بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

کربلا میں کیا ہوا

(مقتل کی مستند کتب سے)

(قسط 7⃣)

 

ابن زیاد کوفے میں


چونکہ یزید نے خط لکھ کر ابن زیاد کو کوفہ جاکر حالات پر قابو پانے کا حکم دیا تھا سو وہ بصرہ میں اپنے بھائی عثمان بن زیاد کو اپنا جانشین بناکر کوفے کی طرف چل دیا.
بقول شیخ مفید (رض) ابن زیاد جب کوفے پہنچا تو رات پڑ چکی تھی اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا اور منہ پر نقاب لوگ سمجھے حسین (ع) آگئے سو سب خوشی کے مارے اس کا استقبال کرنے آئے جب انہیں حقیقت پتہ چلی تو تتر بتر ہوگئے. ابن زیاد دارالامارہ گیا اور رات وہاں گذاری. دوسرے صبح منبر پر جاکر لوگوں کو یزید کی مخالفت سے ڈرایا دھمکایا اور اس کی بیعیت کرنے والوں سے احسن طور پیش آنے کا وعدہ دیا.
وہاں جب جناب مسلم (ع) کو ابن زیاد کے آنے کا علم ہوا تو انہوں نے مختار کا گھر چھوڑ کر ھانی بن عروہ کے گھر قیام کیا. شیعوں کی کوشش تھی کہ ابن زیاد کو ان کے ٹھکانے کا پتہ نہ چلے.
شیخ مفید (رض) کے بقول ابن زیاد کا ایک غلام تھا جس کا نام معقل تھا. ابن زیاد نے اسے تین ھزار درھم دیئے اور کہا کہ مسلم (ع) کے چاہنے والوِ سے جب وہ ملا کرے تو انہیں پیسے دیا کرے اور ان کی خیر خبر لے اور ایسا رویہ رکھے کہ وہ سمجھیں کہ مقعل ہم سے ہے جب تم انکا اعتماد جیت لوگے تو وہ تم سے کچھ نہیں چھپائیں گے. اس طرح مسلم (ع) کا ٹھکانہ پتہ چل جائے گا.

🏴🏴🏴🏴🏴🏴🏴
حوالے:
۱. لہوف سید ابن طاؤس ترجمہ دکتر عقیقی ص:61

۲. ارشاد شیخ مفید ص:385 و 388 ترجمہ فارسی محمد باقر بن حسین ساعدی

۳.فارسی ترجمہ نفس المھموم، محدث عباس قمی (در کربلا چہ گذشت) ص 126

💠💠💠💠💠💠💠💠
التماس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
💠💠💠💠💠💠💠💠