*کوئی نہیں مرتا خون نہ ملنے سے!*

از قلم: محمد زکی حیدری

(21 Muharam 1437)

 

ظفر صاحب چہلم پر شہر کے مرکزی چوک پہ سب سے سخت و شدید خونی پرسہ دیتے ہیں. ھر سال کی طرح اس سال بھی لاہور سے زنجیر کا نیا دستہ منگوایا ہے، اور کچھ ہی دیر بعد چوک پر جلوس پہنچے گا سو وہ دستے کو تیار کر رہے ہیں. ان کا بارہ سالہ بیٹا مہدی و پچیس سالہ بھتیجا مرتضی کھڑے دیکھ رہے ہیں.

*مرتضی*: چاچو! اس بار تو یہ زنجیر کا دستہ دیکھ کر ہی ڈر لگتا ہے، پچھلی بار والا اتنا خطرناک نہیں تھا یہ تو جسم چیر کر رکھ دے گا.
*ظفر*: زنجیر مجھے مارنی ہے تکلیف تجھے کیوں ہو رہی ہے. پرسہ دینا ہے جتنا تم لوگ عزاداری کی مخالفت کروگے ہم اور زور شور سے کریں گے.
*مہدی*: ابو کیا دین یہ ہے کہ ہماری مرضی ہم جو کریں؟
*ظفر*: تم چپ رہو! اس مرتضی کے ساتھ رہ کر تمہاری عادتیں بھی بگڑتی جا رہی ہیں، کل ہی تمہیں بتایا تھا کہ یہ سنت شہزادی زینب (س) ہے انہوں نے محمل سے سر ٹکرا کر خونی ماتم کیا.
*مرتضی* : اچھا چاچو! مطلب بیبی نے بادشاہ زادیوں کی طرح محمل میں سفر کیا. یعنی یزید کو اھلبیت (ع) کا اتنا احترام تھا. پھر ہم کیوں کہتے ہیں کہ بیبی بغیر پالان والے اونٹ پر رسن میں بندھی شام لائی گئیں؟
*ظفر*: تم ابھی چھوٹے ہو بیٹا، قرآن پڑھو سورہ یوسف (ع) کی آیت نمبر ۳۱ جب مصر کی عورتوں نے یوسف (ع) کے حسن کو دیکھا تو اپنے ہاتھ چھری سے کاٹ ڈالے. نبی کے عشق میں چھری چلانا جائز امام سرکار مولا حسین (ع) کے عشق میں نا جائز؟ حد ہے مقصری کی!
*مرتضی* : چاچو ایک منٹ!
مرتضی نے موبائل میں اردو قرآن کا ترجمہ کھولا، کچھ سرچ کیا اور اپنے چچا کو موبائل دکھاتے ہوئے بولا: یہ دیکھیں چاچو! آیت نمبر ۳۱ کے بعد والی دو تین آیات پڑھیں خود حضرت یوسف (ع) ان عورتوں کو مکار کہہ رہے ہیں اور ان سے پناہ مانگ رہے ہیں. چاچو مکار عورت کی سنت کو زینب (س) کی سنت کہتے ہیں، کیا یہ زینب (س) کی اہانت نہیں چاچو؟
*ظفر*: بیٹا! خامنہ ای کے مرید! تو جو بھی بول عزاداری نہ تیری چِک چِک سے رکے گی نہ تیرے رھبر خامنہ ای کے فتوے سے. اچھا چلو مجھے یہ بتاؤ یا خامنہ ای سے پوچھ کر بتاؤ، قرآن کی کس آیت میں لکھا ہے کہ خونی پرسہ حرام ہے؟
