کربلا میں کیا ہوا  قسط 19

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 19)

 
زھیر بن قین (ع) سے ملاقات

سید ابن طاؤس لکھتے ہیں: بنی فزارہ اور بجیلہ کے لوگوں سے نقل کیا گیا ہے کہ ہم زھیر بن قین کے ساتھ مکہ سے خارج ہوئے، اور حسین (ع) کے قافلے سے پیچھے تھے. چونکہ زھیر بن قین امام حسین (ع) سے ملنا نہیں چاہتے تھے اس لیئے جہاں حسین (ع) کا کارواں رکتا تو ہم بھی پیچھے رک جاتے تاکہ حسین (ع) کے قافلے سے فاصلے پر رہیں. لیکن ایک جگہ حسین (ع) نے اس طرح توقف کیا کہ ہم مجبور ہوئے کہ ان کے قریب توقف کریں.
ہم کھانا کھا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور زھیر سے کہا حسین (ع) نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے اور فرمایا ہے مجھ سے ملنے آئیں.
یہ بات سن کر زھیر کے ہاتھ سے نوالہ گر گیا وہ سخت پریشان ہوا اور خیالوں میں اس طرح گم ہو گیا جیسے اس کے سر پرندہ بیٹھا ہو اور وہ اسے پکڑنا چاہتا ہو.
زھیر کی زوجہ (دیلم/دلہم) نے خوش ہوکر اسے کہا کہ پیغمبر کے بیٹے نے آپ کو طلب کیا ہے جاکر پوچھ تو لیں کہ کیا کہتے ہیں.
زھیر، حسین (ع) سے ملنے گئے اور تھوڑی دیر بعد خوش و خرم واپس لوٹے اور حکم دیا کہ خیموں کو نکال کر حسین (ع) کے خیموں کے قریب لگاؤ. بیوی سے کہا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں کیونکہ نہیں چاہتا کہ تم میرے ساتھ مشکلات جھیلو، اس نے بیوی کے مہریہ و حقوق ادا کر کے اسے اپنے چچازادوں کے حوالے کیا تاکہ وہ اسے اپنے خاندان میں پہنچا دیں. زھیر کی بیوی نے روکر زھیر سے خداحافظی کی اور کہا کہ امید کرتی ہوں کہ قیامت کے دن جدِ حسین (ع) کے سامنے مجھے بھی یاد رکھو گے.
زھیر (ع) نے اصحاب سے فرمایا جس کو میرے ساتھ آنا ہے آ جائے نہیں تو میری یہ آخری ملاقات ہے.

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے: 
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص: 90 91

۲. نفس المہموم فارسی ترجمہ (در کربلا چہ گذشت) ص: 225 , 226

۳. ارشاد شیخ مفید 420 , 421


💠💠💠💠💠💠💠💠
*التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری*
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا قسط 18

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 18)

 
فرشتوں اور جنوں کی امام حسین (ع) کو پیشکش

 

سید ابن طاؤس لکھتے ہیں کہ شیخ مفید نے اپنی کتاب *مولد النبی و مولد الاوصیاء* میں امام جعفر (ع) سے نقل کیا ہے کہ جب امام حسین (ع) مکہ سے کوفہ کیلئے روانہ ہوئے تو فرشتوں کا ایک گروہ آیا اور کہا کہ ہم نے آپ کے نانا (ص) کی بہت سی جنگوں میں مدد کی اور اللہ (ج) نے ہمیں آپ کی مدد کیلئے بھیجا ہے. امام (ع) نے فرمایا میری اور تمہاری ملاقات کربلا نامی سرزمین پر ہوگی وہاں پہنچ جاؤں تو تم آنا. فرشتوں نے کہا ہمیں آپ کا حکم ماننے پر مامور کیا گیا ہے اگر چاہیں تو ہم آپ کی حفاظت کریں. فرمایا نہیں.

 

جنوں کا آنا

 

اس کے بعد جنوں کا ایک گروہ آیا اور کہا ہم شیعہ ہیں اور آپ کے ماننے والے ہیں، آپ حکم کریں تو ہم آپ کے دشمن کو نابود کردیں اور آپ اپنے وطن میں خوش رہیں. امام (ع) نے انہیں دعا دی اور فرمایا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا کہ جس میں لکھا ہے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے" (آل عمران ۱۵۴) مدینہ میں رہنے کا فائدہ نہیں اگر میں گھر میں بیٹھا رہوں تو اللہ (ج) میرے وسیلے سے ظالم کو کیسے بے نقاب کرے گا. اور میری قبر میں کون سوئے گا؟ جب کہ اللہ (ج) نے جب سے اس زمین کو خلق کیا، اسے میرے لیئے انتخاب کیا اور اسے میرے اور میرے محبین کیلئے پناھگاہ قرار دیا.ان کے اعمال وہاں قبول ہوتے ہیں اور ان کی دعا وہاں مستجاب ہوتی ہے. میرے شیعہ وہاں آباد ہوں گے اور دنیا و آخرت میں امن سے رہیں گے. لیکن تم لوگ ہفتے کے دن جو عاشور کا دن ہے میرے پاس آنا
ایک اور روایت میں ہے کہ جمعے کے دن آخری پہر میں جب میں مارا جاؤں اور میرے ساتھ میرے اہلبیت و اپنوں میں سے کوئی نہ رہ جائے، اس دن میرے پاس آنا.
جنوں نے کہا آپ کے امر کی مخالفت گناہ نہ ہوتا تو ہم آپ کے دشمنوں کو نابود کردیتے. امام (ع) نے فرمایا خدا کی قسم ہمارے اندر انہیں مارنے کی طاقت تم سے زیادہ ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اتمام حجت ہو


🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے: 
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص: 83 85


💠💠💠💠💠💠💠💠
*التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری*
💠💠💠💠💠💠💠💠

تشریح

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


🚩🚩🚩تشریح🚩🚩🚩


میرے سلسلے کربلا میں کیا ہوا کی قسط نمبر ۱۷ میں امام (ع) کی مندرجہ ذیل عبارت شامل ہے:

حسین (ع) نے مکہ سے نکلتے وقت ایک کاغذ منگوایا اور اس پہ لکھا:
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حسین بن علی کی طرف سے بنی ھاشم کیلئے. اما بعد جو کوئی ہمارے ساتھ آئے گا شہید ہوگا اور جس نے کوتاہی کی وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا. والسلام*
یہ الفاظ ہیں کامیابی نہیں دیکھے گا

اس پر بہت سے مومنوں نے سوال کیا کہ اگر امام (ع) نے کہا کہ جس نے میرا ساتھ نہ دیا وہ کامیاب نہ ہوگا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس جس نے امام (ع) کا ساتھ نہ دیا وہ گنہگار ہیں؟
شیخ محدث قمی نے اس کا جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے:
دشمن اسلام سے جنگ دو قسم کی ہے ایک کامقصد ہوتا ہے دشمن پر غلبہ پانا اسے جہاد دفاعی کہتے ہیں. دوسری قسم کی جنگ وہ ہے جب آپ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے لیکن آپ اپنی جان نثار کرنے کیلئے جاتے ہیں، جیسے حضرت جعفر طیار (ع) نے جنگ موتہ میں کیا. اس جہاد کو جہاد استماتہ (موت کی طرف جانا) کہتے ہیں. اس میں جس کی توفیق ہو وہ جائے. اس کا اجر بہت زیادہ ہے لیکن جو نہ جائے اسے گناہ نہیں.
امام حسین (ع) کا جہاد جہادِ استماتہ تھا جس کے لیئے جانے والوں کا اجر بہت زیادہ ہے لیکن نہ جانے والوں پر گناہ نہیں.
سو امام حسین (ع) کے یہ کہنا کہ جس نے کوتاہی کی وہ *کامیابی نہیں دیکھے گا* کا مطلب وہ کامیابی ہے جو منتقم آل محمد حضرت مہدی (عج) کو اور ان کے ساتھیوں کو نصیب ہوگی وہ انہیں نصیب نہیں ہوگی


🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴


فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص209

💠💠💠💠💠💠💠💠
*التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری*
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا قسط ۱۷

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 17)

 
محمد بن حنفیہ اور امام حسین (ع)

سید ابن طاؤس (رض) فرماتے ہیں امام جعفر صادق (ع) سے نقل ہے کہ اس رات جس کے اگلے دن حسین (ع) مکہ سے کوفہ نکلنے والے تھے، محمد بن حنفیہ ان کے پاس آئے اور انہیں جانے سے منع کیا. امام حسین (ع) نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہیں یزید مجھے اللہ (ج) کے گھر میں قتل کرڈالے اور بیت اللہ کی بے حرمتی ہو.
حنفیہ بولے اگر ایسا ہے تو یمن کی جانب چلے جاؤ، یا بیابان میں چلے جاؤ (یعنی کوفہ نہ جاؤ). امام (ع) نے فرمایا ٹھیک ہے میں آپ کی بات پر سوچوں گا.
صبح امام حسین (ع) کوفہ جانے لگے تو محمد بن حنفیہ نے ان کی سواری کی لغام پکڑ لی بولے اے بھائی کیا تم نے مجھ سے رات وعدہ نہ کیا تھا کہ میرے مشورے پہ غور کرو گے، تو پھر کیوں عراق جا رہے ہو؟
امام (ع) نے فرمایا آپ کے جانے کے بعد رسول اللہ (ص) میرے پاس آئے اور فرمایا اے حسین عراق کی طرف جاؤ کیونکہ اللہ (ج) تمہیں شہید ہوتے دیکھنا چاہتا ہے.
محمد بن حنفیہ نے انا للہ.... پڑھا اور بولے اگر شہید ہونے جا رہے ہو تو خواتین کو ساتھ کیوں لے جا رہے ہو. فرمایا: مجھے رسول (ص) نے فرمایا *ان اللہ قد شاء ان یراھن سبایا* اللہ (ج) ان عورتوں کو اسیر دیکھنا چاہتا ہے. یہ سنا تو محمد حنفیہ چلے گئے.
یعقوب کلینی (رض) اپنی کتاب *رسائل* میں حمزہ بن حمران سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مجلس میں امام صادق (ع) موجود تھے، مجھ سے فرمایا اے حمزہ ایک ایسی حدیث تمہیں سنا رہا ہوں کہ آئندہ کبھی تم مجھ سے محمد بن حنفیہ کے بارے میں سوال نہ کروگے. اور وہ حدیث یہ ہے:
حسین (ع) نے مکہ سے نکلتے وقت ایک کاغذ منگوایا اور اس پہ لکھا:
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حسین بن علی کی طرف سے بنی ھاشم کیلئے. اما بعد جو کوئی ہمارے ساتھ آئے گا شہید ہوگا اور جس نے کوتاہی کی وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا. والسلام*


🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے: 
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص: 81 و 83


2.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص99

💠💠💠💠💠💠💠💠
*التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری*
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا قسط ۱۶

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 16)

 
مکہ سے کوفہ جاتے ہوئے لوگوں کا امام (ع) کو منع کرنا

 

فردق کہتا ہے ساٹھ ھجری سال کو میں اپنی ماں کے ساتھ حج کیلئے مکہ گیا. جب میں مکہ پہنچنے والا تھا تو میں نے ایک قافلے کو مکہ سے خارج ہوتے دیکھا. میں نے پوچھا یہ قافلہ کس کا ہے بولے حسین ابن علی (ع) کا ہے. میں ان کی خدمت حاضر ہوا کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ کیا بات ہے کہ سب مکے کی طرف آ رہے ہیں آپ مکہ سے جا رہے ہیں. آپ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ خدا کی قسم مجھ سے اس طرح کبھی کسی نے تعارف نہیں لیا تھا. میں نے کہا میں عرب ہوں. فرمایا: بتاؤ کوفہ کے لوگ میرے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں. میں نے عرض کی کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں لیکن تلواریں آپ کے خلاف. امام (ع) فرمایا سب کچھ اللہ (ج) کے اختیار میں ہے. اس کے بعد میں نے انہیں دعا دی خداحافظی کی اور ہم جدا ہوئے.
جب آگے گئے تو یحی بن سعید بن عاص کچھ لوگوں کے ساتھ امام (ع) کے پاس پہنچے اور انہیں واپس لوٹنے کو کہا امام (ع) نے ان کی بات نہ مانی اور وہ واپس چلے گئے.
امام (ع) یمن کے ایک قافلے سے ملے ان سے کچھ اونٹ کرائے پر لیئے. اونٹ والوں سے فرمایا کہ اگر تم لوگ ہمارے ساتھ عراق چلو تو ہم تمہیں کرایہ بھی دیں گے خدمت بھی کریں گے. اگر نہیں تو آپ اختیار رکھتے ہیں کہ آدھے سفر سے لوٹ آئیں، ہم آپ کو وہاں تک کا کرایہ ادا کریں گے. لہذا کچھ اونٹ والے آپ (ع) کے ساتھ چلے.

شیخ مفید (رض) کے بقول اس موقع پر حضرت عبداللہ کے دو بیٹے عون و محمد (ع) بھی آپ کے کاروان کے ساتھ ملے. اور اپنے والد کا خط پیش کیا جس میں جناب عبداللہ (رح) نے امام (ع) کو یہ سفر ترک کرنے کامشورہ دیا تھا.

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے: 
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص: 79

۲. ارشاد شیخ مفید ص:415 سے 417 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص215 سے 217

 

💠💠💠💠💠💠💠💠
*التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری*
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا  قسط 15

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 15)

 

