زینب (س) نہ ہوتیں تو!
زینب (س) نہ ہوتیں تو!

زینب (س) نہ ہوتیں تو!

زھرا (س) کی عزاداری اور ہماری عزاداری

زہراء (س) عاشقۂ علی (ع)
تحریر: محمد زکی حیدری
بدر کی جنگ کا خاتمہ بخیر ہوا ۳۱۳ نے ۹۵۰ کو دھول چٹا دی، کچھ مشرک واصل جہنم ہوئے، کچھ کو اسیر بنا لیا گیا. اسیروں کو لے کر مدینہ آئے. رسول اللہ (ص) کی مشاورت سے طے پایا کہ جو مشرک فدیہ دیگا اسے آزاد کردیا جائے گا. مشرکین اپنے "پاپاز" اور "ڈیڈیز" کو آزاد کروانے کیلئے مدینہ آ رہے ہیں. ایک مرتبہ پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں ایک اسیر کے فدیے کے طور پر ایک گردن بند پیش کیا جاتا ہے، گردن بند کو دیکھتے ہی آپ (ص) مغموم ہوجاتے اور آنسو بہانے لگتے ہیں. یہ گردن بند آپ (ص) کے گھر میں پلنے والی بیٹی زینب کا تھا جسے زینب نے اپنے مشرک شوہر کو آزاد کروانے کیلئے بھیجا تھا. رسول (ص) کو یاد تھا کہ یہ گردن بند بیبی خدیجہ نے اپنی بیٹی کو شادی میں تحفے کے طور پیش کیا تھا. بھرحال مسلمانوں کی مشاورت سے زینب کے شوہر کو فدیہ اس شرط پہ معاف کردیا گیا کہ وہ زینب کو مدینہ بھیج دے گا...
اب یہاں ابن ابی الحدید معتزلی عجیب جملے لکھتے ہیں جن کا مفہوم ہے کہ کیا رسول (ص) کے زینب کے غم میں بہنے والے یہ آنسو خلیفہ اول و دوم نہیں دیکھ رہے تھے؟ کیا رسول (ص) کا زینب کی غربت پر یہ حال ہونا وہ نہیں دیکھ رہے تھے؟ یہ تو صرف زینب بنت خدیجہ (س) ہے! گردنبند بھی خود پیش کر رہی ہے راضی ہے! وہ فاطمہ زہرا (س) تو ام ابیہا تھی! فدک تو تھا بھی اس کا اپنا، دینے پہ راضی بھی نہیں تھی! گواہ بھی پیش کر رہی تھی... پھر بھی اتنی سختی سے پیش آئے...!!!
کیا قصور تھا زہرا (س) کا؟ صرف عشق علی!
زہراء (س) عاشقۂ علی ہیں!
کیا عشق کرنا برا ہے؟ یونیورسٹی کے اکثر میرے جوان دوست اور میری جوان بہنیں کہیں گی ہر گزنہیں! مدرسے کے بزرگ کہیں گے بلکل برا ہے، لاریب فیہ! دونوں کے اذہان میں عشقِ محمد (ص) و خدیجہ (س) اور عشقِ علی (ع) و زہراء (س) کا عکس موجود نہیں ہوتا. ہر چیز اہل بیت (ع) سے لی ہے تو عـشق کرنا بھی ان سے لیں گے.
کتنا عشق ہے زہراء (س) کو علی (س) سے! گھر گھر جا کر لوگوں کو بتاتی ہیں کہ ولایت صرف علی (ع) کا حق ہے. آپ نے جملہ پڑھ لیا اور گذر گئے دقت کیجئے، سوچیئے جب ہمارے یہاں الیکشن ہوتے ہیں، الیکشن کیمپین صرف مرد چلاتے ہیں، کسی مہذب امیدوار کی بیوی گھر گھر جا کر کیمپین نہیں چلاتی کہ اٹھو ووٹ میرے شوہر کو دو! عرب کی سی جہالت کی نگری میں جہاں عورت کو پاؤں کی جتی سمجھا جاتا وہاں سیاست کے میدان میں ولایت علی (ع) کا پرچم لے کر قدم رکھنے والی یہ زہراء (س) ہے، عاشقۂ علی (ع)؛ عاشقۂ اسلام، عاشقۂ ولایت، کہ گھر گھر جا کر کہتی ہے علی (ع) جیسا کوئی نہیں! علی (ع) ولی ہے! کیا یہ عشق نہیں ہے؟
خانہ داری دیکھیں! جب معلوم ہوا کہ موت قریب ہے تو بچوں کو نہلانے لگتی ہیں! کتنی عجیب بات ہے ملک الموت کی آمد آمد ہے اور یہ ہیں کہ خانہ داری کی ذمہ داریاں نبھانے میں مگن ہیں! پورا گھر منظم انداز میں ترتیب دے کر جا رہی ہیں، جانتی ہیں علی (ع) کا زہرا (س) کے سوا بھلا ہے ہی کون!
