توحید مفضل قسط 29

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 29⃣

 

🤔 جانوروں کا لباس کیوں نہیں🤔


جانوروں کے بدن پہ غور کرو کیسے اسے پشم، اون اور بالوں سے ڈھکا گیا ہے تاکہ وہ سردی و گرمی سے محفوظ رہیں. اس کے علاوہ جانوروں کو مختلف سمیں عطا کی گئیں کہ ان کے پیر زخمی نہ ہوں کیونکہ وہ اپنے لیئے جوتا نہیں بنا سکتے.
چونکہ ان کے ہاتھ و انگلیاں نہیں ہیں کہ وہ روئی چن کر یا پھر دھاگا بُن کر لباس تیار کر سکیں سو انہیں ایک ہی قدرتی جوتا (سم) اور ایک کی قدرتی لباس ( اون و بال و پشم) دیا گیا ہے.

لیکن انسان کو اللہ (ج) نے ہاتھ اور انگلیاں عطا کی ہیں تاکہ وہ اپنے لیئے طرح طرح کے پسندیدہ لباس و جوتے بنا سکے. اس کے علاوہ نت نئے کپڑے اور جوتے پہنے سے ھر بار انسان کو ایک عجیب سی خوشی و لطف محسوس ہونے کے ساتھ ساتھ یہ امر اس کے حسن میں اضافے کا بھی باعث بنتا ہے. سو اللہ (ج) نے انسان کو جانوروں کی طرح ایک ہی لباس عطا نہیں کیا تاکہ وہ مختلف لباس و جوتے پہن کر لطیف و جمیل ہو سکے.

 

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

بتی آپس کی بات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


💡💡 بتی آپس کی بات💡💡

 

بھیا بات یہ ہے کہ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ پڑھ کر اور کچھ لگے نہ لگے اتنا ضرور لگتا ہےاس کتاب کا پاک و ھند کے شیعوں سے کوئی تعلق نہیں یا پھر پاک و ھند کے شیعہ کا اس کتاب سےکوئی تعلق نہیں.

مجھے لگا ایسا اور آپ کو بھی محسوس ہوگا کہ جب قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو قرآن کے موضوعات اور تعلیمات ہماری مجالس و محافل کے موضوعات میں بہت فرق نظر آتا ہے. اللہ (ج) نے جو تعلیمات دیں آئمہ (ع) وہی تعلیمات لوگوں کو دیا کرتے تھے لیکن ہمیں ان تعلیمات کا ۵% بھی نہیں سننے کو ملتا... 🤔

یعنی نہ ہمیں قرآن کی تعلیمات دی جاتی ہیں نہ *آئمہ (ع) کی دی ہوئی* تعلیمات دی جاتی ہیں.

فضائل و مصائب کا انکار نہیں مگر کیا جتنے فضائل و مصائب ہم سنتے ہیں آئمہ (ع) کی تعلیمات میں بھی اتنے فضائل و مصائب تھے؟؟؟؟
آئمہ (ع) بھی منبر پر جاتے تھے....
کیا بولتے تھے؟؟؟
سوچا کبھی؟؟؟ 💡

یہ جو ہم مجلس میں سنتے ہیں وہ؟

نہج البلاغہ کے کتنے خطبے اللہ (ج) کے فضائل بیان کرتے ہیں اور کتنے غیر اللہ کے.؟

تقریباً ۴۰۰۰ شاگردوں کے استاد امام جعفر صادق (ع) منبر سے کیا بولتے تھے؟ جو آج ہم سنتے ہیں یا جو قرآن میں ہے....

آئمہ (ع) یہ نیت کر کے منبر پر جاتے تھے کہ ہم ان سننے والوں کو *انسان* کیسے بنائیں اور آج کل بہت سے خطیب یہ سوچ کر جاتے ہیں کہ انہیں *بیوقوف* کیسے بنائیں... پیسہ کیسے نکالیں، اگلی مجلس کی بوکنگ کیسے یقینی بنائیں.

اور ہم جو بنے ہوئے ہیں آپ کے سامنے ہے. ہمیں بنایا ہی یہ گیا ہے. بھئی تقلید نہیں کریں گے! علم والے کو چھوڑ کر باوا کے جائیں گے!

یہ بیوقوف نہیں تو کیا ہے!

شاید دوست ناراض ہوں کہ کیا ہمیں منبر سے بیوقوف بنایا جا رہا ہے... تو ان کیلئے عرض ہے کہ *قرآن اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیں*
اور
*آئمہ (ع) کی زندگی میں ان کی سرگرمیوں* کا مطالعہ فرمائیں.
آپ کو پتہ چل جائے گا ان شاء اللہ کہ ان کی زندگی میں
توحید
توحید
توحید
بس توحید ہی اولین ترجیح تھی قرآن میں بھی ایسا ہے.
قرآن و اھلبیت (ع) جدا نہ ہوئے لیکن ہم تو شاید دونوں سے....

کتنے % توحید ہے ہماری محافل و مجالس میں؟؟؟؟

اللہ (ج) کاکتنے فیصد ذکر ہے؟؟؟


🤔

💡 *دماغ کی بتی جلائے رکھو* 💡
💡 *عزا خانہ سجائے رکھو* 💡

الاحقر محمد زکی حیدری

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

بھولے ہاتھیوں کا قتل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بھولے ہاتھیوں کا قتل

تحریر: سیدہ عفت زھراء کاظمی

 

خوبصورت و معدنی وسائل سے مالا ایک جنگل تھا جس میں شیر نہیں رہتے تھے! کیونکہ وہاں کے بہت سے جانور جنگل کے باہر رھنے والے خون خوار شکاریوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور شیر چونکہ ہمیشہ ان شکاریوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتے اور انہیں جنگل میں کھل کر آنے جانے کی اجازت نہ دیتے سو شکاریوں نے بھیڑیوں اور لومڑیوں کے ساتھ مل کر کئی شیروں کو راستے ھٹا دیا اور جنگل پر بھیڑیوں کی حکومت قائم کرکے لومڑیوں کو جنگل کی وزارت اطلاعات پر مامور کردیا. اب جنگل میں خوف و ھراس کی حکومت تھی بھیڑیئے آزاد و مطلق المعنان اختیارات کے مالک تھے، بیرونی شکاری جو کہتے بھیڑیئے ان کی بات پر لبیک کہتے، رہی سہی کسر جنگل کے ذرائع ابلاغ یعنی لومڑیاں پوری کردیتیں. بھیڑیوں کے خلاف کسی کو چوں کرنے کی اجازت تک نہ ہوتی جو ذرا سی شکایت کرتا، وہ گم کردیا جاتا، یا پھر سارا جنگل اس پہ ملامت کرتا کیونکہ جنگل کے ذرائع ابلاغ لومڑیوں کے ہاتھ میں تھے اور لومڑیاں سیاہ کو سفید و سفید کو سیاہ بنا کر پیش کرنے میں اپنا نظیر نہیں رکھتی تھیں. لومڑیاں بھیڑیون کی کامل مطیع تھیں.

امن پسند ہاتھیوں نے جب جنگل کا یہ حال دیکھا تو سوچا کہ ان کی نسلی بقا اسی امر میں ہے کہ وہ متحد رہیں، کیونکہ ایک تو وہ تعداد میں کم ہیں، دوسری بات یہ کہ حکومت بھی بھیڑیوں کی ہے. سو جنگل کے سارے ھاتھیوں نے مل کر سوچا کہ ہمارے خلاف بھیڑیئے کچھ بھی کریں لیکن ہم متحد رہیں گے. اتنے میں بھیڑیوں کی حکومت نے ھاتھیوں کے خلاف ایک قانون کی منظوری دی جو کہ ھاتھیوں کی آزادی اور جنگل کے مجوزہ آئین کے منافی تھا. ھاتھیوں نے مل کر بھیڑیوں کے خلاف احتجاج کیا. اور اپنی بات منوا لی. یہ کامیابی اتنی بڑی تھی کہ بیرونی شکاریوں تک یہ بات جا پہنچی اور انہیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں یہ ھاتھی پڑوس والے جنگل کی طرح مل کر انقلاب برپا نہ کردیں کیونکہ پاس والے جنگل میں ھاتھیوں نے مل کر بھیڑیوں سے پورا جنگل خالی کروا کر اپنی عادل حکومت قائم کر لی تھی. سو اب شکاری سر جوڑ کر بیٹھے کہ ھاتھیوں کی طاقت کیسے ختم کی جائے. انہیں پتہ چلا کہ ھاتھیوں کا وہ قائد جس کی وجہ سے انہوں نے کامیاب دھرنا دیا تھا وہ تو چل بسا لیکن ایک اور اس سے بھی خطرناک ھاتھی قائد بن گیا ہے. اور ھر جگہ ھاتھی تو ہاتھی، ھرنوں، خرگوشوں، چوہوں، گورخروں اور دیگر جانوروں کو بھی بھیڑیوں کی حکومت کے خلاف متحد کر رہا ہے. آخرکار بیرونی شکاریوں نے اس کا حل نکال لیا انہوں نے بھیڑیوں سے کہا کہ ہاتھیوں کے اس قائد کو ھٹا دو اور اس کی جگہ تم اپنے ایک ھاتھی کو بٹھا دو جو ھو تو ھاتھی لیکن طابع ہمارے ہو.
لہٰذا ایک دن جنگل کے ہاتھیوں کو خبر ملی کہ ان کا دلیر رھنما مارا گیا. بیرونی شکاریوں کی سازش کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا اب صرف یہ کرنا تھا کہ ایک ایسے ہاتھی کو اس کی جگہ لانا تھا جو ھو تو ہاتھی لیکن خصوصیات میں بلکل اس سے الگ ہو. لہذا ھاتھیوں کا اجلاس ہوا اور انہوں نے بیرونی شکاریوں، بھیڑیوں اور لومڑیوں کی سازش نہ سمجھی اور ایک ایسے ہاتھی کو سردار بنا دیا جس کے بعد ہاتھیوں کو بھیڑیوں کے چنگل سے بچانے والا کوئی نہ رہا. *بھولے ہاتھی یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ جب بیڑھیئے کسی دلیر جانور کو راستے سے ھٹاتے ہیں تو اس کی جگہ ایک ایسا ڈرپوک جانور بٹھاتے ہیں جو انہیں تنگ نہ کرے، نہ کچھ کہے نہ ان کے مظالم پہ آواز اٹھائے نہ دوسروں کو آواز اٹھانے دے. یہ بات بھولے ھاتھیوں میں سے کچھ ہاتھیوں نے چِلا چِلا کر کہی کہ جناب اس ھاتھی سے بہتر و قابل ہاتھی موجود ہیں مگر بھولے ہاتھی صرف ظاہر دیکھ رہے تھے اور ھاتھیوں کے لبادے میں موجود بھیڑیوں کے نمائندے شکاریوں کی سازش کا دوسرا مرحلہ بھی اپنے نام کر گئے.*

