عشق یوسف (ع)
عشق یوسف (ع)


ولایت، ولی اور موالی
تحریر: محمد زکی حیدری
بھیا بات ہے پہچان کی، سونے کی پہچان لوہار کو نہیں، لوہے کی سونار کو نہیں! اسی طرح الفاظ کی پہچان بھی کسی کسی کو ہوتی ہے، ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ لفظ ولایت کو ہی لے لیجئے، کسی عام پینڈو سے پوچھیں گے تو وہ اس کی معنٰی کرے گا پردیس کی، بیرون ملک کو "ولایت" کہتے ہیں، بھئی چودھری صاحب کا بیٹا ولایت گیا ہے اعلٰی تعلیم حاصل کرنے! اسی طرح اس سے اگر ولی کا معلوم کریں گے تو وہ آپ کو پڑوس میں جو درگاہ میں دفن بزرگ ہستی ہے، اس کی طرف اشارہ کرے گا اور موالی کی معنی پوچھیں گے تو وہ آپ کو کسی ڈیرے پر لے جائے گا، جو لوگ نشہ آور چیزوں کے عادی ہوں گے، وہ دکھا دے گا کہ جی ان سے ملیئے، یہ موالی ہیں۔ الطاف چرسی، اس موالی کا نام ہے صدیق بھنگی، اور وہ کونے میں آفیم کا موالی مشتاق پاؤڈری وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ یہ ہے عام، محدود و بالائی و ظاہری و سطحی نگاہ سے چیزوں کا نظارہ کرنا، ایک زاویے سے چیز کو دیکھنا، جو عام ہو۔ ان کی روح سے پردہ نہ اٹھانا، سرسری نگاہ کرنا، انگریزی میں کہتے "سپرفیشل لک" Superficial look))۔۔۔ یہ اس طرح ہے جیسے کتاب کی جلد کو دیکھ کر اس کا تکہ لگانا، اندازہ لگانا کہ اس کے اندر کیا لکھا ہوگا اور یہ ہے عام آدمی کی عادت! عاقل کبھی جلد سے کتاب کا اندازہ نہیں لگاتا، اس کی نظر الگ ہے، ایک باشعور انسان جس طرح سے چیزوں کو لیتا ہے تو اس کا زاویہ ہی الگ ہوتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو عام انسان کو محض ایک معمولی سی چیز نظر آرہی ہوتی ہے، وہ اسے غیر معمولی بنا کر پیش کر دیتا ہے۔
اسلام میں ولایت کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں، کیا ہے ولایت کہ جس نے اسلام کی دو شاخیں بنا دیں، سنی شیعہ! آخر ہے کیا ولایت؟ ہم تو بھیا اسے بیرون ملک سمجھتے ہیں۔ نہیں! ولایت ایک ملک نہیں، ولایت ایک جہان ہے، اگر اس کی روح سے پردہ اٹھاؤ تو معلوم ہو۔ اچھا بھئی اب بتا بھی دیں کہ ولایت کسے کہتے ہیں؟ ولایت کا مطلب ہے، اپنی مرضی ولی کو سونپ دینا، اپنے آپ کو اٹھا کر ولی کو پیش کردینا، اپنے آپ کو سونپ دینا، ولی کے سپرد کر دینا کہ صاحب اب میری سوچ بھی تمہاری مرضی کے مطابق، میری گفتار، میرا کردار، میرا عمل، میری حرکات، میری سکنات سب تمہاری مرضی سے ہوں گی، میری مرضی میں نے تمہیں دے دی! یہ ہوئی ولایت! اچھا آپ نے مرضی دی آپ بن گئے موالی، جس کو مرضی سونپی آپ نے وہ بن گیا ولی یا مولا! اب آئیں موالیوں کا تعارف کرواتا ہوں میں آپ کو۔ سب سے پہلا موالی اسلام میں ہے محمد (ص)! پہلا موالی جس نے اپنے مولا اللہ (ج) کو اپنی مرضی سونپ دی، جا کر اپنی مرضی اللہ (ج) کی گود میں ڈال دی کہ لو جو تمہاری مرضی وہ میری، تم مولا میں موالی!
اچھا محمد (ص) کو موالی بنتے دیکھا تو علی (ع) بھی صحبت میں آ کر موالی بن گئے! دیکھئے صحبت کے اثر میں موالی بننے کا نیا انداز! موالی کا دوست موالی۔۔۔ اپنی مرضی لی اور لے جاکر محمد (ص) کی گود میں ڈال دی کہ لو میری مرضی اب نہیں، اب سے تمہاری مرضی! ولایت کا نشہ، علی (ع) نامی یہ موالی چور ہے ولایت محمدی کے نشے میں۔ محمد (ص) نے کہا ایسے نہیں چلے گا ثابت کرکے دکھاؤ، زبانی دعویٰ کافی نہیں، ثابت کرو کہ واقعی موالی بن گئے ہو، تب دنیا کو بتاؤں گا، تب سند دوں گا موالی کی، جب اس موالی نے حقیقی موالی بن کر دکھا دیا تو قبل اس کے کہ محمد (ص) اسے سند دیتے بڑے مولا اللہ (ج) نے اپنے محمد (ص) نامی موالی کو آواز دی کہ اے محمد! اپنے موالی کا اعلان کر دو، اگر نہیں کیا تو سمجھو تم نے موالی ہونے کا حق ادا نہیں کیا ۔۔۔ محمد (ص) نے ہاتھ اٹھا کر کہا دیکھو، جس جس کا میں مولا ہوں، اس کا میرا یہ موالی علی (ع) مولا ہے! علی (ع) موالی تھے، غدیر کے دن مولا بن گئے۔ یہ ہے غدیر!
موالی!!! کیا سمجھتے ہو موالیوں کو، دنیا کو جینا سکھا گئے! انسانیت کو انسانیت سکھا گئے اور حضور اب آپ ہی کہیئے کتنا جاہل ہوگا وہ انسان جو کہے کہ جس شخص نے ان موالیوں کی پالنا کی وہ کافر! محمد (ص) اور علی (ع) جیسے موالیوں کو جس ابو طالب (ع) نے پال کر بڑا کیا، اسی ابو طالب کو (نعوذباللہ) کافر کہتا ہے یہ! یہی تو جھگڑا ہے!!! ذرا غور فرمائیں یہ وہی جاہل پینڈو، یہ وہی جاہل دیہاتی ہے، یہ وہی جاہل بدو ہے، جس نے 1400 سال پہلے الفاظ کو بالائی سطح سے، سرسری نگاہ اور سپر فیشلی دیکھنا شروع کیا تھا، اس وقت اس نے ابو طالب (ع) کو (نعوذباللہ) کافر کہا کیونکہ اس کے پاس لفظ ایمان کی معانی صرف زبانی اقرار تھی۔۔۔ اور آج اس کی اولاد ہے کہ الفاظ پر سرسری نگاہ ڈال کر ان کی معانی کرتی ہے، ولایت کو بیرون ملک سمجھتی ہے، موالی کو نشئی اور مست ملنگ کو ولی کہتی ہے۔۔۔
خیر وہ تو ٹھہرا جاہل! علی (ع) کو مولا ماننے کا دعویٰ کرنے والے ہم، کیا ہم اس سے الگ ہیں؟ کیا ہم حقیقی موالی ہیں؟؟؟ ہم نے موالی ہونے کا حق ادا کیا؟ دعویٰ کرتے ہیں موالی ہونے کا، قسم کھا کر بتائیں کہ کیا ہم نے اپنی مرضیاں علی (ع) کی گود میں ڈالیں؟ ہم نے اٹھا کر خود علی (ع) کے سامنے پیش کیا کہ مولا یہ لیجئے میری مرضی آپ کی خدمت میں، جو آپ کہیں میں کروں گا، میری کوئی مرضی نہیں، لایئے یہ قرآن، لایئے یہ نہج البلاغہ، ان میں جو جو آپ کی مرضی درج ہے، میں اسی پر عمل پیرا ہوں گا، میں کچھ نہیں بس آپ کا جو حکم! آپ کی مرضی سے نوکری کروں گا، سود والی نوکری نہیں کروںگا، آپ کہیں گے رشوت نہیں تو مولا نہیں، آپ کی مرضی سے شادی کروں گا۔
اخلاق دیکھوں گا لڑکی میں، دولت نہیں، جہیز کی شرط نہیں رکھوں گا لڑکی والوں سے! آپ کی مرضی کے مطابق اولاد کی تربیت کروں گا، نہیں گانے نہیں، انڈین چینلز نہیں، موسیقی نہیں، اولاد کو نمازی متقی بناؤں گا، شہید عارف حسین الحسینی، شہید محمد علی نقوی کے قصے سناؤں گا، عزادار بناؤں گا، بیٹے کو شہید سبط جعفر زیدی، بیٹی کو بنت الہدیٰ بناؤں گا، مولا بس آپ کی مرضی، میں آپ کا موالی۔۔۔ !!! ایسا کیا ہم نے عزیزو؟ ایسا نہیں کیا تو خود کو جب موالی سمجھیں تو اس کی معانی بھی وہی لیں، جو اس جاہل نے لئے کہ موالی مطلب نشئی، اور یاد رہے، یہ وہی ہے جس کا باپ علی (ع) کے باپ کو کافر کہتا تھا۔ تو بھیا اب ہم نے کون سا موالی بننا ہے، جو علی (ع) کی نظر میں موالی ہو یا جو اس جاہل عام آدمی کی نظر میں موالی ہو۔ فیصلہ ہم پر ہے۔
www.facebook.com/arezuyeaab

یہ کیسا باپ ہے!
