بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ


💡💡 دماغ کی بتی جلاؤ💡💡
👂🏾👂🏾 دھیان سے👂🏾👂🏾
*توحید مفضل (منسوب بہ امام جعفر علیہ سلام) کی بات سنو...*

قسط 5⃣

🤔🤔 حواس کیوں بنائے؟

 

آنکھ کی جسم میں جگہ پر غور کریں کیسے اسے اوپر کی طرف قرار دیا تاکہ آنکھ ایک روشن مینار کی طرح ھر چیز کو اوپر سے دیکھ سکے (آنکھیں ٹانگوں کی جگہ ہوتیں تو مشکل ہوجاتی)

اور اگر اللہ (ج) صرف رنگ بنادیتا آنکھ نہ بناتا تو رنگوں کا بنانا ایک فضول کام کہلاتا یا پھر آنکھ ہوتی اور رنگ نہ ہوتے تو آنکھ کا بنانا ایک فضول کام کہلاتا.. (اللہ ج فضول کام نہیں کرتا)

اسی طرح اگر خوبصوت آوازیں ہوتیں اور کان نہ ہوتے تو آوازوں کا بنانا ایک فضول کام کہلاتا. اور کان ہوتے آوازیں نہ ہوتیں تو کان کا بنانا ایک فضول کام کہلاتا.
اچھا اگر روشنی نہ ہوتی تو رنگ نظر نہ آتے اور اگر ہوا (میڈیم) نہ ہوتی تو آوازیں کان تک نہ پہنچتیں (کیونکہ آواز کی لہروں کو ایک جگہ دوسری جگہ منقتل ہونے کیلئے میڈیم عرف وسیلہ درکار ہوتا ہے)
یعنی حواس بنائے اور ان کے مددگار وسائل بھی بنائے.


💡💡 بتی نکتہ💡💡

(اہم بات! سائنس کہتی ہے کہ سورج میں دو گیسز ایک دوسرے کا ساتھ مل کر آگ جلاتے ہیں، جس کی وجہ سے سورج ہمیں روشن نظر آتا ہے. *یاد رہے یہ گیسیں جب ایک دوسرے ملتی ہیں تو اتنا شور ہوتا ہے کہ وہ آپ کے کان پھاڑ سکتا ہے*.

😳 سچی؟؟

تو یہ شور ہمیں کیوں سنائی نہیں دیتا روشنی تو آتی ہے شور کیوں نہیں آتا زمین تک؟ 🤔

ہم نے پہلے عرض کیا کہ روشنی کی لہروں کو سفر کرنے کیلئے *وسیلہ* (میڈیم) درکار نہیں ہوتا جب کہ آواز کی لہروں کو سفر کرنے کیلئے *وسیلے* کی ضرورت ہوتی ہے. سو چونکہ *سورج اور زمین کے درمیاں ھوا موجود نہیں* اس لیئے وہ آواز (شور) ہمارے پاس نہیں پہنچتا ہم سکون سے رہتے ہیں. جب کہ روشنی کو کسی وسیلے کی ضرورت نہیں ہوتی سو وہ زمین پر پہنچ جاتی ہے اور ہم سکون سے جیتے ہیں.
یعنی یہ روشنی کی لہر کو وسیلے کا محتاج نہ بنانا اور آواز کی لہر کو وسیلے کا محتاج بنانے میں بھی *اللہ جل جلالہ* کی حکمت نمایاں ہے )


( *اگر باتیں دل پہ لگی ہیں تو* 🙏🏽 *خدا کا واسطہ نماز کی پابندی کرنا*)

💡💡عزاخانے سجائے رکھو💡💡

💡💡دماغ کی بتی جلائے رکھو💡💡

 

ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.

*+989199714873*

*_arezuyeaab.blogfa.com_*

💡💡💡💡💡💡💡💡💡