رحلت پیغمبر (ص) کے بعد زہراء (س) کی زندگی میں علی (ع) کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، اگر میں کہوں علی (ع) کی زندگی میں بھی زہراء (س) کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تو غلط نہ ہوگا. اگر سوچئے تو بیشک زہرا (س) کو غسل دینا علی (ع) کے لیئے مشکل تھا، ہم مصائب میں اس کا ذکر سنتے ہیں، روتے ہیں، لیکن ذرا سوچیں تو زہرا (س) کے جنازے میں کتنے مرد زہراء (س) کے محرم تھے، جو علی (ع) کی مدد کرتے کہ وہ زہراء (س) کو قبر میں اتارسکیں! سب نامحرم، سلمان و ابوذر و ابن عباس و... پھر علی (ع) نے کیسے اتارا زہراء (س) کو قبر میں!!! کبھی ہم نے سوچا ہے؟ یہ آسان ہے؟ سب علی (ع) اکیلے نے کیا، ابن عباس فرماتے ہیں جب علی (ع) زہرا (س) کو دفن کر رہے تھے تو بڑے مغموم تھے....! علی (ع) کی کیفیت دیکھیں، یہ مرحب و حارث و عبدود کو چت کرنے والا علی (ع) ہے لیکن آج بے حال و ناتوان محسوس کر رہا ہے... کیوں؟ کیونکہ زہرا (س) ان سے دور جا رہی ہیں، چکیاں پیس کر حسن و حسین (ع) کو پالنے والی زہرا (س) جا رہی ہیں اور اس حال میں کہ.... کیا لکھوں الفاظ نہیں ہیں اس حقیر کے پاس...!
علی (ع) کے دل میں عشق زہراء (س) کتنا ہے، آپ اس جملے سے اندازہ لگائیں، آخری ثبوت علی (ع) کے عشقِ زہراء (ع) کا، یہ ایک جملہ علی (ع) کی کیفیت بیان کر سکتا ہے کہ زہراء (س) کے فراق میں ان کیا حال ہوا، ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب علی (ع) زہراء (ع) کو دفن کر چکے تو "فوضع خدہ علی تراب القبر..."
علی (ع) نے قبرِ زہرا (س) کی خاک پر اپنا سر رکھ دیا!!!
یا زہرا (س)!!!
www.fb.com/arezuyeaab

زھرا(س) کیا کرے!
تحریر: محمد زکی حیدری
خیّاط نامی یہ عرب بدو ہے، اس کے گھر میں قہرام بپا ہے کہ اس نے لات و منات و ھذا و ھبل کے سامنے بہت سجدے کئے تھے کہ اس کے یہاں بیٹی پیدا نہ ہو لیکن آج صبح ہی اس کی بیوی کو دوسری بیٹی پیدا ہوئی ہے، معاشرے میں ناک کٹجانے کا ڈر تو کنار، اس کی بیوقوف بیوی اس بار کبھی نہیں مانے گی کہ اس نئی آنے والی دوسری نحوست کا خاتمہ کیا جائے، خیّاط کو پچھلے سال گرمیوں کا قصہ یاد ہے کہ جب اس کے یہاں بیٹی ہوئی تھی اور وہ اسے دفن کرنے جا رہا تھا تو اس کی بے عقل بیوی کتنی چیخی چلائی تھی. اسے یاد ہے کہ اس کی بیوی نے اس کے دامن سے لپٹ کر فلک شگاف چیخیں ماریں تھیں اور اسے کہا تھا کہ بے رحم انسان! اتنی تپتی دھوپ میں جب اونٹ بھی صحرا کی جانب جانے کا سوچ کر تھر تھرا اٹھتے ہیں، ایسے میں بھلا میری اس نومولود بچی نے تیرا کیا بگاڑا ہے کہ تو اسے زندہ تپتی ریت میں دفن کرنے چلا ہے! لیکن خیّاط ایام العرب کا ایک غیور عرب تھا اسے بے وقوف بیوی، ناقص العقل بیوی، کا رونا اور گڑگڑانا بھلا کب روک سکتا تھا سو اس نے زبردستی یہ کام انجام دے کر اپنے قبیلے میں اپنے نام کی لاج رکھی تھی.