تحریر:محمد زکی حیدری
جناب کہتے ہیں کہ قدیم مصر میں ایک شخص تھا، اس نے شادی کی مگر اسے اولاد نہیں ہوئی بیوی اچھی خاصی مالدار تھیں اما صاحب اولاد ہونے میں اپنے شوہر کی مدد نہ کرپانے کی بات کو لیکر بڑی مشوش رہتی، آخر اسے خیال آیا کہ کیوں نہ مصر کے بادشاہ کی طرف سے دی ہوئی ایک کنیز جو اس کے گھر کے کام کاج کرتی ہے، کو اپنے شوہر کو بخش دے اور اس سے عقد کر کے وہ صاحب اولاد ہو جائے، لہذا اس خاتون نے ایسا ہی کیا ور اپنی کنیز اپنے شوہر کو بخش دی، جب عقد ہوا تو بہت جلد اس کنیز سے اس شخص کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس شخص کی زندگی میں تو خوشیوں کی بہار سی آگئی مگر وہاں اس کی مالدار بیوی نے حکم جاری کیا کہ اس کنیز کو بمع اس کے بیٹے کسی دور افتادہ مقام پر چھوڑ آئے کیونکہ وہ ان دونوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتیں!عجب! اس شخص نے بجائے انکار کے اپنے نومولود اور بیوی کو لیا اور مصر سے دور ایک سنسان، سنگریلی بے آب و گیاہ زمین پر چھوڑنے کی غرض سے سفر شروع کیا۔ مقام مقصود پر پہنچ کر اس شخص نے اپنے نومولود اور بیوی کو اس ویرانے میں اتارا اور جب خود سواری سے اترنا چاہا تو اسے اپنی بیوی کی بات یاد آئی، اس کی بیوی نے اس شخص کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ سواری سے اترے بغیر واپس مصر آجائے لھذا اس شخص نے ایسا ہی کیا بغیر اترے واپس جانے لگا۔ نومولود بچے کی ماں نے آہ بکا کی اور لاکھ جتن کئے کہ آپ ہمیں یہاں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہیں، میں تو میں اس نومولود کا کیا قصور کہ اس موت کی گھاٹی میں سسک سسک کر جان دے، دامن گیر ہوئی، سواری کی رقاب تھام لی کہ نہیں جانے دے گی۔ اس شخص نے اس عورت کی ایک بھی نہ سنی اور واپس مصر کوچ کیا۔ اللہ اکبر یه کیسا باپ ہے!
دوپہر کا وقت ہوا چاروں طرف آسمان سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑ اور ان کے درمیاں گرم سنگریلی زمین پر ایک ماں اپنے نومولود کو گود میں لیئے موت کی منتظر ہے، دور دور تک انسان تو انسان پرند و چرند تک کا بھی کوئی نام و نشان نہیں، ماں پریشان، ماں حیران، ماں افسردہ، پہاڑیوں کے بیچ میں دوپہر کا سورج اپنی آب و تاب سے چمکنے لگا اور اس نے اس پتھریلی زمیں کو جہنم کے جیسا گرم کر دیا۔ جو تھوڑا سا پانی لائی تھی وہ ختم ہو چکا ، پستان میں دودہ کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں ، بچہ پیاس کے مارے چیخنے لگتا ہے! کیا کرے؟ سامنے ایک پہاڑی کی طرف دوڑتی ہے شاید کہیں کوئی پانی کا قطرہ میسر آجائے کہ نومولود کی حلق کو گیلا کر سکے مگر نہیں پہاڑ اور اس کے عقب میں بھی دور دور تک پہاڑہی پہاڑ، اتری اس پہاڑ سے، دوسرے پہاڑ کی جانب دوڑ لگائی لیکن مایوسی ۔۔۔! سمجھ گئی کہ اب اوپر والا ہی کچھ کرے تو کرے اس کے بس میں پانی کا انتظام کرنا ناممکن ہے! تھک ہارکے بیٹھ گئی خود بھی پیاس کے مارے مرنے کو تھی کہ نومولود نے ایڑیاں رگڑیں اور یہ ادا خداوند متعال کو اتنی پسند آئی پانی کا چشمہ جاری ہوا۔۔۔
جی! آپ نے درست سمجھا میں کسی عام باپ کی ، کسی عام ماں کی، کسی عام نومولود کی نہیں بلکہ بت شکن حضرت ابراہیم (ع) اس کی مجاہدہ بیوی حضرت ھاجرہ (س) اور اسماعیل (ع) ہی کی بات بیان کر رہا ہوں۔ وہ سنگریلی زمین مکہ کی وادی تھی، اور بے اولاد زوجہء ابراہیم (ع) کا نام تھا سارہ (س)! بالقصہ اسماعیل (ع) کے اعجازنبوت سے زمزم جاری ہوا تو آس پاس کے پرندوں کے جھنڈ اس طرف آنے لگے، یہ دیکھ کر مکہ کے مضافات میں رہنے والے قبیلے جرہم کے کچھ لوگ اس طرف متوجہ ہوکر مکہ آئے اور بیبی (س) کی اجازت سے وہاں سکونت اختیار کی ، ہاجرہ (س) نے انہیں اپنی روداد سنائی، ابراہیم (ع) بھی کبھی کبھار ان کے یہاں سے چکر لگا لیا کرتے تھے۔
یہ ہے ھاجرہ (س)۔۔۔! اور دیکھیئے یہاں بیٹا سنِ بلوغت کو پہنچا وہاں سے وہی باپ جو اسے بچپن میں بیابان میں چھوڑ گیا تھا، چھری لے کر آگیا، بولا چلو بیٹا گردن کاٹنی ہے تمہاری! ارے۔۔۔! ہاجرہ (س) اٹھو دیکھو تو تمہارے شوہر کے کام! کوئی اور عورت ہوتی تو اٹھ کھڑی ہوتی کہتی کہ میاں دیا ہی کیا ہےتم نے؟ ہیں؟ تمہاری لاڈلی بیوی کے تو بچہ ہوا ہی نہیں، شکر کرو میں نے تمہارے نرینہ اولاد جن کر دی، اور اس کا سلہ یہ دیا کہ ویرانے میں پھینک کر آ گئے؟ اور اب جب خون پسینہ بہا کر میں اسے پال پوس کر بڑا کیا تو آگئے کہ گردن کاٹنی ہے! بھیڑ بکری سمجھا ہے اسے؟ میرا لخت جگر ہے! ارے کرامتوں والا میرا لاڈلا جس کی کرامت سے چشمہ جاری ہوا اس کی گردن کاٹنے چلے ہو کیسے باپ ہو تم۔۔۔؟ لیکن نہیں! یہ ہاجرا (س) ہے! ظاہر کی نہیں باطن کی آنکھوں سے دیکھتی ہے، اللہ (ج) کا منتخب نبی جب کہہ رہا ہے تو بس! اللہ (ج) اور بس بات ختم! یہی وجہ تھی کہ اللہ (ج) نے بھی ہاجرہ (س) کو عزت بخشی کہ کوئی کتنا بھی بڑا پھنے خان ہو حج پر جائے گا تو اس ہاجرہ (س) کے قدموں پر قدم رکھ کر نہیں دوڑے گا حاجی نہیں کہلائے گا۔
میری ماؤں، بہنو! اللہ (ج) اپنے بندوں کو آزماتا ہے،آپ جب تکلیف میں ہوں تو ھاجرہ (س) کو یاد کریں، ہاجرہ (س) اور اس کے نومولود کا عکس اپنے ذہن میں لائیں، بیابان کو یا د کریں، پتھریلی، تپتی زمین و تنہائی و بے سر و سامانی۔۔۔! اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو آپ کے اندر استقامت و صبر پیدا ہوگا آپکو آپکی تکلیف ناچیز محسوس ہوگی اور دوسری بات یہ کہ اس تکلیف کے بعد آنے والے الہٰی انعامات کی امید آپ کے اندر پیدا ہوگی، کیا ایسا ہو سکتا ہے اللہ (ج) آزمائے اور اس آزمائش میں کامیابی پر انعام سے نہ نوازے؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا لہٰذا آج اگر آپ کو اپنی زندگی مکہ کی سی گرم وادی کی طرح محسوس ہو رہی ہے پھر بھی آپ اللہ (ج) سے پر امید ہیں، تویقین جانئے کہ اللہ (ج) آپ کی زندگی میں زم زم جاری کرنے والا ہے، آپ کے قدموں کے نشانات پر دنیا بھر کے انسانوں کو چلانے والا ہے۔
www.facebook.com/arezuyeaab
arezuyeaab.blogspot.com

دو بادشاہ
تحریر: محمد زکی حیدری
حضور ایسا ہے کہ دور قدیم کی ایک ریاست میں دو بادشاہ تھے ایک کا نام ردیح تھاجو کہ انصاف پسند تھا خدا سے ڈرنے والا، بلکہ اس کا پورا خاندان ہی اچھا تھا اور اس کے مقابلے میں جو دوسرا بادشاہ تھا جس کا نام ہیواعم تھا وہ بدنام زمانہ تھا ظالم تھا، مفادپرستی و منافقت اس کے آباو اجداد کی میراث کے طور پر اسے ملی تھی۔ ردیح صاحب کی رعایا بڑی جوشیلی تھی، یہ جب ردیح بادشاہ کی دربار میں آتی تو کہتی تھی بادشاہ سلامت حقیقی بادشاہ آپ ہیں ہیواعم ظالم ہے اپنے منہ بادشاہت کا دعویٰ کرتا هے, اس میں اہلیت ہی نہیں، یہ ظالم ، یہ غاصب یہ۔۔۔ آپ ظل الٰہی، آپ خدا کامظہر، آپ یہ آپ وہ۔۔۔ ان کی محبت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب ردیح بادشاہ کا جنم دن ہوتا تو پورے شہر کو مشعلوں سے روشن کرتے اور بڑے بڑے خطباء، شعراء، قصیدہ خواں بلا کر ردیح بادشاہ کی شان میں محافل منعقد کرتے اس کے برعکس یہ ہیواعم بادشاہ کی دشمنی میں اتنے آگے جاچکے تھے کہ انہی محافل میں سرعام ہیواعم اور اس کے چاہنے والوں پر لعنت کرتے تھے۔ لیکن جب بھی ردیح کی دربار سے باہر نکلتے تو ردیح کی عملی مخالفت کرتے تھے اور ہیواعم سے عملی موافقت!