*مرتضی* : چاچو! سید علی خامنہ ای تو مرجع ہیں، مجھے ان کا نہیں پتہ لیکن میں نے قرآن میں پڑھا ہے کہ تمہاری ایک اچھی بات کا بھی دشمن غلط مطلب لے تو اسے ترک کردو یا بدل دو!
*ظفر*: ھاھاھا! یہ قرآن سے آج تک کسی نے حرام ثابت نہیں کیا تم بڑے مجتھد بن گئے ہو، آیت اللہ سید مرتضی رضوی. ھاھا!
مرتضی کے چچا قہقہے لگانے میں مصروف تھے کہ اتنے میں پھر موبائل میں قرآن کی آیت دکھاتے ہوئے مرتضی نے کہا: چاچو یہ پڑھیں *سورہ بقرہ آیت ۱۰۴، اس میں ہے کہ کفار لفظ راعنا (ہمیں مہلت دو) کو رعونہ (ہمیں بے وقوف بناؤ) سمجھ کر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، اللہ (ج) نے آیت نازل کی کہ راعنا مت کہو انظرنا کہو! تاکہ مشرکوں کو دین کی اہانت و تمسخر کا موقع نہ ملے. چاچو آج آپ کی یہ خونی ماتم کی وڈیوز دنیا بھر میں جاتی ہیں، اسلام و تشیع کے دشمن مذاق اڑاتے ہیں، اہانت کرتے ہیں، کیا یہ وہی صورتحال نہیں جو قرآن کی سورہ بقرہ آیت ۱۰۴ میں بیان کی گئی ہے؟ کیا بدنامی کا سبب بننے والی اس رسم کو ترک نہیں کیا جاسکتا؟*
*ظفر*: کس بات کو کس سے ملا دیا ھنھ...
*مہدی*: ابو ایران و باقی ممالک میں تو شیعہ لوگ خون ہسپتال میں جمع کرواتے ہیں تاکہ خون کسی کے کام آئے.
*ظفر*: بیٹا تم سے کہا ہے نہ کہ بڑوں کے بیچ میں نہیں بولا کرتے اور تمہاری ماں کو خون کی کمی والا مرض ہے ھر ماہ ایک بوتل خون لگتا ہے، سرکار مولا عباس (ع) کے کرم سے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خون نہ ملے. *کوئی نہیں مرتا خون نہ ملنے سے* سب مقصروں کی باتیں ہیں!
اچھا اب میں جا رہا ہوں، مرتضی تم مہدی کو ساتھ لے کر اس کی امی کی دوائیاں اسے دے آنا اور کال مت کرنا میرا موبائل گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں پرسہ دینے!
یہ کہہ کر تینوں باہر نکلے ظفر صاحب اپنے دوست کے ساتھ چوک کی طرف گئے. مہدی اور مرتضی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر میڈیکل اسٹور جانے لگے.