حسین (ع) کی مکہ سے کوفہ روانگی

حسین (ع) نے تین ذی الحج یا بعض کے مطابق آٹھ ذی الحج سن ساٹھ ھجری کو مکے سے کوفہ کیلئے سفر شروع کیا. انہیں ابھی مسلم (ع) کے شہادت کی خبر نہ ملی تھی. کیونکہ جس دن امام (ع) نے مکہ چھوڑا اسی دن مسلم (ع) شہید ہوئے. سید ابن طاؤس لکھتے ہیں امام (ع) نے مکہ چھوڑنے سے قبل عوام کے سامنے کھڑے ہو کر اللہ (ج) کی حمد و رسول (ص) کی تعریف کرنے کے بعد کے بعد یہ خطبہ پڑھا:
اب آدم کی اولاد پر موت اس طرح ڈالی جاچکی ہے، جس طرح کسی عورت کے گردن میں اس کا ہار ہوتا ہے. میں اپنے بزرگوں سے ملاقات کا مشتاق ہوں بلکل اسی طرح جس طرح یعقوب (ع) کو یوسف (ع) کے دیدار کا اشتیاق تھا. میری شہادت کیلئے زمین منتخب ہو چکی ہے. مجھے وہاں پہنچنا ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ بیابان کے بھیڑیئے نواویس و کربلا نامی زمین کے درمیان میرے اعضاء کو چیر پھاڑ رہے ہیں، تاکہ وہ اپنے بھوکے پیٹ بھر سکیں....
بے شک اس لکھے سے فرار ممکن نہیں. *جس جس چیز پر اللہ (ج) راضی ہے ہم اھلبیت (ع) بھی اس پر راضی ہیں*. ہم اللہ (ج) کی جانب سے پڑنے والی مشکلات پر صبر کریں گے اور اللہ (ج) سے اس صبر کا اجر لیں گے.ہم تو نبی (ص) کے جسم کے ٹکڑے ہیں اس سے جدا نہیں ہوسکتے اور بہشت میں ان کے ساتھ ہوں گے.....
ھر وہ شخص جو ہمارے راستے پر چل کر جان فدا کرنا چاہے اور شہادت و اللہ (ج) سے ملاقات سے راضی ہو وہ ہمارے ساتھ آ جائے. کیونکہ ہم ان شاء اللہ کل صبح سویرے مکہ سے نکل جائیں گے.

 

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے: 
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:77& 79


2.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 206 207

 

💠💠💠💠💠💠💠💠
*التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری*
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا قسط ۱۴

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 14)


مسلم بن عقیل (ع) اور ھانی بن عروہ (ع) کی شہادت

 

ابن زیاد نے بکیر بن حمران ملعون کو بلایا، اس کو مسلم (ع) پر اس لیئے غصہ تھا کہ طوعہ کے گھر کے باہر لڑتے ہوئے اس نے مسلم (ع) کی تلوار سے چوٹ کھائی تھی. ابن زیاد نے بکیر کو حکم دیا کہ مسلم بن عقیل (ع) کو دارالامارہ کی چھت پر لے جائے اور قتل کردے. شیخ مفید و سید ابن طاؤس نے لکھا ہے کہ چھت پر جاتے وقت مسلم (ع) مسلسل تسبیح خدا بجا لا رہے تھے اور استغفار کر رہے تھے.
سید ابن طاؤس لکھتے ہیں کہ مسلم کو مارنے کے بعد بکیر پر ایک وحشت طاری ہوگئی وہ خوف سے بھاگتا ہوا چھت سے نیچے آیا. ابن زیاد نے پوچھا خوفزدہ کیوں ہو. بولا میں جب مسلم (ع) کو قتل کر رہا تھا تو میں نے اپنے برابر میں ایک سیاہ بدصورت انسان دیکھا جو اپنے ہاتھ کو کاٹ کاٹ کر کھا رہاتھا.
ابن زیاد نے کہا یہ مسلم کے قتل سے تم پر وحشت طاری ہوئی ہے.

❗ یہ بات یاد رہے کہ شیخ مفید رض نے خود اور محدث قمی نے مسعودی و طبری کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسلم (ع) کو قتل کے بعد چھت سے نیچے پھینکا گیا. لیکن سید ابن طاؤس نے بلا واسطہ اس بات کو نقل نہیں کیا بلکہ بلواسطہ نقل کیا ہے یعنی سید نے عبداللہ بن زبیر اسدی کے اشعار نقل کیئے ہیں جس میں مسلم (ع) چھت سے نیچے پھینکنے والی بات مذکور ہے.

*ھانی بن عروہ (ع) کی شہادت*

شیخ مفید کے بقول مسلم (ع) کی شہادت کے بعد محمد بن اشعث نے ابن زیاد سے سفارش کی کہ ہانی (ع) کو قتل نہ کیا جائے کیونکہ اس کے قبیلے بنی مذحج والے اس کے مخالف ہو جائیں گے. ابن زیاد نے اس کی بات مان لی. لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور کہا ھانی (ع) کو بازار میں کے جاکر ماردو. ھانی (ع) کو اپنے قبیلے بنی مذحج پر فخر تھا لیکن آخری وقت میں وہ مذحج کو پکارتے رہے لیکن کوئی ان کی مدد کو نہ آیا. ان کے ہاتھ بندھے تھے لیکن انہوں نے جوش میں آ کر رسیوں سے اپنے ہاتھ آزاد کروا لیئے اور لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا کوئی ہے جو مجھے تلوار، نیزہ، یا پتھر دے کہ میں اپنا دفاع کروں. لیکن اتنے میں دشمن کے سپاہیوں نے پھر سے انہیں گھیر لیا اور ابن زیاد کے رشید نامی ترک غلام نے ھانی کی گردن اڑا دی.

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:75اور 77

۲. ارشاد شیخ مفید ص:412 سے 414 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص151 سے 152

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا قسط ۱۳

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 13)

 


مسلم بن عقیل (ع) کی گرفتاری

محمد بن اشعث اور اس کے ساتھی *طوعہ* کے گھر کی دیوار تک آگئے جب مسلم (ع) نے گھوڑوں کے سموں کی آواز سنی تو زرہ پہنی اور گھوڑے پہ سوار ہو کر ان سے جنگ کرنے چل دیئے اور چند افراد کو واصل جہنم کیا. محمد بن اشعث نے آواز لگائی کہ مسلم تم امان میں ہو. مسلم (ع) نے فرمایا شاطر اور مکار انسانوں کی امان امان نہیں ہوتی. لھذا انہوں نے رجز پڑھتے ہوئے جنگ جاری رکھی.
لشکر ابن زیاد نے کہا اے مسلم! محمد بن اشعث جھوٹ نہیں بول رہا وہ تم سے دھوکہ نہیں کرے گا. مسلم (ع) نے دھیان نہ دیا اور جنگ جاری رکھی لیکن تلوار اور نیزوں کے زخموں نے انہیں کمزور کردیا، دشمن نے زور کا حملہ کیا، ایک پلید نے اپنے نیزے سے مسلم (ع) کی پیٹھ کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے مسلم (ع) زمین پہ گر گئے.
مسلم کو گرفتار کرکے ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا آپ (ع) نے ابن زیاد کو سلام نہ کیا. ایک درباری نے سلام نہ کرنے کی وجہ پوچھی مسلم (ع) نے کہا یہ میرا امیر نہیں ہے. ابن زیاد نے کہا سلام کرو نہ کرو مارے ضرور جاؤ گے.
مسلم (ع) نے کہا *یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے تجھ سے بدتر انسانوں نے مجھ سے بہتر انسانوں کو قتل کیا ہے.* لیکن تم چونکہ افراد کو بزدلانہ طریقے سے قتل کرتے ہو، اپنی ناپاکی ظاہر کرتے ہو، اور دشمن پر غلبہ پالینے کے بعد قبیح ترین فعل انجام دیتے ہو اس لیئے بدترین لوگوں کی فہرست میں کوئی تجھ سے بہتر نہیں.
ابن زیاد بولا: اے گنہگار فتنہ گر! وقت کے امام کے خلاف بغاوت کرتے ہو، مسلمانوں کے اتحاد کو خراب کرتے ہو، معاشرے میں تفرقہ پھیلاتے ہو و...
مسلم (ع) نے فرمایا: اے زیاد کے بیٹے جھوٹ بولتے ہو! مسلمانوں کا اتحاد معاویہ اور یزید نے خراب کیا اور فتنہ تو نے اور تیرے باپ زیاد بن عبید نے برپا کیا.میری خواھش ہے کہ اللہ (ج) مجھے شہادت نصیب کرے اور وہ بھی ناپاک ترین ھاتھوں سے!
ابن زیاد بولا: اے مسلم تم نے حکومت ہتھیانے کی کوشش کی لیکن اللہ (ج) نے ایسا نہ کیا اور حکومت اھل کے ہاتھ دے دی.
مسلم (ع) نے پوچھا: حکومت کا اہل کون؟
بولا یزید ابن معاویہ!
مسلم سے ابن زیاد نے پوچھا کیوں یہاں آئے اور فتنہ برپا کیا؟
فرمایا میں یہاں فتنہ برپا کرنے نہیں آیا تم نے گندے کام کیئے، لوگوں کی رضایت کے خلاف امیر بن بیٹھے، لوگوں سے ایران و روم کے بادشاہوں کی طرح رویہ رکھا. ہم اس لیئے آئے کہ لوگوں کو نیکی کی طرف دعوت دیں، لوگوں قرآن و حکم پیغمبر (ص) کا مطیع بنائیں. اور ہم اس کام کی اہلیت رکھتے ہیں.
ابن زیاد نے علی و حسن و حسین (علیہم السلام)کی شان میں گستاخی شروع کردی.
مسلم نے کہا: تم اور تیرے باپ کو بس دشنام دینا ہی زیب دیتا ہے، جو کرنا ہے کرو اے دشمن خدا.


🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:71& 75

۲. ارشاد شیخ مفید ص:404 سے 410 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص145 سے 151

💠💠💠💠💠💠💠💠
*التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری*
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا قسط ۱۲

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط ۱۲)


ھانی (ع) کا سن کر مسلم بن عقیل نے قیام کیا

 

ھانی (ع) کے قتل کی خبر سن کر مسلم بن عقیل (ع) نے اپنے ان تمام ساتھیوں کو بلایا جنہوں نے ان کے ہاتھ پر بیعیت کی تھی اور ان کے ساتھ مل کر دارالامارہ کا محاصرہ کر دیا. ابن زیاد نے دارالامارہ کے دروازے بند کر دیئے. باہر اس کے اور مسلم (ع) کے ساتھی لڑتے رہے. اچانک دارالامارہ کی چھت سے اعلان ہوا کہ شام (یزید کی طرف سے) ایک بہت بڑا لشکر آ رہا ہے.
دن گذر گیا اور رات ہونے لگی، اندھیرا چھانے لگا. مسلم (ع) کے ساتھی آہستہ آہستہ ان کو چھوڑ کر جانے لگے. ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ "ہم کیوں اس فتنے میں حصہ لے کر اپنا دامن داغدار کریں. بہتر یہ ہے کہ اپنے اپنے گھر چلے جائیں اور مسلم سے کوئی لینا دینا نہ رکھیں. اللہ (ج) ان کے درمیان صلح کروائے." یہ کہہ کر اکثر لوگ چلے گئے مسلم (ع) کے ساتھ صرف دس لوگ باقی رہ گئے.
مغرب کا وقت ہوچکا تھا سو مسلم (ع) ان دس افراد کے ساتھ نماز مغرب ادا کرنے مسجد آئے، لیکن نماز کے بعد وہ دس لوگ بھی انہیں چھوڑ کر چلے گئے.
مسلم بن عقیل (ع) تن و تنہا کوفے کی گلیوں میں پھرتے پھرتے ایک عورت "طوعہ" کے در پہ پہنچے اور اس سے پانی مانگا. مسلم نے اس عورت سے پناہ دینے کو کہا. اس عورت نے مسلم (ع) کو اپنے گھر میں بلالیا. لیکن اس عورت کے بیٹے نے ابن زیاد کو جا کر بتادیا.
ابن زیاد نے محمد بن اشعث کو طلب کیا اور اسے ایک گروہ کے ساتھ مسلم (ع) کو گرفتار کرنے کیلئے بھیجا.

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:69& 71

۲. ارشاد شیخ مفید ص:396 و 404 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 140

💠💠💠💠💠💠💠💠
*التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری*
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا قسط ۱۱

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 1⃣1⃣)


ھانی (ع) کے ساتھ ابن زیاد نے کیا کیا

ابن زیاد نے کہا اسے میرے پاس لاؤ. ھانی ابن زیاد کے پاس آئے.....
ابن زیاد نے کہا خدا کی قسم مسلم بن عقیل کو میرے پاس لاکر پیش کرو ورنہ تمہاری گردن اڑا دوں گا.
*ھانی (ع)* نے فرمایا ایسا کیا تو تیرے گھر کی طرف بہت سی تلواریں آئیں گی.
ابن زیاد کو غصہ آیا، ھانی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قبیلے والے ان کی آواز سن رہے ہیں. ابن زیاد نے غصے میں آکر ھانی (ع) کی پیشانی، چہرے اور ناک پر لاٹھی سے اتنا مارا کہ ان کی ناک سے خون بہہ کر ان کے کپڑوں پر گرنے لگا، ان کی پیشانی اور چہرے کا گوشت داڑھی پر گرنے لگا اور زیاد کی لاٹھی ٹوٹ گئی.
ھانی نے پاس کھڑے ہوئے سپاہی کی تلوار چھیننا چاہی مگر اس نے نہ دی. ابن زیاد کے حکم پر ھانی کو لے جا کر دارالامارہ کے ایک کمرے میں قید کردیا گیا.
اتنے میں اسماء بن خارجہ اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا: اے امیر! تم نے ہمیں حکم دیا کہ ھانی کو تمہارے پاس لائیں جب ہم نے ایسا کیا تو تونے اسے مارا، اس کو خون آلود کیا اور چاہتے ہو کہ اس کی جان لے لو.
زیاد نے حکم دیا کہ اسے بھی پکڑو. لھذا اسے بھی پکڑ کر پیٹا گیا اور کمرے میں بند کردیا گیا. اسماء نے اپنا حال دیکھ کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، شاید اسے ھانی کی وہ بات یاد آگئی تھی جو اس نے دارالامارہ آتے ہوئے کہی تھی.

جب ھانی کے سسر *عمر و بن حجاج* کے کانوں تک یہ بات پہنچی کہ ابن زیاد نے ھانی کو قتل کردیا ہے تو اس نے اپنے قبیلے کو جمع کیا اور دارالامارہ کا محاصرہ کرلیا. ابن حجاج نے آواز لگائی کہ امیر ہم نے بادشاہ کے کسی حکم کی مخالفت نہیں کی، اور خود کو مسلمانوں کی جماعت سے جدا نہیں کیا لیکن ہمیں پتہ چلا ہے کہ ہمارے سرور و سردار ہانی کو قتل کردیا گیا ہے.
ابن زیاد نے جب یہ بات سنی تو شریح قاضی سے کہا انہیں جاکر کہہ دو ھانی مرا نہیں زندہ ہے. شریح نے ھانی کے قبیلے سے یہ بات کہی تو وہ سچ سمجھے اور چلے گئے.

(جاری ہے)

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:67& 69

۲. ارشاد شیخ مفید ص:393 و 396 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 135 و 137

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا (قسط ۱۰)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 🔟)


ھانی (ع) ابن زیاد کی دربار میں...