ردیح نے ان سے کہہ رکھا تھا زنا مت کرنا، سود مت کھانا، رشوت مت لینا ، جھوٹ مت بولنا حتیٰ کہ ہیواعم کے لوگ تم سے بدتمیزی کریں تو بھی انہیں حسن ظن دکھانا لیکن یہ لوگ باہر جاکر ہر وہ کام کرتے جس سے ردیح نے انہیں منع کیا تھا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اس وقت بھی ان کی زبان پر ردیح بادشاہ کی تعریف و توصیف جاری رہتی!!! حیرت تو تب ہوتی کہ جب ردیح کی دربار میں ردیح سے وفاداری اور عشق کا دم بھر کے جوں ہی باہر نکلتے تو سیدھے ہیواعم کے چاہنے والوں کے ساتھ مل کر ہیواعم کے پسندیدہ کام یعنی شباب و غنا کی محافل سجایا کرتے لیکن اس وقت بھی ان کی "زبان" پر تعریف و توصیف و فصائلِ ردیح ہی جاری رہتے۔ ردیح کے کچھ سچے ساتھی ان سے کہتے کہ بھائی یہ کیا بات ہوئی تم تو زبان سے ردیح کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن عمل میں تو ہیواعم باد شاہ کی بتائی ہوئی نحس باتون پر چلتے ہو، اور انہی کے ساتھیوں کے ساتھ نظر آتے ہو! تو وہ کہتے تم لوگ منافق ہو تمہیں ہمارے بادشاہ ردیح کی تعریف گراں گذرتی ہے ہم تو ردیح کے دشمنوں پر لعنت بھیجتے ہیں صبح شام، تم وہ ہو جو چاہتے ہو کوئی ردیح بادشاہ کی تعریف نہ کرے۔۔۔ اور یہ کہہ کر یہ لوگ ردیح بادشاہ کے سچے ساتھیوں کو "رصقم" کے لقب دیتے اور ردیح کے سچے ساتھی انہیں "یلاغ" کہہ کرپکارتے۔۔۔
میرے عزیز شیعہ بھائیو! آپ کو ردیح کے ان زبانی دعویدار درباریوں پر بہت غصہ آیا ہوگا بیشک آنا چاہیئے یہ فطری عمل ہے! لیکن آپ سے عرض ہے کہ ان دونوں بادشاہوں کے ناموں اور ردیح بادشاہ کے ماننے والے دو گروہوں کو ایک دوسرے کو دیئے ہوئے القاب کو الٹا پڑھیئے تو آپ کو قصہ سمجھ آئے گا کہ یہ دور جہالت کے کسی بادشاہ کی رعایا کی کہانی نہیں بلکہ 21 ویں صدی کے پاکستانی شیعوں کی ہی کہانی ہے !!! کوئی ردیح بادشاہ نہیں یہ "حیدر" ہے اور نہ کوئی " ہیواعم" بادشاہ ہے بلکہ یہ معاویہ ہے اسی طرح جو دو گروہ ہیں انہیں الٹا پڑھیئے تو "مقصر" اور "غالی" ہی بنتے ہیں!
میں نے ایسا کیوں کیا؟ تاکہ آپ کو یقین دلاؤں کہ ہمارے پاکستان کے شیعوں کی کہانی 21 ویں صدی نہیں بلکہ دور جہالت کے قدیم بادشاہی دور میں بھی لے کر "فٹ" کردی جائے تو بھی آپ کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ خدارا یا تو قول و فعل میں حیدر (ع) کے ہوجاؤ یا قول و فعل میں معاویہ کے۔ صرف امام بارگاہ میں حیدر حیدر کرنے سے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔
ہم علی (ع) کوامام بارگاہ میں چھوڑ کر آجاتے ہیں، وہاں علی (ع) کے محب ہوتے ہیں لیکن جیسے باہر نکلے آفیس گئے رشوت لیتے وقت نوٹوں کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں ، بیٹے بیٹی کا رشتہ کرتے وقت داماد و بہو میں بنگلے، گاڈی، بنک بیلنس دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، ٹی وی دیکھتے وقت ہم ہندوستانی چینلز میں موجود فیشن کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، لڑکے لڑکیاں اپنا ہمسر پسند کرتے وقت خوبصورتی و مال و زر و۔۔۔ کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، ووٹ ڈالتے وقت کسی خبیث بھائی، کسی منحوس وڈیرے، کسی مکروہ پیر، کسی جاہل چودھری، کسی ظالم سردار کا انتخابی نشان دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے۔۔۔
بس کردو یار!!! خدا کو مانو!!! اب تو سدھر جاؤ یہ اکسویں صدی ہے دوستو! دنیا کے شیعہ کہاں جا پہنچے اور آپ ابھی تک علی (ع) و حسین (ع) کو "رسمی" امام بناکر بیٹھے ہیں، مخصوص دنوں تک محدود علی (ع)، مخصوص عمارتوں تک محدود علی (ع) ، مختلف جلوسی سڑکوں تک محدود حسین (ع)۔۔۔۔ هم نے لامحدود شخصیات کو محدود بنا دیا اور خوش هوتے ہیں، فخر کرتے ہیں!!! بس مسجدوں و امام بارگاہوں میں حیدر حیدر ہے مگر زندگیوں میں نہیں۔۔۔ علی (ع) کو صرف امام بارگاہ میں مت لاؤ علی (ع) کو زندگی میں لاؤ۔ جنت اس کی جس کی "زندگی میں" علی (ع)ہوگا۔
www.fb.com/arezuyeaab
کیا امام موسیٰ کاظم (ع) کی بیٹیوں کی سید لڑکا نہ ملنے کی وجہ سے شادیاں نہ ہوسکیں؟
تحریر: محمد زکی حیدری
امام موسیٰ کاظم (ع) کی بیٹیوں کی شادی نہ ہونے کے بارے میں تاریخی کتب میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں ہم ان میں سے ہر ایک پر مفصل گفتگو کریں گے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ ایک معصوم کی اتنی بیٹیاں کیوں نہ بہائی جا سکیں؟
وصیت امام موسیٰ کاظم کہ میری بیٹیاں شادی نہ کریں (استغفراللہ)
ایک تاریخ دان لکھتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم (ع) نے خود وصیت کی تھی کہ میری کوئی بھی بیٹی شادی نہ کرے!
