کیا بیبی صغریٰ (س) مدینے میں بیمار تھیں، یا کربلا میں امام حسین (ع) کے ساتھ موجود تھیں

 

کیا بیبی صغریٰ (س) مدینے میں بیمار تھیں، یا کربلا میں امام حسین (ع) کے ساتھ موجود تھیں؟


جمع آوری: محمد زکی حیدری 

 


جناب عالی جیسا کہ ہم پاکستان میں مروجہ عقائد کہ جو اصل حالات و واقعات سے متفاوت ہیں پر بحث کر رہے تھے اور ہم نے شہزادہ قاسم کی شادی اور مہندی، اس کے بعد امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد اور بیبی صغریٰ کو "صغریٰ" کیوں کہا جاتا ہے وغیرہ کو مستند کتب کے حوالے دے کر ان کی حقیقت بیان کی۔ اس مرحلے میں ایک اور مشہور قصے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتے ہیں وہ یہ کہ کہا جاتا ہے، بلکہ ببانگ دھل کہا اور مصائب میں پڑھا جاتا ہے کہ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) مدینہ میں بیمار تھیں امام انہیں چھوڑ آئے تھے، اور اس کو مزید ڈرامائی شکل دے کر یہ تک کہا جاتا ہے کہ بیبی صغریٰ نے اپنے بابا کو خط بھی لکھا اور وہ خط کا انتظار کیا کرتی تھیں وغیرہ وغیرہ۔


کیا بیبی فاطمہ صغریٰ مدینہ میں تھیں؟ یا کربلا میں امام (ع) کے ساتھ؟


یہ بیبی کربلا میں موجود تھیں اور وہاں کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ہم نے ان کو اس کا صلہ یہ دیا کہ انہیں کربلا جیسی فتح مبین میں شرکت سے ہی محروم کردیا کسی سے اس کا حق چھیننا اگر طلم ہے تو ہم سب سے بڑے ظالم ہیں کہ حسین (ع) کی اولاد کو اس کے حق سے محروم کیا۔ یہ تو خلفاء کی سنت ہیں میاں آپ کب سے غاصب بن گئے؟ اچھا معلوم نہیں تھا تو خیر ہے لیکن اب جب میں معتبر کتب سے ثابت کر دوں تو آپ کا فرض ہے کہ اس معظمہ بیبی (س) نے کربلا میں جو قربانیاں دیں ان کا اجر تو انہیں نہیں دے سکتے لیکن ان کی قربانیوں کا اقرار تو کریں اور دنیا تک ان کی مظلومی کا پیغام پہنچائیں۔ آپ سے کوئی دو رکعت نماز کا ثواب چھین لے تو آپ کو لگتا ہے اس نے آپ کے ساتھ نا انصافی کی ہے، لیکن آپ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) سے کربلا میں شرکت جیسا عظیم ثواب چھین رہے ہیں اوراوپر سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ عجیب ہے یہ محبت ۔۔۔۔ خیر آٌپ کا قصور نہیں آپ کو منبر نشینوں نے یہ بتایا ہے۔۔۔
فاطمہ بنت الحسین (س) یعنی فاطمہ صغریٰ (س) سے مروی رویات دیکھنے کا شوق رکھنے والے علامہ ہادی امینی مرحوم کی کتاب فاطمہ بنت الحسین (ع) کا صفحہ نمبر 80 سے لیکر 112 تک کا مطالعہ کریں، جس میں بیبی (س) سے درجنوں رویات دسیوں کتابوں کے حوالہ جات سے نقل کی گئی ہیں۔ اور شیخ جعفر نقدی کے بقول جو چیز ان معصومہ (س) کے کمال پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بابا اور پھوپھی زینب (س) سے روایت نقل کی ہے۔ اور شیعہ سنی علماء نے آپ (س) سے نقل ہونے والی روایات پر اعتماد کیا ہے ۔ ان کی عظمت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ کتاب "اصحاب سیر و مقال' میں لکھا ہے کہ امام حسین (ع) نے آخری وقت میں آپ (س) کو وصیت نامہ دیا جو انہوں نے امام سجاد (ع) کو انکی صحتیابی کے بعد دیا۔
فاطمہ صغریٰ وصیت دار امام حسین (ع)
امام جعفر صادق (ع) سے فرماتے ہیں:
دعا ابنۃ الکبریٰ فاطمہ نبت الحسین (ع) فدفع الیھا کتاباٍ ملفوفا ووصیۃ طاھرۃ
امام حسین نے میدان جنگ کی طرف روانہ ہونے سے قبل اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کو بلایا اور وصیت نامہ ان کے سپرد کیا۔
یہ وصیت نامہ مندرجہ زیل کتب میں درج ہے:
اصول کافی
بصائر الدرجات
قمام ذخار ، فاطمہ کبریٰ ، ص 450 تا 453
ناسخ التواریخ ج 2 ص: 342
منتخب التواریخ باب خامس ص 173
جلال العیون
فاطمہ بنت الحسین (ع) علامہ ہادی امینی ص 13
فاطمہ بنت الحسین جعفر نقدی ص 9