سید ابن طاؤس علیہ رحمہ لکھتے ہیں *ھانی* جوں ہی دربار ابن زیاد میں پہنچے تو انہیں دیکھتے ہی ابن زیاد نے (اپنے آپ سے) کہا کہ *جو تجھ سے خیانت کرتا ہے وہ خود چل کر تمہارے سامنے آگیا*. پھر پاس بیٹھے قاضی کو مخاطب ہوکر ایک شعر پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ ھانی زندہ رہے مگر وہ ہے کہ اپنے گھر میں میرے خلاف سازشیں تشکیل دیتا ہے!
*ھانی* نے فرمایا: اے امیر! ان باتوں سے کیا مراد ہے؟
بولا: چپ رہو ھانی! یہ کیا کام ہیں جو تمہارے گھر میں مسلمانوں اور امیر المومنین (یزید) کے خلاف ہو رہے ہیں؟ مسلم بن عقیل کو اپنے گھر میں بلاتے ہو اور اس کیلئے جنگجو افراد اور اسلحے کا انتظام کرتے ہو اور ان لوگوں کو اپنے گھر کے اطراف میں ٹھہراتے ہو، تم سمجھتے ہو یہ باتیں مجھ سے ڈھکی چھپی رہیں گی.؟
ھانی نے انکار کیا، ابن زیاد نے کہا تم نے ایسا کیا ہے ھانی نے پھر انکار کیا.
ابن زیاد نے حکم دیا *مقعل* غلام کو بلایا جائے. مقعل جب آیا تو *ھانی* سمجھ گئے کہ یہ ابن زیاد کا جاسوس تھا. تب ھانی نے فرمایا: اے امیر! خدا کی قسم میں نے مسلم کو خود نہیں بلایا تھا، اس نے میرے گھر میں پناہ لی تو میں نے مہمان نوازی کے ناطے اسے پناہ دی، اب کہ جب مجھے اس کی اصلیت پتہ چل گئی تو مجھے جانے دیا جائے تاکہ میں اسے اپنے گھر سے نکال دوں.
ابن زیاد نے کہا خدا کی قسم تمہیں جانے نہیں دونگا قبل اس کے کہ مسلم کو میرے سامنے پیش کرو.
ھانی نے فرمایا: خدا کی قسم میں اسے تمہارے سامنے نہیں لاؤں گا، کیا میں اپنے مہمان کو تمہارے حوالے کردوں تا کہ تم اسے مار ڈالو.
ابن زیاد نے کہا اسے پیش کرنا ہوگا.
ھانی نے کہا ھر گز نہیں.
اتنے میں مسلم بن عمرو نے ابن زیاد سے اجازت مانگی کہ میں سمجھاتا ہوں ھانی کو.
وہ ھانی کو کونے میں لے گیا بولا مسلم ابن عقیل ابن زیاد کا چچا زاد بھائی ہے، وہ مسلم کو قتل نہیں کرے گا تم خود کو اور اپنے قبیلے کو خطرے میں مت ڈالو مسلم کو پیش کردو.
ھانی نے کہا کہ میرے لیئے رسوائی کی بات ہے کہ اتنے معزز مہمان کو تن و تنہا چھوڑ دوں، جب کہ میرے بازوؤں میں طاقت ہو اور میرے قبیلے کے مرد بہت زیادہ ہوں.خدا کی قسم اگر میں تنہا بھی ہوں تو بھی ایسا نہ کرونگا.
مسلم بن عمرو نے ھانی کو قسمیں دیں لیکن وہ نہ مانے.
ابن زیاد نے کہا اسے میرے پاس لاؤ. ھانی ابن زیاد کے پاس آئے.....

(جاری ہے)

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:65& 67

۲. ارشاد شیخ مفید ص:392 و 394 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 134 و 135

 

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا (قسط ۹)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 9⃣)


جب ابن زیاد کو مسلم بن عقیل (ع) کے ٹھکانے کا پتہ چلا

سید ابن طاؤس فرماتے ہیں جب ابن زیاد کو مسلم بن عقیل (ع) کے ٹکھانے کا پتہ چلا کہ انہوں نے *ھانی بن عروہ* کے گھر میں پناہ لے رکھی ہے تو محمد بن اشعث اور اسماء بن خارجہ اور عمرو بن حجاج کو اپنے یہاں بلا کر پوچھا کہ کیا بات ہے کہ *ھانی* مجھے سے ملاقات کرنے نہیں آیا. انہوں نے جواب دیا ہمیں معلوم نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ *ھانی* بیمار ہے.
شیخ مفید (رض) کے بقول *ھانی* نے جب ابن زیاد کی کوفہ آمد کا سنا تھا تب سے خود و بیمار ظاہر کرنا شروع کیا اور ابن زیاد کی ملاقات کو نہ گیا.
جب مذکورہ بالا تین اشخاص نے ابن زیاد کو *ھانی* کی بیماری کا بتایا تو ابن زیاد نے کہا: میں نے سنا ہے اب وہ شفایاب ہوگیا ہے، اور رات کو اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھتا ہے. اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ بیمار ہے تو میں اس کی عیادت کو جاتا. اس کے بعد ان تینوں سے اس نے کہا: آپ لوگ *ھانی* کے پاس جاؤ، اسے کہو کہ مجھ سے ملنے آئے کیونکہ عرب کا ایسا معزز شخص مجھ سے دور رہے یہ مجھے ھرگز قبول نہیں.
یہ تینوں اشخاص ابن زیاد کے کہنے پر *ھانی* کے گھر گئے اور اس سے ابن زیاد سے نہ ملنے کا سبب پوچھا، *ھانی* نے جواب دیا کہ میں بیمار تھا. وہ بولے ابن زیاد کو پتہ چل گیا ہے کہ تم اب ٹھیک ہو گئے ہو. ہم تمہیں قسم دیتے ہیں کہ تم ہمارے ساتھ چل کر ابن زیاد سے ملو.
*ھانی* نے لباس بدلہ اور گھوڑے پر سوار ہو کر ان افراد کے ساتھ دارالامارہ جانے لگا، جب قریب پہنچا تو اسے شک ہوا، اس نے حسان بن اسماء بن خارجہ سے کہا: اے بھتیجے! میں ابن زیاد سے خوفزدہ ہوں، تم کیا سمجھتے ہو؟ وہ بولا: چاچا جان! مجھے ذرا برابر بھی ایسا خوف نہیں اور آپ بھی ایسا مت سوچیں.
حسان کو معلوم نہ تھا کہ ابن زیاد نے *ھانی* کو کیوں بلایا ہے.
*ھانی* دربار میں پہنچے .....

