آپ کے آنسو اس ماں کو سلام کریں گے*

 

 

بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم
 
آپ کے آنسو اس ماں کو سلام کریں گے

 

شہید عباس علی فتاحی دولت آباد اصفهان کا رہنے والا تھا. اسے چھ مختلف زبانوں پر دسترس تھی، گھر کا اکلوتہ کفیل تھا. ایران-عراق جنگ چھڑی تو اپنی بوڑھی ماں سے کہا: اماں! اجازت دو جنگ پہ جاؤں. ماں نے کہا: میرے عباس! تم میرے اس گھر کا واحد سہارا ہو، تم کہاں چلے؟ عباس علی بولا: امام خمینی نے حکم دیا ہے. ماں بولی: اچھا اگر امام نے کہا ہے تو جاؤ..

عباس محاذ پر آگیا. بہت سے لوگ اسے جانتے تھے. بولے اسے ایسی جگہ رکھو جہاں خطرہ نہ ہو. لیکن عباس نے خود کہا: میرا نام تخریب کاری والے گروہ میں لکھو. دوست سمجھے عباس کو شاید معلوم نہیں کہ تخریب کاری کا کام کیسا ہے بولے: عباس یہ کام مشکل اور خطرناک ہے بموں سے پلوں کو تباہ کرنا، چھوٹی غلطی سبھی کو تباہ کر سکتی ہے.
بالاخر عباس علی نے اصرار کیا تو اسے اس گروہ میں شامل کرلیا گیا.

*ایک دن* شهیدخرازی نے کہا: مجھے کچھ بندے چاہیئیں جو دوویرج دریا پر بنے چالیس دروازہ والے پل کو اڑانے کیلئے جائیں. لیکن پل عراقی فوجیوں کے پیچھے ہے یعنی عراقی فوج سے چھپ کر نکلنا ہے.
پانچ افراد آگے آئے سب سے پہلا فرد عباس علی تھا. ان پانچ افراد کو بھیجنے سے پہلے شہید خرازی نے انہیں اپنے پاس بلا کر کہا:
کسی بھی حالت میں عراقی تمہیں گرفتار نہ کرنے پائیں بس پل اڑا کر واپس آجاؤ، اگر پکڑے گئے تو بھی اسیری میں مت جانا کیونکہ آپریشن کا راز کھل جائے گا"
یہ پانچ بندے چل پڑے کچھ دنوں بعد پتہ چلا پورا گروپ لوٹ آیا پل بھی نہیں اڑا اور عباس علی پکڑا گیا. عباس کے ساتھیوں نے ماجرا سنایا کہ ہم لوگ پل کے قریب تھے کہ عراقیوں کو پتہ چل گیا فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور عباس علی پیر میں گولی لگنے کی وجہ سے گر گیا اور پکڑا گیا.
سس پس شروع ہوگئی کہ پلان ناکام ہوگیا عباس علی پکڑا گیا کہیں ایسا نہ ہو وہ شکنجہ برداشت نہ کر پائے اور زبان کھول دے اور...
عباس علی کے کزن نے کہا: حسین! عباس علی عمر کا کچا ہے لیکن بہت دلیر ہے گردن کٹا دیگا زبان نہیں کھولے گا. چلیں آپریشن آگے بڑھائیں.
فتح المبین نامی آپریشن شروع ہوا اور ہم لوگ کامیاب ہوئے. عراقی فوجی پسپہ ہوئے. ہم جب پل دوویرج پہنچے تو پل کے نیچے ایک لاش نظر آئی نہ اس کا ٹیگ تھا نہ کارڈ اور ... نہ ہی سر.
یہ عباس علی کی لاش تھی اس کے کزن نے کہا: دیکھا میں نے کہا تھا نا سر کٹا دے گا زبان نہیں کھولے گا.
جو عراقی فوجی پکڑے گئے انہوں نے بتایا کہ پل پر عباس کو بہت زیادہ شکنجہ دیا گیا مگر اس نے کچھ نہ بتایا تب انہوں نے اس کا زندہ زندہ سر قلم کردیا.

*اس کے جنازے کو اصفھان لایا گیا کہ اس کی ماں کے حوالے کیا جائے. بولے اس کی ماں کو مت بتانا کہ شہید کا سر موجود نہیں.*
*تشیع جنازے کا وقت ہوا تو ماں بولی: رکو!.یہ میرا اکلوتہ لعل تھا جب تک میں اسے دیکھ نہ لوں دفن کرنے نہیں دونگی*
*بولے بڑی اماں رہنے دیں کیا کرنا ہے دیکھ کر.*
*ماں نے کہا: خدا کی قسم نہیں جانے دوں گی.*
*بولے اچھا اماں لیکن صرف سینے تک دیکھنے کی اجازت ہے اس سے زیادہ نہیں.*
*ماں نے کہا: کہیں تم یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے کہ میرے عباس کا سر نہیں؟*
*بولے اماں عراقیوں نے عباس کا سر کاٹ دیا.*
*ماں نے کہا: مجھے میرا عباس دیکھنے دو!*
*کفن کھولا گیا، ماں آگے آئی جوان بیٹے کے جنازے پر جھکی اور عباس کے جسم کا ذرا ذرا چومنا شروع کیا،* *رقت آمیز منظر، حاضرین کی آہ و بکا کی آوازیں فلک مکینوں کے دل دھلانے لگیں یہ ماں ہے کہ اپنے اکلوتے جوان کا سینہ چومتے ہوئے آگے بڑھی،* *جب گردن کو پہنچی تو دیکھا گردن نہیں اس جگہ زخموں کو ڈھانپنے کیلئے روئی بھر رکھی ہے اس ماں نے کانپتے ہوئے بوڑھے ہونٹوں سے اس روئی کو چوما...*
*اور اس کے بعد عباس کی ماں کچھ نہ بولی.*

 


راوی: مجاہد محمد احمدیان
(از شہر تفحص)

مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری
*_arezuyeaab.blogfa.com_*

ماں کے بیٹے علی (علیہ السلام) کے صحابی بنتے ہیں

 

 

 

بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم

ایسی ماں کے بیٹے علی (علیہ السلام) کے صحابی بنتے ہیں!

 

ام سلیم (رض) رسول اللہ (ص) کے دور کی ایک با ایمان خاتوں تھی. ان کے شوھر ابی طلحہ (رض) بھی سچے مسلمان اور بزرگ صحابی تھے اور بدر، احد، خندق اور دیگر غزوات میں شریک تھے.
جب جنگ کا زمانہ نہ ہوتا تو ابی طلحہ (رض) مدینے میں اپنے معاش کی تلاش اور عبادت میں وقت گذارا کرتے اور ایک زمینی کے ٹکڑے پر کام کر کے زندگی گذارا کرتے.
ان دونوں میاں بیوی کو اللہ (ج) نے ایک بیٹا عطا کیا کہ جو نوجوانی میں ہی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور بستر تک محدود ہوگیا. ام سلیم (رض) اس کی خدمت کیا کرتی. رات کو جب ابی طلحہ (رض) کام کاج سے واپس لوٹتے تو سب سے پہلے اپنے بیٹے کے سرہانے جاکر اس کی خیر خبر لیتے، اسے پیار کرتے اور اس کے بعد اپنے کمرے میں جاکر کھانا کھا کر عبادت کرتے اور آرام فرماتے.
چند روز تک یہ معمول رہا کہ ایک دن عصر کے وقت اچانک باپ کی غیر موجودگی میں بیٹے کا انتقال ہو گیا. صابرہ ماں نے بجائے رونے اور سر پیٹنے کے بچے کا جنازہ سیدھا رکھا اور اس کے منہ پر کپڑا ڈال دیا.
رات ہوئی، ام سلیم (رض) نے اپنے شوہر کی تھکن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سوچا کہ ان کے آرام میں خلل نہیں ڈالے گی اور صبح تک بیٹے کے انتقال کی بات ان سے بیان نہ کرے گی.
ابی طلحہ(رض) گھر میں داخل ہوئے تو حسب معمول بیٹے کے بستر کی جانب بڑھے تو ام سلیم (رض) نے انہیں منع کیا کہ بچے کو آرام کرنے دیں کہ آج وہ ذرا آرام سے سو رہا ہے. یہ بات ام سلیم (رض) نے اس انداز میں کہی کہ شوہر کو محسوس ہوا کہ بیٹا اب صحتیاب ہونے لگا ہے اسی لیئے وہ سکون سے سو رہا ہے. ام سلیم (رض) کا رویہ اتنا اچھا تھا کہ ان کے شوہر نے ان کے ساتھ رات گذاری.

صبح ہوئی. ام سلیم (رض) نے کہا "ابی طلحہ! اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کو کوئی چیز کچھ دن استعمال کرنے کیلئے دے اور وہ اسے ایک مدت تک استعمال بھی کرے لیکن جب مالک اپنی چیز واپس مانگے تو وہ پڑوسی رونا شروع کردے کہ ہم سے اپنی امانت کیوں لے رہے ہو، تو ایسے لوگ آپ کی نظر میں کیا حیثیت رکھتے ہیں؟" ابی طلحہ (رض) نے فرمایا: "وہ پاگل ہی کہے جا سکتے ہیں."
ام سلیم (رض) نے کہا تو پھر ہم بھی پاگل نہ کہلائیں، اللہ (ج) نے اپنی امانت واپس لے لی ہے تمہارے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے. اس مصیبت پر صبر کرو اور اللہ (ج) کی رضا پر راضی رہو اور جنازے و تدفین کا اہتمام کرو.