کربلا سے مدینہ واپس آتے ہوئے بھی اس معظمہ (س) نے زینب (س) اور ام کلثوم (س) کے ساتھ خطبے دیئے ۔

بیبی فاطمہ صغریٰ (س) کا کوفہ میں خطبہ

سید ابن طاؤس نے زید بن موسیٰ کاظم (ع) سے یہ خطبہ اپنے والد محترم امام موسیٰ کاظم (ع) سے ان الفاظ میں نقل کیا ہے :
روی زید بن موسیٰ قال حدثنی ابن عن ضدی علیہ السلام : کطبت فاطمۃ الصغریٰ بعد ان وردت من کربلا فقالت:۔۔۔۔
خطبہ طولانی ہے لھٰذا ان کتب کے حوالے پیش کر رہے ہیں ان سے رجوع کیا جائے:
ناسخ التواریخ ج 6 ، جز 3، ص: 42
تطلم زہراء ص 295
اسرار الشہادۃ ص : 479
ریاض الشھادۃ ص ج: 2، ص: 285
بحار الانوار ج: 45، ص: 110
معالم المدر ستین ج :3، ص: 183
جلال العیون ج 2، ص 504
الدمعۃ الساکبۃ ج 6، ص 38
مقتل حسین ص 313
لہوف سید ابن طاؤس ص 194
قمام زخار، ج 2، 520
لوائج الاشجان ص 202
منتخب الطریحی ص 122
زینب الکبریٰ ص 56
تنفیح المقال ج 1 ص 471
نفس المہموم
الکامل فی التاریخ
تاریخ طبری
جمرۃ الانساب العرب ص 55
مقاتل الطالبین
وفیات الاعیان ج 3 ص 271
جامع الرواہ ج 1 ص 343
فاطمہ بنت الحسین ص 26
مثیر الاحزان

بھیا امام حسین (ع) اور اس کی عاشورہ کے ذکر میں بہت کچھ ذاکروں کا بنایا ہوا تھا اور جو "علماء کرام " آئے انہوں نے بھی زحمت نہ کی آپ کو حق بتائیں جیسا چلتا ہے چلنے دو ۔۔۔ پہلی و دوسری محرم کو بیبی بیمار، پردیسی وغیرہ کا مصائب پڑھ کر ہمیں خوب رلاتے ہیں اور بیبی (س) کے عورت ہو کر دشمن کو للکارنے اور اس کی دربار کو اپنے خطبے سے لرزانے کی عظیم عبادت کا بتا کر ہمیں رلانے کے ساتھ ساتھ ہماری ماں بہنوں کیلئے ایک عظیم نمونہ عمل پیش نہیں کرتے۔

افسوس!

