جعفر "جذباتی" اور فاتحہ خوانی

از قلم: محمد زکی حیدری

 

سید جعفر حسین جعفری پہرسری! بھارت میں واقع سادات کے مشہور گاؤں پہر سر سے تعلق رکھتے ہیں. ان کے آبا و اجداد آزادی کے بعد پہرسر سے کراچی کے علائقے لیاقت آباد میں آکر قیام پذیر ہوئے لیکن لیاقت آباد میں شیعہ سنی فسادات سے تنگ آکر ان کے بزرگ انچولی آگئے. اس وقت جعفر میاں ابھی چھوٹے تھے. انچولی میں جعفر میاں نے امروہیوں سے جتنی مار کھائی اتنی شاید ہی کسی نے کھائی ہو. وجہ کیا تھی؟ "جذبات" جی ہاں! جعفر میاں جھوٹ نہیں سن سکتے تھے، وہاں سے کسی نے جھوٹ بولا یہاں سے جعفر میاں کی چھری جیسی زبان چلنا شروع! جھوٹ پر جعفر میاں کا پارہ بہت جلد چڑھ جایا کرتا. یہی وجہ تھی کہ محلے میں جعفر میاں کا نام جعفر "جذباتی" پڑ گیا.

اب چند دن قبل ہی کا واقعہ ہے کسی کے یہاں فوتگی ہوگئی، جعفر جذباتی کے دوست شبر نے اسے کہا فلاں دوست کے ابا کا انتقال ہو گیا ہے چلو فاتحہ کرکے آجاتے ہیں. محرم کے دن تھے جذباتی کو کام دھندا تو تھا نہیں سو بولا "سگرٹ پلا پہلے، پھر چلتے ہیں" نکڑ والی کیبن سے سگرٹ لی اور شبر کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گئے. وہاں پہنچے تو مرحوم کا بیٹا پہلے اتنا نہیں رو رہا تھا لیکن جیسے ہی شبر جیسے دوست پر نظر پڑی تو اس کے غم نے جوش مارا، زوردار دھاڑ مار کر بولا "ارے شبر یار میں یتیم ہوگیا ابا چلے گئے، ابا ہمیں کس کے سہارے چھوڑ گئے... آہ!!!"
جذباتی چپ چاپ یہ منظر دیکھ رہا تھا اور کمرہ جس میں وہ بیٹھے تھے، کا نظارہ کر رہا تھا. دیوار پر مرحوم کی لگی تصویر کو دیکھ کر وہ کچھ سوچنے لگا. ایسا جیسے اس نے مرحوم کو کہیں دیکھا ہو.
جب اس لڑکے کا رونا کم ہوا تو شبر نے تفصیل پوچھی کہ مرحوم کا انتقال پرملال کیسے ہوا. بیٹے نے اپنے مرحوم باپ سے عشق کی داستان زور زور سے سنانا شروع کی تاکہ آس پاس بیٹھے لوگ سمجھیں کہ وہ اپنے باپ کا فرمانبردار بیٹا تھا، اور اس نے بڑے بڑے ڈاکٹرز سے مرحوم کا علاج کروایا مگر پھر بھی وہ چل بسے. "ارے شبر بھیا کیا بتاؤں آغا خان، جناح، لیاقت نیشنل ، کراچی تو کراچی اسلام آباد تک... کہاں کہاں نہ لے گیا ابا کو علاج کیلئے لیکن پھر بھی ابا ہم سے روٹھ گئے"
شبر نے اسے دلاسہ دیا. جذباتی جو اس وقت تک چپ تھا، کے ذھن میں سوال آیا اور اس نے مرحوم کے بیٹے کی طرف منہ کر کے کہا "وہ... بھیا آپ سے بات پوچھنی تھی"
"جی بولیں"
"یہ جعفر میرا دوست پڑوسی...."
شبر نے چاہا کہ جعفر جذباتی کا تعارف کروائے مگر جذباتی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے مرحوم کے بیٹے سے پوچھا" بھیا لالو کھیت دس نمبر میں ستار کیبن والے کے پاس آپ کے والد صاحب بیٹھا کرتے تھے؟"
پہلے تو مرحوم کا بیٹا چونک گیا کہ ستار کیبن والے کو یہ اجنبی بندہ کیسے جانتا ہے. لیکن پھر استعجاب سے جواب دیا
"جی! وہ چچا عبدالستار ابا کے بچپن کے دوست ہیں، روز ابا کو میں ہی ان کے ڈراپ کر آتا تھا گاڑی میں..."
"ڈراپ؟؟؟ لیکن بھیا وہ تو ویگن سے اترتے تھے، اور شام میں چچا ستار کی اسکوٹر کے پیچھے بیٹھ کر ہر روز ان ہی کے ساتھ جایا کرتے تھے"
"وہ اصل میں..."
مرحوم کے بیٹے کے طوطے اڑ گئے. جذباتی نے بات جاری رکھی