ابی طلحہ (رض) پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا بیان کردیا. آپ (ص) کو یہ سن کر تعجب ہوا اور آپ (ص) نے اللہ (ج) سے اس عورت کیلئے دعا کی اور اس رات بیوی اور شوہر کے ملنے کو اچھے اور بابرکت طور پر منتج ہونے کی درخواست کی.
ام سلیم (رض) حاملہ ہوئی اور اسے اللہ (ج) نے بیٹا دیا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا.
اپنے والدین کی اچھی تربیت ملنے کی وجہ سے وہ ایک با اخلاق انسان بنا، پاک زندگی بسر کی اور پاک حالت میں دنیا سے چلا گیا.
یہ عبداللہ بن ابی طلحہ (رض) وہی تھے جو حضرت امیر المومنین (ع) کے بھترین اصحاب میں سے تھے.

 


حوالہ: تتمه المنتهی ص 51


مترجم: الاحقر محمد زکی حیدری

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

کہاں ہیں ہم اور کہاں یہ!

 بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم

کہاں ہیں ہم اور کہاں یہ!

 

ابھی قم کی ایک مسجد میں بعد از ظھر کے درس میں تھا. مولانا صاحب نے فرمایا ایک شخص آیت اللہ بروجردی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا فرمایا آغا مجھے "جوع" کا مرض ( ایسی بیماری کے جس میں جتنا بھی کھانا کھاؤ بھوک نہیں مٹتی) لگ گیا ہے.
آیت اللہ بروجردی (رض) نے اس سے حال احوال پوچھا کہ کب سے ہے یہ مرض بولا پوری طرح کچھ یاد نہیں کہ کس دن ہوا.
پھر بولا میں ایک کسان ہوں، اس بیماری سے کچھ دن قبل میں حسب معمول دوپہر کا کھانہ کھانے بیٹھا تو میرے سامنے ایک کتا آن کھڑا ہوا. اس کی شکل سے لگ رہا تھا وہ بھوکا ہے. لیکن میں نے سوچا میں بھلا جانور کو اپنا کھانا کیوں دوں سو میں نے اس کے سامنے سارا کھانہ کھا لیا اسے ایک نوالہ بھی نہ دیا تھوڑی دیر بعد وہ کتا بھوک کے مارے مر گیا.
آیت اللہ بروجردی (رض) نے فرمایا یہی وجہ ہے بیماری کی.

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری

A man bites a dog!

 

A man bites a dog!

By: Muhammad Zakki Haidery

'News' is plural of 'new', so according to some intellectuals news is nothing but something new! All they want to state is that "when a dog bites a man, its not a news, but when a man bites a dog, it realy is a news." Keeping this meaning of news in mind our media, in particular, and western media in general has developed into themselves a neck of creating news by themselves in their own words, they seemed to be in search of finding a new news some thing like a news of a man biting a dog, and when they fail to find one -which occures in most of the cases- they try to make a man bite a dog!

This fact proves to be bright like a star when one comes across an article published in The Guardian. It, although, may not be a document of surprise for Pakistani people, since they are used to this nature of media, but what was more striking about this news of Guardin was its exact resemblance to what our media writes about the only Islamic government in the world i.e Islamic government of Iran.

The Guardian in one of its articles dated 31/07/2011 asserted that the Sunni Muslims in Iran were not allowed to offer their Eid Prayers in Tehran. Before digging deep into the question wether this news is based on reality or not, one should first have glance at religious freedom of Sunnis in Iran.

Islamic republic of Iran is predominantely a Shia country where almost 98% population belongs to the Shia school of Islam but segements of Sunni Muslims are found in southren part of the contry bordering Pakistan; province of Kurdistan, west Azerbaijan; Golistan and northern & southern parts of Khorasan. Starting with Sistan and Balochistan province, one can find Sunni mosques and even _madarisas_ in this area, an strange fact about this southren part is that the inhabitants are fanatic Sunnis called Deobandi in contrast to conventional Sunnis like Brelvis, who some how resemble to Shia Islam. *Sunnis not only have mosques in this province but have religious schools called _madarisas_ as well, this can be proved from the fact that Sunni Scholars from Pakistan have not only payed visits to these _mardarisas_ but have frequently shared religious information as well.*

In addition to this, moving on to the northern part the cities like of Gorgan, pockets of Sunni muslims are found *and what is special about this city is that it posseses a campus of Iran's largest Islamic University namely Al-Mustafa International University, this campus of Al-Mustafa Univeristy is especially for Sunni Muslim*, *where most of the students belong to Sunni school of thought.* This campus was brought into existance in order to facilitate the Sunni students with pyschological comfort in acquiring knowlege because other campuses of this University like Qom, Mashhad etc have majority of Shia students so the Sunni students would not be at ease in those campuses.

As far as Western Kurdish province named Kurdistan is concerned it is called the largest Sunni-populated segment of Iran, and like all other Sunni areas this area too enjoys absolute religious, social and political freedom. As Gorgan had a especialty in having a Sunni campus, this area too is unique in terms of the fact that the most of the street names are attribute to Sunni religious figures, *and it takes one to suprises when he passes by a street named after Hazrat Umar (r.a) the second caliph of Sunni school of Islam*
Moreover *Sunni Muslims are free to enrole their electorate, there is no limit for Sunni candidates in contrast to minorities who have limited reserved seats in Irani parliament.* This,too, is a testimony to the fact that Sunnis of Iran area enjoy political and religious freedom.

In a nutshell a few hours browsing on internet would reveal that the Sunni Muslims of Iran enjoy freedom in all spheres of there life, if it was not so they would have been up in arms, but fortunately for Iran and unfortunately for Pakistani and Western media the picture is totaly diffrent, we see no movment against Irani government on part of the Sunni Muslims.
It would be illogical to accept that a country which allows Sunnis to bulid mosques, madarisas; establishes a seperate campus of the country's largest university, would deprive them of Eid prayers in its capital. One with least of wit and wisdom would reject such allegation on the grounds that they do not coform to reality. The fact of the matter is that Tehran, like most of the cities of Iran, is packed with Shia population and there are hardly any Sunni muslims, so there are no Sunni mosques. But newspapers like Guardian seemed to be less satisfied with news like dog bitting a man so they want to decorate there paper with news of man bitting a dog!


_mzakki@yahoo.com_

ولی فقیہ کا فتوا اور دیگر مجتھدین کا فتوا

 

سوال: کہتے ہیں ولی فقیہ کے فتوا کے سامنے ساری دنیا کے مجتھدین کے فتوے منسوخ ہوجائیں گے اور صرف ولی فقیہ کے فتوے کو فوقیت ہوگی ساری دنیا کے شیعوں پر اس کی پیروی واجب ہوگی. کیا یہ درست ہے؟


اس میں دو امور کو مدنظر رکھیں تو آسانی ہوگی، ولی فقیہ جو بھی حکم دیگا وہ سیاسی یا اجتماعی وغیرہ دیگا اس کی پیروی تمام شیعوں پر لازم ہے باقی فتوا ہر مجتھد کا اپنا ہوگا اور اس میں بندہ جس کی تقلید کرتا ہے اس کی پیروی کرے گا.

مثال: سید علی سیستانی (دام عزہ) فتوا دیں کے انڈے کی زردی میں ذرا سا بھی خون ہو وہ پاک ہے اور اس کے کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں اور ولی فقیہ سید علی خامنہ ای فتوا دیں کہ پاک ہے لیکن اس کا کھانا حرام ہے.
اور یہ سن کر ہم کہیں کہ لو جی رھبر نے کہہ دیا حرام ہے تو بس باقی مجتھدین کون ہوتے ہیں!!!!

*نہیں!!!!!*

ایسا نہیں ہے، یہاں ولی فقیہ کا فتوا اپنی جگہ سید سیستانی کا فتوا اپنی جگہ رہے گا فاقد نہیں ہوگا. اگر ایسا ہو تو دیگر مجتھدیں کے فتوے تو کسی کام کے نہ رہیں گے کیونکہ رھبر سید علی خامنہ خود مرجع تقلید ہیں نے ھر چیز کے متعلق فتوا دے رکھا ہے..

*تو کون سے امور ایسے ہیں جن میں ولی فقیہ کا فتوا بقیہ مجتھدین کے فتوے کو منسوخ کر دیتا ہے.*؟؟؟؟

وہ ہیں سیاسی اور اجتماعی امور وغیرہ مثلاً:

ولی فقیہ نے فتوا دیا کہ اسرائیل یا فلاں ملک کی مصنوعات استعمال کرنا حرام ہے ... یہاں سب مجتھدین کے فتوے ایک طرف رھبر کا فتوا سب پر بھاری ہوگا.
یا مثال کہیں فلاں ٹی وی چینل گستاخ انبیاء و آئمہ (ع) ہے اسے دیکھنا حرام ہے جب کہ میں جس مجتھد کی تقلید کرتا ہوں اس نے حرام نہیں کہا لیکن ولی فقیہ نے حکم دیا ہے تو ساری دنیا کے شیعوں پر یہ چینل دیکھنا حرام ہو جائے گا...

اسی طرح کی بہتریں مثال ۱۹۲۰ ع میں عراق میں ملتی ہے جب مرزا تقی شیرازی نے دیکھا کہ برطانیہ کے گورے تمباکو کے بہانے عراق پر اپنے ظلم کے پنجے گاڑھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے فتوا جاری کیا کہ تمباکو ھر عراقی شیعہ کیلئے حرام ہے، سب کے فتوے سائیڈ پر لگ گئے. اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس استعمار برطانیہ نے پوری دنیا کے تقریبا تمام ممالک پر اپنا اثر رسوخ قائم کیا لیکن عراق میں ناکام ہوا.