یہ کہنا ہے ابن واضح یعقوبی کا ۔ اس کے بقول : موسی بن جعفر (امام موسی کاظم) کی 23 بیٹیاں تھیں اور 18 بیٹے تھے : علىرضا ، ابراهيم ، عباس ، قاسم ، اسماعيل ، جعفر ، هارون ، حسن ، احمد ، محمد ، عبيدالله ، حمزه ، زيد ، عبدالله ، اسحاق ، حسين ، فضل و سليمان۔ موسی کاظم (ع) نے وصیت کی کہ میری کوئی بھی بیٹی شادی نہ کرے اور ان میں سے کسی بیٹی نے شادی نہیں کی سوائے ام سلمہ کہ جنہوں نے مصر میں قاسم بن محمد بن جعفر بن محمد سے عقد کیا لیکن اس بات کو لیکر قاسم اور ان کے رشتیداروں میں بڑی بحث چھڑ گئی اتنی حد تک کہ قاسم کو قسم کھانی پڑی کہ انہوں نے سلمہ کا جامہ اس سے دور نہیں کیا اور سوائے عقد موقتی (یعنی متعہ) کے کچھ نہ کیا تا کہ سفر حج کیلئے دونوں ایک دوسرے کے محرم ہوجائیں۔ اس کے علاوہ اور اس کا کوئی مقصد نہیں تھا۔
علمائ کرام نے یعقوبی کی بات کا انکار کرتے ہوئے مندرجہ ذیل دلائل پیش کئے ہیں:
ایسی وصیت سنت رسول اللہ (ص) اور آئمہ اطہار (ع) کی سیرت کے خلاف ہے اور امام معصوم سے ایسی وصیت کا آنا ناممکن اور نا معقول ہے۔
اب جو وصیت امام (ع) نے کی تھی اس کی روشنی میں ہم یعقوبی کی بات کا جائزہ لیتےہیں۔
ابراهيم بن عبدالله از موسى بن جعفر ( ع ) نے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کچھ افراد مثل اسحاق بن جعفر، ابراهيم بن محمد و جعفر بن صالح وغیرہ ۔۔ کو اپنی وصیت کا گواہ بنایا اور فرمایا : اُشْهِدُ هُمْ اَنّ هَذِهِ وَصِيَّتى . . . اَوصَيْتُ بها اِلى عَلَىٍٍّ اِبْنى . . . و اِنْ اَرادَ رَجَلٌ مِنْهَم اَنْ يُزَوِّجَ أختَهُ فَلَيْسَ لَهُ اَنْ يُزَوِّجَها الاّ بِاِذْنِهِ وَ اَمْرِهِ . . . وَ لا يُزَوِّجَ بَناتى اَحَدٌ مِنْ اِخْوتِهِنَّ وَ مِنْ اُمّهاتِهِنَّ وَ لا سُلْطانٌ وَ لا عَمِلَ لَهُنّ اِلاّ بِرأيِهِ وَ مَشْوَرتهِ ، فَاِنْ فَعْلُوا ذلِكَ فَقَدْ خالَفُوا الله تَعالى وَ رَسُولَهُ ( ص ) وَ حادُّوهُ فى مُلْكِهِ وَ هُوَ اَعْرَفُ بِمنالحِ قَوْمِهِ اِنْ اَرادَ اَنْ يَزَوِّجَ زَوَّجَ ، وَ اِنْ اَرادَ اَنْ يَتْرَكَ تَرَكَ . . . "
میں نے شاہد بنایا ان کو کہ یہ میری وصیت ہے میرے بیٹے علی کیلئے۔ تم میں سے کوئی بھائی اپنی بہن کی کسی سے شادی کرنا چاہے تو اسے حق نہیں جب تک کہ (امام علی رضا) اجازت و فرمان نہ دے دیں۔ اور نہ ہی میری بیٹیوں میں سے کسی کو حق ہے کہ وہ اپنی بہنوں کی شادیاں کروائیں، نہ ان کی ماں نہ ہی کوئی ولی ان کیلئے کوئی اقدام کرے اس سے قبل کہ اس (امام رضا) سے رائے زنی اور مشاورت نہ کرلی جائے۔ اگر اس کی اجازت کے بغیر کسی نے کوئی اقدام کیا تو بیشک اس نے خدا و رسول کی مخالفت کی اور اس کی سلطنت میں فساد کیا۔ وہ (امام رضا) اپنی قوم میں شادی کی مصلحتوں کو سب سے بہتر طور جانتے ہیں،جس کی چاہیں شادی کرائیں اور جس کی چاہیں نہ کرائیں۔"
اس وصیت نامے میں امام موسیٰ کاظم (ع) نے صراحت کے ساتھ اپنے بیٹوں کو بتایا کہ ان کے بعد حجت خدا امام رضا (ع) ہیں، لہٰذا ان کی بہنیں ہر کام بشمول ازدواج میں ان (ع) سے مشاورت کریں۔ جس کیلئے امام رضا(ع) راضی ہوں اس کے ساتھ شادی کریں کیونکہ امام مسائل ازدواج سے بہتر واقف ہیں اور ان کے ہمسروں کا فیصلہ بہتر طور کر سکتےہیں۔ اس میں کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ امام موسیٰ کاظم (ع) نے بیٹیوں سے کہا ہو کہ وہ ازدواج کریں ہی نا!!!!! بات صرف اتنی ہے کہ امام (ع) نے فرمایا جو بھی کرنا ہو حجت خدا امام علی رضا (ع) کی مشاورت سے کرنا۔ لہٰذا یعقوبی کا یہ کہنا کہ معاذاللہ امام (ع) نے ازداوج جیسے اہم اور ضروری فعل سے اپنی بیٹیوں کو منع فرمایا سراسر جھوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مورخین نے یعقوبی کی بات کو جعلی و بے بنیاد کہا ہے
کفو کا نہ ملنا
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ امام (ع) کی دختران مثلاً فاطمہ معصومہ (س) علمی و معنوی کمالات سے سرشار تھیں لھٰذا ان کا کوئی کفو موجود نہیں تھا اس لیئے ان کی شادیاں نہ ہو سکیں۔ کیونکہ ازداوج میں کفو بھی دیکھا جاتا ہے.
یہ نظریہ بھی قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یہ اقوال و سیرت محمد (ص) کےمنافی ہے ۔ اور سیرت آئمہ بھی یہ نہیں رہی کہ صرف کفو نہ ملنے کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو عظیم نعمت یعنی ازدواج سے محروم رکھیں۔ دوسری بات یہ کہ احادیث سے ثابت ہے کہ مومن مومنہ کی کفو ہے۔ اور رسول اللہ (ص) نے جویر نامی صحابی کا نکاح بشیر بن زیاد جیسے شرفاۓ وقت میں سے ایک کی بیٹی سے کروایا جب کہ جویر اصحاب صفا میں سے تھا جن کا کوئی رشتیدار بھی نہیں تھا نہ مال نہ دولت بس تقویٰ تھی۔ اسی طرح زید بن حارث غیر ہاشمی صحابی تھے ایک غلام تھے ان کا نکاح رسول (ص) نے اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب بنت جحش ہاشمی سے کروایا اور بھی متعدد مثالیں ہیں جن سے ثابت ہی کہ مومن مومنہ کا کفو ہے۔ اس کے علاوہ رسول (ص) کا قول بھی ہے کہ "جب بھی کوئی تمہاری بیٹی کا ہاتھ مانگنے آئے، اس کی دینداری و ایمان تمہیں پسند آئے تو اس کو رشتہ دے دو،اگر نہیں دیا تو زمین میں بڑا فساد کیا۔ امام موسیٰ کاظم (ع) کے دور میں امام حسن (ع) کی پشت اور امام حسین (ع) کی نسل کے بڑے اچھے نوجوان اس وقت موجود تھے کہ جن سے امام (ع) کی بیٹیوں کی شادی ہوسکتی تھی۔
خلیفہ وقت ہارون رشید کی سختیاں
تیسرا نظریہ یہ ہے کہ ہارون رشید جیسے سفاک خلیفہ کی طرف سے امام پر کیئے جانے والے مظالم وجہ بنے کے امام (ع) کی بیٹیاں غیر شادی شدہ رہ گئیں۔ ہارون رشید کے دؤر میں امام (ع) اور ان کے ساتھیوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاتی۔ ہارون کے جاسوس ہر جگہ موجود ہوتے تھے کون امام (ع) سے مل رہا ہے ، کب مل رہا ہے سب کی سخت نگرانی کی جاتی تھیئ اور تاریخی کتب میں ایسے بہت سے واقعات درج ہیں جو اس وقت امام (ع) اور ان کے خاندان کے حالت کے عکاس ہیں۔ ان حالات میں کس میں اتنی جرآت تھی کہ جا کر امام (ع) کا داماد بنے۔ اور خود کو امام (ع) کے رشتہ داروں کی فہرست میں شامل کروا کر ہارون کے دشمنوں کی فہرست میں شامل ہوجائے۔ اس وقت کےحالات ایسے تھے کہ کوئی امام (ع) سے فقہی مسئلہ دریافت کرنے بھی نہ جاتا تھا پھر اس ماحول میں شادیوں کی باتیں کیسے ممکن تھیں۔ حالانکہ ہارون رشید ظاہری طور پر بڑا دیندار بنتا تھا لیکن باطن میں اتنا ہی سفاک اور ظالم تھا۔ ایک مورخ نے لکھا کہ جب ہارون وعظ سنتا تھا تو بہت روتا تھا لیکن جب غصے میں ہوتا تو درندہ صفت انسان بن جاتا تھا۔