یہ بھیڑیوں کی بہت بڑی کامیابی تھی، اب وہ کھل کر امن پسند ہاتھیوں پہ مظالم ڈھانے لگے، ہاتھیوں کو سزائیں دی گئیں، ہاتھیوں کے خلاف غیر عادلانہ قوانین بنے، ہاتھیوں کو جنگل سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئی، لیکن ھاتھیوں کا سردار چپ رہا.
پھر ھاتھیوں کا قتل شروع ہوا کیونکہ بیرونی شکاری کو پاس والے جنگل میں ھاتھیوں کا انقلاب گلے میں پڑ گیا تھا سو وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی ھاتھی ایسا ہو جو کل ان کیلئے مسئلہ بنے. بیرونی شکاری حکم دیتے رہے، *لومڑیاں اپنی ذرائع ابلاغ و چالاکی سے جنگل کو ھاتھیوں کے قتل سے بے خبر رکھتی رہیں* اور ہاتھیوں کا سردار حسب معمول چپ رہا.

اس خوبصورت جنگل میں آج بھی ہاتھیوں کو قتل کیا جا رہا ہے. نر، مادہ، کمسن، پیرسن ھر قسم کے ہاتھی قتل ہو رہے ہیں. لیکن بڑے ہاتھی کو پرواہ نہیں. اب ہاتھیوں کو احساس ہوا ہے کہ وہ واقعی بھولے ہیں کہ سردار کو پہچاننے میں مغالطے کا شکار ہوئے. لیکن اب پچھتائے کیا کیجے جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!

siz_kazmi@gmail.com

تقلید حرام مریدی جائز

تقلید،باوا،مرشدی،پیری میری

موسیقی، اسلام، منقبت

منقبت، موسیقی، اسلام

توحید مفضل قسط ۲۸

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 28

🤔 بندر کی خلقت

🤔

بندر کی خلقت پہ غور کرو کہ اس کے کئی اعضاء انسانوں جیسے ہیں مثلا سر، سینہ، چہرا وغیرہ.
اللہ (ج) نے اسے اتنی ہوشیاری و چالاکی عطا کی ہے کہ وہ اپنے مالک کے اشارے سمجھ لیتا ہے اور اس کی پیروی کرتا ہے.

اس کی شکل و صورت انسان سے اس لیئے مشابہت رکھتی ہے کہ اللہ (ج) چاہتا ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کی شکل ایک حیوان سے ملتی جلتی ہے لیکن اس پر خاص کرم ہوا کہ اسے عقل و شعور عطا کیا گیا. یہ ہی انسان کی بندر پر برتری کا سبب ہے.

لہٰذا انسان کو عقل کی قدر جاننی چاہیئے.


💡💡 *اسی لیئے اس حقیر کا یہ ہی نعرہ ہے کہ دماغ کی بتی جلاؤ یہ بتی ھر کسی کو عطا نہیں کی گئی*. 💡💡

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

توحید مفصل قسط ۲۷

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 27

🤔 زرافہ ایک عجیب جانور🤔

زرافے کی خلقت پہ غور کرو اس کا ھر عضو کسی دوسرے جانور سے مشابہت رکھتا ہے. اس کا سر گھوڑے جیسا، گردن اونٹ جیسی، جلد چیتے جیسی اور سمیں گائے جیسی ہیں.

زرافے کی زندگی ایسے مقامات پہ گذرتی ہے جہاں درخت بہت لمبے ہوتے ہیں، اس لیئے اللہ (ج) نے اسے لمبی گردن عطا کی تاکہ آسانی سے لمبے لمبے درختوں کے پتے اور میوے کھا سکے.

💡💡 *بتی نکتہ* 💡💡

یہ زرافہ انسان کے کس کام آتا ہے شاید آپ یہ کہیں کہ یہ انسان کے کسی کام نہیں آتا. لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ اللہ (ج) حکیم ہے حکیم اسے کہتے ہیں جس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہ ہو سو مخلتف جانوروں کی اولاد لگنے والے اس جانور زرافے کی خلقت سے اللہ (ج) ہمیں درس دینا چاہ رہا ہے کہ دیکھو میں ہی خالق ہوں، میں ہی رب ہوں، میں اللہ ہوں، *میں موجود ہوں* . زرافہ اللہ (ج) کی نشانی ہے. غور کرنے والوں کیلئے بہت کچھ ہے زرافے میں.

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

توحید مفضل قسط ۲۶

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 6 2

🤔🤔 ہاتھی کی خلقت🤔🤔

ہاتھی کی سونڈ پر نگاہ کریں. ہاتھی کی سونڈ اس کے ہاتھوں کے طور کام کرتی ہے ساری چیزیں سونڈ کی مدد سے اٹھاتا ہے اور پانی پینے و کھانا کھانے کیلئے سونڈ سے مدد لیتا ہے...

اسے اللہ (ج) نے سونڈ اس لیئے عطا کی ہے کہ ہاتھی کی گردن نہیں ہے کہ وہ منہ کو اِدھر اُدھر حرکت دے سکے اس کا منہ سر سے جڑا ہے.

*اب گردن کیوں نہیں دی یہ بھی سوچنے کی بات ہے؟*

ھاتھی کا منہ، کان اور سونڈ وغیرہ کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے اگر اللہ (ج) اسے گردن دیتا گردن وزن برداشت نہ کر پاتی اس لیئے ہاتھی کو گردن عطا نہیں کی.

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

اجر رسالت کی آیات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

🙏🏼 خطیب صاحبان ذرا ادھر بھی نگاہ کریں 🙏🏼

قُل لا أَسئَلُكُم عَلَیهِ أَجراً إِلاَّ المَوَدَّةَ فِی القُربى‏

میں تم سے اس کا اجر نہیں مانگتا سوائے میرے اقربا کی محبت کے.

شوری ۲۳


بچپن سے اجر رسالت کی یہ آیت سنتے آ رہے ہیں، ھر خطیب نے منبر سے ہمیں اس آیت کی مختلف طریقوں سے تفسیر بتا کر نعرے لگوائے... بیشک یہ آیت ہم محبان اھلبیت (ع) کے سر کا تاج ہے. اھلبیت سے محبت بیشک اجر رسالت میں سے ہے.

لیکن صرف یہ بتا کر عوام کو خوش کردینا کہ محبت ہی کافی ہے اور عمل کی کم ہی تلقین کرنے والے خطیبوں کیلئے عرض ہے کہ اجر رسالت کی 👇🏽 یہ آیت بھی قرآن میں موجود ہے.

قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا

اِن سے کہہ دو کہ " *میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے*

سورہ فرقان آیت ۵۷


شاید یہ اجر ذرا عمل مانگتا ہے اس لیئے اس بیچاری آیت کو مولوی و خطیب اجر رسالت کی ردیف میں شامل نہیں کرتے...

میں نے کل قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھتے ہوئے اس آیت کو دیکھا تو یہ بات ذھن میں آئی....

اھلبیت (ع) سے محبت عمل کے ساتھ ساتھ یہ ہے مکلم اجر رسالت!

التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری

arezuyeaab.blogfa.com

اجر رسالت کی آیات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

🙏🏼 خطیب صاحبان ذرا ادھر بھی نگاہ کریں 🙏🏼

قُل لا أَسئَلُكُم عَلَیهِ أَجراً إِلاَّ المَوَدَّةَ فِی القُربى‏

میں تم سے اس کا اجر نہیں مانگتا سوائے میرے اقربا کی محبت کے.

شوری ۲۳


بچپن سے اجر رسالت کی یہ آیت سنتے آ رہے ہیں، ھر خطیب نے منبر سے ہمیں اس آیت کی مختلف طریقوں سے تفسیر بتا کر نعرے لگوائے... بیشک یہ آیت ہم محبان اھلبیت (ع) کے سر کا تاج ہے. اھلبیت سے محبت بیشک اجر رسالت میں سے ہے.

لیکن صرف یہ بتا کر عوام کو خوش کردینا کہ محبت ہی کافی ہے اور عمل کی کم ہی تلقین کرنے والے خطیبوں کیلئے عرض ہے کہ اجر رسالت کی 👇🏽 یہ آیت بھی قرآن میں موجود ہے.

قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا

اِن سے کہہ دو کہ " *میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے*

سورہ فرقان آیت ۵۷


شاید یہ اجر ذرا عمل مانگتا ہے اس لیئے اس بیچاری آیت کو مولوی و خطیب اجر رسالت کی ردیف میں شامل نہیں کرتے...

میں نے کل قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھتے ہوئے اس آیت کو دیکھا تو یہ بات ذھن میں آئی....

اھلبیت (ع) سے محبت عمل کے ساتھ ساتھ یہ ہے مکلم اجر رسالت!

التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری

arezuyeaab.blogfa.com

کیا آئمہ (ع) گناہ کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

💡💡 بتی سوال💡💡

 

کیا معصوم گناہ کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کا دل بلکل بھی نہیں کرتا کہ کوئی گناہ کریں؟
ہم کیسے مان لیں کہ وہ گناہ کی صلاحیت رکھتے ہیں؟🤔


جناب اس کو ہم ایک مثال سے واضح کریں گے. سوال 💡 *کیا آپ بیچ بازار میں اپنے کپڑے اتار سکتے ہیں؟* آپ کہیں گے نہیں!
ہم پوچھیں گے کیوں؟ کیا آپ اس کام کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ آپ کہیں گے جی صلاحیت بلکل رکھتے ہیں، ہمارے ہاتھوں میں اتنی طاقت ہے کہ ہم اپنے کپڑے سب کے سامنے اتار سکیں لیکن پھر بھی ہم ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ عمل قبیح ہے اور اس عمل کی قباحت ہمیں اس کام سے روکتی ہے.

💡💡پس ثابت ہوا کہ آئمہ (ع) بھی چاہیں تو گناہ کر سکتے ہیں، صلاحیت رکھتے ہیں مگر گناہ کی قباحت سے وہ اتنے آگاہ ہیں کہ وہ گناہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے

نعرہ حیدری!!!

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری

+989199714873

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

درگذر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


در گذر

تحریر: الاحقر محمد زکی حیدری


بنگلادیش کے ایک دانشور شاید مولانا بھاشانی نے کہا تھا کہ اقوام دو قسم کی ہوتی ہیں: ظالم یا مظلوم. میں نے کرہ ارض پر بسنے والی جن چند اقوام کی تاریخ پڑھی اس تناظر میں مرحوم مولانا کی یہ بات سولہ آنے سچ معلوم ہوتی ہے مگر ۱۹۴۷ع میں دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والی ریاست ھندوستان کے ٹوٹنے کا بعد وجود میں آنے والے دو ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑے یعنی پاکستان کی تاریخ کو دیکھتا ہوں تو مجھے ظالم تو نظر آتا ہے مگر مظلوم نہیں! ظالم تو ظلم کر رہا ہے مگر جس پر وہ ظلم کر رہا ہے، اسے میں کیا نام دوں اس سوال کے جواب سوچتے سوچتے مجھے یہ تحریر لکھنی پڑی.

میں نے اس ملک کی تاریخ کو دیکھا کہ ایک وردی والے نے مادر ملت کو انتخابات میں دھاندلی کر کے ایک طرف کردیا اور خود حکومت میں آگیا. قائد اعظم ایک پنکچر ہوجانے والی ایمبولینس میں دنیا سے گئے. اس قوم نے اس ظلم پہ کوئی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا. شاید پہلی بار ظلم تھا سو *درگذر* کر لیا گیا. اس کے بعد جمہوریت و اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں دوسرا وردی والا آتا ہے، فیلڈ مارشل کے عہدے پہ فائز یہ شخص واقعی اسلامی ملک کے سربراہ بننے کی تمام تر "خصوصیات" اپنی شخصیت میں رکھتا تھا. شہید ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی رفیع رضا نے شہید بھٹو کے بارے میں اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں کہ ہم آمریکی فوجیوں و حکمرانوں کی شاھانہ ضیافت میں تھے، سارے شرفاء اپنی اہلیاؤں کے ساتھ آئے ہوئے تھے، شراب و شباب کی اس محفل میں اچانک آمریکی صدر (یا شاید کسی جنرل) کی نظر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل کی بیوی کے جسم پر پڑتی ہے اور وہ اس کے جسم سے نازیبا حرکات کرنے لگتا ہے لیکن سبز ھلالی پرچم کا محافظ اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر چپ رہتا ہے. ہم نے یہ سب اور ون یونٹ وغیرہ کے بارے میں *درگذر* کیا اور آج بھی اس صدر کا نام یاد رکھا ہوا ہے کیونکہ اس کے دور میں مہنگائی اتنی زیادہ نہیں تھی.

اس کے بعد دوسرے وردی والے صاحب آئے ان کی آنکھیں لال رہتی تھی، شراب کے نشے میں اتنے دھت رہتے کہ ایک دن کسی ملک کے دورے پر جہاز کو مجبوراً گھنٹوں آسمان میں رہنا پڑا کہ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نشے ٹوٹیں اور وہ ہوش میں آئیں پھر لینڈ کرے تاکہ استقبال کیلئے آئی ہوئی عوام کو ہمارے صدر کے مذھبی ہونے پہ شک نہ ہو . یہ وہ ہی جنرل ہیں جنہوں نے شہید بھٹو کو ڈھاکہ مذاکرات کیلئے بھیج کر پیچھے ڈھاکہ میں فوج اتاردی تاکہ شہید بھٹو اور مجیب الرحمٰن کو ایک ساتھ اپنی طاقت دکھا سکے، ایک تیر دو شکار! اس کے بعد بنگالیوں کا خون بہایا گیا، ہم نے سوچا کہ شاہین بنگالی چوزوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے لیکن مکافات عمل یہ ہوا کہ ہماری سپاہ کے شاہین، بنگالی مسلمانوں کے خون سے آلودہ اپنی وردیاں پہنے آمریکا کی خیرات کا انتظار کرتے رہے لیکن نہ خیرات آئی نہ بنگال واپس آیا. مگر ہم نے ۱۹۶۵ع کی جنگ میں فتح کو یاد کر کے اس ظلم سے بھی *درگذر* کیا.

پھر شہید بھٹو عرف "اسلام دشمن" اقتدار میں آیا مولویوں نے مصلے بچھالیئے کہ اس "دجال" سے اس "مذھبی" قوم کی جان چھوٹے، مولویوں کی دعا اللہ تعالی کو بھی پسند نہ آئی اللہ (ج) نے ان مولویوں کیلئے ایسا "مسیحا" بھیجا کہ جس نے پاکستان کو داڑھی و بندوق والی مخلوق بنانے کی فیکٹری بنا دیا. دور دور تک صرف لمبی داڑھیاں اور کلاشنکوف نظر آتی تھی. روس کی دشمنی و آمریکا کی غلامی میں یہ "مجاھد اسلام" اتنا آگے بڑھ گیا کہ بھٹو کی شہادت تو کنار، اردن کے بادشاھ حسین بن طلال کے سر پر تاج سجائے رکھنے کیلئے ان صاحب نے فلسطینی مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں اور یہ "بلیک سیپٹمبر" آج بھی اس مجاھد اسلام کے "جہاد" کی یاد دلاتا ہے کہ جس کے بارے میں اس وقت کے فلسطینی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ہمارا پوری زندگی میں اتنا خون نہیں بہایا جتنا ضیاء الحق نے سیپٹمبر میں بہایا. مولویوں کا یہ مسیحا خود تو ملعون بن کر جہاز حادثے میں مر گیا مولویوں کو بھی تاقیامت ملعون کرگیا.
ہم نے سب دیکھا اور *درگذر* کیا کیونکہ وہ مرگیا ہے اب اللہ (ج) جانے وہ جانے!

پھر ایک اور جنرل صاحب آئے، آئین توڑا، مرضی کی ترمیمیں کی، افغان مسلمانوں کا خون بہانے کیلئے بلاوجہ اپنے ہوائی اڈے غیروں کو دیئے اور اس ساری آمریکی خدمت کے سلے میں ملنے والا طالبان کے خودکش حملوں، بم دھماکوں، اور ٹارگٹ کلنگ کا تحفہ عوام کو دے کر خود بیرون ملک آسائش کیلئے چلے گئے. عجب بات یہ ہے کہ غیروں پہ اتنے مہربان اس جنرل نے اپنے ہی ملک کے بلوچ لوگوں سے کہا ہم تمہیں ایسی جگہ سے ماریں گے تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا. یہ شجاع و دلیر و ملک کے رکھوالے جنرل صاحب کو آج بھی ہم یاد کرتے ہیں کیونکہ وہ زرداری کی جمہوری حکومت سے بہتر تھا. ہمارے یہاں معیارات یہ ہی رہ گئے ہیں کہ سانپ بھیڑیئے سے بہتر ہے کیونکہ بھیڑیا مارتا ہے تو بہت خون نکلتا ہے، جب کہ سانپ ڈستا ہے تو موت آسانی سے ہوجاتی ہے، اتنی تکلیف نہیں ہوتی!