ملتمس دعا
الاحقر محمد زکی حیدری

کیا ولی فقیہ یا مجلس خبرگان میں غیر ایرانی عوام کا کوئی عمل دخل ہے؟

 

کیا ولی فقیہ یا مجلس خبرگان میں غیر ایرانی عوام کا کوئی عمل دخل ہے؟

 

جواب:
یہ سب سے بڑا اعتراض ہوتا ہے نظام ولایت فقیہ پر کہ بھائی ایرانی قوم کا بنایا ہوا رھبر ہم کیوں مانیں!
ارے میاں جذباتی نہ ہوں بات سمجھیئے!

اسلام میں بارڈرز اور جغرافیائی حدود کی کوئی قید نہیں، اسلام میں ایک امت کا تصور ہے سو ایک وقت میں ایک ولی فقیہ بنا تو سب اس کا اتباع کریں گے، وہ سب پر حاکم ہے. اور کسی کا حکم نہیں چلے گا.
سو اسلام میں امت کا تصور ہے. یہ جو ممالک کے بارڈرز بنے ہیں یہ اپنی اس جدید شکل میں اسپین اور جرمنی کی جنگ کے بعد ٹریٹی آف ویسٹفیلیا 1648ع کے نتیجے میں وجود میں آئے. بین الاقوامی ممالک کی حدود معین ہوئیں اور قوانین بنے...
سو ہم اب ایسی دنیا میں جی رہیں ہیں جس میں جغرافیائی حدود معین ہیں.
اور ان کی پابندی کرنے میں ہم مجبور ہیں.
سو ہمارے پاس دو آپشن تھے:
*۱.*
یا یہ کہ ہم ممالک کے اس نظام کو ختم کریں جو کہ اسلام کا بنایا نہیں، یعنی کوشش کریں کہ دنیا یا کم از کم مسلمان دنیا میں بارڈرز ختم ہو جائیں. تاکہ ایک ولی فقیہ سب پر حاکم بن جائے، پوری امت پر،

*یا*

۲.
پھر مجبورا جس خطے میں نظام ولایت فقیہ نافذ کرنے کا موقع ملے اسی میں نافذ کردیں کیونکہ یہ اصول ہے اسلام میں *اعلی ترین* چیز کا حصول ناممکن ہو تو *اعلی تر* پر اکتفاء کیا جائے.
*....سو*

چونکہ پہلے آپشن پر عمل ممکن نہیں سو مجبور ہیں کہ ایک ہی ملک میں ، جس میں نظام ولایت فقیہ کے نفاذ کا موقع ملا ہے اسی میں اسے نافذ کریں. ( نہیں تو کیا اس موقع کو بھی کھو بیٹھیں کہ میاں چاہیئے تو ہر ملک میں ولایت فقیہ چاہیئے نہیں تو بس؟؟؟)

اس لیئے یہ طے پایا کہ بارڈرز کی مجبوری ہے اور اسے ختم تو کرنے سے رہے. *کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے ایک ہی ملک ایران میں نظام ولایت فقیہ نافذ کیا جائے اور اسی ملک کے باشندے ہی اس میں رائے کا حق رکھتے ہوں.*
سو ایرانی قوم مل کر یہ مجتھدین چنتی ہے اور وہ مجتھدین ولی فقیہ کا انتخاب کرتے ہیں...

لیکن

*چونکہ دنیا میں شیعہ فقہاء کی یہ واحد حکومت ہے اور ہم سب ان فقہاء کی عدالت کے قائل ہیں یعنی انہیں کرپٹ نہیں سمجھتے سو ان کے منتخب کیئے ہوئے ولی فقیہ کو من و عن قبول کر کے ان کی اتباع لازم سمجھتے ہیں.*

ملتمس دعا
الاحقر محمد زکی حیدری

رھبر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے....؟

 

رھبر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے....؟
مجلس خبرگان کیا ہے آسان الفاظ میں...


نظام ولایت فقیہ مطلب فقیہ کی حکومت یعنی مجتھد کی حکومت... یہ تعریف ہے ولایت فقیہ کی لغوی تعریف...

یہ ولی کون چنے گا؟ اللہ (ج) یا امام (عج) .... وہ دونوں تو زمین پر ظاھر نہیں
تو اب کیا کریں ؟؟؟

ظاہر ہے امام زمانہ عج کے بعد فقہاء ہی سب سے زیادہ اہل علم ہیں... تو ولی فقیہ بھی ان فقہاء میں سے ایک ہو اور اسے چنے بھی... کون؟؟؟ فقہاء...

اب فقہاء آپس میں سے ایک فقیہ چنتے ہیں... جو اس نظام کا سب سے طاقتور شخص ہوگا...

لیکن رکیں !!!!!
یہ تو آمریت سے ملتی جلتی بات ہو گئی کیوں کہ عوام کا اس میں عمل دخل نہیں، سب کچھ فقہاء مل کر کر رہے ہیں...

سو بزرگ مل بیٹھے امام خمینی (رض) سے مشاورت کی گئی کہ کیا کریں ...

فیصلہ ہوا رھبر عرف ولی فقیہ صرف ہم فقہاء لوگ ہی نہ منتخب کریں... عوام کا عمل دخل بھی ہو اس میں ...

لیکن کیسے؟


بولے ایک مجلس خبرگان بناؤ اس کی شرط یہ رکھو کہ اس کا رکن صرف مجتھد ہوگا...

ٹھیک! لیکن ایران میں تو مجتھد بھت ہیں کیا سب کو مجلس خبرگان کا حصہ بنائیں؟؟؟
بولے نہیں مخصوص تعداد رکھو البتہ کم زیادہ کرتے رہنا مسئلہ نہیں..

اب مجتھد بولے ہم میں کیسے فیصلہ ہو کہ کون سا مجتھد مجلس خبرگان کا میمبر بنے؟؟؟

*بولے دو شرطیں:*
لکھت میں امتحان پاس کرو تاکہ پتہ چلے کہ تم سیاست ویاست بھی جانتے ہو، مجتھد تو ہو لیکن سیاسی شعور ہے یا نہیں سو امتحان دو.
لو جی مجتھد امتحان دے رہے ہیں ...
امتحان میں بھی کئی پاس ہوگئے اب...
اب عوام کی باری
اب ان پاس ہونے والے مجتھدین کا الیکشن ہوگا جسے مجلس خبرگان کا الیکش کہتے ہیں، عوام انہیں ووٹ دے گی جو ووٹ لائے گا وہی کامیاب ہوگا...

کامیاب مجتھدین مجلس خبرگان کے رکن بن گئے.

یہ بن گئی مجلس خبرگان ... جس میں ہیں مجتھدین لیکن عوام کے ووٹ سے آتے ہیں...
مجلس خبرگان کے ۸۸ یا ۹۰ مجتھد مل کر رھبر عرف *ولی فقیہ کی نظارت اس کے انتقال کی صورت میں نیا رھبر چننا، رھبر کی معزولی وغیرہ سب پر اختیار رکھتی ہے...*


ملتمس دعا: محمد زکی حیدری ...

بیداری کی ضرورت عوام کو ہے یا...؟

 

 بیداری کی ضرورت عوام کو ہے یا...؟

تحریر: محمد زکی حیدری

 

یا امام زمانہ (عج) آپ پر سلام ہو. میرا نام "پاکستانی شیعہ عوام" ہے. آپ کو میں اتنا نہیں جانتی لیکن شروع میں خطیبوں اور ذاکریں سے آپ کا نام سنا اور یہ بھی سنا کہ آپ غائب ہیں لیکن سنتے سب کچھ ہیں. لیکن بھرحال آپ سے اتنی کوئی خاص آشنائی نہ تھی لیکن جب آپ سنتے ہیں تو میں نے سوچا آپ کو اپنی کہانی سناؤں. میں مجلس تو ذاکر و خطیب کی سنتی تھی لیکن جب ۱۹۸۰ع میں مجھے زکوات آرڈیننس کے خلاف ایک شیعہ بزرگ مفتی نے اپنے حق کیلئے اسلام آباد جا کر دھرنا لگانے کا حکم دیا تو میں بڑے جوش سے گئی اور ایک آمر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا.

اس بزرگ مفتی کے انتقال کے بعد ایک سید عارف نامی عالم دین آئے، انہوں نے بھی مجھے جہاں بلایا میں اپنے جیب سے کرایہ کر کے ان کے جلسوں میں گئی، لاہور کا مینار پاکستان والے جلسے میں ہر طرف میں ہی نظر آرہی تھی. مجھے اس قائد سے بڑی امید تھی مگر اسے دشمن نے راستے سے ہٹا دیا، میں رونے لگی لیکن مجھے بتایا گیا کہ نہیں! رو مت اس سید کی جگہ ایک اور سید آیا ہے. میرا چہرا خوشی سے پھر کھل کھلا اٹھا.
میں خوش تھی اور عہد کر لیا کہ اُس شہید قائد کے جانشین ہونے کے ناطے یہ سید بھی مجھے جہاں بلائیں گے میں جاؤں گی اور میں نے اپنا فرض نبھایا میں نے اس قائد کے استقبال کیئے، بسوں میں لٹکتی رہی، نوکری سے چھٹی لیکر اپنے پیسوں سے موٹرسائیکل میں پیٹرول ڈلوا کر ان کے جلسوں میں جاتی رہی لیکن پھر انہوں نے ایک ایسا کام کیا جو انہیں زیب نہیں دیتا تھا لیکن پھر بھی میں ان کی بات پر لبیک کہتی رہی. کیونکہ مجھے یقین تھا کہ یہ قائد بھی میرا اسی طرح خیال رکھیں گے جس طرح شہید قائد عارف (رض) نے رکھا لیکن ایسا نہ ہوا. میرے اور ان کے درمیان دوری ہونے لگی. میں چپ ہوگئی.

