے؟

بولا: نہیں!
وہ جانتا تھا کہ اگر کہے گا نماز پڑھ رہا تھا تو بات گلے میں پڑے گی.

آغا نے فرمایا: کیا تم نماز
نہیں پڑھ رہے تھے؟

بولا: نہیں!

آغا کاشی نے فرمایا: میں نے خود دیکھا تم نماز پڑھ رہے تھے!

بولا: نہیں آغا آپ کو غلط فھمی ہوئی ہے.

آغا کاشی نے پوچھا: اچھا تو پھر کیا کر رہے تھے؟

بولا: بس *اللہ (ج)* سے یہ کہنے آیا تھا کہ میں *باغی نہیں ہوں*

اس جملہ نے مرحوم آخوند کاشی (رحمه الله) کو بہت متاثر کیا.
مدتوں تک جب بھی مرحوم کاشی سے حال پوچھا جاتا تو فرماتے:
*میں باغی نہیں ہوں*

🙏
*یا اللہ (ج)* ہم جانتے ہیں کہ اس رمضان تیری جیسی شان تھی ایسی عبادت ہم نہ کر پائے... ہماری نمازیں و روزے کوئی عبادت کی حیثیت بیشک نہیں رکھتے ہم صرف یہ کہنے آئے تھے:
*ہم باغی نہیں ہیں*

*تیرے بندے ہیں کوئی غلطی ہوئی تو اسی جملے کے طفیل معاف فرما دینا.*

الهی و ربی من لی غیرک . . .

arezuyeaab.blogfa.com

یہ ہیں بھجت

یہ ہیں بھجت!

 

آیت اللہ مصباح یزدی فرماتے ہیں کہ انقلاب اسلامی سے قبل ہم اور آیت اللہ مشکینی و دیگر احباب سیاسی فعالیت کی وجہ سے کبھی اس شہر کبھی اُس شہر چھپتے پھرتے تھے بعض دوست جیل میں تھے.
میں بھی اپنے گھر سے دور کسی شہر میں جا چھپا.
یہ ہماری طالبعلمی کا زمانہ تھا، غربت تھی. میں اپنے بچے اللہ (ج) کے آسرے چھوڑ آیا تھا. کچھ ماہ بعد واپس آیا تو میری زوجہ نے بتایا کہ آیت بھجت کی زوجہ آئی تھیں چاول کی ایک چھوٹی سی بوری اور کچھ رقم دے کر گئی تھیں. مجھے تو تعجب ہوا کہ انہوں نے ہمارا گھر کیسے ڈھونڈ لیا لیکن جب میں خدا حافظی کیلئے باہر نکلی تو دیکھا ان کا بیٹا گلی کے سر پر کھڑا ہے.

آیت اللہ مصباح فرماتے ہیں میں نے بھت سوچا کہ آخر اس چھوٹے سے کام کیلئے آقای بھجت نے اپنی زوجہ کو کیوں بھیجا، یہ کام تو ان کا بیٹا بھی کر سکتا تھا لیکن بعد میں اخلاق کی کتب میں پڑھا کہ جب ایک گھر کا مرد سفر پر ہو اور اس کے پیچھے بیوی اور بچے ہوں تو *مرد کیلئے مکروہ ہے* کہ وہ اس گھر کی دھلیز پر جائے.
یہ پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ آیت اللہ بھجت کو حتی یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ ان کی اولاد بھی مکروہ فعل انجام دے.

 

مترجم : محمد زکی حیدری

اول وقت نماز

ایک قدم  

ایک قدم
 
ابوسعید ابوالخیر کو ایک مسجد میں تقریر کرنی تھی گرد و نواح کے گاؤں اور شہروں سے لوگ آکر ان کی تقریر سننے کیلئے جمع ہوئے، حتیٰ کہ بیٹھنے کی جگہ کم پڑ گئی  اور کچھ لوگوں کو مسجد کے باہر بیٹھنا پڑا لھٰذا ابوسعید ابوالخیر کے شاگرد نے لوگوں سے کہا "آپ کو خدا کا واسطہ جس جگہ آپ تشریف فرما ہیں اس جگہ سےایک قدم آگے آئیے" سب لوگ ایک قدم آگے آکر بیٹھ گئے۔
ابوسعید ابوالخیر کے تقریر کا وقت آیا توانہوں نے تقریر کرنے سے انکار کردیا! وہ لوگ جو ایک گھنٹے سے منتظر تھے اور بیٹھ بیٹھ کر خائف ہوگئے تھے، نے احتجاج کرنا شروع کردیا ابوسعید ابوالخیر نے تھوڑی  دیر خاموش رہنے کے بعد کہا "میں جو کچھ آپ لوگوں سے کہنا چاہتا تھا وہ میرے شاگرد نے کہہ دیا ، آپ ایک قدم بڑھائیں اللہ دس قدم آپ کی طرف بڑھائے گا۔"
 