*(جاری ہے)*


🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:63 & 65

۲. ارشاد شیخ مفید ص:390 و 391 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 132

 

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا (قسط ۸)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 8⃣)

ابن زیاد کا شاطر غلام مقعل

شیخ مفید علیہ رحمہ کے بقول ابن زیاد نے کوفہ میں مسلم بن عقیل (ع) کا ٹھکانا معلوم کرنے کیلئے اپنے ایک شاطر غلام *مقعل* کو تین ھزار درھم دیئے *مقعل* ایک دن کوفہ کی جامع مسجد میں گیا تو اس نے وہاں مسلم بن عوسجہ (ع) کو نماز ادا کرتے دیکھا. *مقعل* نے وہاں کچھ لوگوں کی زبانی سنا کہ یہ شخص امام حسین (ع) کی بعیت لے رہا ہے. *مقعل* نے اس موقع کو غنیمت جانا اور جا کر مسلم بن عوسجہ (ع) کے برابر میں بیٹھ گیا. بولا اے برادر میں شام کا رہنے والا ہوں، میرا دل اھلبیت (ع) کی محبت سے سرشار ہے، اور خود کو سچا ثابت کرنے کیلئے یہ جملے بول کر *مقعل* نے رونا شروع کردیا اور بولا یہ تین ھزار درھم ہیں، میں نے سنا ہے کہ یہاں کوفہ میں کچھ دن قبل ایک ایسا شخص داخل ہوا ہے جو امام حسین (ع) کے حق میں لوگوں سے بعیت لے رہا ہے. میں جب سے کوفہ آیا ہوں کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہوں جو مجھے اس بیعیت لینے والے شخص تک پہنچا دے، مگر کسی نے میری مدد نہ کی. سو میں تھک ہار کر مسجد میں بیٹھ گیا، کسی نے آپ کے بارے میں بتایا کہ آپ اس بیعیت لینے والے شخص کا ٹھکانا جانتے ہیں، سو میں موقع پا کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اب لطف کریں مجھے ان تک پہنچائیں تاکہ میں اپنے رھبر، اپنے آقا کی بیعیت کروں اور یہ رقم ان تک پہنچاؤں کیونکہ میں بھی محب اھل بیت (ع) ہوں اگر یقین نہیں آتا تو مجھے اس کے پاس لے جانے سے قبل بعیت لے لو.
*مسلم بن عوسجہ (ع)* نے جب اس کا رونا دھونا دیکھا تو سمجھا کہ یہ واقعی سچا شیعہ ہے. فرمایا اللہ (ج) کا شکر کہ تم مجھے ملے، مجھے تم سے مل کر خوشی ہوئی، امید کرتا ہوں کہ بہت جلد تمہیں اس شخص کے یہاں لے جاؤنگا جس سے ملنے کی خواھش رکھتے ہو.
*مسلم بن عوسجہ (ع)* نے کہا تم کچھ دن میرے گھر رہو تاکہ میں تمہارے آقا سے اجازت لوں پھر تمہیں وہاں لے جاؤں.
*مقعل*چند روز مسلم بن عوسجہ (ع) کے گھر رہا آخر اسے مسلم بن عقیل (ع) نے ملنے کی اجازت دے دی. وہ مسلم بن عقیل (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا، بیعیت کی، اور رقم دے دی، مسلم بن عقیل(ع) نے یہ رقم قبول کی اور اسے مالی اخراجات سنبھالنے پر مامور اپنے صحابی کے حوالے کیا. بالقصہ *مقعل* مسلم بن عقیل (ع) کے ٹھکانے پر آزادی سے آنے جانے لگا یہ پہلا شخص ہوتا جو مسلم (ع) کی محفل میں آتا اور آخری شخص ہوتا جو اٹھ کر جاتا. اس طرح اسے مسلم بن عقیل (ع) کی ھر فعالیت کا پتہ چلتا رہا اور وہ یہ سب جا کر ابن زیاد کو بتا دیا کرتا.

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:63 & 65

۲. ارشاد شیخ مفید ص:388 و 389 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 128 & 129

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا (قسط ۷)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 7⃣)

 

ابن زیاد کوفے میں


چونکہ یزید نے خط لکھ کر ابن زیاد کو کوفہ جاکر حالات پر قابو پانے کا حکم دیا تھا سو وہ بصرہ میں اپنے بھائی عثمان بن زیاد کو اپنا جانشین بناکر کوفے کی طرف چل دیا.
بقول شیخ مفید (رض) ابن زیاد جب کوفے پہنچا تو رات پڑ چکی تھی اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا اور منہ پر نقاب لوگ سمجھے حسین (ع) آگئے سو سب خوشی کے مارے اس کا استقبال کرنے آئے جب انہیں حقیقت پتہ چلی تو تتر بتر ہوگئے. ابن زیاد دارالامارہ گیا اور رات وہاں گذاری. دوسرے صبح منبر پر جاکر لوگوں کو یزید کی مخالفت سے ڈرایا دھمکایا اور اس کی بیعیت کرنے والوں سے احسن طور پیش آنے کا وعدہ دیا.
وہاں جب جناب مسلم (ع) کو ابن زیاد کے آنے کا علم ہوا تو انہوں نے مختار کا گھر چھوڑ کر ھانی بن عروہ کے گھر قیام کیا. شیعوں کی کوشش تھی کہ ابن زیاد کو ان کے ٹھکانے کا پتہ نہ چلے.
شیخ مفید (رض) کے بقول ابن زیاد کا ایک غلام تھا جس کا نام معقل تھا. ابن زیاد نے اسے تین ھزار درھم دیئے اور کہا کہ مسلم (ع) کے چاہنے والوِ سے جب وہ ملا کرے تو انہیں پیسے دیا کرے اور ان کی خیر خبر لے اور ایسا رویہ رکھے کہ وہ سمجھیں کہ مقعل ہم سے ہے جب تم انکا اعتماد جیت لوگے تو وہ تم سے کچھ نہیں چھپائیں گے. اس طرح مسلم (ع) کا ٹھکانہ پتہ چل جائے گا.

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:61

۲. ارشاد شیخ مفید ص:385 و 388 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 126

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا  قسط (6)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 6⃣)

کوفےکے گورنر نعمان بن بشیر نے جب دیکھا کہ شیعہ یزید کے خلاف اکٹھے ہو رہے ہیں تو اس نے عوام سے خطاب کیا لیکن کوفے میں موجود یزید کے جاسوسوں نے یزید کو خط لکھا کہ مسلم (ع) کوفے میں آچکا ہے اگر کوفہ بچانا ہے تو نعمان کو مبذول کر کے اس کی جگہ کوئی دلیر آدمی بھیجو.
یزید نے بصرہ کے والی عبداللہ بن زیاد کو خط لکھا اور حسین (ع) اور مسلم (ع) کی تفصیل بتائی پھر اسے بصرہ کے ساتھ کوفے کی ولایت بھی دے دی اور تاکید کی کہ مسلم (ع) کو گرفتار کر کے اسے قتل کردو. ابن زیاد نے خط پڑھ کر کوفہ جانے کی تیاری کی

امام حسین (ع) نے بصرہ کے بزرگوں *یزید بن مسعود اور منذر بن جارود* (ابن زیاد کا سسر) کو خط لکھ کر اپنی حمایت کی دعوت دی.
یزید بن مسعود نے تین قبیلوں بنی تمیم، بنی حنظلہ اور بنی سعد کو بلایا اور تقریر کرتے ہوئے معاویہ کے مظالم کا ذکر کیا اور اس کے بعد انہیں یزید کی بدترین صفات بتائیں. اس کے بعد حسین (ع) کے فضائل سنا کر ثابت کیا کہ حسین (ع) ہی
اس منصب کے حقدار ہیں.
یزید بن مسعود نے مزید کہا تم لوگوں نے جنگ جمل میں صخر بن قیس کے کہنے پر علی (ع) کا ساتھ نہ دیا اور اس طرح ایک داغ سے اپنے دامن کو داغدار کیا. اب وقت ہے کہ حسین (ع) کا ساتھ دے کر اس داغ کو دھو ڈالو.
بنی حنظلہ اور بنی تمیم نے بڑی گرمجوشی سے یزید بن مسعود سے کہا کہ جو اس کا
حکم ہوگا وہ اس کے پابند ہوں گے. البتہ بنی سعد نے کہا کہ ہمیں مشاورت کیلئے وقت درکار ہے.
جب یزید بن مسعود نے دیکھا کہ دو قبیلے حسین (ع) کا ساتھ دینے کیلئے راضی ہیں تو انہوں نے امام (ع) کو خط لکھ کر آنے کی دعوت دی.
امام (ع) نے خط کا جواب
لکھا لیکن بقول سید ابن طاؤس کے جب یزید بن مسعود امام (ع) کی مدد کو بصرے سے نکلا ہی تھا کہ اسے امام (ع) کے شہادت کی خبر ملی. اور اس نے بہت گریہ کیا.

