توحید مفضل قسط 25
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ
💡💡 *دماغ کی بتی جلاؤ*💡💡
👂🏾👂🏾 *دھیان سے* 👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*
قسط 25⃣
🤔🤔 چوپائے کی شکل، منہ و دُم 🤔🤔
آنکھیں 👁
ذرا چوپائے جانوروں کے جسم پہ غور کرو، *اللہ (ج)* نے انہیں آنکھیں ٹانگوں سے آگے دی ہیں کہ جہاں سے وہ سامنے دیکھ سکیں تاکہ کسی گڈھے وغیرہ میں گرنے کا خطرہ لاحق نہ ہو.
منہ 🐴
منہ و جبڑوں کو اس طرح آگے بنایا کہ وہ آرام سے گھاس بوس چر سکیں اگر انسان کی طرح ٹھوڑی کے اوپر منہ بناتا تو گھاس چرتے وقت ٹھوڑی جانور کو تکلیف دیتی (ڈسٹربنس پیدا کرتی). اس لیئے جانور کا منہ ایسی جگہ بنایا کہ اسے گھاس چرنے میں کوئی تکلیف نہ ہو.
یہ انسان کی حیوانوں پہ برتری کی دلیل ہے کہ *اللہ (ج)* نے انسان کو انگلیاں و ہاتھ عطا کیئے تاکہ وہ ان سے غذا لے کر اپنے منہ میں ڈالے لیکن حیوان کو چونکہ انسانی ہاتھوں کی طرح ہاتھ و انگلیاں عطا نہیں کیئے تو اس لیئے منہ کو ایسی جگہ بنایا کہ اسے گھاس چرتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو.
دُم 🐂
چوپائے کی دم کے مختلف کام ہیں پہلا کام یہ ہے کہ یہ اس کی شرمگاہ کو چھپاتا ہے، انسان کپڑے سے اپنی شرمگاہ چھپاتا ہے سو حیوان کی شرمگاہ کیلئے بھی *اللہ (ج)* نے انتظام کیا. دُم کا دوسرا کام ہے یہ ہے کہ چونکہ حیوانات پانی سے اپنی شرمگاہ نہیں دھوتے تو ان کی گندگی ان کے مقعد میں رہ جاتی کے جس کی وجہ سے مکھیاں و مچھر انہیں تنگ کرتے سو *اللہ (ج)* نے دم دی تاکہ وہ دم ھلا کر انہیں دور بھگا سکیں.
دم ھلا کر جانور اپنی تھکن دور کرتا ہے. جب جانور کہیں پھنس جائے تو بعض اوقات دم ہی سے پکڑ کر اسے باہر لایا جاتا ہے.
اس کے علاوہ بھی حیوانات کے جسمانی بناوٹ میں بہت سے رموز پنہان ہیں جیسا کہ ان کے جسم کو اس طرح ہموار بنایا کہ اس پر بیٹھ کر انہیں سواری کے طور پر استعمال کیا جا سکے.
ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.
*+989199714873*
*_arezuyeaab.blogfa.com_*
💡💡💡💡💡💡💡💡💡
یہ ایک اردو اسلامی ویب بلاگ ہے، جس کا مقصد نشر معارف اسلامی و معارف اہل بیت علیہم السلام ہے.