اس وقت کے شیعہ سیاسی حبس اور گھٹن کے ماحول میں زندگی گذار رہے تھے حتیٰ کہ علی بن یقطین جیسا بندہ بھی کو تقیہ اختیار کرنا پڑا کیونکہ اس کی ہر سرگرمی پر نظر رکھی جاتی تھی۔ وہ لباس ولا مشہور واقعہ بھی حالات کی تنگی کا گواہ ہے کہ جو لباس خاص خلفہ کیلیئے تھا اور علی بن یقطین کو ھارون رشید نے دیا تھا اور علی بن یقطین نے یہ لباس امام موسیٰ کاظم (ع) کو تحفہ میں دینا چاہا مگر امام نے قبول نہ کیا اور فرمایا : اس لباس کو سنبھال کر رکھو کسی کو مت دینا کیونکہ یہ ایک بڑے حادثے سے تمہیں بچانے کے کام آئے گا۔ کچھ دن بعد علی بن یقطین کے ایک غلام نے جا کر ہارون سے کہا کہ وہ جو لباس تم نے علی بن یقطین کو دیا تھا وہ اس نے امام موسی کاظم (ع) کو دے دیا ہے۔ ہارون نے فوراً علی بن یقطین کو بلایا اور اس سے اس لباس کے متعلق پوچھا۔ اس نے کہا میں نے وہ لباس صندوقچے میں سنبھال کر رکھا ہے۔ ہارون بولا فوراً لے آؤ۔ جب ہارون نے لباس دیکھا تو کہا اچھا ٹھیک ہے آئندہ میں تمہارے خلاف کسی شکایت پر اعتبار نہیں کرونگا۔ اس طرح کے اور بھی کئی واقعات ہیں حتیٰ کہ امام موسیٰ کاظم (ع) نے علی بن یقطین کو اہل سنت کی طرح وضو کرنے کی بھی تاکید کی تا کہ وہ دشمن کے شر سے محفوظ رہے۔ اس کے بعد یہ بھی تو ظاہر ہے کہ امام بعض روایات کے مطابق 7 بعض کے مطابق 14 سال زندان میں رہے اور اس دوران جب امام علی رضا (ع) نے ہوش سنبھالا تب بھی حالت ایسے ہی تنگ رہے۔ مجبوراٍ انہیں خراسان کی طرف ہجرت کرنا پڑی اور اسی دربدری میں ہی بیبی معصومہ بنت امام موسیٰ کاظم (ع) کی قم میں شہادت ہوئی۔ لہٰذا یہ کہنا کہ امام (ع) نے وصیت کی تھی کہ بیٹیاں شادی نہ کریں ایک معصوم کی سچائی کے دامن پر ایک بڑا داغ ہوگا۔ اور یہ کہنا کہ کفو میسر نہیں تھا بھی امام (ع) کی ذات اقدس پر ایک عظیم بہتان ہوگا کیونکہ سیرت معصومین سے یہ ثابت نہیں کہ کفو نہ ملے تو بیٹیاں کنواری رہنے دی جائیں۔ امام (ع) کی بیٹیوں کی شادی نہ کرنے کی وجہ ہارون کے مظالم ہیں جن کا اگر کوئی مطالعہ کرے تو اس پر واضح ہوجائے گا کہ حالات ایسے تھے کہ امام (ع) کے گھر کی طرف کوئی جانا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ اور اس کے بعد طویل قید ایک صاف دلیل ہے کہ حالت واقعی بہت تنگ تھے۔
کیا بیبی صغریٰ (س) مدینے میں بیمار تھیں، یا کربلا میں امام حسین (ع) کے ساتھ موجود تھیں؟
جمع آوری: محمد زکی حیدری
جناب عالی جیسا کہ ہم پاکستان میں مروجہ عقائد کہ جو اصل حالات و واقعات سے متفاوت ہیں پر بحث کر رہے تھے اور ہم نے شہزادہ قاسم کی شادی اور مہندی، اس کے بعد امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد اور بیبی صغریٰ کو "صغریٰ" کیوں کہا جاتا ہے وغیرہ کو مستند کتب کے حوالے دے کر ان کی حقیقت بیان کی۔ اس مرحلے میں ایک اور مشہور قصے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتے ہیں وہ یہ کہ کہا جاتا ہے، بلکہ ببانگ دھل کہا اور مصائب میں پڑھا جاتا ہے کہ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) مدینہ میں بیمار تھیں امام انہیں چھوڑ آئے تھے، اور اس کو مزید ڈرامائی شکل دے کر یہ تک کہا جاتا ہے کہ بیبی صغریٰ نے اپنے بابا کو خط بھی لکھا اور وہ خط کا انتظار کیا کرتی تھیں وغیرہ وغیرہ۔
کیا بیبی فاطمہ صغریٰ مدینہ میں تھیں؟ یا کربلا میں امام (ع) کے ساتھ؟
یہ بیبی کربلا میں موجود تھیں اور وہاں کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ہم نے ان کو اس کا صلہ یہ دیا کہ انہیں کربلا جیسی فتح مبین میں شرکت سے ہی محروم کردیا کسی سے اس کا حق چھیننا اگر طلم ہے تو ہم سب سے بڑے ظالم ہیں کہ حسین (ع) کی اولاد کو اس کے حق سے محروم کیا۔ یہ تو خلفاء کی سنت ہیں میاں آپ کب سے غاصب بن گئے؟ اچھا معلوم نہیں تھا تو خیر ہے لیکن اب جب میں معتبر کتب سے ثابت کر دوں تو آپ کا فرض ہے کہ اس معظمہ بیبی (س) نے کربلا میں جو قربانیاں دیں ان کا اجر تو انہیں نہیں دے سکتے لیکن ان کی قربانیوں کا اقرار تو کریں اور دنیا تک ان کی مظلومی کا پیغام پہنچائیں۔ آپ سے کوئی دو رکعت نماز کا ثواب چھین لے تو آپ کو لگتا ہے اس نے آپ کے ساتھ نا انصافی کی ہے، لیکن آپ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) سے کربلا میں شرکت جیسا عظیم ثواب چھین رہے ہیں اوراوپر سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ عجیب ہے یہ محبت ۔۔۔۔ خیر آٌپ کا قصور نہیں آپ کو منبر نشینوں نے یہ بتایا ہے۔۔۔
فاطمہ بنت الحسین (س) یعنی فاطمہ صغریٰ (س) سے مروی رویات دیکھنے کا شوق رکھنے والے علامہ ہادی امینی مرحوم کی کتاب فاطمہ بنت الحسین (ع) کا صفحہ نمبر 80 سے لیکر 112 تک کا مطالعہ کریں، جس میں بیبی (س) سے درجنوں رویات دسیوں کتابوں کے حوالہ جات سے نقل کی گئی ہیں۔ اور شیخ جعفر نقدی کے بقول جو چیز ان معصومہ (س) کے کمال پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بابا اور پھوپھی زینب (س) سے روایت نقل کی ہے۔ اور شیعہ سنی علماء نے آپ (س) سے نقل ہونے والی روایات پر اعتماد کیا ہے ۔ ان کی عظمت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ کتاب "اصحاب سیر و مقال' میں لکھا ہے کہ امام حسین (ع) نے آخری وقت میں آپ (س) کو وصیت نامہ دیا جو انہوں نے امام سجاد (ع) کو انکی صحتیابی کے بعد دیا۔
فاطمہ صغریٰ وصیت دار امام حسین (ع)
امام جعفر صادق (ع) سے فرماتے ہیں:
دعا ابنۃ الکبریٰ فاطمہ نبت الحسین (ع) فدفع الیھا کتاباٍ ملفوفا ووصیۃ طاھرۃ
امام حسین نے میدان جنگ کی طرف روانہ ہونے سے قبل اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کو بلایا اور وصیت نامہ ان کے سپرد کیا۔
یہ وصیت نامہ مندرجہ زیل کتب میں درج ہے:
اصول کافی
بصائر الدرجات
قمام ذخار ، فاطمہ کبریٰ ، ص 450 تا 453
ناسخ التواریخ ج 2 ص: 342
منتخب التواریخ باب خامس ص 173
جلال العیون
فاطمہ بنت الحسین (ع) علامہ ہادی امینی ص 13
فاطمہ بنت الحسین جعفر نقدی ص 9
کربلا سے مدینہ واپس آتے ہوئے بھی اس معظمہ (س) نے زینب (س) اور ام کلثوم (س) کے ساتھ خطبے دیئے ۔
بیبی فاطمہ صغریٰ (س) کا کوفہ میں خطبہ
سید ابن طاؤس نے زید بن موسیٰ کاظم (ع) سے یہ خطبہ اپنے والد محترم امام موسیٰ کاظم (ع) سے ان الفاظ میں نقل کیا ہے :
روی زید بن موسیٰ قال حدثنی ابن عن ضدی علیہ السلام : کطبت فاطمۃ الصغریٰ بعد ان وردت من کربلا فقالت:۔۔۔۔
خطبہ طولانی ہے لھٰذا ان کتب کے حوالے پیش کر رہے ہیں ان سے رجوع کیا جائے:
ناسخ التواریخ ج 6 ، جز 3، ص: 42
تطلم زہراء ص 295
اسرار الشہادۃ ص : 479
ریاض الشھادۃ ص ج: 2، ص: 285
بحار الانوار ج: 45، ص: 110
معالم المدر ستین ج :3، ص: 183
جلال العیون ج 2، ص 504
الدمعۃ الساکبۃ ج 6، ص 38
مقتل حسین ص 313
لہوف سید ابن طاؤس ص 194
قمام زخار، ج 2، 520
لوائج الاشجان ص 202
منتخب الطریحی ص 122
زینب الکبریٰ ص 56
تنفیح المقال ج 1 ص 471
نفس المہموم
الکامل فی التاریخ
تاریخ طبری
جمرۃ الانساب العرب ص 55
مقاتل الطالبین
وفیات الاعیان ج 3 ص 271
جامع الرواہ ج 1 ص 343
فاطمہ بنت الحسین ص 26
مثیر الاحزان
بھیا امام حسین (ع) اور اس کی عاشورہ کے ذکر میں بہت کچھ ذاکروں کا بنایا ہوا تھا اور جو "علماء کرام " آئے انہوں نے بھی زحمت نہ کی آپ کو حق بتائیں جیسا چلتا ہے چلنے دو ۔۔۔ پہلی و دوسری محرم کو بیبی بیمار، پردیسی وغیرہ کا مصائب پڑھ کر ہمیں خوب رلاتے ہیں اور بیبی (س) کے عورت ہو کر دشمن کو للکارنے اور اس کی دربار کو اپنے خطبے سے لرزانے کی عظیم عبادت کا بتا کر ہمیں رلانے کے ساتھ ساتھ ہماری ماں بہنوں کیلئے ایک عظیم نمونہ عمل پیش نہیں کرتے۔
افسوس!
