علی (ع) اور ضربیں ...

 

از قلم: محمد زکی حیدری


بت شکن محمد (ص) کے بت شکن جانشین علی (ع) کیلئے ضربیں کھانا کوئی نئی بات نہیں چاہے وہ ضربیں جسمانی ہوں یا روحانی! اسلام کیلئے ۹ سال کی عمر میں دعوت ذولعشیرہ کے موقع پر محمد (ص) نے جب لوگوں سے پوچھا کون ہے میرا ساتھی تو اس ۹ سالہ بچے نے حمایت کیلئے جوں ہی ہاتھ کھڑا کیا تو وہاں سے ابوجھل کا تضحیق آمیز قہقہا اس بچے کی روح پر پہلی ضرب تھی لیکن اس نے پرواہ نہ کی، اس کے بعد بدر و احد و حنین و... کی جسمانی ضربیں بھی علی (ع) کا کچھ نہ بگاڑ سکیں، انتقال رسول (ص) کی ضربت سے ابھی سنبھلے ہی نہ تھے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سقیفہ کی ضربت لگا کر علی (ع) کو رسول (ص)-جو کہ جسمانی طور تو ان سے جدا ہوچکے تھے، سے جانشین کے طور بھی جدا کردینے کی کوشش کی گئی، علی نے یہ دو بڑی ضربیں برداشت کی، پھر علی (ع) سے شیخین کی بعیت طلب کرنے کی ضرب، اپنی ۱۸ سالا بیوی زھرا (س) کو ۸۰ سالہ بوڑھیا کے جسم کے طور پر دفن کرنے کی ضربت، ایک کو منصب خلافت کو دیکھنے کی ضرب، پھر دوسرے کو، پھر تیسرے کو ... علی (ع) یہ سب ضربیں برداشت کرتے گئے تو دشمن کو یقین ہوگیا کہ ایمان کا یہ قلعہ ان ضربوں سے نہیں گرنے والا... اس وقت ایک طرف علی (ع) کو کہا جاتا ہے کہ خلافت آپ نے نہ سنبھالی تو اسلام کو خطرہ ہے دوسری طرف شام میں بیٹھے ایک شاطر انسان نے سیاست کے پتے پھینکنا شروع کیئے اور پورے معاشرے کو دعوت دی کہ آؤ علی (ع) کو مل کر ضربیں لگاؤ کیونکہ ہم کچھ لوگوں نے کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے...

علی (ع) کے خلاف مصر سے عمر و عاص نامی میڈیا بلایا گیا جس کے پروپیگنڈہ نے سارے معاشرے کے تیروں کے منہ علی (ع) کی جانب کر دیئے کبھی صفین، کبھی جمل، کبھی نھروان... علی (ع) تنہا اور سارے دشمن تیروں سے اس ایک تنہا جانشین محمد (ص) کو ضربیں مارنے لگے علی (ع) نے یہ ضربیں بھی دلیری سے برداشت کی اور دشمن کو منہ کی کھانی پڑی...

اور تب دشمن نے سوچا کہ اب بزدلی ہی واحد راستہ ہے *ایک بزدل انسان ڈھونڈا جائے! ایسا بزدل کہ جو اتنا بزدل ہو کہ کائنات کے شریف ترین شخص کو کائنات کی پاکیزہ ترین جگہ پر اس لیئے قتل کرے تاکہ اسے کائنات کی غلیظ ترین شہوت مٹانے کا سامان فراہم ہو سکے.* ایسے بزدل و غلیظ انسان کا انتظام ایک غلیظ عورت کی جسمانی مٹھاس ہی کرسکتی ہے سو یہ قطام نے ذمہ داری قبول کی اور ابن ملجم نے بزدلی کے یہ سارے رکارڈ توڑتے ہوئے علی (ع) پر حملہ کیا اور ۱۹ رمضان کے دن شریفوں کے سردار کو مسجد میں ضرب لگا کر زخمی کردیا گیا...

*السلام علیک یا امیر المومنین*

*_www.fb.com/arezuyeaab_*