دوست نے سوال کیا ہے کمیل بن زیاد نخعی کون تھے جن کو امام علی (ع) نے مشہور دعا نصیحت جو دعاء کمیل کے نام سے مشہور ہے؟

 

جواب: عرض کرتا چلوں کہ میں عالم دین نہیں اما چونکہ کمیل بن زیاد کے بارے میں میں نے کتاب نفس المہموم تالیف شیخ محدث عباس قمی رح میں پڑھا ہے لہذا اسی سے جواب دونگا.

کمیل بن زیاد نخعی کی عمر ابھی ۱۸ سال تھی کہ پیغمبر اکرم (ص) اس دنیا سے چلے گئے. کمیل علی (ع) کے اہم ساتھیوں میں سے تھے، اہل سنت نے انہیں ثقہ (سچا قابل اعتماد) راوی مانا ہے.

آپ جنگ صفین میں امام علی (ع) کے ساتھ تھے. 

کہتے ہیں کہ حجاج نے ھیثم سے پوچھا کہ بتاؤ کمیل آج کل.کہاں ہے؟

ھیثم نے کہا وہ بوڑھا ھوگیا ہے گھر تک ہی محدود ہے.

بولا اسے بلا لاؤ، کمیل آئے حجاج نے کہا: بولو تم نے  عثمان کے ساتھ کیا کیا؟ کمیل بولے عثمان نے مجھے تھپڑ مارا تھا میں نے قصاص کا مطالبہ کیا جب وہ راضی ہوا تو میں نے اسے معاف کردیا.

 دوسری روایت میں ہے کہ حجاج نے انہیں بلا کر کہا کہ تم نے عثمان کو قتل کیا، اس کی گردن کاٹی اور پھر حکم دیا کہ اس کی گردن کاٹ دو. کمیل نے فرمایا میری عمر کے اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں میرے مولا (ع) نے مجھے بتا دیا تھا کہ تم ہی مجھے قتل کرو گے، سو جلدی کرو جو کرنا ہے.

اس وقت کمیل ۹۰ سال کے تھے. 

یاد رہے کہ روایات میں ملتا ہے کہ علی (ع) کے وفادار صحابی قنبر (رض) کو بھی اس حجاج لعین نے شہید کیا.

 

اس کی مزید تفصیل ارشاد مفید میں آئی ہے لیکن جب وقت ملے گا تو ارشاد مفید کو بھی دیکھ لوں گا ان شاء اللہ.

 

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری

www.fb.com/arezuyeaab