میرے جوان دوستو! ایک عظیم بیبی، ایک دلیر، با ہمت بیبی، جو میدان جنگ میں دشمن سے برسر پیکار ہے اسے بیمار بنا کر پیش کردینے سے زیادہ اس سے کیا دشمنی کی جاسکتی ہے؟ وہ معظمہ اپنی چادر لٹا کر جن لوگوں کیلئے دشمن کی درباروں میں جاکر خطبے دیتی ہے اسے بیماری کے بستر پر محدود لکھا گیا۔۔۔۔ کیونکہ رونا ہے! پردیسی بیبی کا "سین" نہیں تھا تو ایک "سین" کا اپنے ڈرامے میں اضافہ کردیا گیا تا کہ زیادہ سے زیادہ روئیں لوگ۔۔۔ کربلا صرف رونے کا نام نہیں کربلا مقابلے کا نام ہے۔ یہ کالی کربلا تمہیں دی گئی ہے اصل کربلا سرخ ہے اصل کربلا کونے میں بیٹھ کر رونے والوں کی نہیں سوکھے گلے اورسوکھی کمزور زبانوں سے دشمن کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دینے والے عظیم مجاہدوں کی عملی داستان ہے۔۔۔ ہم نے صرف کربلا سے سیاہی لی ہے! سرخی لیتے تو آج چند بدمعاش ہم پر غالب آکر ہماری ماؤں کی گود نہ اجاڑتے۔۔۔ ہم کل بھی روئے تھے جنازے دیکھ کر اور آج بھی بس روہی رہے ہیں، کیونکہ رونے سے جبت ملتی ہے بس رو ۔۔ گریہ کرو گھر جاؤ۔۔۔۔ عارف الحسین حسینی (رح) سے لیکر سبط جعفر (رح) تک ہر جنازہ اٹھایا روئے، رونے والوں نے جنت کمالی، رونے کی شکل بنانے والوں نے بھی جنت کما لی۔۔۔۔ آپ کو ایسی جنت مبارک ہو جو لٹی ہوئی چادروں اور دشت میں پڑے بے سرو ساماں لاشوں سے صرف رونے کا درس لے کر ملتی ہو۔
مجھے خبرداری، احتیاط کے پیغام ملنا شروع ہوگئے ہیں مگر میں سرخ کربلا کا ماننے والا ہوں مجھے سرخی پسند ہے، میرا کفن حسین (ع) کے پھٹے پیراہن کی طرح سرخ ہو بجائے اس کے کہ صرف میرے مولا (ع) کی آہنی ضریح سے مس ہوا ہوا ہو۔
"جو شہید ہوگئے انہوں نے حسین (ع) کی سنت پر عمل کیا ، جو رہ گئے وہ زینب (س) کی سنت پر عمل کریں۔" ' (جس کا یہ قول ہے اسے نامعلوم سمجھا جائے)
امام حسین (ع)کی بیٹیوں کی تعداد کتنی تھی؟
جمع آوری: محمد زکی حیدری
حضور عقائد وہ اینٹیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ منظم شکل میں ترتیب پاکر انسان کیلئے ہدایت کی سڑک بناتی ہیں۔ اگر اینٹیں کچی یا بوسیدہ ہوں گی تو سڑک میں جگہ جگہ گڈھے نظر آئیں گے اور مسافر منزل پر یا تو دیر سے پہنچے گا یا تو پہنچتے پہنچتے اس کی عمر تمام ہو جائے گی۔ بھئی یہ بات تو طے ہے کہ جیسے عقائد ہوں گے ویسا ہی عمل ہوگا، اور جیسا عمل ویسا ہی پھل! سو عقائد اگر حق پر مبنی ہوں گے تو منزل بھی حق ہوگی اگر عقائد خرافات پر مبنی ہوں گے تو نتیجہ بھی ویسا ہی نکلے گا۔ یہ سوچ کر جب میں نے دیکھا کہ ہمارے عام شیعوں کے بہت سارے عقائد اصلی شیعہ عقائد سے تفاوت رکھتے ہیں تو میں نے اپنی حقیر سی کوشش کر کے قلم اٹھایا اور پہلے "چائنہ کربلا" کے نام سے ذرا کڑوا سا، چبھتا ہوا سا، مضمون لکھا تا کہ سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواؤں اور اس کے بعد جس جس چیز عقیدے کو میں "چائنہ کا" یعنی نقلی یا جھوٹ پر مبنی کہا تھا اس کی بزرگان دین کی مستند کتب سے دلیل بھی پیش کروں۔ اس ضمن میں "شہزادہ قاسم کی شادی اور مہندی" وغیرہ کی تشریح تو بفضل خدا دے چکا اب دوسرا عقیدہ جس کی بنیاد پر، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بڑے بڑے خطباء مصائب پڑھتے ہیں کی تشریح دینا چاہتا ہوں اوروہ مسئلہ ہے "کیا واقعی بیبی فاطمہ صغریٰ (س) مدینے میں بیمار تھیں اور کربلا میں نہیں تھیں؟" اس کی تشریح کرنے کی کوشش کروں گا، اس کے پہلے یعنی اس مرحلے میں
امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد
اور بیبی فاطمہ کو صغریٰ کیوں کہا جاتا ہے پر مدلل بحث ہوگی۔
اور اس کے بعد اگلے مرحلات میں اس عقیدے – کہ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) کربلا میں موجود نہیں تھیں- کی وجہ سے ہم کس عظیم اساسے سے محروم ہو گئے اس کی جانب بھی آپ کی توجہ مبارک مبذول کرواؤنگا انشاء اللہ۔ میں مصائب پر کم ہم نے اپنے عقائد سے گرانبہا چیزوں کو کھودینے اور فضول چیزوں کو اپنا لینے پر زیادہ گریہ کرتا ہوں لھٰذا پیش خدمت ہے بیبی صغریٰ (س) کے وجود مقدس پر صحیح عقیدہ پر تحقیق۔
امام حسین (ع) کی بیٹیاں کتنی تھیں؟ کیا فاطمہ صغریٰ کا ہونا ثابت کرتا ہے کہ فاطمہ کبریٰ نامی بھی کوئی بیٹی تھی؟
جناب امام حسین (ع) کی اولاد کے موضوع کو لیکر بزرگان، مؤرخین کے مابین اچھا خاصہ اختلاف پایہ جاتا ہے لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو خشک بحث میں نہیں ڈالنا بس نیچے دیکھتے و پڑھتے جائیے بات از خود سمجھ آجائے گی۔ ہماری بحث ہے بیٹیوں کی تعداد تو ہم بیٹوں کی بحث کو چھیڑے بغیر اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔
----- حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد اور ان کے قائل علماء کرام کے نام-----------
(الف) چار بیٹیاں
(1)- مرزا ابو الفضل تہرانی
(2)- مقدس اردبیلی (رض) (زینب نام کی دو بیٹیاں )
(3) آقای ہادی امینی (سکینہ، زینب، فاطمہ، رقیہ)
(ب) تین بیٹیاں
(1) صاحب مناقب شہر آشوب (سکینہ، فاطمہ، زینب)
(2) محمد بن عبداللہ بن نصر خشاب بغدادی (سکینہ، فاطمہ، زینب)
(ج) دو بیٹیاں
علامہ باقر مجلسی (بحار الانوار ج:45 ص: 329)
شیخ محدث عباس قمی منتہی الامال ج:1 ص: 855، احسن المقال ج:1 ص: 543، درکربلا چہ گذشت ص: 543
شیخ مفید (رح) الارشاد ج :6 ص: 277
احمد یحیٰ جابر بلاذری (انساب الاشرف ج:3 ص: 142
یہ تو وہ ہیں جن کی دلیل کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں مگر پھر بھی مندرجہ ذیل ان تمام مورخین کے ناموں کی فہرست بیان کر رہا ہوں جنہوں نے امام حسین (ع) کی دو بیٹیاں (سکینہ، فاطمہ) بیان کی ہیں۔
(1) ابن صباغ مالکی
(2) علامہ محقق تستری صاحب
(3) علامہ حلی (رض)
(4) علامہ طبرسی
(5) ملا حسین کاشفی
(6) صاحب مجدی
(7) صاحب شجرہ مبارک
(8) ابن جوزی
(9) محمد بن صبان مصری
(10) سید علی نقی حائری
(11) علامہ عبداالہ بن نوراللہ
(12) صاھب ستارگان درخشان
(13) محمد بن ابی بکر انصاری
(14) ابی نصر بخاری
(15) صاھب الجازم فی نسب ہاشم
(16) عماد زادہ اصفہانی
(17) علامہ نسابہ صفی الدین
(18) ابن عنیبہ صاھب عمدۃ الطالب
(19) سید احمد الحسینی
(20) سید فاضل موسوی خلخالی
(21) محمد محمدی اشتہاردی
دس مزید ہیں لیکن اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
ثابت ہوا کہ بیٹیاں دو ہی تھیں۔
فاطمہ ایک ہی تھیں تو صغریٰ اور کبریٰ کیوں؟
اچھا سوال ہے لیکن ذرا دقت و توجہ چاہوں گا س معاملے سب کام چھوڑ دیں دل و دماغ کے دریچے کھول کر پڑھیئے گا۔
علامہ محقق سید شاکر حسین امرہوی اپنی کتاب میں اس مسئلے کو آسانی سے سمجھا یا ہے فرماتے ہیں:
مناقب ابن شہر آشوب کی عبارت یہ ہے " ان الحسین (ع) لما حضرہ الذی حضرہ دعا "ابنۃ" فاطمہ کبریٰ فدفع الیھا کتابا ملفوفا وصیۃ ظاھر الخبر۔"
ترجمہ: حسین (ع) نے جس وقت وہ واقعہ جو پیش آیا یعنی شہادت کے وقت ، آپ (ع) نے اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کو سامنے طلب کیا اور ایک لکھا ہوا کاغذ بند جو وصیت نامہ تھا ان کے سپرد کیا۔
بحارالنوار اور ناسخ التواریخ میں بھی یہی عبارت "ابنۃ فاطمہ کبریٰ" ہی لکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنی بڑی بیٹی کو بلایا ظاہر سے بیبی فاطمہ صغریٰ بیبی سکینہ (س) سے بڑی تھیں۔
لیکن!