لیکن ایک بار پھر؟ خیاط کو علم ہے کہ اس بار اس کی بیوی اسے ہر گز یہ کام کرنےنہ دیگی. خیّاط گھر آتا ہے اس کی بیوی کے آنسو دیکھ کر چپ ہوجاتا ہے، ایک ماں کی دوسری بار چیخیں، آھیں، منت اور سماجت سنگدل خیّاط پر اثر کرتی ہیں اورخیّاط کے وجود پر پڑی فرسودہ اعتقاداتِ معاشرہ کی آھنی زنجیریں پگل کر رہ جاتی ہیں اور وہ بیوی کی بات مان کر اپنی بیٹی کو چھوڑ دیتا ہے کہ جیتی رہے. یہ معجزہ تھا، اس میں اللہی حکمت پنہان تھی. یہ سمّیہ بنت خیّاط کی ولادت ہوئی ہے! حضرت عمار یاسر (رض) کی پاکیزہ ماں سمّیہ بنت خیّاط! یہ وہی سمّیہ ہے کہ عمار بن یاسر (رض) کے ایمان لانے کی پاداش میں اس کے گھر پر حملہ کیا جاتا ہے، اسے اس کے شوہر یاسر کے ساتھ تپتی دھوپ میں شکنجہ دیا جاتا ہے لیکن سمیہ کے خون میں اس کی مظلوم ماں کے آنسو سمائے تھے کہ جو اس نے اپنی بیٹی کو زندہ در گور ہوتے دیکھ کر بہائے تھے. ماں کے ان ہی آنسوؤں کی طاقت ہے کہ جب ابوجہل اس کے قریب جاکر کہتا ہے اب مانتی ہو ہمارے خدا کو یا اب بھی محمد (ص) کا خدا؟ یہ سن کر سمّیہ اس کے منہ پر تھوک کر کہتی ہے "بؤسا لک و لآلهتک"، لعنت ہو تجھ پے اور تیرے خداؤں پر!
عجب ہے! اس عرب کی عورت کو کیا ہو گیا ہے، اسے کس نے ایسی طاقت عطا کردی کہ ابوجہل کے منہ ہر تھوک رہی ہے اور ان خداؤں کو لعنت کر رہی ہے. اسے پتہ چل گیا ہے کہ وہ محمد (ص) آچکا ہے جسے کوثر عطا ہوا ہے، شاید اسے پتہ چل گیا کہ اب عرب کی عورتوں کی پہچان خرید و فروش کی ایک جنس نہیں، کسی بھیڑ بکری کی طرح جینے والی عورت، جسے استعمال کیا اور جب اچھے دام ملے تو بیچ دیا، اب عرب کی عورت کو معاشرے میں نحوست کا نشان سمجھنے والوں کے دن گئے، اب قبیلائی جرم، جن کے مرتکب مرد ہوتے تھے لیکن سزا کے طور پر عورت کو کسی بوڑھے کی زوجیت میں دے کر اس کے ارمانوں کا گلا گھونٹنے کے دن گئے، اب ان عرب کی عورتوں کی پہچان زہرا (س) ہےـ ام ابیہا! کوثر!