میرے جوان دوستو! ایک عظیم بیبی، ایک دلیر، با ہمت بیبی، جو میدان جنگ میں دشمن سے برسر پیکار ہے اسے بیمار بنا کر پیش کردینے سے زیادہ اس سے کیا دشمنی کی جاسکتی ہے؟ وہ معظمہ اپنی چادر لٹا کر جن لوگوں کیلئے دشمن کی درباروں میں جاکر خطبے دیتی ہے اسے بیماری کے بستر پر محدود لکھا گیا۔۔۔۔ کیونکہ رونا ہے! پردیسی بیبی کا "سین" نہیں تھا تو ایک "سین" کا اپنے ڈرامے میں اضافہ کردیا گیا تا کہ زیادہ سے زیادہ روئیں لوگ۔۔۔ کربلا صرف رونے کا نام نہیں کربلا مقابلے کا نام ہے۔ یہ کالی کربلا تمہیں دی گئی ہے اصل کربلا سرخ ہے اصل کربلا کونے میں بیٹھ کر رونے والوں کی نہیں سوکھے گلے اورسوکھی کمزور زبانوں سے دشمن کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دینے والے عظیم مجاہدوں کی عملی داستان ہے۔۔۔ ہم نے صرف کربلا سے سیاہی لی ہے! سرخی لیتے تو آج چند بدمعاش ہم پر غالب آکر ہماری ماؤں کی گود نہ اجاڑتے۔۔۔ ہم کل بھی روئے تھے جنازے دیکھ کر اور آج بھی بس روہی رہے ہیں، کیونکہ رونے سے جبت ملتی ہے بس رو ۔۔ گریہ کرو گھر جاؤ۔۔۔۔ عارف الحسین حسینی (رح) سے لیکر سبط جعفر (رح) تک ہر جنازہ اٹھایا روئے، رونے والوں نے جنت کمالی، رونے کی شکل بنانے والوں نے بھی جنت کما لی۔۔۔۔ آپ کو ایسی جنت مبارک ہو جو لٹی ہوئی چادروں اور دشت میں پڑے بے سرو ساماں لاشوں سے صرف رونے کا درس لے کر ملتی ہو۔
مجھے خبرداری، احتیاط کے پیغام ملنا شروع ہوگئے ہیں مگر میں سرخ کربلا کا ماننے والا ہوں مجھے سرخی پسند ہے، میرا کفن حسین (ع) کے پھٹے پیراہن کی طرح سرخ ہو بجائے اس کے کہ صرف میرے مولا (ع) کی آہنی ضریح سے مس ہوا ہوا ہو۔
"جو شہید ہوگئے انہوں نے حسین (ع) کی سنت پر عمل کیا ، جو رہ گئے وہ زینب (س) کی سنت پر عمل کریں۔" ' (جس کا یہ قول ہے اسے نامعلوم سمجھا جائے)

امام حسین (ع)کی بیٹیوں کی تعداد کتنی تھی؟

 

امام حسین (ع)کی بیٹیوں کی تعداد کتنی تھی؟


جمع آوری: محمد زکی حیدری


حضور عقائد وہ اینٹیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ منظم شکل میں ترتیب پاکر انسان کیلئے ہدایت کی سڑک بناتی ہیں۔ اگر اینٹیں کچی یا بوسیدہ ہوں گی تو سڑک میں جگہ جگہ گڈھے نظر آئیں گے اور مسافر منزل پر یا تو دیر سے پہنچے گا یا تو پہنچتے پہنچتے اس کی عمر تمام ہو جائے گی۔ بھئی یہ بات تو طے ہے کہ جیسے عقائد ہوں گے ویسا ہی عمل ہوگا، اور جیسا عمل ویسا ہی پھل! سو عقائد اگر حق پر مبنی ہوں گے تو منزل بھی حق ہوگی اگر عقائد خرافات پر مبنی ہوں گے تو نتیجہ بھی ویسا ہی نکلے گا۔ یہ سوچ کر جب میں نے دیکھا کہ ہمارے عام شیعوں کے بہت سارے عقائد اصلی شیعہ عقائد سے تفاوت رکھتے ہیں تو میں نے اپنی حقیر سی کوشش کر کے قلم اٹھایا اور پہلے "چائنہ کربلا" کے نام سے ذرا کڑوا سا، چبھتا ہوا سا، مضمون لکھا تا کہ سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواؤں اور اس کے بعد جس جس چیز عقیدے کو میں "چائنہ کا" یعنی نقلی یا جھوٹ پر مبنی کہا تھا اس کی بزرگان دین کی مستند کتب سے دلیل بھی پیش کروں۔ اس ضمن میں "شہزادہ قاسم کی شادی اور مہندی" وغیرہ کی تشریح تو بفضل خدا دے چکا اب دوسرا عقیدہ جس کی بنیاد پر، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بڑے بڑے خطباء مصائب پڑھتے ہیں کی تشریح دینا چاہتا ہوں اوروہ مسئلہ ہے "کیا واقعی بیبی فاطمہ صغریٰ (س) مدینے میں بیمار تھیں اور کربلا میں نہیں تھیں؟" اس کی تشریح کرنے کی کوشش کروں گا، اس کے پہلے یعنی اس مرحلے میں
امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد
اور بیبی فاطمہ کو صغریٰ کیوں کہا جاتا ہے پر مدلل بحث ہوگی۔
اور اس کے بعد اگلے مرحلات میں اس عقیدے – کہ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) کربلا میں موجود نہیں تھیں- کی وجہ سے ہم کس عظیم اساسے سے محروم ہو گئے اس کی جانب بھی آپ کی توجہ مبارک مبذول کرواؤنگا انشاء اللہ۔ میں مصائب پر کم ہم نے اپنے عقائد سے گرانبہا چیزوں کو کھودینے اور فضول چیزوں کو اپنا لینے پر زیادہ گریہ کرتا ہوں لھٰذا پیش خدمت ہے بیبی صغریٰ (س) کے وجود مقدس پر صحیح عقیدہ پر تحقیق۔