مندرجہ بالا عبارات میں "ابنتہ" فاطمہ کے بعد آنا چاہیئے تھا جیسا کہ دوسرے بزرگوں کی عبارت میں ہے۔ مثلاٍ بصائر الدرجات میں شیخ اجل حسن القمی (امام حسن عسکری کے صحابی)نے لکھا : ۔۔۔ قال ان الحسین (ع) لما حضرہ دعا ابنۃ الکبریٰ فاطمہ ۔۔۔ (بلایا اپنی بڑی بیتی فاطمہ کو)
ثقہ الاسالم یعقوب کلینی کافی میں لکھتے ہیں:
دعا ابنۃ الکبریٰ فاطمہ بنت الحسین فدفع الیہا۔۔۔۔
اس کے علاوہ مسعودی، آقائے دربندی، وغیرہ بھی اسی طرح ناقل ہوئے ہیں۔
----- ٹھیک صاحب مان لیئے لیکن پھر یہ تو بتایئے کہ "صغریٰ" کیوں کہتے تھے بیبی کو۔۔۔۔۔۔
بھائی کیا کہنے ہیں آپ کے یہ بھی بڑا اچھا سوال ہے! میا ں بات یہ ہے کہ بیبی فاطمہ بنت حسین (ع) سے کئی راویوں سے روایات نقل کی ہیں لھٰذا ان کو بیبی فاطمہ بنت محمد (س) سے ممتاز کرنے کیلئے بیبی کو فاطمہ صغریٰ کہا جاتا تھا تا کہ معلوم ہو کہ بیبی فاطمہ بنت محمد نہیں بلکہ فاطمہ بنت حسین (ع) کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔
یہ میں نہیں (لاحول والا ۔۔) بھائی میں نے نہیں علما نے یہ توجیہ پیش کی ہے لیجیئے ان کے نام بمع کتب:
بحار الانوار جلد 10 ص: 35
کشفہ الغمہ ص: 173
صحیح ترمذی مطبوعہ دہلی صفحہ 60
مشکواۃ مطبوعہ دہلی
ان سب صاحبان نے جب بیبی فاطمہ صغریٰ (س) سے روایت کی تو بیبی فاطمہ بنت محمد کو "کبریٰ" اور آپ کو "صغریٰ" لکھا اور اس طرح عبارت شروع کی "عن فاطمہ بنت الحسین عن فاطمہ کبریٰ اسی طرح دوسری کتب میں "عن فاطمہ الصغریٰ عن فاطمہ " آیا ہے۔
نتیجہ : تمام رویات اور دلائل سے یہ ثابت ہوا کہ
1- امام حسین (ع) کی دو بیٹیاں تھیں ایک بیبی فاطمہ (س) اور دوسری بیبی سکینہ (س) ۔۔
2-فاطمہ کبریٰ کا کوئی وجود نہیں ، فاطمہ صغریٰ کو بیبی فاطمہ زہرا سے ممتاز کرنے کیلئے "صغریٰ"کہا جاتا تھا اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) بیبی فاطمہ زہرا (س) سے مشابہت رکلھتی تھیں اس لیئے۔۔۔ بھرحال فاطمہ کبریٰ بنت حسین کا وجود ثابت نہیں ہو سکا۔
جناب قاسم (ع) کی کربلا میں شادی ہوئی تھی یا نہیں؟
تحقیق: محمد زکی حیدری
اس شادی کی روایت کس کتاب میں ہے ؟ یہ روایت جس بندے نے لکھی اس کی سچائی کے بارے میں علما کیا کہتے ہیں۔
جناب اس روایت کے لکھنے والے بندے کا نام ہے ملا کاشفی اور اس نے اپنی کتاب "روضۃ شہداء" میں یہ روایت لکھی ہے اور اس کی کوئی سند بھی پیش نہیں کی۔ ان صاحب کو علماء مشکوک المذاہب عالم مانتے ہیں یعنی اس کے مذہب میں شک تھا ان کی حالات زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جب ہرات (افغانستان ) جاتے تو خود کو سنی کہتے اور جب ایران آتے تو شیعہ کہلواتے۔ محدث نوری نے "لولو و المرجان " ایت اللہ مرتضیٰ مطہری نے "حماسہ حسینی" میں، آیت اللہ ظہور الحسن نے"تقریر حاسم" میں اور دیگر کئی علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ کاشفی سے پہلے ایسی روایت کو کسی نے بیان نہیں کیا اور اس نے بھی کوئی سند نہیں پیش کی اس روایت کی، نہ ہی کسی کتاب کا حوالہ دیا۔ یہ صاحب دس ہجری میں زندہ تھے لہٰذا ایک ہزار سال تک اس روایت کو کسی محقق یا مؤرخ کا نقل نہ کرنا اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ ہم شیعوں کی مستند کتابوں میں امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد صرف دو ہے ایک کا م سکینہ (س) اور ایک کا نام فاطمہ صغریٰ ہے فاطمہ (س) کا نکاح امام حسن (ع) کے بیٹے حسن مثنیٰ سے ہوا تھا جن سے آج تک طباطبائی سادات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ ہمارے کراچی میں مدفن "حضرت عبداللہ شاہ غازی" جن کی مزار شیعہ و سنی عقیدتمندوں کی آماج گاہ ہے یہ بھی حسن مثنیٰ یعنی بیبی فاطمہ صغریٰ کی اولاد میں سے ہیں۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام حسین (ع) کی کوئی بیٹی ایسی نہیں تھی جس کا عقد ہونا باقی ہو کہ جناب قاسم (ع) ان سے عقد کریں۔ لھٰذا اب مہندیاں سجانے والوں کو دعوت ہے کہ امام حسین (ع) کی ایک آدہ اور بیٹیاں نکال لائیں اور وہ بھی مستند حوالوں کے ساتھ پھر اس کا عقد جناب قاسم (ع) سے اور وہ بھی کربلا میں ثابت کریں۔ کر ہی نہ لے کوئی خیر!