اتنے میں اچانک ایک اور عمامے والے نے اپنی تنظیم کا اعلان کردیا، میں جانتی تھی کہ اتحاد ٹوٹا ہے، دو دو پلیٹ فارم میرے حق میں بھتر نہیں ہیں، لیکن میں نے عمامے کی لاج رکھی کیونکہ دعوت دینے والا شیعہ عالم تھا سو میں ان عالم کے جلسے میں بھی دل سے گئی. پھر اس عالم نے دھرنے کا کہا تو میں اپنے معصوم بچوں سمیت سخت سردی میں سڑکوں پر آئی اور پورا پاکستان جام کردیا.
مولا امام زمانہ (عج) اس کے بعد ان دو تنظیموں کی باھمی چپکلش شروع ہوگئی میں عمامے کی بھت عزت کرتی تھی لیکن ۲۰۱۳ کے الیکشن میں دو عمامے والوں کی تنظیمیں ایک دوسرے کے سامنے آگئیں میں بوکھلا گئی کہ کس طرف جاؤں. سچ یہ ہے کہ ان کی باھمی چپکلش دیکھ کر میرا دل ان دونوں سے بھر گیا.

اس کے بعد ایک دوسرے سید آئے ان کی تقریریں بہت اچھی تھی اور وہ میرے لیئے ایک نیا پروگرام لائے. مجھے منبر پاک کر کے دینے میں ان کی بہت خدمات ہیں اور ابھی بھی جاری ہیں لیکن مجھے ان سے شکایت ہے! وہ یہ کہ اکثر مجھے ڈھکے چھپے الفاظ میں کوفیوں سے تشبیہ دیتے ہیں، اور طعنہ دیتے ہیں کہ میں بے تربیت ہوں، بیدار بھی نہیں ہوں.

مولا آپ مجھے بتائیں میں نے کس عالم کا ساتھ نہ دیا مفتی جعفر حسین (رض) سے لیکر شہید عارف (رض)، موجودہ قائد سے لیکر نئی بننے والی تنظیم تک میں نے ساتھ دیا، ان علماء نے جب جب مجھے بلایا میں نے لبیک کہا. مجھے کافر کہا گیا، مجھے سڑکوں پر سونا پڑا، میں دھرنوں میں بیٹھی، لاٹھی چارج برداشت کیئے، اب میں پچھلے کئی سالوں سے بموں سے اڑائی جا رہی ہوں، چن چن کر ماری جا رہی ہوں. یہ سید میری خیر خبر تو نہیں لیتے الٹا مدرسے میں بیٹھ کر مجھے بے تربیت، سوئی ہوئی، غائب کہتے ہیں.
مولا (عج) میں آپ سے پوچھتی ہوں میں مرتی رہی، اور مر رہی ہوں، انہوں نے کبھی اپنی تقریر میں میرے مرنے یا مجھے ٹارگٹ کلنگ سے بچانے کی بات نہیں کی، کبھی چل کر میرے سر پر دلاسے کا ہاتھ رکھنے نہیں آئے، میں مر رہی ہوں یہ فلسطین کیلئے ریلی نکالتے ہیں میرے لیئے نہیں، میں مر رہی ہوں اور اس حال میں ان کا عمامے والا ایک بھائی بھوک ہڑتال پر بیٹھتا ہے اور یہ دو سید ایرانی علماء کی حمایت کے باوجود ان کی حمایت نہیں کرتے. *کیا چیز انہیں ھمدردانہ جملے کہنے سے روکتی ہے؟ تعصب یا انا پرستی؟ کیا ان دونوں سیدوں کا اخلاقی فرض نہ تھا کہ وہ اپنے برادر عالم کی کم از کم لفظی حمایت تو کرتے اگر انہوں نے اس اخلاقی قدر کی نفی کی ہے تو تربیت کی ضروت مجھے ہے یا ان کو؟

مولا اتحاد اہم ہے میں جانتی ہوں جب تک یہ علماء متحد نہیں ہوں گے تب تک میرا تحفظ ممکن نہیں.
*مولا (عج) مجھے یہ بتائیں یہ تینوں عمامے والے علماء کرام ایک دوسرے کو فون کر کے ایک جگہ مل بیٹھ کر میرے تحفظ کا حل کیوں نہیں سوچتے؟؟؟*
*انہیں مل بیٹھنے سے کیا چیز روکتی ہے؟*
*کیا یہاں بھی میری تربیت میں کمی ہے؟؟؟*
*کیا یہاں بھی میں بیدار نہیں ہوں؟؟؟*
*کیا یہاں بھی امت یعنی میں غائب ہوں*
مولا (عج) میں تو ھر وقت میدان میں ہوں دشمن کا نشانہ میں بنی ہوئی ہوں اور شکایت بھی مجھ سے کہ میں بیدار نہیں ہوں.

آخر میں عرض مولا (عج) *اگر مجھے بیداری کی ضرورت ہے، یا میں نے اپنی تین الگ الگ مسجدیں بنا رکھی ہیں تو آپ مجھے سرزنش کریں اگر نہیں تو ان سے کہیں متحد ہوں،* *اگر ان بزرگوں میں سے ایک بھی دوسرے سے مل بیٹھنے کو تیار نہیں تو شعور کی ضرورت کسے ہے مجھے یا... بصیرت کا فقدان مجھ میں ہے یا .... بیداری کی ضرورت کس کو ہے مجھے یا...؟

سوال: کیا علی (ع) نے خلفاء کے پیچھے (اقتداء میں) نماز ادا کی؟

سوال: کیا علی (ع) نے خلفاء کے پیچھے (اقتداء میں) نماز ادا کی؟


۱. عقلی جواب

عاقل جب کسی مسئلے کو دیکھتا ہے تو لازم ہے اس کے پس پردہ و پیش پردہ حالات و واقعات کا جائزہ لے. علی (ع) کے نبی (ص) کے بعد اگر کوئی حالات کا مطالعہ فرمائے تو معلوم ہوگا کہ علی (ع) پچیس سال اتحاد کی خاطرخاموش رہے. اس دوران ولایت جسی عظیم و گرانقدر چیز کو بھی ہاتھ سے دے بیٹھے. اپنی زوجہ پر مظالم برداشت کیئے اور بھی سختیاں برداشت کی تو کیا یہ علی (ع) اتحاد کو بچانے کیلئے و معاشرۂ اسلام کو فتنہ سے بچانے کیلئے نماز میں خلیفوں کے پیچھے نہیں کھڑے ہو سکتے؟ کیا اس کم قیمت اس چھوٹی چیز کی امید نہیں رکھی جا سکتی جب کہ علی (ع) نے اتحاد کی راہ میں اس سے بھی بڑی و گرانقدر چیزیں قربان کردیں. بیشک علی (ع) ان خلفاء کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے لیکن نیت فرادہ کی کیا کرتے جیسا کہ مندرجہ ذیل نقلی دلائل سے ثابت ہے.

۲.نقلی جواب

تفسیرقمی میں لکھا ہے: *«حضر المسجد و وقف خلف ابى بکر و صلّى لنفسه»* امام علی(علیه السلام) مسجد میں حاضر ہوا کرتے اور ابوبکر کے پیچھے کھڑے ہوتے لیکن نماز اپنی پڑھتے (فرادہ کی نیت سے)

تفسير القمي، ج2، ص 158و 159؛

اور یہ ہی روایت تفسیر نور الثقلین میں

تفسير نور الثقلين، ج4، ص188


*اس کے علاوہ احتجاج طبرسى میں بھی یہ روایت آئی ہے*
: «و حضر المسجد و صلّى خلف ابی بکر»،

«امام علی(علیه السلام) مسجد میں آتے تھے اور ابوبکر کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے »

اس میں *صلی للنفسه* نہیں مذکور.
مطلب یہ روایت کہنا چاہتی ہے کہ علی (ع) نے ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھی نیت بھی اس کی اقتداء کی کی.

لیکن یہاں احتجاج طبرسی کی سند میں مسئلہ ہے کہ
اس روایت کی سند مرسل ہے

(مرسل اس روایت کو کہتے ہیں جس میں روایت کرنے والا بلا واسطہ کسی ایسے شخص سے روایت کرے جو اس کے زمانے کا نہ ہو جیسے طبرسی خود حماد بن عیسی کے دور کے نہیں سو انہوں نے ڈائریکٹ ان سے روایت کی ہے اس لیئے طبرسی کی روایت کو مرسل مانا جائے گا)
کیونکہ تفسیر قمی میں و نور الثقلین میں اس روایت کے راویوں میں بلکل تسلسل ہے اور راوی کچھ اس طرح ہیں:
صاحب تفسیر قمی اپنے والد ابراهیم بن هاشم سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے عثمان بن عیسی سے اور انہوں نے حماد بن عیسی سے اور انہوں نے امام صادق(علیه السلام) سے یہ روایت نقل کی ہے. *سو ہم تفسیر قمی کی روایت کو درست مانتے ہیں کہ پڑھی لیکن فرادہ کی نیت سے.*

حوالہ
الاحتجاج، ج1، ص126.