وہ چلے گئے پیچھے وردی والوں کے مارشل لاء کیلئے اس قوم کو تڑپتا چھوڑ گئے. ان کی اور مارشل لاء کی یاد نے اس عوام کو غم سے نڈھال کر رکھا تھا سو پچھلے دنوں ریٹائر ہونے والے چیف صاحب نے جوں ہی منصب سنبھالا تو اس قوم نے اس نئے چیف صاحب کی وہ عزت و تکریم کی کہ باقائدہ ان کے عشق میں مجنوں دکھائی دی. جیسے ایک عاشق اپنے معشوق کی ساری غلطیاں بھول جاتا ہے اس طرح یہ قوم یہ بھی بھول گئی کہ یہ وہ ہی صاحب تھے جنہوں نے ضرب عضب کیلئے پارلیامنٹ کی اجازت لیئے بغیر فوج کو آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا، جو کہ ایک غیر آئینی اقدام تھا. یہ بھی نہ سوچا کہ بیشک آرڈر آمریکا کا ہی چلتا ہے لیکن آپس میں تو مشاورت کر لیں، کیا پارلیامنٹ بیچاری آمریکا جیسے "عزیز" و "دوست صمیمی" کی بات ٹھکرا دیتی؟ وہ تو اچھا ہوا فوج دوپہر کو بیرکوں سے نکلی اور شام کو جھٹ سے پارلیامنٹ کا ھنگامی اجلاس بلا کر پھٹ سے اس آپریشن کی منظوری کا بل پاس کر کے پارلیامنٹ نے اپنی عزت بچا لی ورنہ چیف صاحب نے تو...! بھرحال قوم کو یہ بات شاید یاد نہیں، اسے جیسے ہی پتہ چلا کہ ضرب عضب نامی آپریشن ہونے جارہا ہے تو وہ واٹس ایپ اور فیسبوک کی ڈی پیاں تبدیل کرکے اس چیف کو خراج تحسین پیش کرنے لگی، عشق اسے کہتے ہیں! عشاق نے یہ سوچنے کی زحمت بھی نہ کی کہ جس گندگی کا صفایہ کرنے کی بات آج یہ وردی والے صاحب کر رہے ہیں انہیں کل تک دودہ دلیہ بھی انہی کے ہم منصب کھلاتے رہے. حکم ہوتا ہے بناؤ تو بناتے ہیں، حکم ہوتا ہے مٹاؤ تو مٹاتے ہیں. *البتہ عوام کو بنانے کا نہیں پتہ ہوتا کیونکہ میڈیا "معصوم" وردی والوں پر کبھی انگلی نہیں اٹھاتا سو جب یہ گندگی ان "معصوموں" کے ہاتھوں بن رہی ہوتی ہے تب میڈیا نہیں دکھاتا لیکن جب یہ ہی لوگ گندگی صاف کرنے کا ڈرامہ کرتے ہیں تو میڈیا بھرپور کوریج دیتا ہے.*
پھر اسی چیف کی فوج کے بارے میں مستند انگریزی و اردو اخباروں نے لکھا کہ ان چیف صاحب کی فوج اسرائیل و آمریکا کی افواج کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں میں حصہ لے گی، ہم یہ بھی بھول گئے کہ ہم اسرائیل کو ملک ہی نہیں مانتے تو فوج کی مشترکہ مشقیں کیسے؟. ہم قادری صاحب کا انقلاب اور عمران خان کی امپائر کی انگلی کے پیچھے ایک بہت بڑی "معجزانہ" طاقت کے کارفرما ہونے کی کھوج لگانا بھی بھول گئے.
یہ سب کچھ بھولتے بھولتے یہاں تک آگئے کہ اسلام کے اس "دھشتگرد-مخالف ھیرو" جس کے عشق میں یہ قوم فریفتہ تھی اور شیعہ حضرات تو اس کی تعریف کیئے نہ تھکتے تھے، اچانک سعودی عرب جا کر فوجی خدمات دینے لگ گیا.
سعودی عرب تو "شریف" ملک ہے "اسلامی غیرت" سے سرشار ہے سو شاید ہماری قوم حسب معمول ریٹائرڈ چیف کے اس اقدام پر یہ کہہ کر *درگذر* کرے کہ وہاں جنرل صاحب یمن میں پھنسی ہوئی سعودیہ کی نااھل فوج کو نکالنے نہیں بلکہ اسلام کے اس عظیم سپہ سالار نے ریٹائرمنٹ کے بعد حرمین شریفین اور مکہ و مدینہ کے پرنور ماحول میں زندگی گذار کر جنت کمانے کا سوچا ہے.
اب آپ ہی بتائیے یہ قوم ان وردی والوں سے *درگذر* کیوں کرتی ہے؟ ان کی تاریخ سے آگاہ ہونے کے باوجود ان کو اپنا رکھوالا کیوں سمجھتی ہے؟
ڈر کی وجہ سے؟ منافقت کی وجہ سے؟ یا اپنی جہالت کی وجہ سے؟

ڈاکٹر رضوان کے فضائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 دماغ کی بتی جلاؤ💡💡


ڈاکـــــــــــــٹر رضوان کــــــــے فـــــــــــضــــــائل

ازقلم: الاحقر محمد زکی حیدری


حسین بخش ملنگ کے مرشد باوا اشرف شاہ عرف چولیاں والی سرکار نے حسین بخش اور اپنے دیگر مریدوں کو بتایا کہ کراچی میں سید رضوان زیدی نامی ایک سید ڈاکٹر ہے بہت ہی قابل ڈاکٹر ہے. اس کے ہاتھ سے شفا ملتی ہے.
مرشد کی اس بات کو حسین بخش نے دل پہ لکھ لیا، اب جب بھی کوئی بیمار اسے ملتا تو وہ اس کے سامنے ڈاکٹر رضوان کے فضائل بیان کرنا شروع کر دیتا کہ ڈاکٹر رضوان جیوے جیوے! سید ہے، سچا سید ہے! حق ڈاکٹر رضوان! شفا ملتی ہے اس سید کے ہاتھ سے!

ایک دن حسین بخش ملنگ کو تمباکو نوشی زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے کھانسی کا حملہ ہوا اس کی کھانسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. اسے ڈاکٹر رضوان کے پاس لایا گیا. حسین بخش کی نظر جیسے ہی ڈاکٹر پر پڑی تو اس کے قدموں پہ جھکا، ہاتھ جوڑ کر کہا حق سید! واقعی ڈاکٹر ہو، سچے سید ہو، شفا آپ کو میراث میں ملی ہے! حق ڈاکٹر رضوان!

ڈاکٹر مسکرائے اور کہا کہ میں بیشک سید ہوں مگر انسان کا خادم ہوں. آپ وارڈ میں جائیں میں آپ کو وزٹ کر لیا کرونگا ان شاء اللہ بہت جلد شفایاب ہو جائیں گے.
حسین بخش نے پھر فضائل شروع کر دیئے لیکن اسی دوران اسے کھانسی شروع ہو گئی، سو اس کے ساتھی ملنگ اسے بازو کا سہارا دے کر وارڈ میں لے گئے.

وارڈ میں نرسوں کو ڈاکٹر نے ھدایت کردی تھی کہ اس مریض کا بہت زیادہ خیال رکھا جائے. پہلی نرس جب ڈرپ لے کر حسین بخش کو لگانے گئی تو حسین بخش ملنگ نے انکار کردیا کہنے لگا کیسی بوتل (ڈرپ)! ڈاکٹر رضوان سچے سید ہیں، میرے مرشد نے کہا تھا کہ ڈاکٹر نے کئی مریضوں کو شفا دی ہے. شفا ڈاکٹر رضوان دیگا یہ بوتل لگانے سے کیا فائدہ. یہ کہہ کر پھر ڈاکٹر کے فضائل شروع کردیئے.

ایک دوسرے ڈاکٹر آئے انہوں نے حسین بخش کو سمجھایا لیکن وہ نہیں مانا. ڈاکٹر نے اسے بہت سمجھایا کہ دیکھیں ڈاکٹر رضوان تو بیشک شفا دیں گے مگر جب آپ ان کی ھدایات پر عمل کریں گے تب ہی شفا ملے گی نا.
یہ سن کر حسین بخش آگ بگولہ ہوگیا کہنے لگا: تُو ڈاکٹر ہے نا تجھ سے ڈاکٹر رضوان صاحب کی تعریف برداشت نہیں ہوتی، تو جلتا ہے، یہ تیرا عقیدہ ہوگا کہ شفا اس بوتل (ڈرپ) اور ان گولیوں اور سوئیوں (انجیکشنز) میں ہے، لاکھ گولیاں کھا لو لیکن ڈاکٹر رضوان کی لکھی ہوئی نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں.

اتنے میں اسے سخت کھانسی شروع ہو گئی سارے ھسپتال کا عملہ پریشان کہ کریں تو کیا کریں. آکسیجن ماسک لگاؤ تو پھینک دیتے ہیں، سیرپ نہیں پیتے، انجیکشن لگانے نہیں دیتے، اور تو اور جب موقع ملے ھسپتال کے لان میں جاکر سگرٹ پہ سگرٹ پیئے جا رہے ہیں، جب کہ ڈاکٹر رضوان نے اسٹاف کو سختی سے منع کیا تھا کہ اس مریض کو علاج کے دوران سگرٹ بلکل نہ پینے دی جائے.

حسین بخش ھسپتال کے لان میں بیٹھ کر زور زور سے "حق ڈاکٹر رضوان! حق سید" کہتا رہتا، جو لوگ اسے ملتے انہیں بتاتا کہ ڈاکٹر رضوان یہ ڈاکٹر رضوان وہ، سارا دن ڈاکٹر رضوان کی تعریف...