اس اسلام نے عورتوں کو نجات بخشی، اب زہرا (س) پر زنان عرب کی سردار ہونے کے ناطے فرض تھا کہ اسلام کا شکریہ ادا کرے، تو زہرا (س) کیا کرتیں کہ اسلام کا شکریہ ادا ہو جاتا، کیا اسلام کے نبی (ص) پر جب کوئی مشرک نماز کے دوران اوجھڑی پھینک جائے زہرا (س) اسے صاف کرے پھر بھی شکریہ ادائی نہ ہوئی، کوئی مشرک احد میں نبی (ص) کو زخمی کردے زہرا (س) کو جوں ہی خبر ملے تو وہ عورتوں کے ساتھ اپنے بابا کی مرہم پٹی کرنے پہنچے پھر بھی شکریہ ادا نہ ہوا؟ اپنے گھر میں اسے حسین (ع) جیسا بیٹا پیدا ہو اپنے بابا کی مسکراہٹ کی بجائے آنسو دیکھے اور حسین (ع) کی کربلا میں شہادت کی بات سن کر چپ رہے پھر بھی نہیں؟ بابا کی رحلت کے بعد روئے تو گھر کے باہر احتجاج کرنے والوں کا ہجوم دیکھے پھر بھی نہیں؟، بیت الاحزان میں دن گذارے، نبی (ص) کی زبانی من کنت مولا ف... کے الفاظ سننے والوں کی طرف سے سقیفہ کا بزم سجتا دیکھے، اپنے شوہر کو کنویں میں منہ ڈال کر روتا دیکھے، حقوق نسواں کے حصول کی مثال قائم کرنے کیلئے دربار کا منہ دیکھے اور وراثت کے جعلی تفسیر سن کر واپس آجائے، گھر گھر جا کر ولایت کی تبلیغ کرے، کیا پھر بھی شکریہ ادا نہ ہوا؟ زہرا (س) اسلام کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش میں ۱۸ سال کی عمر میں ۸۸ سال کی بوڑھیا نظر آئے، رات کو کفن دفن ہو، قبر کا نشان تک نہ نظر آئے... ہاں جب وجود کو خدمت اسلام میں مٹا دیا تو قبر کی بساط ہی کیا ہے، جب بھرا گھر جس پہ آیت تطہیر نازل ہوئی، اس طرح بکھرا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا... زہرا (س) کے بعد کساء میں یکجا نظر آنے والوں کے ذرا نشانات تو ڈھونڈیئے، زہرا (س) کی قبر کا نشان نہیں پتہ، علی (ع) نجف میں، حسن (ع) مدینہ، حسین (ع) کربلا اور زینب!!! زینب (س) سب سے دور شام میں. خانوادہ زہرا (س) کی خوبصورت مالا ٹوٹی اور موتی بکھر گئے کیا اب بھی اسلام کا شکریہ ادا نہ ہوا؟
زہرا (س) اور کیا کرے کہ اسلام یہ نہ کہے کہ میں نے عورت پر جو احسان کیا اس پر عورت نے میرا شکریہ ادا نہ کیا!
www.fb.com/arezuyeaab
کیا بیبی صغریٰ (س) مدینے میں بیمار تھیں، یا کربلا میں امام حسین (ع) کے ساتھ موجود تھیں؟
جمع آوری: محمد زکی حیدری
جناب عالی جیسا کہ ہم پاکستان میں مروجہ عقائد کہ جو اصل حالات و واقعات سے متفاوت ہیں پر بحث کر رہے تھے اور ہم نے شہزادہ قاسم کی شادی اور مہندی، اس کے بعد امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد اور بیبی صغریٰ کو "صغریٰ" کیوں کہا جاتا ہے وغیرہ کو مستند کتب کے حوالے دے کر ان کی حقیقت بیان کی۔ اس مرحلے میں ایک اور مشہور قصے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتے ہیں وہ یہ کہ کہا جاتا ہے، بلکہ ببانگ دھل کہا اور مصائب میں پڑھا جاتا ہے کہ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) مدینہ میں بیمار تھیں امام انہیں چھوڑ آئے تھے، اور اس کو مزید ڈرامائی شکل دے کر یہ تک کہا جاتا ہے کہ بیبی صغریٰ نے اپنے بابا کو خط بھی لکھا اور وہ خط کا انتظار کیا کرتی تھیں وغیرہ وغیرہ۔