🌹 *اس معاملے میں مراجع و علماء کیا فرماتے ہیں*


🖋 سید مرتضی اعلم الھدی نے اپنی کتاب تلخيص الشافي کی جلد 2، ص 158 پر بھی بات لکھی ہے لیکن انہوں نے بھی یہ فرمایا اتحاد کی نیت سے امیر المومنین (ع) ان کی اقتدا فرماتے تھے.

🖋 شہید مطھری اپنی کتاب امامت و رھبری صفحہ ۲۰ پر فرمایا کہ امام علی علیہ السلام ان کی اقتداء میں (فرادہ نیت سے) نماز پڑھا کرتے تھے.

🖋 ایت اللہ مکارم شیرازی کی ویب سائٹ پر بھی اس بات کی تائید موجود ہے

لنک : http://makarem.ir/main.aspx?lid=0&mid=254044&typeinfo=23&catid=23879


*اس کے علاوہ مندرجہ ذیل کتب میں اس بات کی تائید موجود ہے.*

۱. الشيعة وأهل البيت ص 61.

۲. تفسير القمي: 2/ 158، 159،

۲. تفسير نور الثقلين: 4/188.
.
۳.الأنساب للسمعاني:3/95،

۴. دار الجنان ـ بيروت و6/170، نشر محمد أمين دمج - بيروت - 1400 هـ

۵. النوادر ص 129،

۶. وسائل الشيعة (آل البيت)، ج 8، ص 301، ح 10726.

۷ وسائل الشيعة (آل البيت)، ج 8، ص 299.

۸. بحار الأنوار، ج 100، ص 375.

۹. قرب الاسناد ص 114، ج 7.

۱۰ وسائل الشيعة (آل البيت)، ج 8، ص 366،

۱۱. وسائل الشيعة (الإسلامية)، ج 5، ص 430، جامع أحاديث الشيعة، ج 6، ص 503


ملتمس دعا
الاحقر محمد زکی حیدری

🔦🔦🔦🔦🔦🔦🔦
*اس قسم کے سوالات کے جوابات اور مزید مقالاجات کیلئے میرا بلاگ دیکھیئے*

arezuyeaab.blogfa.com


🔦🔦🔦🔦🔦🔦🔦

طاغوت کا مطلب کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

*طاغوت لفظ کے معانی*

 

مترجم : محمد زکی حیدری

 

طاغوت» جس کا مادّه «طغى» و «طغو» ہے کہ معنى تجاوز یا اپنی مقرر کردہ یا معروف حد ، یا اعتدال سے بڑھ جانا ہے. راغب اصفہانی اسے گناہ میں حد سے کرنا کہتے ہیں.[1]

کچھ علماء کے بقول طاغوت صیغه مبالغه ہے؛ جیسے «ملکوت» و «جبروت» که مبالغۂ مالکیت و جباریت کو ظاہر کرتے ہیں. یہ لفظ اس تناظر میں استعمال ہوتا ہے جب کوئی چیز طغیان کا موجب بنے یعنی (حد سے تجاوز کرے) *جیسے معبود غیر خدا مثلاً بت، شیطان، جن اور بنی آدم کے رھبران ضلالت اور ہر وہ گروہ جس کی کامیابی سے خدا راضی نہ ہو*، یہ لفظ مذکر و مؤنث و مفرد و تثنیه و جمع، مساوی میں مساوی ہے اور تبدیل نہیں ہوتا.[2]

کچھ مفسران معتقد ہیں؛ طاغوت، جس کا ماده طغیان ہے، ایسا طغیان ہے جو *ھر اس خود خواہ و سرکش انسان یا گروہ کا خاصہ ہے جو عوامی آزادی اور عوام کے حقوق دینے کا مخالف ہو*

. موارد و اشخاص جو اس زمرے میں آتے ہیں وہ یہ ہیں: شیطان، کاهن، رھبران گمراهى، سرکشان انس و جن و نفس طغیانگر،.[3]

 

لذا طغیان، سرکشى و خروج از مسیر طبیعى و فطرى است.
*لھذا طغیان ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے فطری یا مقرر کردہ راستے سے سرکشی اور خارج ہوجائے.*

طغیان آب، آن است که از بستر طبیعى و ساخته خود بیرون رود و آبادى و مزارع را ویران کند.

*پانی کا طغیان یہ ہے کہ اپنے راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرے اور فصلوں اور آبادیوں کو ویران کرے*

طغیان شخص بر خود، چیرگى خوى خودبینى و یا بعضى از قواى حیوانى است که فطریات و مواهب انسانى را فراگیرد.

ایک انسان کا خود پر طغیان یعنی خود غرضی یا دوسری ایسی حیوانی خصوصیات جو اس کے اندر پائی جاتی ہوں


طغیان بر خلق، سلطه جابرانه بر حقوق و مواهب آنها است که نتیجه‏‌اش به وجود آوردن فساد در زمین خواهد بود، چنان‌که قرآن می‌فرماید:

*خلق پر طغیان کا مطلب ہے عوام کے حقوق پر زبردستی و جابرانہ طریقے سے قابض ہوناجس کا نتیجہ فساد ہو جیسے قرآن میں آیا ہے:*

«الَّذِینَ طَغَوْا فِی الْبِلادِ* فَأَکْثَرُوا فِیهَا الْفَسادَ»؛[4] 

همان اقوامى که در شهرها طغیان کردند، و فساد فراوان در آنها به بار آوردند.

ترجمہ آیت:
*یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے شہروں میں طغیان کیا (انہیں برباد کیا) اور بھت ہی زیادہ فساد برپا کیا*

 

منشأ طغیان، نفس و خواسته‌های نفسانی است که خود را به آنچه دارد بی‌‏نیاز از خدا پندارد.

*خواھشات کا طغیان وہ ہے جو اس شخص جو اپنی نفسانی خواھشوں کا غلام بنادے اور اسے خدا سے بے نیاز کردے*


آن‌چیز می‌تواند بت مال باشد، یا قدرت و یا دانشى که وهم انگیز و غرورآور باشد
*چاہے وہ چیز بت ہو، مال ہو، اقتدار ہو یا علم جو کہ باعث غرور بنے*


.[5]

 «کَلَّا إِنَّ الْإِنْسانَ لَیَطْغى‏ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنى؛‏[6] 

چنین نیست (که شما می‌پندارید) به یقین انسان طغیان می‌کند، از این‌که خود را بی‌نیاز ببیند!

ترجمہ ایت:
*ایسا نہیں (جیسا تم سوچتے ہو) بیشک انسان کا ظغیان کرتا ہے اور خود کو خدا سے بے نیاز سمجھ بیٹھتا ہے*

 

لذا هر مورد پرستشی غیر از خدا همه طاغوت‌‏اند، چه شیطان باشد یا بت و یا هر چیز دیگر ... طاغوت هر کسى نفس اماره او است که به بدى فرمان می‌د‌هد و انسان را از مسیر مستقیم به ضلالت و گمراهی می‌کشاند.

*لھذا خدا کے علاوہ ہر معبود طاغوت ہے چاہے وہ شیطان ہو، بت ہوں کچھ اور... ہر انسان کا طاغوت اس کا نفس امارہ ہے جو اسے گناہ اور برائی طرف لے جاتا ہے اور انسان کو صراط مستقیم سے دور لے جاتا ہے*

[7]

 


حوالاجات:

 

[1]. راغب اصفهانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، تحقیق، داودی، صفوان عدنان، ص 520، دمشق، بیروت، دارالقلم‏، الدار الشامیة، چاپ اول، 1412ق.

[2]. مصطفوی، حسن، تفسیر روشن، ج ‏3، ص 323، تهران، مرکز نشر کتاب، چاپ اول، 1380ش؛ طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ج ‏2، ص 344، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، 1417ق.

[3]. طالقانی، سید محمود، پرتوی از قرآن، ج ‏2، ص 20، تهران، شرکت سهامی انتشار، چاپ چهارم، 1362ش.

[4]. فجر، 11- 12.

[5]. پرتوی از قرآن، ص 207- 208.

[6]. علق، 6.

[7]. رشیدالدین میبدی، احمد بن ابی سعد، کشف الأسرار و عدة الأبرار، تحقیق، حکمت‏، علی اصغر، ج ‏1، ص 69، تهران، امیر کبیر، چاپ پنجم، 1371ش.

[8]. ابن حیون، نعمان بن محمد مغربى، دعائم الإسلام، محقق، مصحح، فیضى، آصف‏، ج ‏2، ص 530، قم، مؤسسة آل البیت علیهم السلام‏، چاپ دوم، 1385ق.

 


*پاکستانی تعریف: طاغوت مطلب جمہوریت* بس بات ختم ایک لفظ میں.

(نوٹ اس معنی کاحوالہ میرے پاس موجود نہیں)

میں باغی نہیں ہوں

میں باغی نہیں ہوں!


مترجم: محمد زکی حیدری

 

ایک دن مرحوم آخوند کاشی وضو میں مشغول تھے، اتنے میں ایک بندہ آیا جلدی سے وضو کر کے نماز پڑھنے لگ گیا.

