بِسْم اللهِ الْرَّحْمنِ الْرَّحیم


🐬 چلے تھے مچھلی پکڑنے بن گئے بندر🐒

تحقیق و تحریر: محمد زکی حیدری


وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ

اور ذرا اِن سے اُ س بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی اِنہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ *مچھلیاں* سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر اُن کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے.

(سورہ اعراف آیت ۱۶۳)


فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ

ہم نے انہیں کہہ دیا کہ *بندر بن جاؤ* اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے

(سورہ بقرہ آیت ۶۵)


*ارے*😳
یہ کیا بات ہوئی بھائی ایک بستی والے مچھلیاں پکڑتے تھے ان کا پیشہ ہی ماہی گیری تھا، ماہی گیر روز روز مچھلی پکڑتا ہے، ہفتے کے دن پکڑ لی تو اللہ (ج) اتنا ناراض ہوا کہ انہیں بندر بنا دیا.

😳 *عجب*

بھئی یہ یوم سبت کا قانون کیا تھا کہ جس کی مخالفت پر اللہ (ج) نے اس قوم کو بندر بنا دیا؟ 🤔

ویسے آپس کی بات ہے اللہ (ج) خود ہی تو محنت مشقت کی تاکید کرتا ہے پھر کیا ھفتہ کیا اتوار کیا جمعہ .... ہفتے کو کوئی ماہی گیر کام پر جائے تو سزا کے طور پر بندر!!!

*چکر کیا ہے بھائی ...* 🤔


بھیا بات پوری سمجھیں! اصل میں بات یہ ہے کہ یہ حضرت داؤد (ع) کی قوم تھی، بحر احمر (Red sea) کے ساحل پر مچھلی کا شکار کر کے زندگی بسر کرتی تھی. اکثر لوگوں کا پیشہ ماہی گیری تھا. (۱)

اب اللہ (ج) تو امتحان لیتا ہے اور امتحان کا تقاضہ بھی یہ ہوتا ہے کہ یا تو ایسی چیز قربان کرنے کا حکم دیتا یے جو سب سے پیاری ہو یا پھر کسی پسندیدہ کام سے روکتا ہے. جیسے ابراھیم (ع) کو حکم دیا کہ بیٹا قربان کرو، آدم (ع) سے کہا کہ فلاں درخت سے مت کھانا وغیرہ وغیرہ...
اب اس قوم کی پسندیدہ چیز تھی *مچھلی* سو اللہ (ج) نے انہیں حکم دیا کہ دیکھو بستی والو پورا ھفتہ مچھلیاں پکڑو مسئلہ نہیں ھفتہ (یوم سبت) کے دن مچھلیاں نہ پکڑنا. اس دن مچھلیوں کیلئے امن کا دن ہے.
یہ حکم اس لیئے دیا کہ اس دن مچھلیاں سطح سمندر پر آجایا کرتی تھیں باقی دنوں میں مچھلیاں سمندر کی گہرائی میں ہوا کرتی تھیں. اب ماہی گیر ھفتے کے دن دیکھتے کہ اتنی تعداد میں مچھلیاں وہ بھی گھر بیٹھے مل رہی ہیں یعنی ساحل پر تو ان سے رہا نہ گیا.
ان کے کچھ ماہی گیروں نے اللہ (ج) کے حکم کی نافرمانی کی اور مچھلیوں کا شکار شروع کر دیا. یعنی امتحان میں فیل ہوئے.
اس بستی کے نیک لوگوں نے انہیں اس کام سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے.

اچھا دلچسپ بات یہ کہ ان میں سے کچھ بڑے چالاک نکلے وکلاء کی طرح!
کیسے؟
وہ بولے بھئی دیکھو اللہ (ج) نے ھفتے کو ماہی گیری سے منع کیا ہے نا! ٹھیک ہے مسئلہ نہیں. ہم ھفتے کے دن شکار نہیں کریں گے. انہوں نے کیا کیا ایک چال چلی وہ یہ کہ ساحل سمندر پر بڑے بڑے حوض بنادیئے جن کے دروازے وہ ھفتے کی صبح کھول دیا کرتے مچھلیاں ان حوضوں میں داخل ہوتیں تو شام میں یہ لوگ ان کے دروازے بند کر دیا کرتے. اس طرح مچھلیاں ان حوضوں میں قید ہو جاتیں، یہ لوگ ھفتے کے دن تو ان مچھلیوں کو ہاتھ بھی نہ لگاتے البتہ اتوار کے دن ان کا خوب شکار کیا کرتے اور کہتے ہم نے تو اتوار کو شکار کیا ہے اللہ (ج) نے تو ھفتے کا منع کیا ہے (۲)

اللہ (ج) کو جلال آیا حکم دیا کہ جو اچھے لوگ ہیں وہ اس بستی سے نکل جائیں باقی جو ھفتے کے دن مچھلی کا شکار کرتے تھے ان پر عذاب نازل ہوا وہ بندر بن گئے اور بستی کے دروازے بند ہو گئے تاکہ وہ باہر نہ جا سکیں.

روایات میں ملتا ہے کہ برابر والی بستی کے لوگوں کو جب پتہ چلا تو وہ اس بستی کی دیواروں پر چڑھ کر ان مرد و عورتوں کو بندر کی شکل میں دیکھا کرتے، اور جو بندر شکل سے انہیں لگتا کہ یہ اس کا فلاںِ دوست ہے تو وہ ان بندروں سے پوچھتے کہ تم فلاں ہو؟.
اور وہ اشک بھری آنکھوں سے سر ھلا کر تائید کرتے.
تین دن بعد تیز آندھی چلی اور یہ بستی صفحۂ ھستی سے مٹ گئی. (۳)

سبت ھفتے کے دن کو کہتے ہیں اور جو لوگ اس قصے سے منسوب ہیں انہیں *اصحاب سبت* کہا جاتا ہے.
آج بھی ھفتے کا دن یہودیوں میں مذھبی دن کے طور پر رائج ہے اس دن چھٹی کی تاکید ہے.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

حوالہ جات:
(۱)تفسیر کشاف، ج1، ص355

 (۲) تفسیر برهان، ج2، ص42؛ یہ بات ابن عباس (رض) نے بھی تفسیر مجمع البیان میں آیت کے ذیل میں نقل کی ہے.

(۳) بحارالانوار، ج14، ص56

🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
989199714873+
arezuyeaab.blogfa.com

(اس پیغام کے متن میں تبدیلی شرعاً ناجائز ہے)