کیا بیبی فاطمہ صغریٰ مدینہ میں تھیں؟ یا کربلا میں امام (ع) کے ساتھ؟
یہ بیبی کربلا میں موجود تھیں اور وہاں کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ہم نے ان کو اس کا صلہ یہ دیا کہ انہیں کربلا جیسی فتح مبین میں شرکت سے ہی محروم کردیا کسی سے اس کا حق چھیننا اگر طلم ہے تو ہم سب سے بڑے ظالم ہیں کہ حسین (ع) کی اولاد کو اس کے حق سے محروم کیا۔ یہ تو خلفاء کی سنت ہیں میاں آپ کب سے غاصب بن گئے؟ اچھا معلوم نہیں تھا تو خیر ہے لیکن اب جب میں معتبر کتب سے ثابت کر دوں تو آپ کا فرض ہے کہ اس معظمہ بیبی (س) نے کربلا میں جو قربانیاں دیں ان کا اجر تو انہیں نہیں دے سکتے لیکن ان کی قربانیوں کا اقرار تو کریں اور دنیا تک ان کی مظلومی کا پیغام پہنچائیں۔ آپ سے کوئی دو رکعت نماز کا ثواب چھین لے تو آپ کو لگتا ہے اس نے آپ کے ساتھ نا انصافی کی ہے، لیکن آپ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) سے کربلا میں شرکت جیسا عظیم ثواب چھین رہے ہیں اوراوپر سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ عجیب ہے یہ محبت ۔۔۔۔ خیر آٌپ کا قصور نہیں آپ کو منبر نشینوں نے یہ بتایا ہے۔۔۔
فاطمہ بنت الحسین (س) یعنی فاطمہ صغریٰ (س) سے مروی رویات دیکھنے کا شوق رکھنے والے علامہ ہادی امینی مرحوم کی کتاب فاطمہ بنت الحسین (ع) کا صفحہ نمبر 80 سے لیکر 112 تک کا مطالعہ کریں، جس میں بیبی (س) سے درجنوں رویات دسیوں کتابوں کے حوالہ جات سے نقل کی گئی ہیں۔ اور شیخ جعفر نقدی کے بقول جو چیز ان معصومہ (س) کے کمال پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بابا اور پھوپھی زینب (س) سے روایت نقل کی ہے۔ اور شیعہ سنی علماء نے آپ (س) سے نقل ہونے والی روایات پر اعتماد کیا ہے ۔ ان کی عظمت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ کتاب "اصحاب سیر و مقال' میں لکھا ہے کہ امام حسین (ع) نے آخری وقت میں آپ (س) کو وصیت نامہ دیا جو انہوں نے امام سجاد (ع) کو انکی صحتیابی کے بعد دیا۔
فاطمہ صغریٰ وصیت دار امام حسین (ع)
امام جعفر صادق (ع) سے فرماتے ہیں:
دعا ابنۃ الکبریٰ فاطمہ نبت الحسین (ع) فدفع الیھا کتاباٍ ملفوفا ووصیۃ طاھرۃ
امام حسین نے میدان جنگ کی طرف روانہ ہونے سے قبل اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کو بلایا اور وصیت نامہ ان کے سپرد کیا۔
یہ وصیت نامہ مندرجہ زیل کتب میں درج ہے:
اصول کافی
بصائر الدرجات
قمام ذخار ، فاطمہ کبریٰ ، ص 450 تا 453
ناسخ التواریخ ج 2 ص: 342
منتخب التواریخ باب خامس ص 173
جلال العیون
فاطمہ بنت الحسین (ع) علامہ ہادی امینی ص 13
فاطمہ بنت الحسین جعفر نقدی ص 9
کربلا سے مدینہ واپس آتے ہوئے بھی اس معظمہ (س) نے زینب (س) اور ام کلثوم (س) کے ساتھ خطبے دیئے ۔
بیبی فاطمہ صغریٰ (س) کا کوفہ میں خطبہ
سید ابن طاؤس نے زید بن موسیٰ کاظم (ع) سے یہ خطبہ اپنے والد محترم امام موسیٰ کاظم (ع) سے ان الفاظ میں نقل کیا ہے :
روی زید بن موسیٰ قال حدثنی ابن عن ضدی علیہ السلام : کطبت فاطمۃ الصغریٰ بعد ان وردت من کربلا فقالت:۔۔۔۔
