بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

آج کــــل کے بـــَبـــلو مـــجتــــھدین!

از قلم: محمد زکی حیدری

 

بھئی یہ دیکھو حدیث میں ایک بات لکھی ہے مجتھد نے اس کے برعکس فتوا دے دیا....😳 ہیننننن... بس تقلید نہیں کرنی... تقلید حرام!!!

بھائی یہ دیکھو قرآن کی آیت اور مجتھد کے فتوے میں فرق.... 😱 آ آ آ... تقلید چھوڑ دو... تقلید حرام!!!

آج کل کے کچھ ببلو اور منے لوگ مجتھد بن کر لوگوں کو تقلید سے دور کر رہے ہیں...

ان ببلو مجتھدین سے میرا سوال ہے 👇🏽

قرآن میں لکھا ہے کہ چور ھاتھ کے ہاتھ کاٹو... تو کیا جو نوجوان ایک دوکان سے بسکٹ چوری کرے گا اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیں؟
بولیں؟

قرآن میں لکھا ہے تو کاٹو...

لوگ کیا کہیں گے کہ کیسا جاہلانہ و وحشی دین ہے کہ بسکٹ چوری پہ ایک جوان کے ہاتھ کاٹ دیئے اب اس جوان بیچارے کے جسم کو ناقص کر دیا نہ اسے کوئی رشتہ دے گا نہ کچھ کام کر پائے گا. بسکٹ کی چوری پہ ہاتھ کاٹ دیئے کیونکہ قرآن میں اس نے پڑھا تھا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو...

لوگ کہیں گے ایسے وحشی نظریات والی کتاب آپ کو ہی مبارک ہم نہیں مانتے.

یہ نتیجہ نکلا ببلو مراجع ہونے کا جو ایک حدیث و ایک آیت پڑھ کر فتوا دیتے ہیں.

مگر فقہ کے ماہرین مراجع کرام سے معلوم کریں تو پتہ چلتا ہے ہر کسی کے ہاتھ نہیں کاٹنے. بیسیوں شرائط ہیں، چوری کی کچھ مخصوص قسمیں ہیں ان میں ہاتھ کاٹے جائیں گے ورنہ نہیں. مثلا تالا توڑے، دیوار سے کود کر کسی کے گھر میں جائے اور اور... کئی شرائط ہیں...

لیکن یہ تو وہ جانے جو فقہ کا علم رکھتا ہو. جس نے اپنی داڑھی سفید کردی فقہ پڑھ پڑھ کر...

ببلو مجتہد آئے قرآن میں دیکھا چور کے ہاتھ کاٹو اور سمجھ لیا جو بھوکا ایک روٹی چوری کرے اس کا بھی ہاتھ کاٹو... ارے!!!!
بھئی بیشک اس نے گناہ کیا مگر کیا ایک بھوکا مجبور ہوکر روٹی کی چوری کرے اس ایک روٹی کی چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا!!!!!!
عقل مانتا ہے اس قانوں کو؟؟؟
نہیں... سو اسلام میں ایسا ہے بھی نہیں *اگر علماء و مراجع سے رجوع کریں تو بتائیں گے ایسا نہیں* لیکن ہم تو خود مرجع ہیں. حدیث پڑھی آیت پڑھی فتوا دے دیا...

بــــبــــلو مجــــتھـــدین سے گذارش ہے کہ ابھی آپ منے ہو، دلیہ کھاؤ، رات میں دودہ پیا کرو، چاکلیٹ والے بسکٹ کھاؤ تاکہ دماغ کی بتی💡 جلے...