جب کہ مرحوم کاشی بڑی تسلی سے وضو کر رہے تھے اور وضو کی تمام تر مستحبات انجام دیتے اور دعائیں بھی پڑھ رہے تھے.
اتنے میں کہ مرحوم کاشی کا وضو ختم ہو وہ شخص ظھر و عصر کی نمازیں ادا کر کے واپس بھی آگیا.
واپسی میں اس کی ملاقات مرحوم کاشی سے ہوئی آپ نے اس سے پوچھا:
کیا کر رہے تھے؟
بولا: کچھ نہیں!

فرمایا: تم کچھ بھی نہیں کر رہے تھے؟

بولا: نہیں!
وہ جانتا تھا کہ اگر کہے گا نماز پڑھ رہا تھا تو بات گلے میں پڑے گی.

آغا نے فرمایا: کیا تم نماز
نہیں پڑھ رہے تھے؟

بولا: نہیں!

آغا کاشی نے فرمایا: میں نے خود دیکھا تم نماز پڑھ رہے تھے!

بولا: نہیں آغا آپ کو غلط فھمی ہوئی ہے.

آغا کاشی نے پوچھا: اچھا تو پھر کیا کر رہے تھے؟

بولا: بس *اللہ (ج)* سے یہ کہنے آیا تھا کہ میں *باغی نہیں ہوں*

اس جملہ نے مرحوم آخوند کاشی (رحمه الله) کو بہت متاثر کیا.
مدتوں تک جب بھی مرحوم کاشی سے حال پوچھا جاتا تو فرماتے:
*میں باغی نہیں ہوں*

🙏
*یا اللہ (ج)* ہم جانتے ہیں کہ اس رمضان تیری جیسی شان تھی ایسی عبادت ہم نہ کر پائے... ہماری نمازیں و روزے کوئی عبادت کی حیثیت بیشک نہیں رکھتے ہم صرف یہ کہنے آئے تھے:
*ہم باغی نہیں ہیں*

*تیرے بندے ہیں کوئی غلطی ہوئی تو اسی جملے کے طفیل معاف فرما دینا.*

الهی و ربی من لی غیرک . . .

arezuyeaab.blogfa.com

یہ ہیں بھجت

یہ ہیں بھجت!

 

آیت اللہ مصباح یزدی فرماتے ہیں کہ انقلاب اسلامی سے قبل ہم اور آیت اللہ مشکینی و دیگر احباب سیاسی فعالیت کی وجہ سے کبھی اس شہر کبھی اُس شہر چھپتے پھرتے تھے بعض دوست جیل میں تھے.
میں بھی اپنے گھر سے دور کسی شہر میں جا چھپا.
یہ ہماری طالبعلمی کا زمانہ تھا، غربت تھی. میں اپنے بچے اللہ (ج) کے آسرے چھوڑ آیا تھا. کچھ ماہ بعد واپس آیا تو میری زوجہ نے بتایا کہ آیت بھجت کی زوجہ آئی تھیں چاول کی ایک چھوٹی سی بوری اور کچھ رقم دے کر گئی تھیں. مجھے تو تعجب ہوا کہ انہوں نے ہمارا گھر کیسے ڈھونڈ لیا لیکن جب میں خدا حافظی کیلئے باہر نکلی تو دیکھا ان کا بیٹا گلی کے سر پر کھڑا ہے.

آیت اللہ مصباح فرماتے ہیں میں نے بھت سوچا کہ آخر اس چھوٹے سے کام کیلئے آقای بھجت نے اپنی زوجہ کو کیوں بھیجا، یہ کام تو ان کا بیٹا بھی کر سکتا تھا لیکن بعد میں اخلاق کی کتب میں پڑھا کہ جب ایک گھر کا مرد سفر پر ہو اور اس کے پیچھے بیوی اور بچے ہوں تو *مرد کیلئے مکروہ ہے* کہ وہ اس گھر کی دھلیز پر جائے.
یہ پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ آیت اللہ بھجت کو حتی یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ ان کی اولاد بھی مکروہ فعل انجام دے.

 

مترجم : محمد زکی حیدری

*اتنی سخت سزا*

عجب!
اتنی سخت سزا

 

بھیا ذرا یہ سنیئے! جنگ تبوک روم کے بارڈر پر ہونی تھی، مدینہ سے یہ جگہ ۷۰۰ کلومیٹر دور ہے، حکم ہوا رسول (ص) کا چلو تو اصحاب نکل پڑے.... ۷۰۰ کلومیٹر دور مدینہ سے... اب یہ اعلان جب ہوا تو اس وقت ذرا سا فصلوں کی کٹائی یا شاید کھجور کے پک کر اترنے کا وقت تھا سو کچھ افراد نے رسول (ص) سے عرض کی کہ اجازت ہو تو ہم ایک دو دن بعد نکلیں لیکن آئیں گے ضرور... رسول (ص) نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے!

ان میں سے تین افراد
کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع، اور ھلال بن امیہ روز سوچتے آج نہیں کل جائیں گے یہ سوچتے سوچتے دن گذر گئے یہ گئے نہیں. اتفاق سے تبوک کی جنگ ہوئی ہی نہیں بس محاصرہ تھا سو کچھ دن بعد رسول (ص) بخیر و عافیت مدینہ لوٹ آئے لوگ استقبال کیلئے آئے تو یہ تین لوگ بھی آئے یعنی کعب، مرارہ اور ھلال... رسول (ص) نے ان سے بات تک نہ کی اور اعلان کیا کوئی ان سے بات نہ کرے...
بیویوں نے کہا یا رسول (ص) ہمارے لیئے کیا حکم ہے فرمایا تم بھی ان سے بات نہ کرو...
بھیا اب ذرا سوچیئے دکان پر جاؤ دکان والا بات نہ کرے ، دوست بات نہ کریں، عزیز، احباب حتی بیوی بچے بھی دیکھ کر منہ پھیر لیں... کتنا مشکل ہو جاتا ہے جینا... یہ تین لوگ پچھتاوے کی حالت میں پاگلوں کی طرح مدینے میں اس طرح پھرتے رہے جیسے اجنبی!
کیوں؟
کیونکہ *وعدہ کیا تھا* نبھایا نہیں...
سو اپنی زندگی میں دیکھ لیں کہیں ہم کعب، مرارہ اور ھلال کی طرح تو نہیں... جس چیز کو ہم چھوٹا سمجھتے ہیں قرآن و رسول (ص) اسے کتنی اہمیت دیتے ہیں... ہم لوگوں کو "ٹوپیاں" (ہم کراچی والوں کی مروجہ زبان میں دھوکہ دینا یا وعدہ کرکے مکرجانا) کراکے فخر کرتے ہیں لیکن یہ قصہ پڑھ کر "ٹوپی کرانے" والوں کی سزا کا پتہ چلتا ہے.

(یہ سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۱۸ کی تفسیر میں قصہ ہے اس آیت میں ان تین کی طرف ہی اشارہ ہے)

الاحقر: محمد زکی حیدری

علی (ع) اور ضربیں

 

 

علی (ع) اور ضربیں ...

 

از قلم: محمد زکی حیدری


بت شکن محمد (ص) کے بت شکن جانشین علی (ع) کیلئے ضربیں کھانا کوئی نئی بات نہیں چاہے وہ ضربیں جسمانی ہوں یا روحانی! اسلام کیلئے ۹ سال کی عمر میں دعوت ذولعشیرہ کے موقع پر محمد (ص) نے جب لوگوں سے پوچھا کون ہے میرا ساتھی تو اس ۹ سالہ بچے نے حمایت کیلئے جوں ہی ہاتھ کھڑا کیا تو وہاں سے ابوجھل کا تضحیق آمیز قہقہا اس بچے کی روح پر پہلی ضرب تھی لیکن اس نے پرواہ نہ کی، اس کے بعد بدر و احد و حنین و... کی جسمانی ضربیں بھی علی (ع) کا کچھ نہ بگاڑ سکیں، انتقال رسول (ص) کی ضربت سے ابھی سنبھلے ہی نہ تھے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سقیفہ کی ضربت لگا کر علی (ع) کو رسول (ص)-جو کہ جسمانی طور تو ان سے جدا ہوچکے تھے، سے جانشین کے طور بھی جدا کردینے کی کوشش کی گئی، علی نے یہ دو بڑی ضربیں برداشت کی، پھر علی (ع) سے شیخین کی بعیت طلب کرنے کی ضرب، اپنی ۱۸ سالا بیوی زھرا (س) کو ۸۰ سالہ بوڑھیا کے جسم کے طور پر دفن کرنے کی ضربت، ایک کو منصب خلافت کو دیکھنے کی ضرب، پھر دوسرے کو، پھر تیسرے کو ... علی (ع) یہ سب ضربیں برداشت کرتے گئے تو دشمن کو یقین ہوگیا کہ ایمان کا یہ قلعہ ان ضربوں سے نہیں گرنے والا... اس وقت ایک طرف علی (ع) کو کہا جاتا ہے کہ خلافت آپ نے نہ سنبھالی تو اسلام کو خطرہ ہے دوسری طرف شام میں بیٹھے ایک شاطر انسان نے سیاست کے پتے پھینکنا شروع کیئے اور پورے معاشرے کو دعوت دی کہ آؤ علی (ع) کو مل کر ضربیں لگاؤ کیونکہ ہم کچھ لوگوں نے کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے...