اور بھائی یہ شادی اتنی "ارجنٹ" ہی کیوں ہونے لگی کہ کربلا کی تپتی ریت میں دشمن کا لشکر گھیرا ڈالے کھڑا ہو اور امام (ع) کو اپنے بھتیجے کی شادی کی ضرورت محسوس ہونے لگی؟ امام (ع) معاذاللہ محل و مقام نہیں دیکھتے کہ کدس وقت کون سا کام انجام دیا جائے؟
آیت اللہ سید ظہور الحسن لکھنوی صاحب اپنی کتاب "تقریر حاسم" مین فرماتے ہیں: "عاشورہ کے دن اس عقد کا وقوع ہونا عقل کے خلاف ہے، ایسی شادی جس کا کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو ایسا عقلا کے نزدیک فعل عبس (فضول کام) ہے۔ اور چہ جائیکہ امام معاذاللہ ایسا کام انجام دیں۔
اور بھیا معاف کیجئے گا بھلا امام حسین (ع) نے اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہی تھی تو عاشورہ سے قبل اور جناب قاسم (ع) کے دیگر برادران سے کیوں نہ کی جو کہ شادی کے لائق تھے اور جناب قاسم (ع) سے عمر میں بڑے تھے؟ شادی کے قابل بچی کا عقد 13 یا 12 سالہ جناب قاسم سے کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
ایک طرف خود ہی کہتے ہو وہ 13 سال کے تھے اور پھر نابالغ کی شادی منا کر مہندیاں نکالتے ہو۔ صرف مزے لینے ہیں نا تم نے عاشورہ سے؟
بھائی یہ ایک لمبی لسٹ بھیج رہا ہوں کتابوں کی ان سب علماء مجتھدین نے اس شادی کا انکار کیا ہے۔
علامہ باقر مجلسی کتاب جلال العیون
علامہ باقر مجلسی کتاب جلال العیون
خاتم المحدثین شیخ عباس قمی (رح) کتاب "منتہی الامال ج :1 ص: 700
آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد تقی تستری کتاب "قاموس الرجال ج:7۔ ص:357 اور جلد 8، ص: 644
آیت اللہ العظمی سید کاظم طباطبائی عروۃ الوثقیٰ، "نزہۃ المشتاق فی فتاوٰ علماء عراق ص 5
آیت اللہ العظمی اقای آخوند خراسانی صاحب کفایہ الاصول ایضاٍ ص 6
آیت اللہ العظمی عبداللہ مازندرانی ایضاٍ ص 7
آیت اللہ العظمی حسن مازندرانی ایضاٍ ص
آیت اللہ العظمی غلام حسین حائری اصفہہانی :ایضاٍ
آیت اللہ العظمی آقای اسماعیل صدر مجاہد اسلام ص 321
استاد المحدثین حسین نوری طبرسی کتاب لولو و مرجان ص 145
آیت اللہ العظمی ابوالقاسم خوئی اپنی فتاویٰ کی کتاب صراہ النجاۃ ج:2 ص 441
آیت اللہ العظمی شیخ جود تبریزی صراہ النجاۃ مسئلہ نمبر 1390
آیت اللہ العظمی ابوتراب موسوی نجفی بحولہ مجاہد اعظم ص 316
آیت اللہ العظمی سید علی حائری لاہوری بحوالہ سعادۃ الدارین ص: 392
ایت الہہ فاضل لنکرانی جامع المسائل ص:625
رہبر معظم انقلاب اسلامی سید علہ خامنہ ای "مصائب امام حسین (ع) ص 15 ، غلام علی رجائی بحوالہ حضرت قاسم بن حسن (ع)
آیت اللہ العظمی سید ریحان اللہ موسوی بحوالہ مجاہد اعطم ص 312
ایت اللہ سید ابوالھسن عرف ابوصاب لکھنوی بحولہ مجاہد اعظم ص 317
علامہ سید عبدلمجید حسینی شیرازی دخیرۃ الدارین ص 145
علامہ ربانی گلپائگانی منہاج الدموع ص:321
اور بھی بہت ہیں ٹائپ کر کے ہاتھ تھک گئے 12 مزید ہیں۔
جناب میں وہابی نہیں ہوں! نہ کوئی عزاداری کا دشمن ہوں۔ اپنے شہر کے امام بارگاہ کی جھاڑو برداری میں فخر محسوس کرنے اور اپنے انجمن کے دستے میں نوحہ خوانوں کا بازو بننے والا ایک حقیر سا عزادار ہوں۔لیکن بات یہ ہے کہ جب چائنا کا موبائل ہمیں کسی کام کا نہیں لگتا تو نقلی کربلا سے ہم کون سے انقلاب لے آئیں گے یہ بھی کسی کام کا نہیں ہے۔ دوستوں، بھائیوں بہنوں میرے محترموں میں مہندیوں سے کلاوے اٹھا اٹھا کر باندھتا رہا ہوں اس لیئے نہیں کہ مجھے علم نہ تھا کہ جناب قاسم (ع) کی مہندی کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اس لیئے کے اس میں میرے حسین (ع) کے عزادروں کا خلوص بھرا ہوتا ہے اور خلوص کے بنا کوئی چیز کسی کام کی نہیں ہوتی، لیکن! میں صرف اتنا چاہتا ہوں اسی خلوص کو "اصلی" حسینی اقدار و رسومات عاشورہ کیلئے عمل میں لائیں، یقیں جانیئے 1920 ع کے عراقی شیعہ اسلامی انقلاب اور 1979 کے ایرانی اسلامی انقلاب کی طرح ہمارے پاکستان میں بھی ایک انقلاب ائے گا۔ اصلی حسین (ع) کا دامن تھام لیں۔۔۔ یار عجیب بات ہے! آخر کیسے میں مان لوں کہ ایک ملک کی عوام ہے جو حسین (ع) حسین (ع) کرتی ہے مجالس برپا کرتی ہے، عزاداری کرتی ہے لیکن چند کرپٹ، بے دین ، جاہل، منحوس، خود غرض، قبیح حکمرانوں کے پنجے میں پھنسی ہوئی ہے! کیسے مان لوں میں کہ حسین حسین کرنے والے پاکستان میں ذلت و رسوائی، روز روز لاشے اٹھا رہیں ہیں! مسئلہ کہاں پے حسین (ع) میں مسئلا ہے؟ (نعوذبااللہ) ۔۔۔ نہیں جو حسین (ع) تم نے بنایا ہوا ہے اس میں مسئلا ہے اس میں "فالٹ" ہے، وہ اصلی حسین نہیں ہےدوست! اصلی حسین (ع) ہو اور اس کا عاشور منانے والا رسوا ہو؟ نہیں! یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ آج دنیا میں شیعہ اپنے اپنے ممالک میں جارحیت کے خلاف برسر پیکار ہیں انہوں نے زینب (س) کی راہ اختیار کی ہے ظلم کے ایوانوں کو ہلا دینے چل پڑے ہیں اور ہم خود کو یہ کہہ کر دلاسے دیتے ہیں کہ میاں شہادت تو ہماری میراث ہے، لاشے تو ہمیشہ اٹھاتے ہیں، لاشے اٹھانا تو حسین (ع) کی سنت ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیوں بھائی کربلا تک آ کر اسلام ختم ہوجاتا ہے، شیعیت ختم ہاجاتی ہے؟ کربلا کے بعد مختار(ع) بھی تو آئے تھے، وہ آپ کو یاد نہیں کیوں؟ کبھی منائی آپ نے ان کی ولادت یا شہادت ؟ اپنے بچوں کو یہ تو بتاتے ہو کہ ہمارے امام اور اصحاب شہید ہوئے ان کو ایسے اصحاب کا کیوں نہیں بتاتے جنہوں نے دشمن کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں، ہمیں حسین (ع) کا لاشے اٹھانا یاد ہے مختار(ع) کا لاشے گرانا کیوں یاد نہیں؟ ہمیں زینب (ع) کا دربار یزید میں ماتم کرنا یاد ہے، لیکن انکا حق کی زبان و گفتار کے تیروں کی بوچھاڑ سے یزید کے ایوان کو ہلا کر رکھ دینا کیوں یاد نہیں؟ کیا دشمن کے خلاف مقاومت، مزاحمت، جدوجہد، شجائت صرف خود کو پیٹنے تک محدود رہ گئی ہے؟ ماتم کا ہاتھ ہمارے نہیں یزید کے سینے پہ لگتا ہے فضول دعوے! روز مائیں روتی ہیں، پاکستان میں بالخصوص کراچی میں روز انچولی، ملیر، رضویہ میں شہدا کے جنازے آتے ہیں اور صاحب بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا ماتم کا ہاتھ یزید کے سینے پہ لگتا ہے۔۔۔۔ جی جی آپ کے ماتم سے یزید واقعی کمزور ہو رہا ہے اس لیئے تم کوئٹہ سے ایران جاتے ہوئے ڈرے ڈرے سہمے سہمے جاتے ہو، تمہاری بسوں سے اتار کر تمہیں مارا جاتا ہے، تمہارے ڈاکٹر، تمہارے انجینئر، وکلاء، بیوروکریٹ ، افسر، طلبا کو نشانہ بنا کر شہید کیا جاتا ہے، گلگت سے لیکر بدین تک تمہارے خون کے چھینٹے ہر گلی میں بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں، ہاں جناب یزید کمزور ہوگیا! ۔۔۔
۔یاد رکھو تمہارے پاس یزید اصلی ہے حسین نقلی اس لیئے تم مر رہے ہو جس دن حسین (ع) اصلی ہو گیا تو تمہارے سامنے اصلی یزید بھی دھول چاٹے گا۔۔۔۔ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت اچھی کا نعرہ لگانے والے حسین (ع) کے عزادارو! حسین (ع)نے قربانی دی، زینب (س) نے مجلس پڑھی اورمختار نے ماتم کیا ایسی مجلس اور ایسا ماتم برپا کرو پھر دیکھنا لانڈھی سے لاہور، لاہور سے لندن تک کے تمہارے دشمن کتے کی موت مارے جائیں گے ۔۔۔۔!
www.facebook.com/arezuyeaab