خطبہ طولانی ہے لھٰذا ان کتب کے حوالے پیش کر رہے ہیں ان سے رجوع کیا جائے:
ناسخ التواریخ ج 6 ، جز 3، ص: 42
تطلم زہراء ص 295
اسرار الشہادۃ ص : 479
ریاض الشھادۃ ص ج: 2، ص: 285
بحار الانوار ج: 45، ص: 110
معالم المدر ستین ج :3، ص: 183
جلال العیون ج 2، ص 504
الدمعۃ الساکبۃ ج 6، ص 38
مقتل حسین ص 313
لہوف سید ابن طاؤس ص 194
قمام زخار، ج 2، 520
لوائج الاشجان ص 202
منتخب الطریحی ص 122
زینب الکبریٰ ص 56
تنفیح المقال ج 1 ص 471
نفس المہموم
الکامل فی التاریخ
تاریخ طبری
جمرۃ الانساب العرب ص 55
مقاتل الطالبین
وفیات الاعیان ج 3 ص 271
جامع الرواہ ج 1 ص 343
فاطمہ بنت الحسین ص 26
مثیر الاحزان
بھیا امام حسین (ع) اور اس کی عاشورہ کے ذکر میں بہت کچھ ذاکروں کا بنایا ہوا تھا اور جو "علماء کرام " آئے انہوں نے بھی زحمت نہ کی آپ کو حق بتائیں جیسا چلتا ہے چلنے دو ۔۔۔ پہلی و دوسری محرم کو بیبی بیمار، پردیسی وغیرہ کا مصائب پڑھ کر ہمیں خوب رلاتے ہیں اور بیبی (س) کے عورت ہو کر دشمن کو للکارنے اور اس کی دربار کو اپنے خطبے سے لرزانے کی عظیم عبادت کا بتا کر ہمیں رلانے کے ساتھ ساتھ ہماری ماں بہنوں کیلئے ایک عظیم نمونہ عمل پیش نہیں کرتے۔
افسوس!
میرے جوان دوستو! ایک عظیم بیبی، ایک دلیر، با ہمت بیبی، جو میدان جنگ میں دشمن سے برسر پیکار ہے اسے بیمار بنا کر پیش کردینے سے زیادہ اس سے کیا دشمنی کی جاسکتی ہے؟ وہ معظمہ اپنی چادر لٹا کر جن لوگوں کیلئے دشمن کی درباروں میں جاکر خطبے دیتی ہے اسے بیماری کے بستر پر محدود لکھا گیا۔۔۔۔ کیونکہ رونا ہے! پردیسی بیبی کا "سین" نہیں تھا تو ایک "سین" کا اپنے ڈرامے میں اضافہ کردیا گیا تا کہ زیادہ سے زیادہ روئیں لوگ۔۔۔ کربلا صرف رونے کا نام نہیں کربلا مقابلے کا نام ہے۔ یہ کالی کربلا تمہیں دی گئی ہے اصل کربلا سرخ ہے اصل کربلا کونے میں بیٹھ کر رونے والوں کی نہیں سوکھے گلے اورسوکھی کمزور زبانوں سے دشمن کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دینے والے عظیم مجاہدوں کی عملی داستان ہے۔۔۔ ہم نے صرف کربلا سے سیاہی لی ہے! سرخی لیتے تو آج چند بدمعاش ہم پر غالب آکر ہماری ماؤں کی گود نہ اجاڑتے۔۔۔ ہم کل بھی روئے تھے جنازے دیکھ کر اور آج بھی بس روہی رہے ہیں، کیونکہ رونے سے جبت ملتی ہے بس رو ۔۔ گریہ کرو گھر جاؤ۔۔۔۔ عارف الحسین حسینی (رح) سے لیکر سبط جعفر (رح) تک ہر جنازہ اٹھایا روئے، رونے والوں نے جنت کمالی، رونے کی شکل بنانے والوں نے بھی جنت کما لی۔۔۔۔ آپ کو ایسی جنت مبارک ہو جو لٹی ہوئی چادروں اور دشت میں پڑے بے سرو ساماں لاشوں سے صرف رونے کا درس لے کر ملتی ہو۔
مجھے خبرداری، احتیاط کے پیغام ملنا شروع ہوگئے ہیں مگر میں سرخ کربلا کا ماننے والا ہوں مجھے سرخی پسند ہے، میرا کفن حسین (ع) کے پھٹے پیراہن کی طرح سرخ ہو بجائے اس کے کہ صرف میرے مولا (ع) کی آہنی ضریح سے مس ہوا ہوا ہو۔
"جو شہید ہوگئے انہوں نے حسین (ع) کی سنت پر عمل کیا ، جو رہ گئے وہ زینب (س) کی سنت پر عمل کریں۔" ' (جس کا یہ قول ہے اسے نامعلوم سمجھا جائے)