امام حسن (ع) یعنی بصیرت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
امام حسن (ع) یعنی بصیرت
از قلم: محمد زکی حیدری
مرحوم خواجہ نصیرالدین طوسی (رض) نے ایک بڑا ہی منفرد کام کیا ہے، انہوں ہر امام (ع) کیلئے ایک مخصوص درود لکھی ہے، جب امام حسن (ع) پہ پہنچتے ہیں تو لکھتے ہیں السلام علی السید المجتبی و الامام المرتجی، صاحب الجود و المنن، دافع المحن والفتن؛ سلام ہو اس امام پر کہ جس کی زندگی جود و سخا و فتنوں کو مٹانے و ظلم کی مخالفت سے بھرپور ہے.
میرا سلام ہو مرحوم خواجہ (رض) کی باریک بینی پر! کمال کے الفاظ انتخاب کیئے ہیں. ہم ساری زندگی یہ سوچتے رہے کہ ظلم مخالف صرف امام حسین (ع) ہی تھے کہ کربلا میں یزید کے خلاف قیام کیا اور امام حسن (ع) صلح پسند مگر ایک برجستہ عالم و محقق کی نظر دیکھیئے امام حسن (ع) کو دافع المحن و الفتن قرار دے رہے ہیں.
یہ اس مشہور اعتراض کا جواب بھی ہے کہ جو بعض افراد کی طرف سے وجود مبارک امام حسن (ع) پر کیا جاتا ہے کہ کیا وجہ تھی علی (ع) نے جنگ کی، حسین (ع) نے جنگ کی جب کہ امام حسن (ع) نے جنگ نہ کی، اور پھر اپنی خود ساختہ توجیہات پیش کرتے ہیں کہ امام حسن (ع) ذرا ٹھنڈی طبیعت کے تھے، صوم و صلاۃ کو ترجیح دیتے تھے جنگ و جدل میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے وغیرہ وغیرہ. بھائی صاحب آپ نے امام حسن (ع) شخصیت کا مطالعہ ہی نہیں کیا وگرنہ ہر گز ایسا نہ کہتے. بھیا باطل کے خلاف جنگ صرف تلوار ہی سے نہیں ہوتی، جنگ کا مقصد ہوتا ہے دشمن کے اہداف کو ناکام بنانا اور اپنے اہداف کا حصول! یہ خاموشی کے ہتھیار سے ہو تو علی (ع) جیسا امام پچیس سال خاموش رہ کر دشمن کے اہداف کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتا ہے، یہ ہدف اگر تلوار میان سے نکال کر پورا ہو رہا ہو تو حسین (ع) کربلا میں نظر آتے ہیں. اور اگر اس ہدف کی تکمیل صلح کی تلوار سے ہو تو امام حسن (ع) معاویہ کو بے نقاب کرتے نظر آتے ہیں. ہر معصوم (ع) نے وقت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہتھیار کا انتخاب کیا.
اب شاید سوال ہو کہ بھئی کیسے امام حسن (ع) نے معاویہ کو بے نقاب کیا تو پہلے میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ افسوس کہ ہمیں منبر سے عموماً آدھی بات بتائی جاتی ہے، کیونکہ مقصد نعرے لگوانا ہوتا ہے لہٰذا ہمیں صلح امام حسن (ع) کی کہانی کچھ اس طرح پیش کی گئی ہے کہ گویا امام حسن (ع) فرما رہے ہوں کہ بھئی مجھے جنگ ونگ نہیں کرنی لاؤ معاویہ صاحب صلح نامہ لاؤ میں دستخط کیئے دیتا ہوں! نہیں بھائی ایسا نہیں ہے!!!