امام حسین (ع) کی بیٹیاں کتنی تھیں؟ کیا فاطمہ صغریٰ کا ہونا ثابت کرتا ہے کہ فاطمہ کبریٰ نامی بھی کوئی بیٹی تھی؟

جناب امام حسین (ع) کی اولاد کے موضوع کو لیکر بزرگان، مؤرخین کے مابین اچھا خاصہ اختلاف پایہ جاتا ہے لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو خشک بحث میں نہیں ڈالنا بس نیچے دیکھتے و پڑھتے جائیے بات از خود سمجھ آجائے گی۔ ہماری بحث ہے بیٹیوں کی تعداد تو ہم بیٹوں کی بحث کو چھیڑے بغیر اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔
----- حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد اور ان کے قائل علماء کرام کے نام-----------

(الف) چار بیٹیاں
(1)- مرزا ابو الفضل تہرانی
(2)- مقدس اردبیلی (رض) (زینب نام کی دو بیٹیاں )
(3) آقای ہادی امینی (سکینہ، زینب، فاطمہ، رقیہ)

(ب) تین بیٹیاں
(1) صاحب مناقب شہر آشوب (سکینہ، فاطمہ، زینب)
(2) محمد بن عبداللہ بن نصر خشاب بغدادی (سکینہ، فاطمہ، زینب)

(ج) دو بیٹیاں

علامہ باقر مجلسی (بحار الانوار ج:45 ص: 329)
شیخ محدث عباس قمی منتہی الامال ج:1 ص: 855، احسن المقال ج:1 ص: 543، درکربلا چہ گذشت ص: 543
شیخ مفید (رح) الارشاد ج :6 ص: 277
احمد یحیٰ جابر بلاذری (انساب الاشرف ج:3 ص: 142
یہ تو وہ ہیں جن کی دلیل کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں مگر پھر بھی مندرجہ ذیل ان تمام مورخین کے ناموں کی فہرست بیان کر رہا ہوں جنہوں نے امام حسین (ع) کی دو بیٹیاں (سکینہ، فاطمہ) بیان کی ہیں۔
(1) ابن صباغ مالکی
(2) علامہ محقق تستری صاحب
(3) علامہ حلی (رض)
(4) علامہ طبرسی
(5) ملا حسین کاشفی
(6) صاحب مجدی
(7) صاحب شجرہ مبارک
(8) ابن جوزی
(9) محمد بن صبان مصری
(10) سید علی نقی حائری
(11) علامہ عبداالہ بن نوراللہ
(12) صاھب ستارگان درخشان
(13) محمد بن ابی بکر انصاری
(14) ابی نصر بخاری
(15) صاھب الجازم فی نسب ہاشم
(16) عماد زادہ اصفہانی
(17) علامہ نسابہ صفی الدین
(18) ابن عنیبہ صاھب عمدۃ الطالب
(19) سید احمد الحسینی
(20) سید فاضل موسوی خلخالی
(21) محمد محمدی اشتہاردی
دس مزید ہیں لیکن اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
ثابت ہوا کہ بیٹیاں دو ہی تھیں۔

