عشق اور عقل

تحریر : محمد زکی حیدری

 ہم خود کو معصوم سمجھتے ہیں! سچ کہہ رہا ہوں اس کی دلیل یہ ہے کہ ہم خود کو کبھی غلط نہیں سمجھتے، نہ ہم اپنی غلطی مانتے ہیں تو اس کا مطلب یه که ہم ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں،  جو شخص کوئی غلط کام کرتا ہی نہیں تو بھیا اس سے بڑا معصوم بھلا کون ہوسکتا ہے۔ خود کو معصوم ثابت کرنے کیلئے ہم رشوت کو "خرچی"، "چائے کے پیسے"، "مٹھائی" ؛ بھتے کو "پروٹیکشن منی" (حفاطت کی اجرت)، فضول اخراجات کو "تقاضائے وقت یا مجبوری" ؛ عریانی کو "فیشن"؛ دین سے انحرافی کو "روشن فکری" ،اپنے سیاسی جلسوں کیلئے دکانداروں سے زبردستی پیسے لینے کو "چندہ" یا "مالی معاونت" وغیرہ کہتے ہیں تا کہ ان تمام تر قبیح کاموں کو اچھے الفاظ کی چادر پهنا کر ان کی قباحت کو چھپایا جا سکے اور خود کو معصوم ظاہر کیا جا سکے۔

اسی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے عجیب و غریب اور خلاف عقل و خلاف انسانیت کاموں کو چھپانے کیلئے لفظ "عشق" استعال کرتے ہیں ان سے کہا جائے جناب درگاہ پر جاکر رقص کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا اچھے خاصے متدین انسان ہو آپ، تو جواب آئے گا "بھائی عشق ہے! یہاں عقل کو ایک طرف رکھو۔ "... ارے بھیا ذوالجناح کی زیارت کرو، اسے مس کرو منت مانگو لیکن یا ر سجدہ تو نہ کرو جواب آئے گا "بھائی هر کسی کے عشق کی بات ہے۔۔۔ " .... اجی قمہ مت ماریئے چھوڑیئے یار ھاتھ کا ماتم کریئے مولا قبول فرمائیں گے بولے عشق ہے عقل کو "سائڈ" پر رکھیئے۔...

اچھا! کیا قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ عقل کوایک طرف رکھو؟ کیا آئمہ (ع) کے قول و فعل میں بھی ایسا ملتا ہے؟؟؟ میرے بھائی قرآن نے افلا تدبرون، افلا تعقلون ، تفکرون۔۔۔ جیسے الفاظ بار بار دہرائے ہیں کہ بھائی عقل سے کام لو جہاں عقل نہیں وہاں جنون ہے اور جو عقل سے کنارہ کش ہوکر جنون کی طرف جائے وہ مجنوں ہے مجنوں عربی میں کہتے ہی پاگل کو ہیں, جس کے پاس صرف عشق ہو عقل نہ ہو اور یہ مجنوں کا لفظ اللہ کو اتنا برا لگا کہ سورہ تکویر میں آواز دی "وما صاحبکم بمجنون" تمہارا  نبی (ص) مجنوں نہیں ہے۔  دیکھیئے اصول کا فی میں الگ باب ہے "کتاب عقل و جہل" کا جس سے یہ روایت ہے امام موسیٰ کاظم فرما رہے ہیں: قال الکاظم عليه السلام:

يَا هِشَامُ مَا بَعَثَ اللّهُ أَنْبِيَاءَهُ وَ رُسُلَهُ إِلَى عِبَادِهِ إِلّا لِيَعْقِلُوا عَنِ اللّهِ فَأَحْسَنُهُمُ اسْتِجَابَةً أَحْسَنُهُمْ مَعْرِفَةً وَ أَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللّهِ أَحْسَنُهُمْ عَقْلًا وَ أَکْمَلُهُمْ عَقْلًا أَرْفَعُهُمْ دَرَجَةً فِي الدّنْيَا وَ الْ‏آخِرَةِ يَا هِشَامُ إِنّ لِلّهِ عَلَى النّاسِ حُجّتَيْنِ حُجّةً ظَاهِرَةً وَ حُجّةً بَاطِنَةً فَأَمّا الظّاهِرَةُ فَالرّسُلُ وَ الْأَنْبِيَاءُ وَ الْأَئِمّةُ وَ أَمّا الْبَاطِنَةُ فَالْعُقُولُ ... يَا هِشَامُ کَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ مَا عُبِدَ اللّهُ بِشَيْ‏ءٍ أَفْضَلَ مِنَ الْعَقْلِ

اے ہشام ہمارے خداوند متعال نے عقل کے ذریعے سے تمام لوگوں پراپنی حجت تمام کی اور پیغمبروں کی بیان کے ذریعے مدد کی، اور اپنے ربوبیت پر برہان کی مدد سے ان کی دلالت کی۔۔۔ اور صاحبان عقل کو بہتریں چہرے کے طور پر یاد کیا اور اسے بہترین زیور سے آراستہ کیا اور فرمایا: اللہ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس نے حکمت لی اس نے بڑا ہی خیر کمایا اور یہ بات عقل والوں کے سوا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔۔ ای ہشام خدا لوگوں پر دو قسم کی حجت رکھتا ہے : حجت ظاہری اور حجت باطنی، حجت ظاہری رسول، پیغمبران، اور آئمہ ہیں اور حجت باطنی عقل انسانی ہے!۔۔۔۔ اے ہشام امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا : خدا کی بندگی عقل سے زیادہ کسی اور بہتر چیز سے نہیں کی جاسکتی۔