بالقصہ ایک دن حسین بخش ملنگ کو کھانسی کے دوران خون کی الٹی آئی اور وہ چل بسا. اس کے ساتھی ملنگ رونے لگے، تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر رضوان بھی وارڈ میں داخل ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک کی تھیلی تھی جو اس نے حسین بخش ملنگ کے ساتھی کو دی اور کہا کہ اگر حسین بخش کے علاوہ اور بھی ایسے میرے چاہنے والے ہیں وہ جب بیمار پڑیں تو انہیں ھسپتال مت لانا مجھے فون کر دینا میں کفن بھجوا دونگا کیونکہ *ڈاکـٹر کے ھاتھ سے شـــفا اسے ہی ملتی ہے جـو ڈاکٹر کی بات پہ عـــــــــــــــــمــــــــــــــــــــــــل کرے*


💡💡 *بتی سوال* 💡💡

کیا ہــــــــــــم ســــــــب بھـــــــــی مــــــــولا علـــــــــی (ع) و اھلــــــــــبیت (ع) ســـــــــے ایســـــــی شـــــــفاعت کـــــــی امیـــــــــد رکھــــــــتے ہیں جیـــــــــسی حسین بخش ملـــــــــنگ ڈاکٹر سیـــــــــد رضوان زیــــــدی ســــــــے رکھــــــتا تھا؟
کیا علی (ع) کی ھدایات نماز، روزہ، گناہ سے دوری وغیرہ پہ عـــــــمــــــل کیئے بغیر صرف فضائل سننے و بیان کرنے سے ہمیں شفاعت مل جائے گی؟

 

arezuyeaab.blogfa.com

 

توحید مفضل قسط 25

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 25⃣

🤔🤔 چوپائے کی شکل، منہ و دُم 🤔🤔


آنکھیں 👁
ذرا چوپائے جانوروں کے جسم پہ غور کرو، *اللہ (ج)* نے انہیں آنکھیں ٹانگوں سے آگے دی ہیں کہ جہاں سے وہ سامنے دیکھ سکیں تاکہ کسی گڈھے وغیرہ میں گرنے کا خطرہ لاحق نہ ہو.

 

منہ 🐴
منہ و جبڑوں کو اس طرح آگے بنایا کہ وہ آرام سے گھاس بوس چر سکیں اگر انسان کی طرح ٹھوڑی کے اوپر منہ بناتا تو گھاس چرتے وقت ٹھوڑی جانور کو تکلیف دیتی (ڈسٹربنس پیدا کرتی). اس لیئے جانور کا منہ ایسی جگہ بنایا کہ اسے گھاس چرنے میں کوئی تکلیف نہ ہو.
یہ انسان کی حیوانوں پہ برتری کی دلیل ہے کہ *اللہ (ج)* نے انسان کو انگلیاں و ہاتھ عطا کیئے تاکہ وہ ان سے غذا لے کر اپنے منہ میں ڈالے لیکن حیوان کو چونکہ انسانی ہاتھوں کی طرح ہاتھ و انگلیاں عطا نہیں کیئے تو اس لیئے منہ کو ایسی جگہ بنایا کہ اسے گھاس چرتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو.

دُم 🐂
چوپائے کی دم کے مختلف کام ہیں پہلا کام یہ ہے کہ یہ اس کی شرمگاہ کو چھپاتا ہے، انسان کپڑے سے اپنی شرمگاہ چھپاتا ہے سو حیوان کی شرمگاہ کیلئے بھی *اللہ (ج)* نے انتظام کیا. دُم کا دوسرا کام ہے یہ ہے کہ چونکہ حیوانات پانی سے اپنی شرمگاہ نہیں دھوتے تو ان کی گندگی ان کے مقعد میں رہ جاتی کے جس کی وجہ سے مکھیاں و مچھر انہیں تنگ کرتے سو *اللہ (ج)* نے دم دی تاکہ وہ دم ھلا کر انہیں دور بھگا سکیں.

دم ھلا کر جانور اپنی تھکن دور کرتا ہے. جب جانور کہیں پھنس جائے تو بعض اوقات دم ہی سے پکڑ کر اسے باہر لایا جاتا ہے.

اس کے علاوہ بھی حیوانات کے جسمانی بناوٹ میں بہت سے رموز پنہان ہیں جیسا کہ ان کے جسم کو اس طرح ہموار بنایا کہ اس پر بیٹھ کر انہیں سواری کے طور پر استعمال کیا جا سکے.

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

توحید مفضل قسط 24

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 24

🤔🤔 اگر جانور عقلمند ہوتے تو کیا ہوتا 🤔🤔

اگر حیوان و درندے عاقل ہوتے تو وہ سب متحد ہو کر انسان کا جینا اجیرن کردیتے. کیا ایسے میں ممکن تھا کہ انسان ببر شیروں، بھیڑیوں، اونٹوں و غیرہ سے مقابلہ کر پائے. کیا انسان کیلئے ممکن تھا کہ خود سے کئی گنا زیادہ طاقتور و خطرناک درندوں کے پنجوں سے خود کو بچا پائے؟

لیکن *اللہ (ج)* حکیم ( *حکیم اسے کہتے ہیں جو کوئی بے مقصد کام نہ کرے* ) ہے سو اس نے ان درندوں کو بیشک طاقتور جسم دیا لیکن عقل نہ دی لہٰذا بجائے یہ کہ انسان ان سے ڈرے وہ انسان سے ڈرتے ہیں اور انسانی آبادی میں نہیں آتے.

 

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

توحید مفضل قسط 23

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 23⃣

🤔🤔 جسم سخت پتھر جیسا کیوں نہ بنایا

🤔🤔

انسان کی خلقت و اس میں پنہان رموز پہ غور کیجیئے.
انسان کے جسم کی بناوٹ پر غور کریں، نہ اسے پتھر کی طرح سخت بنایا کہ نہ جھک سکے و نہ مڑ سکے اور اپنے کام انجام نہ دے سکے، اور نہ ہی اسے (گوندے ہوئے آٹے کی طرح) اتنا نرم بنایا کے کھڑا بھی نہ ہوسکے.
اس لیئے *اللہ (ج)* نے ظاہری بدن کو نرم گوشت سے بنایا اور اس گوشت کے اندر مضبوط ھڈیاں ڈال دیں تاکہ یہ نرم گوشت کا بدن کھڑا ہو سکے. ھڈیوں جو مختلف جوڑوں، پٹھوں اور رگوں کی مدد سے ایک دوسرے سے جوڑا. اور اب کے اوپر چمڑے (جلد) کی چادر چڑھا کر بیرونی خطرات سے محفوظ کیا.

حیوانوں کو بھی اسی طرح بنایا اور انہیں دیکھنے، سننے وغیرہ کے حواس دیئے تاکہ انسان ان سے کام لے سکے اگر حیوان اندھے و بہرے ہوتے انسان کو ان سے مدد لینے میں مشکل پیش آتی.

لیکن حیوان کو عقل نہیں دی تاکہ وہ انسان کا غلام رہے اس کے کسی بھی مشکل کام کرنے سے انکار نہ کر سکے اور انسان کی زندگی میں مشقت کم ہو.

 

💡💡 *بتی نکتہ*💡💡

*اللہ (ج)* نے ہمیں ساری نعمات دی ہیں ہماری ذمہ داری بھی بہت بھاری ہے. سب کچھ *مفت* سمجھ کر کھانے والے بڑی غلط فہمی میں ہیں.

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

فضائل و مصائب

دماغ کی بتی

قبر کی فریاد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سنو سنو اے دنیا کے کاموں میں مست جوانوں!...

اس بات پہ سوچنا جانا ہے ہم نے یہاں... سب نے جانا ہے...

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محمد (صلی الله علیه و آله) نے فرمایا:
اَلْقَبْرُ یُنادِی کُلُّ یَوْمٍ بِخَمْسَ کَلَمات(1) 

قبر هر روز پانچ فریادیں بلند کرتی ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1⃣ اَنا بَیْتُ الْوَحْدَه فَاحْمِلوا اِلیَّ اَنیساً

*میں تنہائی کا گھر ہوں اپنے لیئے دوست و ساتھی کا انتظام کر کے آنا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2⃣ اَنا بَیْتُ الْظُّلْمَه فَاحْمِلوا اِلیَّ سِراجاً

میں اندھیری جگہ ہوں اپنے لیئے روشنی کا چراغ لیتے ہوئے آنا.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
3⃣ اَنا بَیْتُ التُرابْ فَاحْمِلوا اِلیَّ فِراشاً

میں خاکی زمین ہوں اپنے لیئے بستر کا بندوبست کر کے آنا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
4⃣ اَنا بَیْتُ الْعِقابْ فَاحْمِلوا اِلیَّ تَرْیاقاً

میں بلاؤں کا گھر ہوں اپنے ساتھ تریاق (زھر کا اثر ختم کرنے والی دوائی) لیتے آنا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
5⃣ اَنا بَیْتُ الْفَقْرْ فَاحْمِلوا اِلیَّ کَنْزاً

میں غربت کا گھر ہوں اپنے ساتھ خزانہ لیتے ہوئے آنا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


