ماں کے بیٹے علی (علیہ السلام) کے صحابی بنتے ہیں
بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم
ایسی ماں کے بیٹے علی (علیہ السلام) کے صحابی بنتے ہیں!
ام سلیم (رض) رسول اللہ (ص) کے دور کی ایک با ایمان خاتوں تھی. ان کے شوھر ابی طلحہ (رض) بھی سچے مسلمان اور بزرگ صحابی تھے اور بدر، احد، خندق اور دیگر غزوات میں شریک تھے.
جب جنگ کا زمانہ نہ ہوتا تو ابی طلحہ (رض) مدینے میں اپنے معاش کی تلاش اور عبادت میں وقت گذارا کرتے اور ایک زمینی کے ٹکڑے پر کام کر کے زندگی گذارا کرتے.
ان دونوں میاں بیوی کو اللہ (ج) نے ایک بیٹا عطا کیا کہ جو نوجوانی میں ہی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور بستر تک محدود ہوگیا. ام سلیم (رض) اس کی خدمت کیا کرتی. رات کو جب ابی طلحہ (رض) کام کاج سے واپس لوٹتے تو سب سے پہلے اپنے بیٹے کے سرہانے جاکر اس کی خیر خبر لیتے، اسے پیار کرتے اور اس کے بعد اپنے کمرے میں جاکر کھانا کھا کر عبادت کرتے اور آرام فرماتے.
چند روز تک یہ معمول رہا کہ ایک دن عصر کے وقت اچانک باپ کی غیر موجودگی میں بیٹے کا انتقال ہو گیا. صابرہ ماں نے بجائے رونے اور سر پیٹنے کے بچے کا جنازہ سیدھا رکھا اور اس کے منہ پر کپڑا ڈال دیا.
رات ہوئی، ام سلیم (رض) نے اپنے شوہر کی تھکن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سوچا کہ ان کے آرام میں خلل نہیں ڈالے گی اور صبح تک بیٹے کے انتقال کی بات ان سے بیان نہ کرے گی.
ابی طلحہ(رض) گھر میں داخل ہوئے تو حسب معمول بیٹے کے بستر کی جانب بڑھے تو ام سلیم (رض) نے انہیں منع کیا کہ بچے کو آرام کرنے دیں کہ آج وہ ذرا آرام سے سو رہا ہے. یہ بات ام سلیم (رض) نے اس انداز میں کہی کہ شوہر کو محسوس ہوا کہ بیٹا اب صحتیاب ہونے لگا ہے اسی لیئے وہ سکون سے سو رہا ہے. ام سلیم (رض) کا رویہ اتنا اچھا تھا کہ ان کے شوہر نے ان کے ساتھ رات گذاری.
صبح ہوئی. ام سلیم (رض) نے کہا "ابی طلحہ! اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کو کوئی چیز کچھ دن استعمال کرنے کیلئے دے اور وہ اسے ایک مدت تک استعمال بھی کرے لیکن جب مالک اپنی چیز واپس مانگے تو وہ پڑوسی رونا شروع کردے کہ ہم سے اپنی امانت کیوں لے رہے ہو، تو ایسے لوگ آپ کی نظر میں کیا حیثیت رکھتے ہیں؟" ابی طلحہ (رض) نے فرمایا: "وہ پاگل ہی کہے جا سکتے ہیں."
ام سلیم (رض) نے کہا تو پھر ہم بھی پاگل نہ کہلائیں، اللہ (ج) نے اپنی امانت واپس لے لی ہے تمہارے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے. اس مصیبت پر صبر کرو اور اللہ (ج) کی رضا پر راضی رہو اور جنازے و تدفین کا اہتمام کرو.
ابی طلحہ (رض) پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا بیان کردیا. آپ (ص) کو یہ سن کر تعجب ہوا اور آپ (ص) نے اللہ (ج) سے اس عورت کیلئے دعا کی اور اس رات بیوی اور شوہر کے ملنے کو اچھے اور بابرکت طور پر منتج ہونے کی درخواست کی.
ام سلیم (رض) حاملہ ہوئی اور اسے اللہ (ج) نے بیٹا دیا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا.
اپنے والدین کی اچھی تربیت ملنے کی وجہ سے وہ ایک با اخلاق انسان بنا، پاک زندگی بسر کی اور پاک حالت میں دنیا سے چلا گیا.
یہ عبداللہ بن ابی طلحہ (رض) وہی تھے جو حضرت امیر المومنین (ع) کے بھترین اصحاب میں سے تھے.
حوالہ: تتمه المنتهی ص 51
مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری
*_arezuyeaab.blogfa.com_*
یہ ایک اردو اسلامی ویب بلاگ ہے، جس کا مقصد نشر معارف اسلامی و معارف اہل بیت علیہم السلام ہے.