فاطمہ ایک ہی تھیں تو صغریٰ اور کبریٰ کیوں؟


اچھا سوال ہے لیکن ذرا دقت و توجہ چاہوں گا س معاملے سب کام چھوڑ دیں دل و دماغ کے دریچے کھول کر پڑھیئے گا۔
علامہ محقق سید شاکر حسین امرہوی اپنی کتاب میں اس مسئلے کو آسانی سے سمجھا یا ہے فرماتے ہیں:
مناقب ابن شہر آشوب کی عبارت یہ ہے " ان الحسین (ع) لما حضرہ الذی حضرہ دعا "ابنۃ" فاطمہ کبریٰ فدفع الیھا کتابا ملفوفا وصیۃ ظاھر الخبر۔"
ترجمہ: حسین (ع) نے جس وقت وہ واقعہ جو پیش آیا یعنی شہادت کے وقت ، آپ (ع) نے اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کو سامنے طلب کیا اور ایک لکھا ہوا کاغذ بند جو وصیت نامہ تھا ان کے سپرد کیا۔
بحارالنوار اور ناسخ التواریخ میں بھی یہی عبارت "ابنۃ فاطمہ کبریٰ" ہی لکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنی بڑی بیٹی کو بلایا ظاہر سے بیبی فاطمہ صغریٰ بیبی سکینہ (س) سے بڑی تھیں۔
لیکن!
مندرجہ بالا عبارات میں "ابنتہ" فاطمہ کے بعد آنا چاہیئے تھا جیسا کہ دوسرے بزرگوں کی عبارت میں ہے۔ مثلاٍ بصائر الدرجات میں شیخ اجل حسن القمی (امام حسن عسکری کے صحابی)نے لکھا : ۔۔۔ قال ان الحسین (ع) لما حضرہ دعا ابنۃ الکبریٰ فاطمہ ۔۔۔ (بلایا اپنی بڑی بیتی فاطمہ کو)
ثقہ الاسالم یعقوب کلینی کافی میں لکھتے ہیں:
دعا ابنۃ الکبریٰ فاطمہ بنت الحسین فدفع الیہا۔۔۔۔
اس کے علاوہ مسعودی، آقائے دربندی، وغیرہ بھی اسی طرح ناقل ہوئے ہیں۔

----- ٹھیک صاحب مان لیئے لیکن پھر یہ تو بتایئے کہ "صغریٰ" کیوں کہتے تھے بیبی کو۔۔۔۔۔۔
بھائی کیا کہنے ہیں آپ کے یہ بھی بڑا اچھا سوال ہے! میا ں بات یہ ہے کہ بیبی فاطمہ بنت حسین (ع) سے کئی راویوں سے روایات نقل کی ہیں لھٰذا ان کو بیبی فاطمہ بنت محمد (س) سے ممتاز کرنے کیلئے بیبی کو فاطمہ صغریٰ کہا جاتا تھا تا کہ معلوم ہو کہ بیبی فاطمہ بنت محمد نہیں بلکہ فاطمہ بنت حسین (ع) کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔
یہ میں نہیں (لاحول والا ۔۔) بھائی میں نے نہیں علما نے یہ توجیہ پیش کی ہے لیجیئے ان کے نام بمع کتب:
بحار الانوار جلد 10 ص: 35
کشفہ الغمہ ص: 173
صحیح ترمذی مطبوعہ دہلی صفحہ 60
مشکواۃ مطبوعہ دہلی
ان سب صاحبان نے جب بیبی فاطمہ صغریٰ (س) سے روایت کی تو بیبی فاطمہ بنت محمد کو "کبریٰ" اور آپ کو "صغریٰ" لکھا اور اس طرح عبارت شروع کی "عن فاطمہ بنت الحسین عن فاطمہ کبریٰ اسی طرح دوسری کتب میں "عن فاطمہ الصغریٰ عن فاطمہ " آیا ہے۔

نتیجہ : تمام رویات اور دلائل سے یہ ثابت ہوا کہ
1- امام حسین (ع) کی دو بیٹیاں تھیں ایک بیبی فاطمہ (س) اور دوسری بیبی سکینہ (س) ۔۔
2-فاطمہ کبریٰ کا کوئی وجود نہیں ، فاطمہ صغریٰ کو بیبی فاطمہ زہرا سے ممتاز کرنے کیلئے "صغریٰ"کہا جاتا تھا اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) بیبی فاطمہ زہرا (س) سے مشابہت رکلھتی تھیں اس لیئے۔۔۔ بھرحال فاطمہ کبریٰ بنت حسین کا وجود ثابت نہیں ہو سکا۔

جناب قاسم کی کربلا میں شادی کا رد

 