(1) تحریر المواعظ العددیة ص 390

arezuyeaab.blogfa.com

اردو واحد جمع

ابو محمد جعفری:
ﺍﺭﺩﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ
*ﺁﻏﺎ ﺷﻮﺭﺵ ﮐﺎﺷﻤﯿﺮﯼ ﻣﺮﺣﻮﻡ*
ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﭽﮧ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺑﭽﮧ ﮨﯽ ﮐﮩﺘﮯﮨﯿﮟ
مثلاً ﺳﺎﻧﭗ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ،
ﺍﻟﻮ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ،
ﺑﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ،
*ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ*
ﺍﻥ ﮐﮯ لئے ﺟﺪﺍ ﺟﺪﺍ ﻟﻔﻆ
ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺜﻼً :
ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﻣﯿﻤﻨﺎ
ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﺑﺮّﮦ
ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﭘﺎﭨﮭﺎ
ﺍﻟﻮّ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﭘﭩﮭﺎ
ﺑﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﺑﻠﻮﻧﮕﮍﮦ
ﺑﭽﮭﯾﺮﺍ : ﮔﮭﻮﮌﯼ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﮐﭩﮍﺍ : ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﭼﻮﺯﺍ : ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﺑﺮﻧﻮﭨﺎ : ﮨﺮﻥ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﺳﻨﭙﻮﻻ : ﺳﺎﻧﭗ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﮔﮭﭩﯿﺎ : ﺳﻮﺭ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻌﺾ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ
ﺟﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﮯ لئے
ﺧﺎﺹ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ ۔ﺟﻮ ﺍﺳﻢ ﺟﻤﻊ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؛
ﻣﺜﻼً :
ﻃﻠﺒﺎﺀ ﮐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ،
پرﻧﺪﻭﮞ ﮐﺎ غول،
ﺑﮭﯿﮍﻭﮞ ﮐﺎ ﮔﻠﮧ،
ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﯾﻮﮌ،
ﮔﻮﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﻮﻧﺎ ،
ﻣﮑﮭﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﮭﻠﮍ،
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺟﮭرﻣﭧ ﯾﺎ ﺟﮭﻮﻣﮍ ،
ﺍٓﺩﻣﯿﻮں ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ،
ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﯿﮍﺍ ،
ﮨﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﺍﺭ،
ﮐﺒﻮﺗﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭨﮑﮍﯼ،
ﺑﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﮕﻞ ،
ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉ،
ﺍﻧﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﮐﻨﺞ ،
ﺑﺪﻣﻌﺎﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﻮﻟﯽ ،
ﺳﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﮧ،
ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﺎ ﮔﭽﮭﺎ،
ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﻞ ،
ﺭﯾﺸﻢ ﮐﺎ ﻟﭽﮭﺎ،
ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺟﺘﮭﺎ،
ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﭘﺮّﺍ،
ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽﭨﮭﭙﯽ،
ﻟﮑﮍﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﭩﮭﺎ،
ﮐﺎﻏﺬﻭﮞ ﮐﯽﮔﮉﯼ،
ﺧﻄﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﻮﻣﺎﺭ،
ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔُﭽﮭﺎ،
ﭘﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﮬﻮﻟﯽ،
ﮐﻼﺑﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻨﺠﯽ ۔
*ﺍﺭﺩﻭ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺳﮯکیجئے ﮐﮧ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽﺻﻮﺕ ﮐﮯ لئے ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ،*
ﻣﺜﻼ :
ﺷﯿﺮ ﺩﮬﺎڑﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮨﺎﺗﮭﯽ ﭼﻨﮕﮭﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮔﮭﻮﮌﺍ ﮨﻨﮩﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮔﺪﮬﺎ ﮨﯿﭽﻮﮞ ﮨﯿﭽﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮐﺘﺎ ﺑﮭﻮﻧﮑﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﻠﯽ ﻣﯿﺎﺅﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ،
ﮔﺎﺋﮯ ﺭﺍﻧﺒﮭﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﺳﺎﻧﮉ ﮈﮐﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﮑﺮﯼ ﻣﻤﯿﺎﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﮐﻮﺋﻞﮐﻮﮐﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﭼﮍﯾﺎ ﭼﻮﮞ ﭼﻮﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﮐﻮﺍ ﮐﺎﺋﯿﮟ ﮐﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎﮨﮯ ،
ﮐﺒﻮﺗﺮ ﻏﭩﺮ ﻏﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻣﮑﮭﯽﺑﮭﻨﺒﮭﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﻣﺮﻏﯽﮐﮐﮍﺍﺗﯽ ﮨﮯ،
ﺍﻟﻮ ﮨﻮﮐﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﻣﻮﺭ ﭼﻨﮕﮭﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻃﻮﻃﺎ ﺭﭦ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻣﺮﻏﺎ ﮐﮑﮍﻭﮞ کوں ﮐﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﭘﺮﻧﺪﮮ ﭼہچہاتے ﮨﯿﮟ ،
ﺍﻭﻧﭧ ﺑﻐﺒﻐﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺳﺎﻧﭗ ﭘﮭﻮﻧﮑﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮔﻠﮩﺮﯼ ﭼﭧ ﭼﭩﺎﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﻣﯿﻨﮉﮎ ٹرّﺍﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺟﮭﯿﻨﮕﺮ ﺟﮭﻨﮕﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﻨﺪر ﮔﮭﮕﮭﯿﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
*ﮐﺌﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﮯ لئے ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﯿﮟ*
ﻣﺜﻼ
ﺑﺎﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﺮﺝ،
ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﮐﮍﮎ ، ﮨﻮﺍ ﮐﯽﺳﻨﺴﻨﺎﮨﭧ ،
ﺗﻮﭖ ﮐﯽﺩﻧﺎﺩﻥ ،
ﺻﺮﺍﺣﯽ ﮐﯽ ﮔﭧ ﮔﭧ ،
ﮔﮭﻮﮌﮮﮐﯽ ﭨﺎﭖ ،
ﺭﻭپیوںﮐﯽ ﮐﮭﻨﮏ ،
ﺭﯾﻞ ﮐﯽ ﮔﮭﮍ ﮔﮭﮍ،
ﮔﻮﯾﻮﮞ کیﺗﺎ ﺗﺎ ﺭﯼ ﺭﯼ،
ﻃﺒﻠﮯ ﮐﯽﺗﮭﺎﭖ،
ﻃﻨﺒﻮﺭﮮ ﮐﯽ ﺁﺱ،
گھڑی کی ٹک ٹک،
ﭼﮭﮑﮍﮮ ﮐﯽ ﭼﻮﮞ، ﺍﻭﺭ
ﭼﮑﯽ ﮐﯽﮔﮭُﻤﺮ۔
*ﺍﻥ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮐﮯ لئے ﺍﻥ
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺠﯿﮯ* :
ﻣﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﺁﺏ ،
ﮐﻨﺪﻥ ﮐﯽ ﺩﻣﮏ،
ﮨﯿﺮﮮﮐﯽ ﮈﻟﮏ ،
ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ،
ﮔﮭﻨﮕﮭﺮﻭ ﮐﯽ ﭼﮭُﻦ ﭼﮭُﻦ
،ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﺗﮍﺍﻗﺎ ۔
ﺑﻮ ﮐﯽ ﺑﮭﺒﮏ ،
ﻋﻄﺮ ﮐﯽ ﻟﭙﭧ ،
ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﻣﮩﮏ ۔
*ﻣﺴﮑﻦ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻟﻔﺎﻅ*
ﺟﯿﺴﮯ
ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺤﻞ ،
ﺑﯿﮕﻤﻮﮞﮐﺎ ﺣﺮﻡ ،
ﺭﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﻮﺍﺱ،
ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮎ ،
ﺭﺷﯽ ﮐﺎ ﺁﺷﺮﻡ ،
ﺻﻮﻓﯽ ﮐﺎ ﺣﺠﺮﮦ ،
ﻓﻘﯿﮧ ﮐﺎ ﺗﮑﯿﮧ ﯾﺎ ﮐﭩﯿﺎ ،
ﺑﮭﻠﮯ ﻣﺎﻧﺲ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ،
ﻏﺮﯾﺐﮐﺎ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﺍ ،
ﺑﮭﮍﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﮭﺘﺎ ،
ﻟﻮﻣﮍﯼ کی ﺑﮭﭧ ،
ﭘﺮﻧﺪﻭﮞﮐﺎﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮧ ،
ﭼﻮﮨﮯ ﮐﺎ ﺑﻞ ،
ﺳﺎﻧﭗ ﮐﯽ ﺑﺎﻧﺒﯽ ،
ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﻭﻧﯽ،
ﻣﻮﯾﺸﯽ ﮐﺎ ﮐﮭﮍﮎ ،
ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﺗﮭﺎﻥ
_ﺷﻮﺭﺵ ﮐﺎﺷﻤﯿﺮﯼ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ
“ﻓﻦﺧﻄﺎﺑﺖ“ سے انتخاب

توحید مفضل قسط 22

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 2⃣ 2⃣

🤔🤔 *بیماری و تکلیف کیوں بنائی* 🤔🤔

اگر انسان بیمار نہ ہوتا تو کیا وہ اپنے رب کے سامنے تواضع کرتا؟ لوگوں سے عاجزی کے ساتھ پیش آتا؟ مسکین و غریبوں کا خیال رکھتا؟

کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب انسان تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو کیسے *اللہ (ج)* کے حضور تواضع دکھاتا ہے اور شفا و عافیت طلب کرتا و صدقہ دیتا ہے.

💡💡 *بتی نکتہ*💡💡

علی (ع) کے قول کا مفہوم ہے *اللہ (ج)* بیماری کے ذریعے اپنے بندوں کے گناہ دھو دیتا ہے...

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

توحید مفضل قسط 21

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 21⃣

🤔🤔 بڑھنے کا عمل رک کیوں جاتا ہے 🤔🤔

 

مخلوق کے اعضاء و قد میں اضافے پر دھیان دیجیئے بچپن سے بڑی تیز رفتاری سے اس کا قد بڑھتا ہے مگر ایک حد مقرر پر جا کر باوجود اچھی غذا کھانے کے، قد و اعضاء کا بڑھنا بند ہوجاتا ہے. معلوم ہوا کہ *اللہ (ج)* نے قد و قامت کیلئے ایک مصلحت کے تحت حد مقرر کی ہے اگر اس حد سے تجاوز ہو جائے تو زندگی مشکل ہوجائے.