اصل میں بات یہ ہے کہ عشق کو ہم سمجھ نہیں پائے عشق کی ہم نے تعریف یہ بنالی کہ جس کا بھی خلاف عقل کام کرنے کا من کرے وہ سینہ تان کر اس کام کو انجام دے اور جب اس سے جواب طلب کیا جائے تو وہ اپنے کیئے ہوئے فعل پر "عشق" کا لیبل چسپاں کر دے۔ ! عشق کوئی قبیح چیز نہیں بلکہ اس کے سوا تو گذارا ہی نہیں مگر لٖفظ عشق کی اصل روح کو سمجھیئے عشق و عقل کا تضاد ہے ہی نہیں، عقل ادراک ہے اور عشق عمل، عقل عقیدہ ہے اور عشق عمل۔۔۔ وہ عشق کسی کام کا نہیں جو عقل سے عاری ہو اور وہ عقل عقلِ حقیقی نہیں جو عشق کے رنگ میں نہ رنگا ہو۔۔۔ عقل روح ہے اور عشق جسم۔۔ یہ قوم بڑی باشعور ہے مجھے اندازہ ہے کہ یہ پوچھے گی اب ان میں سے افضل کون ہے؟ سادی سی مثال دے دوں نماز افضل ہے یا وضو؟ آپ کہیں گے نماز کی فضیلت زیادہ ہے اچھا بھائی بغیر وضو کے نماز قبول ہوگی؟ آپ کہیں گے نہیں وضو تو لازمی ہے. بس اسی طرح نماز کو عشق جانیئے اور عقل کو وضو، جو عقل سے وضو کئے بغیر نماز عشق کیلیئے کھڑا ہوا اسکا عشق عشقِ حقیقی نہیں! اور جس نے خالی وضو کیا اور نماز ادا نہ کی تو اس نے چھوٹے مقصد پر کفایت کی بڑے مقصد کق پانے سے محروم رہا ۔۔۔ یاد رکھو جہاں وضو (عقل) ٹوٹا وہاں نماز (عشق) باطل ہے!

حسین (ع) عاشقوں کے امام ہیں لیکن مجنوں کے نہیں ! پاگلوں کے نہیں ! دیوانوں کے نہیں ! جی جی بڑے وثوق سے عرض کر رہا ہوں، میں جانتا ہوں کہ لفظ "دیوانہ" سن کر آپ کے اذہاں میں ایک ہی شخص کا عکس آئے گا اور بول پڑیں گے کہ  جناب یہ تو ٹھیک ہے  لیکن گھروندے بناکر جنت بیچنے والے دیوانے بہلول  کا کیا کہیں گے؟ تو بھیا عرض ہے کہ آپ نے اگر بہلول کو (نعوذباللہ)  دیوانہ، مجنوں کہا تو یہ اس عظیم درویش کی شان میں گستاخی ہوگی جس کا مشہور زمانہ لقب ہی دانا ہے "بہول دانا" ... ہاں طرز زندگی ذرا ہٹ کے پیشک تھا مگر عقل کی حدود کو پار نہیں کیا کبھی اس عظیم درویش نے... بہلول درویش ہے لیکن دانا، بہلول عاشق اہل بیت(ع)  ہے لیکن دانائی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتا... پس ثابت ہوا کہ جو عقل پر قدم رکھ کر عشق کی اونچائیوں کو چھوئے اسے ہی بہلول کہتے ہیں ۔ آپ نے عقل وعشق کے امتزاج کا بہتریں نمونہ دیکھنا ہے تو اس درویش عاشق اہل بیت (ع) بہلول کو دیکھ لیجئے۔ مجھے بہلول کا ایک فعل ایسا دکھا دیں جس میں (نعوذباللہ) اس دانا نے عقل کو "سائیڈ" پر رکھا ہو!

اب رہی بات شعر و شاعری کی تو جناب شعر و شاعری میں الفاظ کچھ ہوتے ہیں اور معانی کچھ اور, شاعر جس سطح فکری، جس معرفت کی منزل پر بیٹھ کر بات کر رہا ہوتا ہے وہاں تک عام انسان کی رسائی ممکن نہیں خود دیوان امام خمینی (رح) کے اشعار میں مستعمل الفاظ مے و جام و یار و۔۔۔ کو لغوی لحاظ سے دیکھا جائے تو آپ نعوذ باللہ امام (رہ) کو ہی منحرف سمجھیں گے۔ بات شاعری کی نہیں بات ہے عام عمومی علم کی... خود اقبال کو ہی لے لیجئے کس طرح عقل کے چشمے سے وضو کر کے عشق کی نماز میں کھڑے ہوئے ہیں کہ ایک طرف فرماتے ہیں:

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ         اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں.

لیکن یہ کہه کر وہ عورت کے تعاقب میں دیوانہ وار نہیں پھرتے بلکہ ان لوگوں پر افسوس کرتے ہیں کہ جو عورت کے وجود مین غرق ہو گئے فرمایا:

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس

آہ بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار...

اقبال کو علم تھا کہ عشق میں جب عقل کا دامن چھوٹ جائے تو رسوائی ہوتی ہے لھٰذا فرمایا :

عشق اب پیروی عقل خدا داد کرے

آبرو کوچہ جاناں میں نہ برباد کرے..

بھر حال ہمارے لیئے کوئی شاعر حجت نہیں ہے , ہمارے لیئے حجت قرآن و اہل بیت (ع) ہیں جن کے قول و فعل سے عقل و عشق کا ساتھ ثابت ہے ان میں تضاد نہیں نہ ہی ایک کا معراج دوسرے کے متروک ہونے کی دلیل، اس لیئے ہم پر بھی واجب ہے کہ سمجھیں کی معرفت اور عشق ساتھ ساتھ پروان چڑھتے ہیں معرفت کے بغیر عشق کے دعوے خود کو ہی بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔

www.facebook.com/arezuyeaab

arezuyeaab.blogspot.com