جعفر جذباتی اور سنی مولوی

 

از قلم: محمد زکی حیدری



آج جمعہ تھا سو جعفر جذباتی صاحب نے غسل جمعہ کیا اور نماز جمعہ ادا کی. جعفر جذباتی ویسے بھی نمازی ہیں، ماتمی تو اس سے بھی زیادہ ہیں، محرم میں زنجیر زنی کر کے خون کا پرسہ بھی دیتے ہیں. جذباتی کے زنجیروں کا دستہ ایسا تھا کہ کراچی کے بڑے بڑے ماتمیوں کے اس سے پسینے چھوٹ جاتے تھے. یگانہ سید عزادار تھا. جمعے کو عموماً جذباتی صاحب چھٹی کرتے ہیں، مگر آج جمعے کے بعد انہوں نے کسی بندے کو سامان دینا تھا سو جمعہ پڑھ کر انہوں نے دکان کھولی تھی. سگرٹ سلگائی کرسی پر براجمان ہوکر اس شخص کا انتظار کرنے لگے. ایک گھنٹے بعد سوچا اب کیا انتظار کرنا، شٹر نیچے کیا جانے ہی لگے تھے کہ سامنے سے ان کے محلے کے طفیل چچا موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے نظر آئے. اس نے سوچا طفیل چچا انچولی جا رہے ہوں گے اس لیے زور سے آواز لگائی "طافو چچا!!!"
طافو پر چڑتے ہیں طفیل میاں، کئی بار جذباتی کو اپنے منہ نصیحت بھی کر چکے کہ بزرگوں کے نام بگاڑنا تم ایسے ھونہار کو زیب نہیں دیتا مگر جذباتی صاحب کب کسی کی سنتے ہیں. بالقصہ طفیل میاں نے اس کی آواز سن کر موٹرسائیکل روک دی لیکن مڑ کر ایسی گندی نظروں سے جذباتی کو دیکھا کہ گویا جذباتی گٹر سے نکل کر آ رہا ہو.
" چچا کدھر؟" اس نے سگرٹ سڑک پر پھینکتے پوچھا
"میں گھر نہیں جا رہا" چچا نے غصے سے جان چھڑانے کے انداز میں جواب دیا.
"کاہے چچا؟ تو کدھر جا رہے ہیں"
چچا نے سوچا جھنم وھنم بول دیں لیکن جانتے تھے جذباتی منہ پھٹ ہے. سو بولے: "میلاد میں جا رہا ہوں"
"اچھا زبردست! میں بھی چلتا ہوں جمعہ ہے کوئی کام وام نہیں لائیں مجھے دیں بائیک میں چلاؤں"
"ارے سنی دوست کے ہاں ہے تم کیا..."
"بے چچا تو میں کوئی یہودی ہوں! کیا میلاد میں میں نہیں جاسکتا"
مرتا کیا نہ کرتا طفیل میاں نے موٹرسائیکل کا ھینڈل جذباتی کے حوالے کیا اور خود نا چاہتے ہوئے بھی پیچھے کھسک گئے.
میلاد برادران اھل سنت کا تھا اور مولانا وعظ فرما رہے تھے. طفیل میاں اور جذباتی بھی جاکر بیٹھ گئے.
"آقا صلواہ وسلام نے فرمایا علی ردی (رضی) اللہ عنہ علم کا شہر ہیں اور میں علم کا دروازہ بھئی سمجھیئے تو آقا کیا فرما رہے ہیں... دروازہ وہ ہے جہاں سے شہر میں گھسنے والے کا دو بار گذر ہوتا ہے گویا مدینے والی سرکار فرما رہے ہیں جبرئیل جب آتے ہیں تو بھی علی ردی (رضی) اللہ عنہ سے ملتے ہیں اور جاتے ہیں تو بھی.... "
پورے مجمعے نے مل کر کہا سبحان اللہ!!! اتنے میں جذباتی جو جوش آیا زور سے بولا "نعرہ حیدری" سنی مجمعے نے جواب تو بیشک دیا مگر سمجھ گئے کہ کوئی شیعہ بھی موجود ہے محفل میں. کچھ پر یہ خالی نعرے حیدری کچھ گراں سا گذرا سو انہوں نے جذباتی کو ترچھی نگاہوں سے دیکھنا شروع کیا گویا کہہ رہے ہوں رک بیٹا اگلے نکتے پہ ہمارا نعرہ سنیو.
مولانا تو سنی تھے بیچارے ایک تعریف علی (ع) کی بیان کی پھر خلفاء کی تعریف میں رقم اللسان ہوئے بولے "حضرت سیدبا عثمان غنی ردی اللہ تعالی نے اپنا سارا گھر اسلام کی خاطر لٹا دیا" یہ کہنا تھا تو ایک لمبی داڑھی والا اٹھا گلا پھاڑ کر یکے بعد دیگرے نعرے لگانا شروع کر دیئے "نعرے تکبیر..." نعرے رسالت... ، نعرے حیدری.... اور آخر میں نعرہ لگایا نعرے تحقیق ... حق چار یار!!!

اب جذباتی دل ہی دل میں پیچ و تاپ کھائے جا رہے ہیں. لیکن مجبوری تھی نعرہ تو لگنا تھا لگ گیا.
مولانا کا جذباتی خطاب اپنی آب و تاب کے ساتھ جاری تھا، لیکن اب پھولوں کی سیج جذباتی جیسے زنجیر زن شیعہ کو کانٹوں کا بستر لگنے لگی لیکن خیر.. مولانا نے فرمایا "اب حضرت سیدنا عمر ردی اللہ کی تعریف سنیئے آقا صلات و سلام نے فرمایا اگر میرے بعدکوئی نبی ہوتا تو عمر ردی اللہ تعالی عنہ ہوتے"
یہ سن کر جذباتی پر قبض کی سی کیفیت طاری ہوگئی اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور اس نے بول دیا کہ "مولانا اگر نبی ہوتا تو عمر ہوتا پھر آپ ابوبکر کو پہلا خلیفہ کیوں مانتے ہو عمر کو مانو"
مولوی کے طوطے اڑ گئے، ادھر ادھر سے آوازیں آنے لگیں "یہ کون ہے"
"بھائی چپ رہو" جذباتی بولا " بھئی سوال عالم سے نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے"
"ابے کون ہے نکالو اسے، ہے کون یہ... "
طفیل میاں نے اسے سمجھایا، ہاتھ جوڑے، حضرت علی (ع) کی قسم دی کہ چپ ہو جاؤ.
تب جاکر کہیں چپ ہوئے مسٹر جعفر جذباتی.
مولانا کو تو موقع ملا سو اس نے پھر خلفاء کی تعریفیں شروع کیں. پانچ دس منٹ تک تو جذباتی سنتا رہا پھر اچانک سے اٹھا، یہ دیکھ کر مولوی کے چہرے پہ ہوائیاں اڑنے لگی کیونکہ جذباتی کی شکل غصے سے بڑی وحشتناک ہوگئی تھی. سب کے چہرے کا رنگ فک کہ خدا ہی خیر کرے.
لیکن جذباتی نے ادھر ادھر دیکھا چپ کر کے دروازے سے باہر آئے اپنےمنہ بڑبڑاتے ہوئے سگرٹ جلائی اور بس اسٹاپ کی طرف چل دیئے.