💡💡 *بتی نکتہ*💡💡

عجیب بات یہ ہے ہمارے اطراف کی ساری مخلوق کے قدوقامت ہمارے قد کے لحاظ سے ہے. اونٹ کا قد بھی ایک حد تک جا کر رک جاتا ہے، اگر بڑھتا رہتا تو انسان کے کسی کام کا نہ ہوتا مثلا اونٹ کا قد مینار پاکستان جتنا ہو جاتا تو سوار اس پہ بیٹھ نہ سکتا اسے چکر آتے. اگر بلکل مرغی کے قد کا ہوتا تو صحرا میں چل نہ پاتا. جو اناج کے پودے ہیں ان کت قد چھوٹے بنائے، کھجور کو اونچا... یہ سب غور کریں تو مصلحت کے تحت ہے.

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!

از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری

 

💡ولی اللہ محمد (ص) نے فرمایا لوگو! اللہ (ج) نے وعدہ کیا ہے کہ ان تنصر اللہ ینصرکم یعنی جو میری (میرے دین کی) مدد کرے گا میں اس کی مدد کروں گا مشرکین مکہ بولے😏 مذاق مت کرو محمد (ص)!
جنگ بدر میں *اللہ (ج)* نے انہیں دکھا دیا کہ ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳 مشرک شاکڈ😳

💡جنگ احد میں ولی اللہ (ص) نے فرمایا اس پہاڑی پہ کھڑے رہنا نیچے مت اترنا، اترے تو نقصان ہوگا، اصحاب نے کہا😏 کھڑے ہی رہیں عجیب مذاق ہے.
*اللہ (ج)* نے دکھایا دیا کہ ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳اصحاب شاکڈ😳

💡ولی اللہ (ص) نے صلح حدیبیہ پر دستخط کیئے شیخ صاحب کو بات سمجھ نہ آئی بولے😏 صلح نہ ہوئی مذاق ہوا.
*اللہ (ج)* نے فتح مکہ کی شکل میں دکھا دیا کہ ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳شیخ شاکڈ😳

💡 ولی اللہ علی (ع) نے خارجیوں سے فرمایا یہ قرآن جو معاویہ کے لشکر نے نیزوں پہ اٹھا رکھا ہے یہ دھوکہ ہے. خارجی بولے 😏 علی (ع) مذاق کرتا ہے قرآن و دھوکہ بھلا کیسے!
*اللہ (ج)* نے دکھا دیا کہ ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳خارجی شاکڈ😳


💡ولی اللہ حسین (ع) نے فرمایا مجھ جیسا تجھ جیسے کی بعیت نہیں کرسکتا، یزید بولا😏 عجیب مذاق ہے، میں امیر المومنین ہوں دیکھتا ہوں کیسے نہیں کرتے!
*اللہ (ج)* نے کربلا سجا کر بتا دیا کہ ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳یزید شاکڈ😳

💡 آتے آتے عراق میں سن ۱۹۲۰ ع میں برطانیہ نے تمباکو کی تجارت کے بہانے عراق پہ قابض ہونا چاہا. ایک فرزند ولی اللہ مجتہد مرزا حسن شیرازی (رض) نے تمباکو کی حرمت کا اور مرزا تقی شیرازی (رض) نے فتوائے دفاعیہ دیا کہ برطانیہ کو عراق سے بھگانا ہے.
برطانیہ بولا😏 عجیب مذاق ہے، آدھی سے زیادہ دنیا پر حاکم سلطنت کو مولوی للکارتے ہیں!
*اللہ(ج)* نے برطانیہ کو شکست سے دوچار کر کے دکھا دیا کہ ولی اللہ کی اولاد مذاق نہیں کرتی!
😳برطانیہ شاکڈ😳

💡 ایران میں ولی اللہ کی اولاد میں سے خمینی (رض) نامی ایک غریب مولوی اٹھا یزید وقت سے کہا: رضا شاہ ان کاموں سے باز آجا ورنہ بہت برا ہوگا، شاہ نے کہا😏 مولوی اچھا مذاق کر لیتا ہے.
*اللہ (ج)* نے ایران میں انقلاب اسلامی برپا کر کے دکھا دیا فرزند ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳شاہ شاکڈ😳


💡 ۸۰ کی دھائی میں لبنان سےتعلق رکھنے والے ولی اللہ کے فرزند امام موسی صدر (رح) نے چند نوجوانوں کے ساتھ مل کر مقاومت شروع کی اور دعوا کیا کہ ہم اسرائیلیوں کو چنے چبا دیں گے. اسرائیل و آمریکا بولے😏 سارے عرب مل کر کچھ نہ بگاڑ سکے، تم لوگ تو منے ہو ابھی بیٹا!
*اللہ (ج)* نے ۲۰۰۶ میں ۳۳ روزہ جنگ میں اسرائیل کو ذلیل کرکے دکھا دیا فرزند ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳اسرائیل شاکڈ😳

💡پھر سے عراق آئیے! آمریکا نے جب عراق پہ حملہ کر کے اپنی من مانی شروع کی تو فرزند ولی اللہ سید سیستانی (زید عزہ) نے انہیں کہا کہ میں ایرانی ہوں تم آمریکی لہذا ہمیں حق نہیں عراق کا فیصلہ کریں.
آمریکا بولا 😏 مولانا آپ نمازیں پڑھو مذاق زیب نہیں دیتا آپکو!
*اللہ (ج)* نے سید سیستانی (زید عزہ) کے ایک فتوے کے ذریعے اپنی طاقت دکھا دی. اور ثابت کیا کہ فرزند ولی اللہ کبھی مذاق نہیں کرتا!
😳آمریکا شاکڈ😳

💡آج سے بیس سال قبل جمعہ کے خطبے میں ولی اللہ کے فرزند سید علی خامنہ ای (زید عزہ) نے ایرانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ آمریکا سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، ایرانی حکومت کے پھنے خان بولے😏 عجیب مذاق ہے. وہ خود دعوت دے رہیں رھبر کو سیاست کی سمجھ ہی نہیں.
*اللہ (ج)* نے اس سال مذاکرات کرنے والوں کو رسوا کر کے دکھا دیا فرزند ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳ایرانی حکومت شاکڈ😳

💡ساری دنیا کی طاقتیں مل کر شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑتی رہیں لیکن ایران میں بیٹھے ہوئے فرزند ولی اللہ سید علی خامنہ ای (زید عزہ) بڑی تسلی سے کامیابی کی بات کرتے تھے. طاغوت بولے😏 مذاق مت کرو مولانا ہم نے داعش تیار کی ہے اس بار.
*اللہ (ج)* نے حلب میں داعش کو ذلیل کرکے ثابت کیا فرزند ولی اللہ مذاق نہیں کرتا!
😳طاغوت شاکڈ😳

*ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ*
*اللہ (ج)* مذاق نہیں کرتا! نہ ہی اس کے ولی، نہ ہی اولیاء کی اولاد! اس لیئے ماضی کے تجربات سے ہمیں درس لینا چاہیئے. اس وقت پردہ غیبت میں آج بھی ایک ولی اللہ (عج) موجود ہے اس کے فرزند رھبر معظم سید علی خامنہ ای (زید عزہ) و سید سیستانی (زید عزہ) ہمارے درمیان موجود ہیں. اور عین اپنے اجداد کی سیرت پر گامزن ہیں.

اب میرا آپ سے بتی سوال ہے...
فرزند ولی اللہ سید علی خامنہ ای (زید عزہ) نے جو شیخ نمر کی شہادت پہ فرمایا کہ *سعودی عرب نے اپنی قبر کھود لی ہے*
اور
اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں فرمایا کہ *اسرائیل اگلے بیس سال نہیں دیکھ پائے گا*
ان دونوں باتوں کو آپ قبول کرتے ہیں یا گذشتہ لوگوں کی طرح 😏 کرتے ہیں؟
اس 👈🏽 😏 کے آخر میں 👈🏽😳 ہوتا ہے. سوچ لیجئے اور
جواب دماغ کی بتی جلا کر کر دیجئے گا.

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

توحید مفضل قسط 20

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 20⃣

🤔🤔 انسانوں کی شکل ایک جیسی کیوں نہیں🤔


*اللہ (ج)* نے انسان کو ایک ہی شکل کا نہیں بنایا جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ درخت ایک جیسے ہیں، جانور، پرندے وغیرہ سب ایک ہی مخصوص شکل کے ہیں.
اللہ (ج) نے انسان کو ایک دوسرے مختلف اس لیئے بنایا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں کیونکہ انسان زندگی میں ایک دوسرے سے روابط رکھتے ہیں، ایک انسان دوسرے سے لین دین کرتا ہے اگر شکلیں ایک جیسی ہوتیں تو پہچاننا مشکل ہوتا.
جانور معاشرے کا حصہ نہیں ہیں انہیں معاشرہ تشکیل دینے کیلئے نہیں بنایا گیا ہے اس لیئے ان کی شکل میں فرق کو اہم نہیں دی گئی.

