جی عاشورہ کیسا گذرا؟
جی عاشورہ کیسا گذرا؟
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
(11 Muharam 1437)
چلو اس سال کے عاشورہ کا خاتمہ بھی بخیر ہوا... ہم نے کیا لیا اس عاشورہ سے اس کا اندازہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی باتوں سے لگائیے....
شام غریباں کے وقت فون.... "ھیلو کمیل! ابے واٹس ایپ کھول ذرا، دیکھ چاند پہ حسین (ع) لکھا ہوا آ رہا ہے! ابے معجزہ! سارے واٹس ایپ گروپس میں بات ہو رہی ہے!"
کمیل: "ہیں! اچھا دیکھتا ہوں، لیکن واٹس ایپ کیوں چھت پہ نہ جاؤں چاند تو چھت سے دکھے گا، تجھے نظر آیا لائیو ؟"
میثم: "نہیں مجھے آسمان پہ صاف نہیں دکھا، واٹس ایپ پہ صاف دکھائی دے رہا ہے، بلکل صاف استاد!"
کمیل: "اچھا تو رک! ابھی دیکھتا ہوں."
یار میثم میرے گھر میں ایرانی ڈش ہے اس پہ تو ایسی بات نہیں بتا رہے وہ تو عزاداری میں مصروف ہیں، نہ ہی مجھے لائیو دکھائی دیا چھت سے."
میثم: "بھاڑ میں جا!"
گیارہویں محرم کی صبح فون پر.... بھئی یاسر! پکوان والے سے کہو خالی دیگیں لے جائے. اور ڈیکوریشن والے سے کہو اس کا جو سامان ہے لے جائے. اور ایک کام کر، نیاز کا بچا ہوا سامان بھی چنگچی میں ڈال کر منظور بھائی کی دکان پہ دے آ، اس سے کہنا شبر بھائی دوپہر میں آکے حساب کردیں گے. بہت تھکا ہوا ہوں ابھی!
فون.... بتول کی بچی کب سے فون کرے جا رہی ہوں جلوس کی پِکس بھیجو، مجھے "کسی کو" فارورڈ کرنی ہیں اور تم ہو کہ گھوڑے بیچ کر سو رہی ہو! ھنھ!
بتول: ھمممم!!! ہاں بھیجتی ہوں مرضیہ مرو مت ابھی اٹھی ہوں! آ آھ ھ ھ تھکن!!! پورا جسم دُکھ رہا ہے. ویسے تصویریں دیکھیں رات میں، اچھی آئی ہیں، *تم بلیک میں بہت پیاری لگ رہی ہو*.
مرضیہ: الاااا...! وائو! تو پھر جلدی بھیجو نا پلیز، الا بتول پلیز جلدی!!!
فون.... ھیلو! ھاں سجاد کہاں تھے بھئی رات مجلس میں نظر نہیں آئے.؟
سجاد: ہاں عباس بھائی بس نیاز چلانے بیٹھ گیا، بچے ہیں ان کے سر پہ جب تک کوئی بڑا کھڑا نہ ہو تو کام صحیح نہیں کرتے. اور یار حلیم کا ستیہ ناس کردیا اس بار باورچی نے، اگلی بار اس سے نہیں بنوانا. تم سناؤ، شام غریباں کی مجلس سنی؟
عباس: ہاں یار لیکن مزا نہیں کر رہے اب مولانا صاحب، بوڑھے ہوگئے لگتا ہے، اس بار ان کا عشرہ لگا نہیں. مجمعہ بھی کم تھا پچھلے سال کی نسبت؟ مولانا شمشیر کی مجلس میں بڑا رش تھا اس بار ان کا عشرہ ٹاپ پہ گیا...
اپنی بارگاہ کا مولانا اگلی بار تبدیل کریں گے.
سجاد: میں نے تو پہلے ہی ٹرسٹ کی میٹنگ میں کہا تھا یہ مولانا بلاؤ گے پبلک نہیں آئے گی، چالیس پچاس اوپر دے کر مولانا شمشیر سے ڈن کرلو، لیکن ہماری سنتا کون ہے!