علی (ع) کے خلاف مصر سے عمر و عاص نامی میڈیا بلایا گیا جس کے پروپیگنڈہ نے سارے معاشرے کے تیروں کے منہ علی (ع) کی جانب کر دیئے کبھی صفین، کبھی جمل، کبھی نھروان... علی (ع) تنہا اور سارے دشمن تیروں سے اس ایک تنہا جانشین محمد (ص) کو ضربیں مارنے لگے علی (ع) نے یہ ضربیں بھی دلیری سے برداشت کی اور دشمن کو منہ کی کھانی پڑی...

اور تب دشمن نے سوچا کہ اب بزدلی ہی واحد راستہ ہے *ایک بزدل انسان ڈھونڈا جائے! ایسا بزدل کہ جو اتنا بزدل ہو کہ کائنات کے شریف ترین شخص کو کائنات کی پاکیزہ ترین جگہ پر اس لیئے قتل کرے تاکہ اسے کائنات کی غلیظ ترین شہوت مٹانے کا سامان فراہم ہو سکے.* ایسے بزدل و غلیظ انسان کا انتظام ایک غلیظ عورت کی جسمانی مٹھاس ہی کرسکتی ہے سو یہ قطام نے ذمہ داری قبول کی اور ابن ملجم نے بزدلی کے یہ سارے رکارڈ توڑتے ہوئے علی (ع) پر حملہ کیا اور ۱۹ رمضان کے دن شریفوں کے سردار کو مسجد میں ضرب لگا کر زخمی کردیا گیا...

*السلام علیک یا امیر المومنین*

*_www.fb.com/arezuyeaab_*

ایران انقلاب کیسے شروع ہوا

خواتین و حضرات دھیاں دیجئے!

آپ کو پتہ ہے یہ کیا چکر ہوا کہ *سید* امام خمینی (رض) نے شاہ سے ٹکر لی؟

کیا ٹارگٹ کلنگ ہوئی تھی؟ بھت سے لوگوں کا خون کیا تھا شاہ نے تب *سید*امام خمینی رح نے آواز بلند کی تھی؟ نہیں جناب...!

بات شروع ہوتی ہے شاہ کے ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۳ کے اقدام سے... یہ اقدام کیا تھا؟

یہ تھا *قانون کیپتیلاسیون*
( Capitulation law)

مطلب کیا؟.🤔
مطلب یہ کہ شاہ نے اعلان کیا کہ آمریکی شہری ایران میں جو بھی جرم کریں گے ان کا ٹرائل اور سزا ایرانی عدالت میں نہیں ہوگی بلکہ آمریکا میں ہوگی. *سید* امام خمینی رض نے فرمایا یہ کیا بات ہوئی جرم ایران میں کرے ، ظلم کسی ایرانی شہری پر ہو اور اس کی شنوائی آمریکا میں!

یہ اہم ترین واقعہ تھا کہ *سید*امام خمینی (رض) نے شاہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا شاہ ان کاموں سے باز آ جاؤ ... عوام نے دیکھا یہ بیچارہ *سید* مولوی اتنی دلیری دکھا رہا ہے تب عوام کے کان کھڑے ہوئے...

پھر سارا قصہ زور پکڑنے لگا اور انقلاب آیا نظام ولی فقیہ آیا...

ایران کی گلیاں پاکستان کی طرح خون سے لال نہ تھیں پھر بھی *سید* امام خمینی رض بولے...
جس ملک کی گلیاں خون سے لال ہیں اس ملک کے *سید* کب بولیں گے... حمایت ہی کردیں *غیر سید* کی...

#پیروکاران امام خمینی
#نفاذ نظام ولایت فقیہ

الاحقر: محمد زکی حیدری

قصہ ناجائز اولاد کا!

 

قصہ ناجائز اولاد کا!

تحریر: محمد زکی حیدری

 

 

کارتھج، حالیہ تیونس، آفریقہ کا ایک قدیم یونانی شہر تھا. رومی سلطنت نے جب زور پکڑا تو اس کا اور یونانی کارتھج جیسی طاقتور سلطنت کا ٹکر ناگذیر ہوگیا. کارتھج اور روم کے درمیاں سو سالہ کشیدگی اور جنگ کے بعد بلآخر روم کی فتح ہوئی اور کارتھج کو تاراج کیا گیا، اس شہر کے سب لوگوں کو مار دیا گیا، عورتوں کو اسیر بنا لیا گیا. اس کے بعد کارتھج کا زمین پر نام و نشان تک باقی نہ رہا. رومیوں نے کارتھج پر ذرا بھی رحم نہ کیا!

اب آئیے دوسری طرف! اسی رومی سلطنت کے بادشاہ ویسپیسین کو خبر ملتی ہے کہ یروشلم کے یہودیوں نے
بغاوت کر دی ہے، تو اس نے اپنے جنرل ٹیٹوس کی سپہ سالاری میں ایک لشکر یہودیوں کو سرنگوں کرنے کیلئے بھیجا، ۱۳۹ دن کے محاصرے کے بعد بلآخر یروشلم کے یہودیوں کو شکست ہوئی، سب یہ سمجھ رہے تھے کہ رومی فوج کارتھج کی طرح یروشلم کو بھی تاراج کرے گی اور یہودیوں کا نام و نشان بھی نہ ملے گا مگر ایسا نہ ہوا...!!!

اس کی وجہ کیا تھی؟ وجہ تھی یہودیوں کی فکر "بقا". جی ہاں یہودیوں کا سب سے پہلا اصول ہے یہودیت کی بقا! یہودی سمجھتا ہے کہ دنیا کی ساری نسلیں پست ہیں اور یہ پست نسلیں ان کی اعلی نسل کو مٹانا چاہتی ہیں لیکن انہیں باقی رہنا ہے اور اس بقا کی خاطر یہ یہودی کسی بھی قبیح کام کرنے سے نہیں کتراتے. سو جب ان یہودیوں نے دیکھا کہ ہم پر رومیوں کا غلبہ ہو چکا تو انہوں نے اپنے دین، یہودیت کا سب بڑا پیغام لوگوں میں عام کرنا شروع کیا اور وہ تھا *جو ایک گال پر مارے اسے دوسرا گال پیش کرو، ظلم سے مزاحمت نہ کرو* یہ چال کامیاب ہوئی، رومیوں نے ان پر ہلکہ ہاتھ رکھا اور یہودی مکمل طور دنیا سے مٹ جانے سے بچ گئے اور کئی یہودی یروشلم کی تباہی کے بعد روم ھجرت کر گئے اور بڑے شاطرانہ طریقے سے سلطنت روم کی جڑیں کریدنے لگے جس کا نتیجہ سلطنت روم کے زوال کے طور پر سامنے آیا.

اسلام سے قبل عرب معاشرے میں یہ یہودی سود خوری کے علمبردار تھے، حضرت محمد (ص) نے جب اسلام کا پیغام عام کرنا شروع کیا تو مدینہ کے یہودیوں نے اپنی اسی پرانی شاطرانہ چالباز فطرت سے کام لینا شروع کیا، میثاق مدینہ پر دستخط کرنے کے باوجود اس کے کئی شرائط کو توڑنا، جنگ پر جاتے ہوئے آدھے راستے میں اچانک سے رسول (ص) و لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑدینا تو کنار ، انہوں نے رسول (ص) کو بلا کر ان پر چھت سے بڑا پتھر پھینک کر آپ (ص) کی جان لینے کی بھی کوشش کی. کیونکہ محمد (ص) کے پیغام سے یہودیت کی بقا کو خطرہ لاحق تھا جو کہ کسی بھی یہودی کیلئے قبول نہیں.

آج کا یہودی بھی اسی یروشلم اور عربستان کے اپنے بزرگوں کی مانند یہودیت کی بقا کیلئے ہر قسم کے شاطرانہ، ظالمانہ، سفاکانہ فعل کے ارتکاب کو جائز سمجھتے ہیں.
یہی وجہ ہے کہ جب آمریکا نے دنیا میں ترقی کرنا شروع کی تو دنیا کے یہودیوں نے اس طرف رخ کیا اور امریکا کے شہر نیویارک میں اپنی کثرت کو یقینی بنایا تاکہ آمریکا کے ساتھ رہ کر اپنی بقا کو یقینی بنایا جائے.
جب آمریکا کی تجارت میں ان یہودیوں نے نفوذ کیا تو آمریکی اور یورپی خارجی پالیسیوں پر ان کا اثر و رسوخ پیدا ہونے لگا اور *تب انہیں خیال آیا کہ ہمارا اپنا ایک ملک ہو!*

فلسطین! جو کہ ایک مدت سے برطانیہ کے زیرنگرانی تھا لیکن جنگ عظیم "دوم" کے بعد برطانیہ کو بھاری نقصان اٹھانے کی وجہ سے جہاں اسے اپنی تمام کالونیز سے دستبردار ہونا پڑا، وہاں فلسطین سے بھی اس نے اپنا گونر واپس بلانے کا اعلان کیا اور برطانوی گورنر فسلطینی عربوں اور یہودیوں کو امن و آشتی سے رہنے کا پیغام دے کر ۱۴ مئی ۱۹۴۸ع کو اپنے ملک برطانیہ لوٹ گیا.