منبع: www.pandamoz.com
مترجم: محمد زکی حیدری و آب

arezuyeaab.blogspot.com

افواہ

افواہ
 
ایک عوت نے اپنے ایک پڑوسی شخص کے بارے میں بہت ہی نازیبا بات گڑھی اور اسے پورے محلے میں پھیلا دیا۔ تھوڑے عرصے میں ہی یہ بات پورے شہر میں پھیل گئی، سب کو پتہ چل گیا اور اس افواہ کی وجہ سے اس شخص کو بہت صدمہ پہنچا اور اسے مشکلات کا سامنہ کرنا پڑا۔ ایک مدت کے بعد اس عورت نے اس شخص کا حال دیکھا تو اسے پشیمانی ہوئی لھٰذا وہ ایک بزرگ کے پاس گئی اور اس سے پوچھا کہ کس طرح اس جرم کا ازالہ کرے۔
بزرگ نے اسے کہا: بازار جاؤ اور ایک مرغہ خریدو، اسے مار کر اس کے پروں کو اپنے محلے میں ایک ایک کرکے پھیلا دو اور کل میرے پاس آنا۔" عورت کو تعجب ہوا مگر اس نے بزرگ کی بات مانتے ہوئے اس کام کو انجام دیا۔
اگلے دن جب وہ عورت اس بزرگ کے پاس آئی تو بزرگ نے اسے کہا :"اب جاؤ جو جو پر تم نے محلے میں پھیلائے تھے انہیں لے آؤ!" عورت گئی مگر تین چار پروں سے زیادہ لے کر نہ آ سکی۔   بزرگ نے اس عورت سے کہا: جس طرح پروں کا پھیلانا آسان تھا اور پھر سے انہیں جمع کرنا مشکل، اسی طرح افواہ کا پھیلانا بھی آسان ہوتا ہے مگر اسے ختم کرنا بہت مشکل۔"
 
 
مترجم: محمد زکی حیدری و آب
arezuyeaab.blogspot.com

مسجد گوہرشاد  اور  عاشق آیت اللہ

 

مسجد گوہرشاد

اور

عاشق آیت اللہ

مترجم از زبان فارسی: محمد زکی حیدری و آب

گوہرشاد بیگم ایک  باحجاب  اور مذہبی خاتون تھیں  نقاب ہمیشہ ان کے چہرے پر آویزاں رہتا،  انہوں نے حرم امام رضا  (ع) کے برابر میں ایک مسجد تعمیر کرنے کا قصد کیا انہوں نے اس کام پر مامور تمام مزدوروں اور معماروں کو ہدایت کی  کہ انہیں مسجد کی تعمیر کے سلسے میں  دوبرابر اجرت دی جائے گی  لیکن شرط یہ ہے کہ وہ سب لوگ کام کرنے دؤران با وضو رہیں گے، ایک دوسرے سے بدتمییزی اور بدکلامی نہیں کریں گے،اخلاق اسلامی اور یاد خدا کو ملحوظ خاطر رکھیں گے اور ایسے مزدور جو  ساز و سامان کی حمل و نقل کیلئے  جانوروں کا استعمال کرتے ہیں وہ ان بے زبانوں کے آب و دانے کا خیال رکھیں ان پر اضافی وزن نہ ڈالیں اور  انکو زدو کوب بھی نہ کریں ۔

گوہرشادمزدوروں کی نگرانی کیلئے مسجد جایا کرتیں، ایک دن وہ معمول کے مطابق مزدوروں کی نگرانی کیلئے مسجد  گئیں تو  ہوا کی وجہ سے ان کا مقنعہ اور حجاب  تھوڑا سا ہٹ گیا اور ایک نوجوان مزدور کی نظر ان کے چہرے پر پڑی لھٰذا جوان اپنا دل کھو بیٹھا اور گوہر شاد کے عشق میں  اتنا بے صبر و لاچار ہو گیا کہ   بیماری کے بستر تک جا پہنچا۔

بہت دن گذر گئے وہ کام پہ نہ آیا   گوہر شاد نے اس کی طبیعت کا معلوم کیا  تو پتہ چلا کہ وہ  بیمار ہے لھٰذا  گوہرشاد اس کی عیادت کیلئے تشریف لے گئیں۔