"میں چچا ستار کی کیبن کے سامنے ویلڈنگ پر کام کرتا ہوں لالو کھیت دس نمبر میں، آپ کے ابا کی تصویر دیکھی تو یاد آیا... " اس کے بعد جذباتی نے شبر کی طرف رخ کیا اور کہنے لگا "اچھا شبر ایک دن پتہ ہے کیا ہوا، میں چچا ستار کی کیبن پر سگرٹ لینے گیا تو اپنا تو تجھے پتہ ہے کھاتہ تھا چچا کے پاس، سگرٹ لی اور چچا سے کہا میرے کھاتے میں لکھ دو ستارچچا. تب چچا کے برابر میں بیٹھے ہوئے اس بوڑھے نے گردن جھکا کر ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کھاتہ....!"
"جعفر تم کیا کہنا چاہ رہے ہو" شبر نے جعفر کی بات کاٹتے ہوئے کہا
"ابے سن تو لو!"
جذباتی نے پھر بولنا شروع کیا " اس بوڑھے میاں نے گردن جھکا کر آہ بھری اور بولا کھاتہ!!! میں سمجھا نہیں لیکن چچا نے اسے جو کہا اس سے اندازہ ہوا کہ اصل کہانی کیا ہے. چچا ستار اسے کہہ رہے تھے تمہارا میں نے بہت کھایا ہے یاد ہے میرے یہاں کھانے کے واندے تھے اور تم لا لا کر مجھے کھلاتے، اس وقت میں بیروزگار تھا تیری نوکری تھی آج تیرے ناصالح بیٹے تجھے پیسہ نہیں دیتے تو کیا ہوا، تیرا یہ یار جب تک زندہ ہے، تو اس کی ہر چیز اپنی سمجھ کیبن کی پان بیڑی کو ادھار کہہ کر مجھے شرمندہ مت کر اور پتہ ہے...."
"بس کر جعفر رہنے دے لوگ سن رہے..."
شبر نے جذباتی کے پیر پر چپ کے سے دبایا تاکہ وہ چپ ہو. مگر جذباتی جب جذبات میں آتا تو مجال کوئی اسے چپ کرا پاتا سو اس نے بات جاری رکھی
"یہ بوڑھے میاں دوپہر سے شام تک چچا ستار کی کیبن پر بیٹھتے، چچا ٹفن میں جو کھانا لاتے یہ دونوں اکثر وہی کھانہ کھاتے. ایک دن چچا کی کیبن پر رش تھا تو انہوں نے میرے ہاتھ میں کچھ پیسے تھمائے اور دوائیوں کی پرچی بھی، بولے جا کر پاس والے اسٹور سے دوائی لے آ... انگریزی اتنی نہیں آتی مجھے مگر اس پر قادر علی نام پڑھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ چچا ستار کی دوائیاں نہیں ہیں... اب پتہ چلا شبر کہ وہ بوڑھے میاں تمہارے اس دوست کے والد صاحب تھے. یقین نہیں آتا جس بیٹے کا اتنا بڑا بنگلہ ہو، گاڑی ہو، اس کے والد کسی کیبن سے پان بیڑی ادھار پر لیتے اور دوائیاں ... "
"شبر یہ کون جاہل ہے ... " مرحوم کے بیٹے نے حاضرین کے سامنے اپنی عزت بچانے کی غرض سے شور مچانا شروع کردیا تاکہ خود کو سچا اور جذباتی کو جھوٹا ثابت کرے. لیکن جذباتی نے بھی شور کا جواب شور سے دیا "ابے جاہل تم جیسے پڑھے لکھے ہوتے ہیں، ہم ان پڑھ تم سے اچھے ہیں، میرا باپ زندہ ہے ویلڈنگ کر کر کے اندھا ہوگیا ہے لیکن کسی کا محتاج نہیں پان بیڑی کیلئے، اس کا ویلڈر بیٹا زندہ ہے اسے کھلانے کیلئے. اپنے پاس ڈگری نہیں ہے اور ہاں اپن لعنت بھیجتے ہیں ایسی ڈگری اور نوکری پر جو باپ کو کسی اور کا محتاج کر دے... " مرحوم کے بیٹے نے جذباتی کو گریبان سے پکڑ لیا "ابا کو بھکاری کہتا ہے تیری ماں کی ..."
مرحوم کے بیٹے نے جب جذباتی کا گریبان پکڑا تو جذباتی جیسے ویلڈر کا سخت ہاتھ اس نرم چمڑی والے افسر کی ناک پر پڑا اور اسے خون آنا شروع ہوگیا یہ دیکھ کر مرحوم کے بھتیجے اور صاحب کے محافظ مل کر جذباتی کی دھلائی کرنے لگے. شبر اور دیگر حاضرین نے کھینچ تان کر جذباتی کو بمشکل کمرے سے باہر نکالا اور دروازہ بند کردیا. شبر جذباتی کو دھکے وکے اور گالیاں دیتا ہوا بائیک تک لایا اور بائیک چالو کی. جذباتی نے سگرٹ نکالنے کی غرض سے جیب میں ہاتھ ڈالا مگر پتہ چلا ہاتھا پائی میں سگرٹ کا پیکٹ وہیں گر گیا تھا، سو وہ اپنی پھٹی قمیض کے دامن سے اپنے منہ کا پسینہ اور زخموں کو صاف کرتا ہوا شبر کے پیچھے بائیک پر بیٹھ گیا. اور شبر بڑبڑاتا ہوا بائیک چلانے لگا.

www.arezuyeaab.blogfa.com