مہمان کو گھر سے کیوں نکالا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
مہمان کو گھر سے کیوں نکالا
شہید دستغیب لکھتے ہیں: حضرت ابراہیم (ع) خلیل اللہ کبھی مہمان کے بغیر، تنہا کھانا نہیں کھایا کرتے تھے. اکثر اوقات یہ ہوتا کہ راستے میں کھڑے ہو جایا کرتے، کسی مہمان کو بلا کر گھر لے آتے کہ ساتھ کھانا کھا سکیں. ایک دن انہیں ایک کافر مسافر ملا، آپ نے کھانے کے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور مہمان سے بھی کہا کہ وہ بھی اللہ (ج) کا نام لے کر کھانا شروع کرے. کافر نے کہا میں اللہ (ج) کو نہیں مانتا. ابراھیم (ع) نے کہا ایسی بات ہے تو اٹھو اور چلے جاؤ!
مہمان اٹھا اور چلا گیا.
اللہ (ج) نے ابراھیم (ع) کو وحی کے ذریعے فرمایا: *اے ابراہیم! مہمان کو کیوں بھیج دیا؟ ۷۰ سال سے میں اسے روزی دے رہا ہوں ایک دن اس کی روزی میں نے تہمارے اختیار میں دی تو تم نے اسے منع کردیا.*
ابراھیم (ع) اس کافر کے پیچھے گئے اور اسے جا کر التماس کی کہ واپس آئے. کافر نے کہا جب تک یہ نہیں بتاؤ گے کہ تمہیں کس نے میری طرف بھیجا، میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤنگا.
ابراھیم (ع) نے اسے پورا قصہ سنا دیا، یہ سن کافر نے کہا: وائے ہو مجھ پر! ایسے کریم اللہ (ج) سے روگرداں رہا، یہ کہہ کر اس نے ابراھیم (ع) کے ہاتھ پر بیعیت کی اور مسلمان ہوگیا.
حوالہ: روضہ ھای شہید دستغیب ص ۱۴۸
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری
+989199714873
arezuyeaab.blogfa.com
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
(اس پیغام کے متن میں تبدیلی متقی انسان کی نشانی نہیں)
یہ ایک اردو اسلامی ویب بلاگ ہے، جس کا مقصد نشر معارف اسلامی و معارف اہل بیت علیہم السلام ہے.