عقل کی بتی جلائے رکھیں!

 

 
عقل کی بتی جلائے رکھیں!

تحریر: محمد زکی حیدری

ایک پاگل جھاز میں بولا بھائی مجھے تو کھڑکی والی سائڈ جو سیٹ هے اسی پر هی بیٹھنا هے ! عمله پریشان, لوگوں نے بھت سمجھایا که بھائی وه سیٹ کسی اور کو الاٹ هے, مگر نهیں وه پاگل بضد تھا که اسے اسی سیٹ پر هی بیٹھنا هے.اتنے میں ایک بزرگ جو ذرا عقلمند تھے اور یه سب دیکھ رهے تھے, اٹھے پاگل کے پاس پهنچ کر اس کے کان میں کچھ کها. یه سنتے هی پاگل اپنی سیٹ پر آگیا. سب نے بزرگ سے پوچھا آپ نے ایسا کیا کها پاگل کو که وه مان گیا. بزرگ بولے میں نے اس کے کان میں جاکر کها که کھڑکی کی طرف جو سیٹ هے وه لاھور جائے گی تم تو دبئی جا رهے هو نا دبئی والی سیٹ پر بیٹھو.

مجھے کبھی کبھار پاکستانی شیعوں کا بھی اسی پاگل سا حال معلوم هوتاهے. مجتھدین ایک واضح بات کردیں تو بھی پاکستانی نهیں مانیں گے "نهیں بھائی یه کیسے هو سکتا هے, بات ھضم هی نهیں هوتی." میں مثال دے دوں آقای بشیر نجفی نے فتوا دیا که سیدزادی سے غیر سید کا نکاح جائز هے. همارے برادران ناراض هو گئے که یه کیا بات هوئی, نهیں هم تو نهیں مانتے. آغا نے فتوامیں جمله ایڈ کر دیا که جهاں فساد کا ڈر هو وهاں "جائز نهیں" یه سن کر همارے دوست خوش هوگئے که هاں یه هوئی نا بات اب ٹھیک هے. ناجائز کا لفظ آگیا. جب که ان عقلمندوں سے یه کها جائے که ذرا غور تو کرو آقا نے هرگز فتوا تبدیل نهیں کیا, فساد تو کسی بھی عمل سے هو تو وه عمل ناجائز هے چاهے شیخ کی شادی شیخ سے هو رهی هو اس سے فساد هوتا هے تو ناجائز هے. مگر ایک جائز کام کے فتوا میں ان عاقلوں کو لفظ "ناجائز" لااااااازمی دیکھنا تھا سو فتوا میں جب یه لفظ دیکھا تو خوش هو گئے.
اسی طرح کل عزاداری پر بات شروع هوئی مستحب هے یا واجب!!! سب فقهاء نے کهه دیا عزاداری اپنی عام حالت میں مستحب هے. لیکن همیں یه بات ھضم نهیں هوتی. یه "هم" جو هیں نا اپنی "هم" سے باهر آهی نهیں پاتے. مجبور هو کر ایک بزرگ عالم آیا اس نے فرمایا اگر حالات فلاں فلاں نوعیت کے هوں تو عزاداری واجب! صاحبان خوش که واه یه هوئی نه بات... واجب کا لفظ آگیا... اتنا بھی نه سوچا که فتوا جوں کا توں هی هے که عام حالت میں مستحب هے اگر مگر ڈال کر واجب هوئی.
همیں فقهاء کی بات من و عن ماننے میں اتنا بخار کیوں چڑھ جاتا هے? هم ان مجتھدین کے علم سے بھی واقف هیں, ان کی تقوا سے بھی, ان کی قربانیوں سے بھی واقف هیں هم ان کی شخصیت میں ایک بھی بڑا عیب, ایک بھی حرام فعل نهیں دکھا سکتے پھر بھی جب وه کچھ کهیں تو همیں اس منبری مولوی و خطیب کی بات یاد آجاتی هے جسے هم دوهزار کم دے دیں تو فون کر کے همیں سناتا بھی هے اور آئنده مجلس میں نه آنے کی دھمکی بھی دیتا هے. اس مولوی اس خطیب کی بات کو بنیاد بناکر هم ایسی ھستیوں کی بات سے کیڑے نکالتے هیں جن ھستیوں نے مکتب اھل بیت (ع) کیلئے اپنی زندگیاں دے دیں. یه هین هماری عقلیں! خدارا عقل کی بتی جلا کر رکھیں تا که زندگی منور رهے.