جناب قاسم (ع) کی کربلا میں شادی ہوئی تھی یا نہیں؟


تحقیق: محمد زکی حیدری 


اس شادی کی روایت کس کتاب میں ہے ؟ یہ روایت جس بندے نے لکھی اس کی سچائی کے بارے میں علما کیا کہتے ہیں۔
جناب اس روایت کے لکھنے والے بندے کا نام ہے ملا کاشفی اور اس نے اپنی کتاب "روضۃ شہداء" میں یہ روایت لکھی ہے اور اس کی کوئی سند بھی پیش نہیں کی۔ ان صاحب کو علماء مشکوک المذاہب عالم مانتے ہیں یعنی اس کے مذہب میں شک تھا ان کی حالات زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جب ہرات (افغانستان ) جاتے تو خود کو سنی کہتے اور جب ایران آتے تو شیعہ کہلواتے۔ محدث نوری نے "لولو و المرجان " ایت اللہ مرتضیٰ مطہری نے "حماسہ حسینی" میں، آیت اللہ ظہور الحسن نے"تقریر حاسم" میں اور دیگر کئی علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ کاشفی سے پہلے ایسی روایت کو کسی نے بیان نہیں کیا اور اس نے بھی کوئی سند نہیں پیش کی اس روایت کی، نہ ہی کسی کتاب کا حوالہ دیا۔ یہ صاحب دس ہجری میں زندہ تھے لہٰذا ایک ہزار سال تک اس روایت کو کسی محقق یا مؤرخ کا نقل نہ کرنا اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ ہم شیعوں کی مستند کتابوں میں امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد صرف دو ہے ایک کا م سکینہ (س) اور ایک کا نام فاطمہ صغریٰ ہے فاطمہ (س) کا نکاح امام حسن (ع) کے بیٹے حسن مثنیٰ سے ہوا تھا جن سے آج تک طباطبائی سادات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ ہمارے کراچی میں مدفن "حضرت عبداللہ شاہ غازی" جن کی مزار شیعہ و سنی عقیدتمندوں کی آماج گاہ ہے یہ بھی حسن مثنیٰ یعنی بیبی فاطمہ صغریٰ کی اولاد میں سے ہیں۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام حسین (ع) کی کوئی بیٹی ایسی نہیں تھی جس کا عقد ہونا باقی ہو کہ جناب قاسم (ع) ان سے عقد کریں۔ لھٰذا اب مہندیاں سجانے والوں کو دعوت ہے کہ امام حسین (ع) کی ایک آدہ اور بیٹیاں نکال لائیں اور وہ بھی مستند حوالوں کے ساتھ پھر اس کا عقد جناب قاسم (ع) سے اور وہ بھی کربلا میں ثابت کریں۔ کر ہی نہ لے کوئی خیر!
اور بھائی یہ شادی اتنی "ارجنٹ" ہی کیوں ہونے لگی کہ کربلا کی تپتی ریت میں دشمن کا لشکر گھیرا ڈالے کھڑا ہو اور امام (ع) کو اپنے بھتیجے کی شادی کی ضرورت محسوس ہونے لگی؟ امام (ع) معاذاللہ محل و مقام نہیں دیکھتے کہ کدس وقت کون سا کام انجام دیا جائے؟