اب چونکہ یہودی اپنی بقا کی خاطر ہر قسم کا قبیح طریقہ استعال کرنے سے دریغ نہیں کرتے سو اسی دن سپہر ۴ بجے تل اویو کے ایک عجائب گھر میں یہودی قومی کاؤنسل کے ڈیوڈ بین گریون نے تقریبا ۲۰۰ لوگوں کے مجمعے کے سامنے ایک یہودی ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا. ۱۹۰۰ سال میں پہلی بار یہودیوں کو اپنے ملک دینے کے اس اعلان کی حمایت اقوام متحدہ پہلے کی کرچکا تھا رہی سہی کسر آمریکا کے صدر ھیری ٹرومین نے اسی دن ہی حمایت کرکے پوری کردی. *اس طرح آمریکا کی ناجائز اولاد نے جنم لیا اور مسلمانوں کی اکثریت والے ارض فلسطین پر قبضہ کرتے ہوئے یہودیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا اور دنیا سے جوق در جوق یہودی اس سرزمین پر اپنے نجس قدم رکھنے لگے، یہودیوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہوتی گئی اور یہ ظلم اب تک جاری ہے.*

عرب لیگ کے تیل سے مالا مال ممالک کے سربراہان ایک بار اسرائیل سے رسوا ہوکر چپ ہوگئے اور آج تک خاموش ہیں، اگر دنیا بھر میں یوم القدس منانے کا اعلان کرتا ہے تو وہ خمینی (رح) کی شکل میں کوئی شیعہ ہی ہوتا ہے اور اقوام متحدہ میں کوئی آواز اٹھاتا ہے تو وہ ایرانی صدر کی صورت میں کوئی شیعہ ہی ہوتا ہے یا پھر ۳۳ روزہ جنگ میں اسرائیل کو چنے چبانے والا کوئی کمانڈر نظر اتا ہے تو وہ بھی شیعہ سید حسن نصراللہ ہے.
*یہودیوں کو آج اگر اپنی بقا -جو ان کو بہت عزیز ہے، کیلئے خطرہ ہے تو صرف و صرف شیعان حیدر کرار سے ہے، اسی حیدر کرار (ع) کی پاکیزہ اولاد سے کہ جس نے ان کے آبا و اجداد کے قلعۂ خیبر کو اکھاڑا تھا اور یوم القدس کی یہ ریلیاں گواہ ہیں کہ آمریکا کی اس ناجائز اولاد اسرائیل کی نابودی علی (ع) کے حلالی بیٹے سید علی خامنہ ای (زید عزہ) کے ہاتھوں ہونے والی ہے کیونکہ اللہ (ج) کا وعدہ ہے حق آئے گا باطل مٹ جائے گا.*


*_www.fb.com/arezuyeaab_*

 

 لبنان کا سیاسی جمہوری نظام اور پاکستانی شیعہ

 

 

لبنان کا سیاسی جمہوری نظام اور پاکستانی شیعہ

تحقیق و تحریر: محمد زکی حیدری

 

ہمارے کچھ بزرگ کہتے ہیں کہ نظام ولایت فقیہ کے علاوہ سب نظام طاغوتی ہیں. میں نے جب لبنان کو دیکھا تو مجھے تعجب ہوا کہ اگر ایسا ہی ہے تو ہماری اتنی عظیم تنظیم حزب اللہ اس جمہوری نظام کے تحت تشکیل میں آنے والی پارلیامنٹ کا حصہ کیوں ہے؟
کچھ بھولے دوست سمجھتے ہیں کہ بیشک حزب اللہ لبنان میں اقتدار کا حصہ ہے مگر ہے نظام ولایت فقیہ کے تحت! عجب!!! گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ حزب اللہ اس جمہوری نظام کو نہیں مانتی لیکن الیکشن لڑ کر اقتدار میں آجاتی ہے اور پارلیامنٹ کا حصہ بھی بن جاتی ہے...

اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچا جس ملک میں حزب اللہ اقتدار کا حصہ ہے یعنی جمہوریہ لبنان، اس ملک کا تعارف اور سیاسی بناوٹ دوستوں تک پہنچاؤں.

چونکہ کامیاب تحریکیں اور ان کے رھنماء ہمارے لیئے نمونہ عمل ہیں سو اس لیئے میں حزب اللہ کو نمونہ بنا کر پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ثابت ہو کہ ایک نظامِ غیر ولایت فقیہ کا حصہ بن کر بھی اپنے حقوق کا حصول و دفاع ممکن ہے. بلکہ لازم ہے کہ جہاں اکثریت غیر شیعہ ہو وہاں شیعہ اپنے حقوق کیلئے کسی بھی نظام کا حصہ بن کر جدوجہد کرسکتے ہیں.

لبنان کا نام *جمہوریہ لبنان (جمھوریۃ اللبنانیۃ)* ہے
اس کی آبادی تقریبا سوا چار ملین کے لگ بھگ ہے.
اس کا نظام پارلیامانی ہے.
یہ ملک فرانس کے قبضے میں رہا ۱۹۴۵ میں آزاد ہوا. اس میں عیسائی اکثریت میں ہیں دوسرے نمبر پر سنی مسلمان ہیں.


لبنان جمہوریت کی بھترین مثال ہے چونکہ عیسائی اکثریت میں تو *صدر عیسائی ہوتا ہے*
*وزیر اعظم مسلمان اھل سنت*
اور *اسپیکر شیعہ*

پارلیامنٹ کی ۱۲۸ نشست کیلئے
ھر چار سال بعد الیکشن ہوتے ہیں، عوام ووٹ ڈالتی ہے. جیتنے والی پارٹی کا نمائندہ وزیر اعظم بنتا ہے
صدر کی مدت چھ سال ہوتی ہے
عدالت لبنان قدیم بیپولینائی طرز پر ہے مگر ھر مسلک کو اپنی عبادات و شادی وغیرہ اپنے طریقے سے انجام دینے کی آزادی ہے.

*شیعان لبنان*

جمہوریہ لبنان میں تقریبا ۱۲ لاکھ سے ۱۶ لاکھ کے قریب شیعہ آبادی ہے. جو کہ کل آبادی کا ۲۸ فیصد بنتا ہے.
اکثر شیعہ جنوب لبنان میں جب کہ کچھ مشرق لبنان میں بھی ہیں.
ان شیعوں میں اکثریت بارہ امامی علویوں کی ہے باقی اقلیت میں اسماعیلی شش امامی شیعہ ہیں.
حزب اللہ ایک شیعہ جھادی تنظیم ہے جو ۱۹۸۲ میں بنی اور ۱۹۹۲ کے اس کے بانی سید عباس موسوی (رح) کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بناکر شہید کیا جس کے بعد اس تنظیم کی قیادت سید حسن نصر اللہ کے سر ہے جو اسے اپنے بیٹے کی قربانی اور دیگر قربانیوں کی توسط سے بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کرچکے ہیں.
یاد رہے کہ لبنان کی پارلیامنٹ کا اسپیکر شیعہ ہوتا ہے. لبنان میں شیعوں کو لبنان میں مذھبی-قومی گروہ کے لحاظ سے دیکھا جاتا ہے.

لبنان کے شیعوں نے جدوجہد کی اور ایک استعمار تلے چلنے والے ملک کو تمام ہم وطنوں کے ساتھ مل کر آزاد کرایا اور اس نظام سے کرپشن کا خاتمہ کر کے اپنے حقوق کے حصول کیلئے مسلسل جدوجہد جاری رکھی اور آدھی صدی سے بھی کم عرصے میں اپنا نام و نشان بنایا. *کیا یہ ہمارے پاکستانی شیعوں کیلئے نمونہ عمل نہیں* کہ اتحاد کے ساتھ اس ملک سے کرپشن کے خاتمے کی کوشش کریں آئین کی بالادستی کے ذریعے پارلیامنٹ کا حصہ بن کر اپنے سنی برادران سے مل کر جمہوریہ لبنان کی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان بنائیں
یا
پھر اس سنی اکثریت ملک پاکستان میں نظام ولایت فقیہ (جو کہ شیعہ مجتھدین اور عوام مل کر بناتے ہیں اور اس میں فوج ، میڈیا، مساجد، پارلیامنٹ سب ایک شیعہ مجتھد ولی فقیہ کے اختیار میں ہوتے ہیں) لانے کہ خواب دیکھیں؟ *اگر عیسائی- سنی اکثریت رکھنے والے ملک لبنان میں شیعہ اتنی عقل رکھتے ہیں کہ نظام ولایت فقیہ سے عشق رکھنے کے باوجود اس کے نفاذ کو ناممکن اور خلاف عقل سمجھتے ہیں تو پاکستانی شیعہ اس خواب کے حقیقت میں بدلنے کا انتظار کر کے خود کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں.*

کیا ہم اس خواب کو لیکر سوتے رہیں اور ہمارے بھائی، بیٹے، دانشور، علماء، زاکرین وکلاء، سول سوسائٹی کے افراد وغیرہ قتل ہوتے رہیں اور جب ہم سے حل مانگا جائے تو ہم کہیں کہ اس کا حل نفاذ نظام ولایت فقیہ ہے؟ کیا یہ جواب ہمارا ضمیر تو دور شہداء ملت جعفریہ کے لواحقین کو مطمئن کرپائے گا.؟
اس حل دینے سے بھتر ہے یہ کہہ دیا جائے کہ ہمارے پاس حل نہیں امام زمانہ عج کے ظھور کا انتظار کریں. کیونکہ پاکستان جیسے سنی اکثریت ملک میں شیعہ مجتھدین کی حکومت امام زمانہ ہی لاسکتے ہیں.

ہم بیشک دعا کرتے ہیں کہ اس قسم کے خواب دیکھنے والوں کا خواب سچا ہو مگر ہم اس خواب کے چکر میں اپنے بھائیوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے سو ہمیں ابھی اسی نظام میں رہ کر حقوق کیلئے لڑنا ہوگا.

www.fb.com/arezuyeaab