میڈیکل اسٹور سے واپس ہی آرہے تھے کہ مہدی کو موٹر سائیکل چلانے کا شوق ہوا بولا: مرتضی بھائی مجھے بائیک چلانے دیں. مرتضی پیچھے بیٹھ گیا اور بولا: احتیاط سے چلانا! مستی مت کرنا. لیکن مہدی بچہ تھا اسے مستی سوجھی، گلی خالی دیکھی تو اچانک سے موٹرسائیکل کی رفتار بڑھا دی، ایک گلی سے اچانک تیز رفتار کار نکلی اور زور سے موٹر سائیکل سے ٹکرائی. مہدی کیونکہ موٹر سائیکل چلا رہا تھا تو فٹ پاتھ پر دور جا کر گرا. مرتضی کو اتنی زیادہ چوٹ نہیں آئی لیکن مہدی کے سر پر گہری چوٹ آئی اور تیزی سے خون بہنے لگا اور وہ اسی وقت بے ھوش ہوگیا. لوگوں نے دونوں کو گاڑی میں ڈالا. مرتضی کو ھوش تھا اس نے دوستوں و رشتہ داروں کو فون گھمایا کہ فلاں ھسپتال پہنچو جلدی!
مہدی کو انتہائی نگھداشت میں رکھا گیا تھوڑی دیر بعد ڈاکٹرز نے کہا خون بہت بہہ چکا ہے بچہ کمزور ہے لہٰذا جلد از جلد خون کا انتظام کریں. ایک بوتل بلڈ بینک سے لی لیکن خون زیادہ درکار تھا اور مہدی کا بلڈ گروپ بھی او نیگیٹو تھا جو کہ نایاب تھا. مرتضی کے دوست اور کزن آئے کسی کا گروپ او نیگیٹو نہیں تھا، خاندان والے مہدی کی امی کیلئے خون دے دے کر اتنے تنگ آچکے تھے کہ اب ان سے خون مانگنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا. مرتضی کو یاد آیا کہ اس کے چچا ظفر کا بلڈ گروپ او نیگیٹو ہے سو اس نے اپنے کزن علی و اسد کو چاچو کی طرف بھیجا. وہ دونوں تیزی سے موٹر سائیکل پر سوار ہوئے اور چوک کی طرف چل دیئے. چوک پر جم غفیر موجود تھا، جلوس کیلئے سخت حفاظتی انتطامات کی وجہ سے پولیس موٹر سائیکل سواروں کو چوک سے پہلے ہی روک رہی تھی. علی و اسد نے موٹر سائیکل دور کھڑی کی اور تیزی سے چوک کی طرف بھاگنے لگے. وہ ھجوم کو چیرتے ہوئے، لوگوں کو دھکے دیتے ہوئے اندر گھسنے کی کوشش کر رہے تھے. چھریوں کی چھن چھن... عرق گلاب کی خوشبو اور یا حسین یا حسین کی مخصوص صدائیں بتا رہی تھیں کہ زنجیر زنی شروع ہو چکی ہے. علی حلقۂ ماتم کے بہت قریب پہنچ چکا تھا، اس نے اپنے چاچو ظفر کو ماتمیوں کے بیچ کھڑے ہو کر خوب زنجیر زنی کرتے دیکھا. اس نے حلقے میں جانا چاہا کہ ایک موٹے شخص نے اسے روک دیا. وہ اس سے چھڑا کر اندر گیا. چھریوں کی چھن چھن اور یا حسین یا حسین کی صدائیں، زمین پر دور دور تک خون کے چھینٹے ... علی گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اپنی ہتھیلیوں کے سہارے کسی چوپائے جانور کی طرح خود کو چھریوں سے بچاتا ہوا اپنے چاچو کے پاس پہنچا.
اس کا چہرا بھی خون کے قطروں سے لال ہوگیا.
آخرکار وہ اپنے چچا کے پیروں تک پہنچ گیا. اس نے بہت چلا چلا کر کہا چاچو! چاچو! لیکن چھریوں کی چھن چھن اور شور یا حسین یا حسین میں اس کی صدا گم ہوگئی. اس نے ظفر کی شلوار زور سے کھینچی. لیکن ظفر سمجھا شاید وہ اس سے دستہ چھیننے آیا ہے کہ بس کردو بہت ہوا پرسہ. سو اس نے علی کی طرف دھیان نہ دیا اور جوش میں یا حسین!!! ... یا عباس!!!...یا حسین!!! یا عباس!!! کی فلک شگاف صدائیں بلند کرتا ہوا اپنے پیٹھ کو تیز دھار چھریوں سے چھلنی کر رہا تھا. اس کی پیٹھ اور شلوار لال ہو چکی تھی. علی اب رونے لگا اور چیخ چیخ کر کہنے لگا چاچو مہدی! چاچو مہدی کو بچالو! لیکن ظفر ہائے سکینہ ہائے پیاس...!!! ہائے سکینہ ہائے پیاس...!!! کہتے ہوئے اپنی پیٹھ پر زنجیر کے وار کر رہا تھا... چھریوں نے اس کے پیٹھ پر بڑے بڑے شگاف ڈال دیئے جن سے خون فواروں کی مانند بہہ رہا تھا. اچانک علی نے محسوس کیا اس کے چچا کے ماتم کی رفتار دھیمی پڑ گئی اس نے دیکھا کہ چچا کو چکر آ رہے ہیں. تھوڑی دیر بعد ظفر میاں زمین پر گر گئے امدادی جوان آئے اور انہیں اٹھا کر چوک پر لگے طبی امدادی کیمپ تک لے گئے. خون بہت بہہ رہا تھا کیمپ پر موجود ڈاکٹر نے مشورہ دیا ھسپتال لے جاؤ اسٹچز لگیں گے. ظفر کو ایمبولینس میں ڈالا گیا
علی بھی ایمبیولینس میں بیٹھا. ظفر کو انتہائی نگہداشت میں لے جایا گیا.
تھوڑی دیر بعد جب اسے ہوش آیا تو اس نے دیکھاکہ ھسپتال اس کے دوست و احباب سے بھرا ہے اور سب رو رہے ہیں. اس نے تعجب سے رونے کی وجہ پوچھی تو کسی نے برابر میں رکھے بیڈ پر اس کے بیٹے مہدی کے جنازے کی طرف اشارہ کیا.

*_arezuyeaab.blogfa.com_*