دن گذر تےگئے مگر جوان  کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی اسکی ماں نے اپنے بیٹے کی موت کو یقینی جان کر فیصلہ لیا کہ وہ ہر صورت میں   ملکہ  گوہر شاد سے مل کر انہیں اس قصہ سے آگاہ کریں گی چاہے اس کے لیے اسے جان سے ہی کیوں نہ ہاتھ دھونے پڑجائیں  لھٰذا ایک دن اس نے جاکر ملکہ سے قصہ بیان کردیا اور ملکہ کے رد عمل کی منتظر ہوئی، ملکہ نے  مسرت بھرے انداز میں اس سے کہا  :" اس  میں کوئی مضائقہ نہیں ، مجھے پہلے بتا دیتی  تا کہ  میں کسی بندہ خدا کی تکلیف دور کرنے کے کام آجاتی۔ اس نے جوان مزدور کی ماں سے کہا : "اپنے بیٹے سے جاکر کہہ دو کہ میں  اس سے شادی کرنے کیلئے راضی ہوں، لیکن اس سے پہلے دو امور کا انجام پانا لازمی ہوگا ایک   یہ کے میرےمہریہ کے طور پر  اسے اس نو تعمیر شدہ  مسجد میں چالیس دن کا اعتکاف کرنا پڑے گا اگر راضی ہے تو جا کر مسجد میں اعتکاف شروع کردے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ تمہارے راضی ہوجانے کے بعد میں اپنے شوہر سے طلاق لوں گی۔ اگر شرائط منظور ہیں تو اپنے کام پہ شروع ہوجائے۔"

جوان  عاشق  کو جب گوہر شاد کا یہ پیغام پہنچا تو اس خوشخبری سے اس کی طبیعت میں بہتری آئی  اور کہا چالیس دن تو کچھ بھی نہیں  اگر چالیس سال بھی کہے تو حاضر ہوں، وہ گیا اور  اس امید سے جاکر مسجدمیں بیٹھا کہ اس کی عبادت کے بدلے خدا اسے گوہرشاد جیسی بیوی سے نوازے گا۔

چالیسویں دن گوہر شاد نے جوان کی طرف  اپنا قاصد بھیجا  تاکہ معلوم ہو کہ اگر وہ راضی ہے تو  وہ اپنے شوہر سے طلاق طلب کرے۔ قاصد نے جوان سے کہا  : "کل تمہارے چالیس دن مکمل ہو رہے ہیں  ، ملکہ تمہاری منتظر ہیں کہ اگر تم راضی ہو تو  وہ بھی  اپنی شرط پوری کریں۔"

جوان عاشق  کہ جس نے گوہرشاد کے عشق میں نماز شروع کی تھی ، نماز  کی حلاوت  سے اس کا دل نرم ہو گیا اور  اس نے قاصد سے کہا: "گوہرشاد بیگم سے کہنا اولاً تو میں ان کا شکرگذار ہوں  دوسرا یہ کہ اب مجھے ان سے شادی کا کوئی شوق نہیں رہا۔" قاصد نے کہا : "کیا مطلب ؟   کیا تم گوہرشاد کے عاشق نہیں ہو؟  " جوان نے کہا:"  جس وقت گوہرشاد کے عشق نے مجھےبیمار کیا تھا اس وقت میں اصلی معشوق سے نا آشنا تھا لیکن اب میرا دل صرف خدا کے عشق میں تڑپتا ہے اور اس کے سوا کسی کو معشوق تسلیم نہیں کرتا میں خدا سے مانوس ہوگیا ہوں اور اس سے ہی مجھے سکون ملتا ہے لیکن گوہرشاد خاتون کا مشکور ہوں کہ  انہوں نے مجھے خدا سے آشنا کیا اور  ان کی باعث ہی مجھے حقیقی معشوق ملا۔۔۔"  اور وہ جوان مسجد گوہرشاد کا پہلا پیش امام بنا اور آہستہ آہستہ مطالعہ کرتے  ایک فقیہ اور عالم بن گیا اور وہ جوان کوئی اور نہیں بلکہ  آیت اللہ شیخ محمد صادق همدانی تھے۔

 

www.facebook.com/arezuyeaab

مرحوم آیت اللہ گلپائگانی کا قصہ

مرحوم آیت اللہ گلپایگانی کا جالب قصہ...!!!

همارے استاد نے بتایا مرحوم آیت الله گل پایگانی کو مدتوں بعد اس کے ساتھ پڑھنے والا ایک دوست ملا, بولا "آه واه واه رے قسمت دیکھو تم کهاں پهنچ گئے, مجتھد بن گئے اور میں تمهارے ساتھ ره کر بھی بدنصیب رها پته نهیں کیوں."
آقای مرحوم نے اس سے فرمایا " یاد کرو هم ایک استاد کے یهاں پڑھنے جایا کرتے تھے."
بولا "ھاں یاد هے."
فرمایا "یاد کرو که راستے میں کھیت آیا کرتا تھا اور تم کھیت کے اندر سے (شارٹ کٹ) لگا کر مجھ سے پهلے پهنچ جاتے اور میں کھیت میں داخل هونے کی بجائے اس کے گرد کا چکر لگا کر پهر پهنچا کرتا تھا."
بولا "ھاں یاد هے."
آپ نے فرمایا بس یهی میرے مجتھد بننے اور تیرے نه بننے کی وجه هے که میں عوام الناس کی ملکیت کو نقصان نھیں پهنچایا کرتا تھا."
.
مرجع عالی القدر مرحوم آقای گلپایگانی کی روح کیلئے ایک فاتحه کی التماس هے.

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری