بسم اللہ الرحمٰن الرحیم



حجـــاج بن یوسف کے دماغ کی بتی



حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا. اسے پتہ چلا کہ عراق کا بوڑھا فقیہ یحیٰ بن یعمر اپنی کتب میں حسنین (ع) کو "یابن رسول اللہ" لکھتا ہے. حجاج نے حکم دیا اس بوڑھے کو ذرا دربار میں پیش کرو. اسے میں سبق سکھاتا ہوں. یحی کو پابند رسن حجاج کی دربار میں پیش کیا گیا. حجاج نے کہا یحی بن یعمر بتاؤ کیا وجہ ہے کہ تم حسنین (ع) کو رسول کا بیٹا کہتے ہو جب کہ قرآن کہتا ہے ما کان محمد ابا احد من رجالکم محمد تم مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے. (احزاب ۴۰)
یحی نے کہا میں انہیں اولاد فاطمہ (س) ہونے کی بنیاد پر ابن رسول کہتا ہوں. حجاج نے کہا یحی بن یعمر! اولاد باپ سے چلتی ہے ماں سے نہیں. یعمر نے کہا قرآن سے ثابت کرونگا. حجاج نے کہا اگر تم نے جواب دیا تو انعام دونگا اگر نہیں تو میں تمہیں قتل کرنے کا مجاز ہوں. یحی نے کہا قبول ہے مگر کیا تم حسنین (ع) کو اولاد پیغمبر نہیں مانتے؟
حجاج بولا نہیں. یحی نے کہا قرآن میں سورہ انعام کی آیت چوراسی پڑھو
وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ۝۰ۭ كُلًّا ہَدَيْنَا۝۰ۚ وَنُوْحًا ہَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ *ذُرِّيَّتِہٖ* دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَہٰرُوْنَ۝۰ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ۝۸۴ۙ
 
اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عنایت کیے، سب کی رہنمائی بھی کی اور اس سے قبل ہم نے نوح کی رہنمائی کی تھی *اور ان کی اولاد میں سے* داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کی بھی اور نیک لوگوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں.

یحی نے کہا اس میں اولاد ابراھیم (ع) کی بات ہو رہی ہے نا؟
حجاج بولا جی! یحی نے کہا اگلی آیت پڑھو

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِنَ الصَّالِحِينَ
اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کی بھی، (یہ) سب صالحین میں سے تھے.

یحی نے کہا عیسی (ع) کیسے اولاد ابراھیم (ع) ہے جب کہ ان کا تو باپ نہیں تھا...؟؟؟
تم کہتے ہو اولاد باپ سے چلتی ہے ... قرآن اگر عیسی (ع) کو بغیر باپ کے کئی پشتوں کے بعد بھی اولاد ابراہیم (ع) کہہ رہا ہے تو حسن و حسین (ع) تو رسول (ص) کے بہت قریب تھے وہ کیوں یابن رسول اللہ نہ کہلوائیں...

حجاج کے دماغ کی بتی :bulb:جل گئی اس نے کہا اسے آزاد کر دو، جانے دو. بعض روایات کے مطابق حجاج کو وعدے کے مطابق مجبور ہوکر اسےطانعام بھی دینا پڑا.

حوالہ: احتجاجات-ترجمه جلد چهارم بحار الانوار، ج‏۲، ص: ۱۴۵

ملتمس دعا: محمد زکی حیدری