آیت اللہ سید ظہور الحسن لکھنوی صاحب اپنی کتاب "تقریر حاسم" مین فرماتے ہیں: "عاشورہ کے دن اس عقد کا وقوع ہونا عقل کے خلاف ہے، ایسی شادی جس کا کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو ایسا عقلا کے نزدیک فعل عبس (فضول کام) ہے۔ اور چہ جائیکہ امام معاذاللہ ایسا کام انجام دیں۔
اور بھیا معاف کیجئے گا بھلا امام حسین (ع) نے اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہی تھی تو عاشورہ سے قبل اور جناب قاسم (ع) کے دیگر برادران سے کیوں نہ کی جو کہ شادی کے لائق تھے اور جناب قاسم (ع) سے عمر میں بڑے تھے؟ شادی کے قابل بچی کا عقد 13 یا 12 سالہ جناب قاسم سے کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
ایک طرف خود ہی کہتے ہو وہ 13 سال کے تھے اور پھر نابالغ کی شادی منا کر مہندیاں نکالتے ہو۔ صرف مزے لینے ہیں نا تم نے عاشورہ سے؟
بھائی یہ ایک لمبی لسٹ بھیج رہا ہوں کتابوں کی ان سب علماء مجتھدین نے اس شادی کا انکار کیا ہے۔
علامہ باقر مجلسی کتاب جلال العیون
علامہ باقر مجلسی کتاب جلال العیون
خاتم المحدثین شیخ عباس قمی (رح) کتاب "منتہی الامال ج :1 ص: 700
آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد تقی تستری کتاب "قاموس الرجال ج:7۔ ص:357 اور جلد 8، ص: 644
آیت اللہ العظمی سید کاظم طباطبائی عروۃ الوثقیٰ، "نزہۃ المشتاق فی فتاوٰ علماء عراق ص 5
آیت اللہ العظمی اقای آخوند خراسانی صاحب کفایہ الاصول ایضاٍ ص 6
آیت اللہ العظمی عبداللہ مازندرانی ایضاٍ ص 7
آیت اللہ العظمی حسن مازندرانی ایضاٍ ص
آیت اللہ العظمی غلام حسین حائری اصفہہانی :ایضاٍ
آیت اللہ العظمی آقای اسماعیل صدر مجاہد اسلام ص 321
استاد المحدثین حسین نوری طبرسی کتاب لولو و مرجان ص 145
آیت اللہ العظمی ابوالقاسم خوئی اپنی فتاویٰ کی کتاب صراہ النجاۃ ج:2 ص 441
آیت اللہ العظمی شیخ جود تبریزی صراہ النجاۃ مسئلہ نمبر 1390
آیت اللہ العظمی ابوتراب موسوی نجفی بحولہ مجاہد اعظم ص 316
آیت اللہ العظمی سید علی حائری لاہوری بحوالہ سعادۃ الدارین ص: 392
ایت الہہ فاضل لنکرانی جامع المسائل ص:625
رہبر معظم انقلاب اسلامی سید علہ خامنہ ای "مصائب امام حسین (ع) ص 15 ، غلام علی رجائی بحوالہ حضرت قاسم بن حسن (ع)
آیت اللہ العظمی سید ریحان اللہ موسوی بحوالہ مجاہد اعطم ص 312
ایت اللہ سید ابوالھسن عرف ابوصاب لکھنوی بحولہ مجاہد اعظم ص 317
علامہ سید عبدلمجید حسینی شیرازی دخیرۃ الدارین ص 145
علامہ ربانی گلپائگانی منہاج الدموع ص:321