فون...ھیلو ناھیدا بہن کیا حال ہیں سناؤ تمہارے ہاں عاشور کیسا گذرا؟
جی زینب بہن بس اچھا گذرا شہزادی سکینہ (س) کے تابوت پر منت مانی کہ بس جلد از جلد کنول کا رشتہ ہو جائے اب تو عمر بیتی جا رہی ہے اس کی، علی کے این. ای. ڈی یونیورسٹی میں داخلہ کیلئے تابوت میں دھاگہ باندھا. مہندی سے کلاوا تبرک طور پر لیا. آپ سنائیں.
زینب: بس بہن میرے تو جوڑوں کا درد ہے، سو بارگاہ کم ہی جاتی، گھر پہ عشرہ ہوتا ہے سو وہیں بیٹھ کے سنتی اور یہ آج کل کی خطیبائیں عجیب چِلا چِلا کر مجلس پڑھتی ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا بس گلا پھاڑنے پر زور... اوپر سے تین تین بہوئیں ہیں ہماری لیکن نیاز بنانے کا سلیقہ نہیں، میں نے پچھلے سال منت مانی تھی نیاز کی، وہ اس بار ادا کی لیکن قسم پنجتن پاک کی چکھنے کا دل ہی نہ کیا، نیاز کی شکل دیکھ کر پیٹ بھر گیا. یہ ہیں بہوئیں ہماری، اب میری عمر تو رہی نہیں کہ ہر کام خود اپنے ہاتھ سے کروں، سو ناک کٹنا نصیب سمجھ کر بیٹھ گئی...
فون... ھیلو قبلہ مولانا قاسم صاحب! صاحب کیسے مزاج ہیں، اس سال کتنے عشرے پڑھے اور نیاز اچھی ملی یا پچھلے سال کی طرح...؟
قبلہ قاسم: جی قبلہ عابد صاحب دو عشروں کی نیاز (فیس) تو جو بکنگ ہوئی تھی اس کے مطابق ملی، مگر دو عشروں کے بانیان نے ہمیشہ کی طرح اس بار پھر گند کیا کہ مولانا اس بار بہت تنگی ہے بجٹ نہیں. ایک نے ۳۰ ھزار کم دیئے دوسرے نے چالیس!
میں نے کہا اگلی بار مجھ سے رابطہ مت کیجئے گا اگر نہیں دے سکتے تو ہم سے مجلس کیوں پڑھواتےہیں، کسی قم یا نجف کے طالبعلم سے پڑھوا لیا کریں. میں اتنا مجمعہ کٹھا کر کے دیتا ہوں پھر بھی آپ ہیں کہ.... فلاں امام بارگاہ والے مجھے اس سے کہیں زیادہ دے رہے تھے لیکن ہم نے سوچا پچھلے سال سے آپ کے ہاں پڑھ رہے ہیں تو اس لیئے لحاظ کیا لیکن آپ ہمارا لحاظ نہیں کرتے!
عابد: ارے بھئی یہ صرف پاکستان ہی نہیں ہمارے ھندوستان کا بھی یہی حال ہے، ہمارے ساتھ بھی یہ ہی ہوا تین عشرے بوک کیئے لیکن طے شدہ رقم سے سے تقریبا ایک لاکھ کم ملا. بولے بعد میں آپ کی امانت پہنچا دیں گے *یہ لوگ بڑے بے ایمان ہیں قبلہ، نیاز کی دیگوں کی قطار لگا دیتے ہیں لیکن مولوی بیچارے کی چند لاکھ فیس بھی نہیں دے سکتے*. مجھے لندن والوں نے بلایا تھا، لیکن وہ ذرا غالی و ولایتی قسم کے تھے سو دامن داغدار ہوجاتا اس لیئے نہ گیا وگرنہ وہ لوگ نیاز (فیس) کے معاملے میں زبان کے پکے ہیں. بس آئندہ آپ بھی آئیے گا لندن ہی چلیں گے، *کراچی اور لکھنؤ کی مارکیٹ اب مدرسے کے طلاب سنبھالیں*. مقصدِ کربلا سکھائیں دنیا کو...
(یہ کہہ کر مولانا نے قہقہہ لگایا اور دوسرے والے مولانا نے بھی قہقہہ لگایا).
*_arezuyeaab.blogfa.com_*
یہ ایک اردو اسلامی ویب بلاگ ہے، جس کا مقصد نشر معارف اسلامی و معارف اہل بیت علیہم السلام ہے.