 


🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:

۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:55 سے 61
۲. ارشاد شیخ مفید ص: 383 و 384 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی

(در کربلا چہ گذشت) ص 118 سے 122

 

💠💠💠💠💠💠💠💠

التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا (قسط ۵)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 5⃣)

مسلم بن عقیل (ع) کا سفر

شیخ مفید (رض) لکھتے ہیں کہ جب امام (ع) کو کوفیوں کے کثیر تعداد میں خطوط موصول ہوچکے تب آپ نے مسلم بن عقیل کو دو راھنماؤں (راستہ دکھانے والے) کے ساتھ کوفہ بھیجا. یہ دونوں راھنماء راستہ بھول گئے اور صحرا میں بھٹکنے اور شدت پیاس کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے. (قریب تھا کہ مسلم (ع) کی بھی موت ہوجائے) بھرحال راہنماؤں نے مرتے وقت مسلم (ع) کو راستہ بتا دیا تھا وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں انہیں پانی نصیب ہوا. وہاں کچھ دن آرام کیا اور وہاں سے انہوں نے امام حسین (ع) کو آگاہ کیا کہ میرے ساتھ یہ ماجرہ ہوا ہے کہ میرے دونوں ساتھی مر گئے، میں اس حادثے کو کوئی نیک فال (اچھا شگن) نہیں سمجھتا. میں پریشان ہوں مجھے معاف کریں، بہتر سمجھیں تو میری جگہ کسی اور کو بھیج دیں.
امام (ع) نے جواب میں لکھا
کہ مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ تم شاید کوفہ جانے سے ڈرتے ہو اور اس لیئے مستعفی ہونا چاہتے ہو. جو میں نے راہ بتائی ہے اس پر چلو.
مسلم (ع) نے کہا میں نہیں ڈرتا یہ کہہ کر انہوں نے پھر سفر شروع کیا.

مسلم (ع) کوفہ پہنچے تو کوفی جوق در جوق اس گھر میں آنے لگے جہاں وہ رکے ہوئے تھے. جب شیعوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تب آپ نے امام (ع) کا خط انہیں پڑھ کر سنایا. کوفی خط پڑھ کر آنسو بہانے لگے.
عابس بن شبیب شاکری، حبیب ابن مظاہر اور دوسرے بزرگ کوفیوں نے مسلم (ع) کو یقین دلایا کہ وہ سب ان کے ساتھ ہیں.
18000 لوگوں نے مسلم (ع) کے ہاتھ پر بعیت کی تب مسلم (ع) نے امام (ع) کو خط لکھا کہ آپ آجائیں.
یہ خط مسلم (ع) کی شہادت سے 27 دن قبل لکھا گیا.
شیعوں نے مسلم (ع) کے گھر اتنی آمد و رفت کی کہ ان کے مکان کے بارے میں سب کو پتہ چل گیا.
🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:53 اور 55
۲. ارشاد شیخ مفید ص:382 و 383 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص113 سے 114

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا (قسط ۳)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 3⃣)

 

 

یہ بات یاد رہے کہ امام حسین (ع) کے علاوہ ایک اور اہم شخص جس نے بیعیت یزید سے انکار کر کے مکہ کی طرف رخ کیا وہ عبداللہ بن زبیر تھا. اس نے مکہ جانے کا خفیہ راستہ اختیار کیا تھا تاکہ ولید کے بھیجے ہوئے افراد سے بچ نکلے سو امام (ع) کو بھی ان کے ساتھیوں نے عرض کی کہ آپ بھی وہ ہی راستہ اختیار کریں مگر امام (ع) نے منع فرمایا.
امام (ع) تین شعبان کو مکہ پہنچے. اور یہ آیت تلاوت کی
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّي أَنْ يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ

ترجمہ:
(مصر سے نکل کر) جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا تو اُس نے کہا "اُمید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا" (قصص ۲۲)

بہت سے لوگ آپ سے ملنے آئے. زبیر بھی ملنے آیا. زبیر سوچ رہا تھا کہ وہ یزید کے خلاف مکہ کے لوگوں سے بیعیت لے گا مگر حسین (ع) کے مکہ آنے سے زبیر کو اپنے منصوبے پر پانی پھرتا ہوا نظر آیا. سو اس پر حسین (ع) کی مکہ آمد گراں گذری.

*کوفہ*
وہاں کوفیوں کو معاویہ کے مرنے کی خبر ملی اور یہ بھی کہ یزید نے خلافت سنبھال لی ہے اور یہ بھی کہ حسین (ع) نے اس کی بیعیت سے انکار کردیا اور مدینہ سے مکہ آگئے.

سارے کوفی سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر جمع ہوئے (سلیمان جمل،صفین،نھروان میں علی ع کے ساتھ تھے) سب نے معاویہ کے مرنے پر اللہ (ج) کا شکر کیا.

*سلیمان بن صرد نے کیا کہا؟*

سلیمان نے کوفیوں سے کہا حسین (ع) نے بیعیت سے انکار کردیا اور مکہ میں ہیں، تم خود کو علی (ع) کے شیعہ کہتے ہو اگر حسین (ع) کا ساتھ دینا ہے تو اسے خط لکھ کر حمایت کا اظہار کرو. *اگر تم سمجھتے ہو کہ تم حسین (ع) کا ساتھ نہیں دے سکتے تو بتادو اور حسین (ع) کو اس کے حال پر چھوڑ دو اس کے ساتھ فریب نہ کرو.*
سب نے کہا نہیں ہم حسین (ع) کی حمایت میں اپنی جان بھی دے دیں گے.

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص: 48 و 49
۲. ارشاد شیخ مفید ص: 377 و 378 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص: 102

 

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

 

کربلا میں کیا ہوا (قسط 4)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 4)

کوفے والوں کے خطوط

جب سلیمان بن صرد نے دیکھا کہ کوفے والے بڑی گرمجوشی دکھا رہے ہیں تو سلیمان نے خط لکھا. جس میں لکھا کہ ہم کوفے والے ذرا برابر بھی یزید کو اچھا نہیں سمجھتے.... اور بھی بہت سی برائیاں لکھیں یزید کی.. مزید لکھا کوفے میں یزید کا گورنر *نعمان بن بشیر* موجود ہے ہم نہ اس کے پیچھے جمعہ نماز پڑھتے ہیں، نہ عید نماز اور دیگر دینی رسومات میں بھی شرکت نہیں کرتے.
اگر آپ کوفہ آئیں تو ہم نعمان کو دارالامارہ سے نکال کر شام بھیج دیں گے.

