میں تقلید کیوں کروں (قسط سوم)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
💡💡دماغ کی بتی جلائے رکھو💡 💡
💠میں تقلید کیوں کروں💠
(قسط سوم)
گذشتہ قسطوں میں مندرجہ ذیل باتیں دلائل سے ثابت ہوئیں (یاد کیجئے):
۱ *جانشینی لازمی ہے*
۲ *جانشین کتاب نہیں*
۳ *امام (ع) نے اپناجانشین ایک گروہ کو بنایا*.
۴ *امام زمانہ (عج) نے خود غیر معصومین کو اپنا جانشین بنایا*
اس کے بعد بتی سوال تھا:
💡💡بتی سوال 💡💡
*بھائی اس حدیث سے کیسے پتہ چلے کہ حدیث بیان کرنے والا یہ گروہ کن لوگوں کا ہے. اس میں تو صرف "حدیث بیان کرنے والے" لکھا ہے حدیث تو ذاکر بھی بیان کرتے ہیں کیا وہ بھی حجت ہیں؟*
عرض کہ علمی جانشین کے طور یہ واحد موقع نہیں ہے کہ کسی معصوم (ع) نے کسی کو جانشین کے طور پر مقرر کیا ہو. تاریخ میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں میں صرف دو پیش کر رہا ہوں. تاکہ پتہ چلے کہ وہ گروہ کس قسم کے لوگوں کا ہے جن کی طرف امام زمانہ (عج) نے اپنی غیبت میں رجوع کرنے کا حکم دیا.
*پہلی مثال سرکار امام ھادی (ع) کی زندگی سے.*
احمدبن اسحاق؛ عن ابی الحسن(ع) قال سئلته و قلت من اعامل؟ و عمّن آخذ؟ و قول من اقبل؟ فقال (ع) العمری ثقتی فما ادّی الیک فعنّی یؤدّی و ما قال لک فعنّی یقول فاسمع واطع فانّه الثقة المأمون قال وسئلت ابا محمد عن مثل ذلک فقال العمری وابنه ثقتان فما ادّیا الیک فعنّی یؤدّیان و ما قالا لک فعنّی یقولان فاسمع لهما واطعهما فانّهما الثقتان المأمونان.
یعنی احمد بن اسحاق نے کہا: امام هادی علیہ السلام سے میں نے سوال کیا:
میں کس سے معاملہ کروں،
کس سے داد و ستد کروں؟ کس سے دینی احکامات لوں؟ دینی مسائل میں کس کی بات مانوں؟
امام (ع) نے فرمایا: عثمان بن سعید عمری میرا قابل اعتماد ہے وہ جو بات تجھے *بتائے* سمجھو میں نے بتائی ہے اور وہ جو *کہے* سمجھو میں نے کہا ہے. اس کی بات سنو اور اطاعت کرو کیونکہ وہ سچا اور میرے اعتماد والا ہے. (۱)
*دوسری مثال سرکار امام حسن عسکری (ع) کی زندگی سے.*
یہ ہی روای کہتا ہے میں نے ایسا ہی سوال امام حسن عسکری (ع) سے پوچھا
امام علیہ السلام نے فرمایا:
عمری اور اس کا بیٹا محمد بن عثمان، یہ دونوں میرے قابل اعتماد ہیں سو دینی معاملات میں *یہ دونوں جو بات تم تک پہنچائیں، سمجھو میری طرف پہنچائی ہے اور جو یہ کہیں سمجھو وہ بات ہم نے کہی ہے*. ان کی بات سنو اور اطاعت کرو. کیونکہ یہ دونوں سچے اور میرے قابل اعتماد ہیں. (۲)
💡💡بتی نکتہ 💡💡
بھائی یہ دو اشخاص جن کے نام لے کر امام (ع) نے اپنے شیعوں سے کہا کہ ان کی بات ماننا کیا یہ شاعر تھے؟ یا طبیب تھے؟ یا خطیب تھے؟ یا ذاکر تھے؟ نہیں بھائی یہ بہت بڑے فقیہ اور عالم دین تھے.
*ثابت ہوا کہ جس گروہ کی طرف سرکار امام زمانہ (عج) نے اشارہ فرمایا کہ میرے بعد اس گروہ کی اطاعت کرنا وہ گروہ نہ ڈاکٹروں کا ہے، نہ انجینئروں کا ہے، نہ شاعروں کا ہے، نہ قوالوں کا ہے، نہ خطیبوں کا ہے بلکہ علمائے دین و فقہاء کا ہے.*
💡💡بتی اعتراض 💡💡
کراچی کی ایک بہن نے جب میری یہ دلیل سنی تھی تو اعتراض کیا تھا کہ
*بھائی اب تک جو روایات آپ نے پیش کی ہیں ہمیں ان سے اختلاف نہیں ہمیں علماء سے روایت لینے میں کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں مسئلہ ہے فتوا سے. یہ فتوا دینے کی اجازت مولانا کو کس نے دے دی. کیا ان جیسی "فتوا فیکٹری" آئمہ (ع) کے دور میں بھی تھی کیا فتوا دینے کی اجازت آئمہ (ع) نے دی ہے کسی عالم کو؟*
اس کا جواب اگلی قسط میں... (ان شاء اللہ)
روایات کے حوالے:
(۱) شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعه، ج 18، باب 11، حدیث 4، ص 100.
(۲). یہ ہی کتاب و یہ ہی باب، حدیث 27
💡💡عزاخانے سجائے رکھو💡💡
💡💡دماغ کی بتی جلائے رکھو💡💡
ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری.
+989199714873
arezuyeaab.blogfa.com
💡💡💡💡💡💡💡💡💡
یہ ایک اردو اسلامی ویب بلاگ ہے، جس کا مقصد نشر معارف اسلامی و معارف اہل بیت علیہم السلام ہے.