اور بھی بہت ہیں ٹائپ کر کے ہاتھ تھک گئے 12 مزید ہیں۔
جناب میں وہابی نہیں ہوں! نہ کوئی عزاداری کا دشمن ہوں۔ اپنے شہر کے امام بارگاہ کی جھاڑو برداری میں فخر محسوس کرنے اور اپنے انجمن کے دستے میں نوحہ خوانوں کا بازو بننے والا ایک حقیر سا عزادار ہوں۔لیکن بات یہ ہے کہ جب چائنا کا موبائل ہمیں کسی کام کا نہیں لگتا تو نقلی کربلا سے ہم کون سے انقلاب لے آئیں گے یہ بھی کسی کام کا نہیں ہے۔ دوستوں، بھائیوں بہنوں میرے محترموں میں مہندیوں سے کلاوے اٹھا اٹھا کر باندھتا رہا ہوں اس لیئے نہیں کہ مجھے علم نہ تھا کہ جناب قاسم (ع) کی مہندی کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اس لیئے کے اس میں میرے حسین (ع) کے عزادروں کا خلوص بھرا ہوتا ہے اور خلوص کے بنا کوئی چیز کسی کام کی نہیں ہوتی، لیکن! میں صرف اتنا چاہتا ہوں اسی خلوص کو "اصلی" حسینی اقدار و رسومات عاشورہ کیلئے عمل میں لائیں، یقیں جانیئے 1920 ع کے عراقی شیعہ اسلامی انقلاب اور 1979 کے ایرانی اسلامی انقلاب کی طرح ہمارے پاکستان میں بھی ایک انقلاب ائے گا۔ اصلی حسین (ع) کا دامن تھام لیں۔۔۔ یار عجیب بات ہے! آخر کیسے میں مان لوں کہ ایک ملک کی عوام ہے جو حسین (ع) حسین (ع) کرتی ہے مجالس برپا کرتی ہے، عزاداری کرتی ہے لیکن چند کرپٹ، بے دین ، جاہل، منحوس، خود غرض، قبیح حکمرانوں کے پنجے میں پھنسی ہوئی ہے! کیسے مان لوں میں کہ حسین حسین کرنے والے پاکستان میں ذلت و رسوائی، روز روز لاشے اٹھا رہیں ہیں! مسئلہ کہاں پے حسین (ع) میں مسئلا ہے؟ (نعوذبااللہ) ۔۔۔ نہیں جو حسین (ع) تم نے بنایا ہوا ہے اس میں مسئلا ہے اس میں "فالٹ" ہے، وہ اصلی حسین نہیں ہےدوست! اصلی حسین (ع) ہو اور اس کا عاشور منانے والا رسوا ہو؟ نہیں! یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ آج دنیا میں شیعہ اپنے اپنے ممالک میں جارحیت کے خلاف برسر پیکار ہیں انہوں نے زینب (س) کی راہ اختیار کی ہے ظلم کے ایوانوں کو ہلا دینے چل پڑے ہیں اور ہم خود کو یہ کہہ کر دلاسے دیتے ہیں کہ میاں شہادت تو ہماری میراث ہے، لاشے تو ہمیشہ اٹھاتے ہیں، لاشے اٹھانا تو حسین (ع) کی سنت ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیوں بھائی کربلا تک آ کر اسلام ختم ہوجاتا ہے، شیعیت ختم ہاجاتی ہے؟ کربلا کے بعد مختار(ع) بھی تو آئے تھے، وہ آپ کو یاد نہیں کیوں؟ کبھی منائی آپ نے ان کی ولادت یا شہادت ؟ اپنے بچوں کو یہ تو بتاتے ہو کہ ہمارے امام اور اصحاب شہید ہوئے ان کو ایسے اصحاب کا کیوں نہیں بتاتے جنہوں نے دشمن کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں، ہمیں حسین (ع) کا لاشے اٹھانا یاد ہے مختار(ع) کا لاشے گرانا کیوں یاد نہیں؟ ہمیں زینب (ع) کا دربار یزید میں ماتم کرنا یاد ہے، لیکن انکا حق کی زبان و گفتار کے تیروں کی بوچھاڑ سے یزید کے ایوان کو ہلا کر رکھ دینا کیوں یاد نہیں؟ کیا دشمن کے خلاف مقاومت، مزاحمت، جدوجہد، شجائت صرف خود کو پیٹنے تک محدود رہ گئی ہے؟ ماتم کا ہاتھ ہمارے نہیں یزید کے سینے پہ لگتا ہے فضول دعوے! روز مائیں روتی ہیں، پاکستان میں بالخصوص کراچی میں روز انچولی، ملیر، رضویہ میں شہدا کے جنازے آتے ہیں اور صاحب بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا ماتم کا ہاتھ یزید کے سینے پہ لگتا ہے۔۔۔۔ جی جی آپ کے ماتم سے یزید واقعی کمزور ہو رہا ہے اس لیئے تم کوئٹہ سے ایران جاتے ہوئے ڈرے ڈرے سہمے سہمے جاتے ہو، تمہاری بسوں سے اتار کر تمہیں مارا جاتا ہے، تمہارے ڈاکٹر، تمہارے انجینئر، وکلاء، بیوروکریٹ ، افسر، طلبا کو نشانہ بنا کر شہید کیا جاتا ہے، گلگت سے لیکر بدین تک تمہارے خون کے چھینٹے ہر گلی میں بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں، ہاں جناب یزید کمزور ہوگیا! ۔۔۔
۔یاد رکھو تمہارے پاس یزید اصلی ہے حسین نقلی اس لیئے تم مر رہے ہو جس دن حسین (ع) اصلی ہو گیا تو تمہارے سامنے اصلی یزید بھی دھول چاٹے گا۔۔۔۔ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت اچھی کا نعرہ لگانے والے حسین (ع) کے عزادارو! حسین (ع)نے قربانی دی، زینب (س) نے مجلس پڑھی اورمختار نے ماتم کیا ایسی مجلس اور ایسا ماتم برپا کرو پھر دیکھنا لانڈھی سے لاہور، لاہور سے لندن تک کے تمہارے دشمن کتے کی موت مارے جائیں گے ۔۔۔۔!

 

www.facebook.com/arezuyeaab