سید ابن طاؤس (رض) فرماتے ہیں یہ خط جلدی حسین (ع) کی طرف بھیجا گیا. اس کے بعد پھر 150 خطوط لیکر کچھ اور لوگ گئے جس میں ھر خط پر دو ، تین یا چار افراد کے دستخط تھے.

*عجیب بات*

امام (ع)نے اتنے خطوط آنے کے باوجود جواب نہ دیا. حالانکہ ایک ایک خط کا مطالعہ فرمایا. حتی کہ *ایک دن 600 خطوط آئے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا اور تعداد 12000 تک پہنچ گئی.*

امام (ع) نے پھر بھی جواب نہ دیا لیکن آخری خط جب پہنچا تو آپ نے پوچھا یہ خط کس نے لکھا ہے بندے نے جواب دیا فلاں فلاں نے. تب آپ نے دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ (ج) سے خیر طلب کی.
پھر خط کا جواب لکھا کہ میں نے تم کوفہ کے مسلمانوں کے خطوط پڑھے سو میں نے اپنے چچازاد بھائی اور ثقہ (سچا) مسلم بن عقیل کو آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ وہ مجھے آپ کا حال بتائے. اگر اس نے مجھے کوفہ آنے کا لکھا تو میں بہت جلد آؤنگا.
پھر مسلم بن عقیل کو بلایا کچھ نصیحتیں کیں اور تین دوسرے افراد کے ساتھ کوفہ بھیج دیا.

*(کل ان شاء اللہ مسلم بن عقیل کے دشوار اور خوفناک سفر کو پیش کرونگا)*


🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:52 اور 53
۲. ارشاد شیخ مفید ص: 380 و 381 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 108 سے 109

 

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا (قسط ۲)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 2⃣)

 

شیخ مفید (رض) فرماتے ہیں دوسرے دن پھر ولید نے کچھ لوگ بھیجے امام (ع) کو بیعیت کی دعوت دینے کیلئے، امام (ع) نے فرمایا کل صبح تک یہ مسئلہ ایک طرف ہو جائے گا.
اس کے بعد بقول سید ابن طاؤس (رض) کے۳ شعبان اور بقول شیخ مفید (رض) کے ۲۸ رجب کو امام (ع) نے اپنے کنبے سمیت مکہ کی جانب کوچ کیا سوائے محمد بن حنفیہ (ع)!
شیخ مفید (رض) لکھتے ہیں محمد بن حنفیہ کو علم نہ تھا کہ حسین (ع) کہاں جا رہے ہیں. انہوں نے حسین (ع) کو مشورہ دیا کہ جتنی حد تک ممکن ہو خود کو اور مشہور شہروں کے لوگوں کو یزید کی بیعیت سے بچا لیں. بڑے بڑے شہروں کے لوگوں کو خطوط لکھو اور انہیں اپنی بیعیت کی دعوت دو لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم کسی شہر میں جاؤ اور ایک گروہ تمہاری حمایت کرے اور دوسرا مخالفت، اس طرح تلواریں چلیں اور تمہارا خون نہ بہایا جائے.
امام (ع) نے پوچھا کہاں جاؤں؟
حنفیہ (ع) نے فرمایا: مکہ چلے جاؤ، اگر وہاں تمہارا کوئی ساتھ نہ دے تو یمن چلے جاؤ وہاں بھی مطمئن ہو تو پہاڑوں اور ریگستانوں میں چلے جاؤ شہر بہ شہر جاؤ دیکھو لوگ اپنے لیئے کیا عاقبت انتخاب کرتے ہیں.
امام حسین (ع) نے حنفیہ (ع) کا شکریہ ادا کیا
اگلے دن امام (ع) مکہ کیلئے روانہ ہوئے اور ان کی زبان پر یہ آیت تھی:
فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِين

َترجمہ
یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی کہ "اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا
(قصص ۲۱)


🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص: ۴۷
۲. ارشاد شیخ مفید ص: ۳۷۷ و ۳۷۴ ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص ۹۴ سے ۹۵

 

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠

کربلا میں کیا ہوا  (قسط ۱)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط اول)

 

معاویہ بن ابو سفیان کا انتقال ہو یزید تخت پر بیٹھا. مدینے کے حاکم ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ سارے مدینے والوں سے بیعیت لو. خصوصا حسین (ع) سے! اگر حسین (ع) بیعیت نہ کرے تو اس کا سر کاٹ کر مجھے بھیج دو.😳 ولید نے امام (ع) کو اپنے یہاں بلایا امام اپنے ۳۰ رشتہ داروں کے ساتھ ولید کے یہاں آئے. ولید نے کہا بیعیت کریں. امام (ع) نے فرمایا *بیعیت کوئی بے ارزش چیز نہیں کہ میں تنہائی میں تمہیں دے کر چلا جاؤں، کل جب سب کو بلانا بیعیت کیلئے تب ہم بھی آئیں گے.*
یہاں مروان بولا: امیر! حسین کی بات پر دھیان مت دو، اس نے بیعت سے انکار کر دیا ہے، اس کی گردن اڑا دو.
یہ سن کر میرے مولا (ع) کو جلال آیا مروان سے فرمایا: ویل لک یأبن الزرقا! وائے ہو تم ہر اے بدکار عورت کے بیٹے! ( ابن اثیر نے زرقا بنت وہب کو اس دور کی گندی عورت لکھا ہے.... الکامل ابن اثیر ج ۴ ص ۷۵) تم میرے قتل کی بات کرتے ہو اور....
پھر امام (ع) نے ولید سے مخاطب ہو کر اپنے اور اپنے خاندان کے فضائل بیان کیئے اور یزید کی برائیاں بیان کیں اور بیعیت سے انکار کر دیا. اور ولید کے گھر سے باہر آگئے.
مروان نے بولا دیکھا ولید! تم نے میری بات نہ مانی...
ولید نے کہا وائے ہو تم پر کیا تم چاہتے ہو میرے دین و دنیا برباد ہو.....
صبح ہوئی مروان امام حسین (ع) کے پاس پہنچ گیا. بولا حسین! میں تمہارا بھلا چاہتا ہوں میری نصیحت مان لو.
امام (ع) نے فرمایا: بولو
بولا: میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ یزید بن معاویہ کی بیعت کر لو.....
امام (ع) نے فرمایا: "انا للہ و انا الیہ راجعون" اسلام پر فاتحہ پڑھ لی جائے اگر اس کے حاکم یزید جیسے ہونے لگے!
مزید فرمایا: میں نے رسول (ص) سے سنا ہے کہ خلافت ابوسفیان کے بیٹوں پر حرام ہوگئی ہے.
امام (ع) اور مروان کی گفتگو زور پکڑ گئی آخر مروان کو غصہ آگیا اور وہ چلا گیا



حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص: ۳۷ سے ۴۱
۲. فارسی ترجمہ نفس المھموم (در کربلا چہ گذشت) ص ۹۲ سے ۹۴
۳. نفس المھموم شیخ محدث عباس قمی کی ہے اور انہوں نے شیخ مفید کی کتاب "ارشاد" کے حوالے سے بھی یہ بات ذکر کی ہے صفحہ ۹۴ پر.


🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