 

شکریہ حافظ صاحب!

شکریہ حافظ صاحب!

 

تحریر: محمد زکی حیدری

 

کل میں نے فیسبوک پر دیکھا کہ آیت اللہ حافظ بشیر نجفی صاحب کو کسی نے رہبر، ولی فقیہ، مرجع تقلید وغیرہ کے القاب سے نواز رکھا ہے اور نیچے کمنٹس میں کچھ لوگ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ـ ـ ـ عجب!!!

پہلے مجھے خوشی ہوئی پھر افسوس! خوشی اس لئے کے بیچارہ دشمن انقلاب و اسلام و ولایت فقیہ کتنی جتیاں گھس رہا ہے کہ انقلاب سے لوگوں کو متنفر کرے لیکن انقلاب کی روشنی عراق، شام، بحرین، یمن، لبنان، نائجیریہ سے ہوتی ہوئی آذربائیجان و روس میں داخل ہونے لگی ہے. ملنگیوں کی کوششیں ناکام ہو رہی ہے... خوشی!

افسوس اس لئے ہوا کہ میں حافظ بشیر صاحب قبلہ کو اب تک غلط سمجھ رہا تھا، لیکن جب غور کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے تو اسلام و انقلاب و اجتہاد و مرجعیت و ولایت فقیہ و رھبری پر بہت بڑا احسان کیا ہے سو میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں.

شکریہ آیت اللہ قبلہ حافظ بشیر صاحب کہ کل جو لوگ عمامے والوں کو برا بھلا کہتے تھے آج ان کی زبان پر ایک مجتہد یعنی آپ کے قصیدے ہیں.

شکریہ حافظ صاحب کہ کل جو اجتہاد کو غلط سمجھتے تھے آپ نے انہیں تقلید کرنا سکھا دی. اور وہ خود کو آپ کا مقلد کہلواتے ہیں.

شکریہ میرے عزیز بزرگوار کہ کل جو لوگ ولایت فقیہ کو اسلام کا حصہ نہیں سمجھتے تھے, اسے راہ آئمہ (ع) سے انحراف سمجھتے تھے وہ لوگ آج آپ کو ولی فقیہ بنا بیٹھے ہیں.

شکریہ مرجع عالی القدر کہ آپ کی وجہ سے وہ لوگ جو رہبر و رہبریت کو گمراہی سمجھتے تھے آج آپ کو رہبر معظم مانتے ہیں.

شکریہ قبلہ کہ ان کے اصل چہرے آپ نے عوام کے سامنے پیش کئے کہ ان کے عقیدے کیا ہیں، ایک دن ایک عقیدہ دوسرے دن دوسرا..

ان کو پاس بلا کر قریب سے ان کے چہروں پہ لعنت دینے کے عظیم کام کا اجر آپ کو اللہ (ج) دیں گے.

کچھ "حد سے زیادہ انقلابی" (over inqilabi) دوست سمجھتے ہیں کہ آپ بھی (نعوذ باللہ) کوئی برطانوی ایجنٹ ہیں لیکن اگر وہ لوگ غور کریں تو سمجھیں گے کہ جس طرح آپ نے اجتہاد، تقلید، ولایت فقیہ و رہبری کا لوہا دشمن کے آگے منوایا اور ان کے عقائد کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کو ثابت کیا ہے ایسا آج تک کسی نے نہیں کیا...

بس ان شاء اللہ ایک دن یہ ملنگی "خوش فہمی" اور کچھ زیادہ ہی انقلابی (over inqilabi) دوست "غلط فہمی" کی اپنی عادت کو بدلیں گے اور چیزوں کو ان کی عین حقیقت اور مثبت انداز میں دیکھنے کی کوشش کریں گے. اور کہیں گے " شکریہ حافظ صاحب!"


www.fb.com/arezuyeaab