امام حسن (ع) کو جب علم ہوا کہ معاویہ عراق پر چڑہائی کرنے کیلئے ۹۰ ہزار کا لشکر لیئے پیش قدمی کر رہا ہے تو امام (ع) نے عبید اللہ بن عباس کی سپہ سالاری میں ۴۰،۰۰۰ کا لشکر (با اختلاف تعداد لشکر) معاویہ کے خلاف بھیجا اور خود ایک لشکر کے ساتھ مدائن میں رکے کیونکہ ان پر جراح بن سنان نامی شخص نے اچانک حملہ کر کے ان کے پیر پر تلوار کی ایسی ضرب لگائی تھی کہ جو گوشت کو چیرتی ہوئی ہڈی تک جا پہنچی. اس وجہ سے امام (ع) لشکر سے جدا ہوکر سعد بن مسعود ثقفی کے گھر بستر تک محصور ہوگئے(۱) یہاں امام (ع) کو خبر ملی کہ *عبیداللہ بن عباس* کو معاویہ نے 10,0000درہم کی آفر کی اور وہ آٹھ ھزار ساتھیوں کے ساتھ معاویہ سے جا ملا. (۲)
اس کے بعد امام (ع) نے *کـــــندی* کو سپہ سالار بنا کر بھیجا وہ جب انبار نامی علائقے تک پہنچا تو معاویہ نے اپنے جاسوس کے ذریعے اسے 50،000 درہم اور شام کے مختلف علائقوں پر حکمرانی کی لالچ دے کر خرید لیا اور کندی اپنے کئی ساتھیوں سمیت معاویہ سے جا ملا.
اس کے بعد تیسرا لشکر امام (ع) نے *مـــــرادی* کی سپہ سالاری میں بھیجا مرادی کو بھی معاویہ نے خرید لیا. (۳)
یہ جنگ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ یہ ٹھنڈی طبیعت والا امام لگتا ہے آپ کو؟
اب امام (ع) کی بصیرت ملاحظہ ہو، ساتھی چھوڑ گئے، سپہ سالار خیانت کر گئے، جو باقی بچ گئے وہ سپہ سالاروں کی خیانت دیکھ دیکھ کر تھک گئے تھے، ان کے عزائم ڈھیلے پڑ گئے، معاویہ کا بہت بڑا لشکر عراق پہ قابض ہونے آ رہا ہے اور ایسے میں معاویہ کی طرف سے صلح نامہ آتا ہے. امام (ع) نے سوچا تلوار سے تو معاویہ بے نقاب نہ ہوا، اب اسی صلح نامے کے ذریعے ہی ساری دنیا کے سامنے معاویہ کو بے نقاب کریں لہٰذا آپ نے شرائط رکھ کر صلح نامہ معاویہ کو بھیجا. امام (ع) کو علم تھا کہ معاویہ کبھی صلح میں مذکور شرائط کو قبول نہیں کرے گا لیکن اگر معاویہ نے ان شرائط کو مان بھی لیا تو بھی امام (ع) کی کامیابی تھی کہ شیعوں کی جان و مال محفوظ ہوجائے گی اور معاویہ کے بعد یزید جیسا قبیح انسان منبر رسول (ص) پر نہ آ پائے گا. اور اگر وہ امام (ع) کی طرف سے پیش کردہ شرائط کی مخالفت کرتا ہے تو ساری دنیا کے سامنے اس کے امن پسند ہونے کے کھوکھلے دعوے کی قلعی کھل جائے گی اور یہ ہی ہوا معاویہ نے صلح کو ہاتھ میں لیا پڑھا اور اپنے پیروں تلے روند دیا. سب نے دیکھ لیا کہ معاویہ کی حقیقت کیا ہے.
یہ ہے بصیرت، یہ ہے فتنے کو مٹانے کا طریقہ، یہ ہے ظالم کو بے نقاب کرنے کا طریقہ، بصیرت یعنی حالات آپ کے بلکل مخالف ہوں لیکن آپ ایسی صورتحال میں بھی اپنی شخصیت کا لوہا منوائیں. اور امام حسن (ع) نے یہ بخوبی کر دکھایا.
حـــــوالــــے:
(۱) ارشاد مفید، فارسی ترجمہ ص 8 - 9.
(۲) ایضاً ص 8 - 9. اور تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 191
(۳) آیت اللہ امین، اعیان الشیعه، ج 1، ص 569
+ نوشته شده در پنجشنبه نوزدهم فروردین ۱۴۰۰ ساعت 1:55 توسط محمد زکی حیدری
|
یہ ایک اردو اسلامی ویب بلاگ ہے، جس کا مقصد نشر معارف اسلامی و معارف اہل بیت علیہم السلام ہے.