💡💡 *بتی نکتہ*💡💡

شاید کوئی کہے کہ سارے انسان ہم شکل ہوتے تو بھی پہچاننا مشکل نہ ہوتا، تو اس اعتراض کے جواب میں ہم اسے عرض کریں گے کیا آپ کو دو جڑواں بھائیوں یا بہنوں کو ایک بار دیکھنے کے بعد دوسری بار دیکھ کر پہچاننے میں مشکل پیش نہیں آتی؟

💡 *بتی اعتراض* 💡

لیکن جب ہم چینی یا افریکی کو دیکھتے ہیں تب بھی بہت مشکل ہوتی ہے۔ سب ایک جیسے لگتے ہے۔ اس میں کیا بتی نکتہ ہے؟

ایسا نہیں ہے یہ مزاح کی حد تک تو درست ہے اما حقیقت اس کے برعکس ہے جو چینیوں و آفریکیوں کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں.
میرے ساتھ چینی اور آفریکی پڑھتے ہیں ... اس کے علاوہ جو کرکٹ کے شوقین ہیں ان سے پوچھئے گا کیا ویسٹ انڈیز کے سارے کھلاڑی ایک جیسے ہیں؟ انہیں پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے؟ جواب ملے گا بلکل نہیں!


ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

سوال سر جی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال سرجی!
👈جان
👈مال
👈🏽سکون
👈 چاردیواری
👈 چادر
👈 بارش
👈 حکومت
👈 کرپشن
👈 مچھر
👈 گرمی
👈 لوڈشیڈنگ
👈 کراچی کا ٹریفک
👈 بجلی کے خوفناک بل
👈 ٹارگٹ کلنگ
👈 ضمیر اختر نقوی
👈 اوریا مقبول جان
👈 منحوس عامر لیاقت
👈 لانڈھی کا بنگالی کتا (سمجھ تو گئے ہوں گے)
👈 زرداری کی شکل
👈 الطاف کی آواز
👈 ٹکڑوں پہ پلنے والا میڈیا
👈🏽شراب کے نشے میں سر پہ قرآن اٹھانے والا مرزا
👈🏽قاتل گورنر
👈🏽"بھائی" و "محترمہ" کے دھشتگرد گنڈے شہید
👈🏽بھتہ خوری
👈 "معصوم" فوج
👈 جاہل و غیر مہذب وکیل
👈 رمضان کی مہنگائی
👈 رمضان کا جیتو پاکستان
👈 مسجد کے کان پھاڑتے اسپیکر
👈 ملاوٹ والی اشیاء خورد و نوش
👈 موبائل سنیچنگ
👈 ٹریفک پولیس کی جیب خرچی
👈 ڈبل سواری پہ پابندی
👈 میرٹ
👈 جاب
👈رشوت
👈 کے.یو، این-ای-ڈی، جناح اور دیگر یونیورسٹیز کے لڑکے/لڑکیوں کی بیوفائی
👈🏽پیسے کی پوجارن لڑکیاں
👈🏽جسم کے بھوکے لڑکے
👈 فراڈ موبائیل پیکیجز
👈 بچوں کی بھاری فیس
👈 عطائی ڈاکٹرز
👈 فٹ پاتھ پہ پان کی پیک
👈 دیواروں پہ فلاں کو رہا کرو اور مردانہ کمزوری کے جلد خاتمے کی بیہودہ چاکنگ...
👈 ویگنز میں رش....
👈 دھرنے
👈 شیلنگ
👈 کنٹینر والا انقلابی لیڈر
👈🏽 عمران خان کی تبدیلی
👈 خودکش دھماکے
👈 معصوم بچوں کے لاشے
👈 فرعون کے دور کی آنٹیوں کا خود کو میک کی مدد سے جوان دکھانے کی کوشش
👈 سیلانی پہ ہٹے کٹے لوگوں کا مفت میں کھانا کھانا
👈 اسلامک بینکنگ کا ٹوپی ڈرامہ
👈 قابیل کے دور کا وزیر اعلی سندہ
👈 کشمیر کا مسئلہ
👈شادی بیاہ میں کھانے پہ ٹوٹ پڑنے والے مھذب افراد
👈پیٹرول کی جگہ ھوا
👈مین پوری، ون ٹو ون گٹکہ پان
👈فوٹ پاتھ پہ رکھی کتابیں
👈🏽شوکیس میں رکھے جوتے
👈دو نمبری فقیر
👈 جلدی نکلنے کی کوشش میں ٹریفک جام کروانے والے
👈بجلی کا کنڈا لگا کر منعقد ہونے والے عید میلاد النبی، محرم کی مجالس، اور مذھبی و سیاسی جلسے....

وغیرہ وغیرہ کو ملحوظ خاطر رکھ کر سوچیں

*آپ پاکستان جانا چاہیں گے یا قبرستان؟*🤔


مذاق تھا یہ!
سچ یہ ہے کہ ایسی مزید دس لاکھ لسٹیں بھی لے آئیں لیکن پھر بھی میرا جواب ہوگا کہ اگر میری قبر بنے تو بھی 🇵🇰 *پاکستان* 🇵🇰 کی مٹی میں! پاکستان ہماری جان!

الاحقر محمد زکی حیدری پاکستانی

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

نبی (ص) کس سے جنگ کریں گے؟

نبی (ص) کس سے جنگ کریں گے؟

مومن کون؟

مومن کون؟

آٹھ بڑے فائدے

💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰

آٹھ بڑے فائدے

امیرالمومنین علی(علیہ السلام) مکرر و مسلسل یہ حدیث بیان فرماتے:
«وہ شخص جو *مسجد* کی طرف رفت و آمد کرتا ہے. ان آٹھ فوائد میں سے ایک اس کے نصیب میں لازمی آتا ہے:

1⃣ اس کا مومن بھائی راہ خدا میں اس سے استفادہ کرتا ہے.
2⃣ اسے جدید علم و دانش عطا ہوتی ہے

3⃣ قرآن کی آیات کا فہم و ادراک

4⃣ ایسی باتیں سننا جو اس کے ھدایت کا باعث بنتی ہیں.

5⃣ رحمت جو اس کی امیدوں جو اللہ (ج) سے جوڑ دیتی ہے.
6⃣ ایسی باتیں جو اسے گناہ و ہلاکت سے بچا لیں.

7⃣ دل میں گناہوں سے نفرت، اللہ (ج) کے ڈر کی وجہ سے اور *مسجد* میں آنے کی وجہ سے.

8⃣ ترک گناہ ان دوستوں سے حیا کی وجہ سے جن سے وہ *مسجد* میں آکر آشنا ہوا.

 

[من لایحضره الفقیه، ج1، ص237]

 

💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰💰

اہل آسمان کو کیا چمکتا دکھائی دیتا ہے؟

✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳

 

اہل آسمان کو کیا چمکتا دکھائی دیتا ہے؟


رسول اکرم(صلی الله علیه وآله وسلم) نے فرمایا کہ خداوند متعال نے حدیث قدسی میں فرمایا ہے: زمین پر میرے گھر *مساجد* ہیں جو اھل آسمان کیلئے تاروں کی مانند چمکتی ہیں، ایسے ہی جیسے زمین والوں کیلئے آسمان کے تارے چمکتے ہیں.
بھلا ہو ان کا جنہوں *مسجد* کو اپنے گھر کی طرح سمجھا. بھلا ہو اس بندے کا جو اپنے گھر میں وضو کرتا ہے. اور پھر میری زیارت کو آتا ہے! یاد رکھو کہ زیارت کیئے جانے والے پر لازم ہے کہ اپنے زائر کی عزت کرے اور اس پر احسان کرے.
جو لوگ رات کی تاریکی میں *مسجد* کی طرف جاتے ہیں انہیں قیامت کے دن چمکتے نور کی بشارت دے دو


[وسائل الشیعه، ج1، ص268]

✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳✳

توحید مفضل قسط ۱۹

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 19⃣

🤔🤔 سب کچھ بنا بنایا کیوں نہ دیا🤔🤔


*اللہ (ج)* نے ساری نعمات انسان کو اس طرح دیں کہ وہ خود بھی ہاتھ پیر مار کر ان سے فائدہ حاصل کرے. اناج بنایا روٹی نہیں. تاکہ انسان خود گندم کو پیس کر اس سے روٹی بنائے.
پشم و دھاگہ بنایا لیکن کپڑے نہیں، تاکہ انسان خود کام کر کے اس سے کپڑے بنائے.
درخت بنائے لیکن ذمہ داری بھی ڈال دی کہ اسے وقت پر پانی دے اور پھل حاصل کرے.
جڑی بوٹیوں میں شفا رکھی مگر دوائی بنی بنائی نہیں بھیجی تاکہ انسان خود مختلف جڑی بوٹیاں جمع کر کے ایک دوسرے سے ملائے اور دوائی بنائے.

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہر چیز بنی بنائی آتی تو انسان کو کوئی کام نہ ہوتا وہ گھر بیٹھ بیٹھ کر اکتا جاتا.
اس کے علاوہ اگر انسان کام نہ کرتا اور فارغ گھر بیٹھا ہوتا تو ضرور ایسے کام کرتا جس سے فساد ہو. کیونکہ جو انسان محنت و مشقت کے بغیر بچپن سے ہی پرسکون اور عیاشی سے زندگی گذارتے ہیں وہی لوگ گناہ و فساد کی طرف زیادہ جاتے ہیں.
(اس کے علاوہ بعض جسمانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوجاتا)


💡💡 *بتی نکتہ*💡💡

جو کام آئمہ (ع) کی زندگی میں زیادہ نظر آئے وہ کریں. خطیب و ذاکر دین کو زیادہ نہیں سمجھے جتنا آئمہ (ع) نے سمجھا ہے.
*آئمہ (ع) کی پیشانی پہ سجدوں کے نشان اور پشت پر بوریوں کے نشان تھے... دن میں عبادت رات میں روٹی کی بوریاں اٹھا اٹھا کر مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے.*
*کہاں ہیں ہم؟؟؟*

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡

تسبیح زمین

تسبیح زمین