علی (ع) کی زہرا (س) سے شادی اور ہم

 

( خیال :مرحوم سید مولانا غلام عسکری اعلی اللہ مقامہ)

تحریر :محمد زکی حیدری

 

آگ آگ آگ! یہ کسی انسان کی چیخ نہیں ہے، یہ آگ کسی ایک گھر میں نہیں لگی، کسی ایک گودام یا دکان میں نہیں لگی، کسی کھیت کھلیان میں بھی نہیں لگی ، نہ ہی یہ آگ کسی ایک گاؤں یا کسی ایک محلے میں لگی ہے بلکہ یہ آگ پورے پاک و ہند میں لگی ہے دونوں ممالک کے لوگ اس میں جھلس رہے ہیں، بھارت و پاکستان کا ہر خاندان اس میں جل رہا ہے، ہر انسان کے تن بدن میں یہ آگ لگی ہے ، ہر عمر کے افراد جوان،  بوڑھے، عورتیں سب اس آگ میں جل رہے ہیں, بچے بھی اپنے بڑوں کے ہاتھوں اس آگ میں جھونکے جانے کے منتظر ہیں اس آگ سے انسانی گوشت  کے جلنے کی بدبو آ رہی ہے اس آگ میں زندگیاں جھلس گئیں ، جوانیاں اس کی بھینٹ چڑھ گئیں ، اس آگ میں دھڑا دھڑ شرافت، انسانیت، حیا، ایمان ، رشتہ داریاں، جل کر دھواں دھواں ہو رہی ہیں . مگر کچھ لوگ اس آگ سے تاپ رہے ہیں ، اس آگ سے گھر میں اجالا کر رہے ہیں،اس آگ پر اپنے چولھے ہانڈی چڑھا رہے ہیں! آپ حیران ہوں گے کہ میں کس آگ کی بات کر رہا ہوں اور کن خبیث لوگوں کی طرف اشارہ کر رہا ہوں جو اسے ہوا دے رہے ہیں تو سنیئے بھیا اس آگ کا نام ہے شادی! اس کا ایندھن ہے جہیز، رسمیں، گھراتی، براتی، اور وہ آدم خور جلاد ہیں دولھا ور دولھا کے گھر والے اور تمام خود فریب جو رسموں کے، شگن کے اور شکوک کے پجاری ہیں! یہ تمام لوگ بیک وقت بھیڑ بھی ہیں اور بھیڑیے بھی، ظالم بھی  ہیں اور مظلوم بھی ، رونے والے بھی یہی رلانے والے بھی ، یہ ڈستے بھی ہیں اور ڈسے جاتے بھی ہیں، نوچتے ہیں اور نوچے جاتے بھی ہیں۔

اس معاشرے کو سب سے پہلے ایک پاگل کتے نے کاٹا جس کا نام ہے "لوگ کیا کہیں گے"  اس کتے کے اگلے پیروں کا نام ہے جہیز اور رسمیں اور اس کے پچھلے پیروں کے نام ہیں قرض مہر اور ساری زندگی لڑکی والوں سے خوفزدہ رہنا اس کتے پر سوار ہیں دولہا میاں اور اس کے گرد جمع ہیں گھراتی، باراتی اور رسموں کے پجاری، اس پاگل کتے کے تیز دانتوں کا نام ہے دکھاوا! اس کتے نے اپنے تیز دانتوں سے دین و ایمان و شرافت و رحمدلی و قناعت و ۔۔۔ سب کو بھبھوڑ ڈالا ہے۔ پاگل کتا جسے کاٹ لیتا ہے وہ پاگل ہوجاتا ہے اور یہ پاگل جسے ناخن مار دے وہ بھی پاگل ہوجاتا ہے سب پاگل کتے کی طرح بھونکتے ہیں اور سب کے منہ میں کتے کی شکل کے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔

"لوگ کیا کہیں گے" کو ملحوظ رکھ  کر جو پہلی شادی ہوئی تھی اس دن اس کتے کا جنم ہوا تھا اور جنم دن پر ہی جہاں اس نے لڑکی والوں کو جہیز کے نام پر خوب نوچا اور پھاڑا وہاں لڑکے والوں کو بھی رسومات کے نام پر کاٹ کاٹ کر لہولہاں کیا۔ اس کے یکے بعد دیگرے خاندان کے خاندان اس پاگل کتے کے زیر اثر آتے چلے گئے اور پاگل ہوتے چلے گئے دین کا ویکسین ناپید تھا یا اسے جان بوجھ کر ایک طرف رکھ دیا گیا تھا ۔ آج ہم اور آپ اسی پاگل سماج میں جی رہے ہیں۔ حال یہ ہے کہ بیٹی رحمت ہوتی ہے کے ماننے والے کے یہاں جب پہلی بیٹی ہوتی ہے تو پریشان ہوجاتا ہے، جب دوسری کی پیدائش ہوتی ہے تو کانپ اٹھتا ہے۔ اور پوری زندگی رعشہ کی یہ بیماری نہیں  جاتی۔ حوا کی بیٹی جب سمجھدار ہوتی ہے تو اسے اپنے چاروں طرف جہنم کی سی جنسی آگ سلگتی ہوئی نظر آتی ہے اس آگ سے بچانے والی پر مسرت شادی کے امکانات جہیز اور رسموں نے بلکل ختم کر دیئے ہیں۔ لیکن کیا کیجے بھیا! بیٹی کی شادی کے وقت آٹھ آنسو رونے والے کے یہاں جب بیٹے کی شادی کی تیاری ہوتی ہے تو وہ لڑکی والوں کو آٹھ ہزار آنسو رلاتا ہے۔ اس طرح یہ آگ ہے کہ جس میں ہم ہی ایندھن ڈالے جا رہے ہیں۔

سچ کہہ رہا ہوں رسمیں جہالت کا نتیجہ ہیں ، دباؤ ڈال کر جہیز لینا حرام ہے، رسومات کی پابندی کا مطالبہ کرنا ناجائز ہے، ان کے ذریعے ملنے والا مال حرام ، ہم منگنی سے لیکر رخصتی تک جو خرچ کرتے ہیں اس میں 99٪ فضول خرچ ہے اور فضول خرچی ناجائز ہے۔  ہماری زبردستیاں، ہماری بے مہار نفسانی خواہشیں، معاشرے کی باتوں کا ہماری سوچ اور فکر پر غلبہ۔۔۔ہم ہر واجب ہوگیا ہے خود کو آگ میں جھونکنا! کیوں کہ معاشرہ ہمیں آگ میں جھلستا ہوا دیکھنا چاہتا ہے, جو معاشرہ چاہے گا ہم کریں گے، ہر عمل معاشرے کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر کریں گے، معاشرے کے خلاف کچھ نہیں  کریں گے، معاشرے کے مقابلے میں اللہ کا حکم محمد و آل محمد (ع) کی سیرت بھی آگئی تو ترجیح معاشرے کی بات کو دیں گے۔۔۔ اور شام کو جاکرجانماز بچھا کر اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوں گے!  علی (ع) اور زہرا (س) کی شادی کے دن آئے تو جھوم جھوم کر خوشی منائیں گے! واہ میاں تمہاری نماز۔۔۔ واہ شیعہ تیرا علی (ع) وزہرا کی شادی کا جشن منانا!

تو کسیے بجھے گی یہ آگ؟ محمد (ص) کے بتائے ہوئے طریقے سے، علی (ع) اور زہرا (س) کی شادی کی طرح اپنے گھر میں موجود علی اور زہرا کی شادیاں کرنے سے! اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے یہ زندگی یہ اولاد تمہاری ہے انہیں اس طرح پال پوس کر بڑا کرو، اللہ و اہل بیت (ع) کیلئے جینا سکھاؤ، اپنے لیئے جینا سکھاؤ، سر پر لہراتی معاشرے کی تلوار کو ہٹا دو، اپنے لیئے شادیاں کرنا سکھاؤ، "لوگ کیا سمجھیں گے" کی جگہ " میرا اللہ، میرا اہلبیت (ع)  کیا سمجھیں گے" رکھ کر زندگی کا ہر عمل انجام دو، دین اطاعت کا نام ہے ہم لوگ اپنے روز مرہ کے امور میں معاشرے کی اطاعت کر رہے ہیں یا اللہ و اہل بیت (ع) کی؟ سوچئے۔

میری شادی نہیں ہوئی میں علی (ع) و زہرا (س) کی شادی کی قسم کھا کر کہتا ہوں فضول خرچہ نہیں  ہونے دونگا چاہے مجھے میرے والدین سے ہی کیوں نہ لڑنا پڑے،  بری رسموں کا آغاز بھی ہم جیسے انسانوں نے کیا تھا تو کیا ان کا قلع قمع کرکے اچھی روایتوں کا آغاز ہم جیسے انسان نہیں کر سکتے؟ اگر ہاں تو اور کوئی کیوں, میں خود سے ہی کیوں نہ شروعات کروں، قرآن بھی یہی کہتا ہے "وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں" اب آپ کا کیا خیال ہے میرے جوان دوستو؟معاشرے کو دکھانے کیلئےشادی کرنی ہے یا علی (ع) اور زہرا (س) کے نمونے  شادی کرنی ہے؟

 

www.facebook.com/arezuyeaab