شہید کی سواری (شہیداستاد سید سبط جعفر زیدی کی شہادت کی برسی پر)

شہید استاد کی سواری!
تحریر: محمد زکی حیدری
مسجد نبوی میں ایک ستون ہے جس کا نام ہے "حنّانہ". یہاں دو رکعت نماز ادا کرنا مستحب ہے. حنّانہ پر یہ نام "حنین" کی وجہ سے پڑا جس کا مطلب ہے "آہ و بکیٰ کرنا". اصل میں یہ ایک سوکھے کھجور کا تنا تھا، جس پر رسول (ص) ٹیک لگا کر خطاب کیا کرتے تھے، بعدازاں جب منبر بنایا گیا تو لوگوں نے رونے کی آواز سنی، یہ وہ سوکھے کھجور کے تنے کی آہ و بکی تھی جو رسول (ص) سے محرومی پر رو رہا تھا. رسول (ص) اس کے قریب گئے فرمایا "مت رو میں نے اللہ (ج) سے دعا کی ہے، تجھے بہشت کے درختوں سے قرار دے گا." اب یہ جو کہتے ہیں ذوالجناح کچھ نہیں جانور ہے، بھیا جانور تو دور غیر جاندار بھی معصوم سے متصل ہوجائے تو اس کی یاد میں دو رکعت پڑھنا مستحب ہے.
کل میں نے فیسوک پر شہید استاد سید سبط جعفر زیدی (رح) کی موٹر سائیکل کی تصویر دیکھی تو وہ بھی مجھے ماتم کرتی ہوئی نظر آئی، کہہ رہی تھی شہید استاد آپ کو بھلا میں کیسے بھول سکتی ہوں، وہ دن یاد ہے جب کسی نے آپ کو کار کی چابیاں پیش کی تھیں، آپ نے کبھی وہ کار استعمال نہیں کی اور میں ہمیشہ اسی بات پر فخر کرتی تھی کہ میں وہ ہوں جسے استاد نے کار پر فوقیت دی.
اے شہید! بیشک میں آپ کی سادگی کا نشان تھی لیکن آپ میری شہنشاہی کی علامت تھے، یہ میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ میں آپ جیسے عظیم انسان کی سواری ہوں.
میرے مھربان مالک اب بہت عرصے سے مجھے کسی غریب کی چوکھٹ پر جانا نصیب نہیں ہوا، آپ تھے تو ہر روز کسی غریب، کسی مجبور کے غریب خانے پر اس کی مدد کو جایا کرتے تھے، مجھے اب نہ ان یتیموں سے ملاقات نصیب ہوتی ہے جن کی آپ چھپ چھپ مدد کیا کرتے تھے، نہ وہ لفٹ ہے کہ جو آپ لوگوں کو دیا کرتے اور پھر بڑی سادگی سے ان سے مزاحیہ باتیں کیا کرتے.
اے شہید! مجھے یاد ہے آپ نے ایک عالم دین کی گاڈی دیکھی تھی، جسے کسی نے پروٹوکول نہیں دے رکھا تھا تو آپ نے مجھے ان کی گاڈی کے پیچھے پیچھے دوڑایا تھا کہ اس عالم دین کو پروٹوکول دیا جا سکے، اور فرمایا تھا "یہاں لوگ کتنے بے غور ہیں کہ اتنے بڑے عالم دین کو تنہا چھوڑ دیا"
میرے سادگی پسند شہید اب وہ دن کہاں کہ جب بڑی بڑی امام بارگاہوں کے باہر کھڑے ہو کر میں آپ کی منقبتوں پر لوگوں کی داد و تحسین کی صدائیں سنا کرتی تھی، اور جب آپ سوز و سلام پڑھتے تو عزاداروں کی فلک شگاف آہیں سنا کرتی.
اب اس عمارت کے ایک کونے میں پڑی ہوں جہاں آپ کی یادیں ہیں، دل کی جلن ہے، ماتم ہے اور سوگ. آپ نے مجھے سکھایا کہ شکایت و گلا و شکواہ نہیں کرنا چاہیئے لیکن دست بستہ عرض ہے کہ میرے شہید! آپ کے جانے کے بعد بھی آپ جیسے کئیوں کا خون کراچی کی گلیوں میں بہایا گیا، بہایا جا رہا ہے لیکن دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا کہ جو اس درد کا درمان کرے. جس طرح آپ کے بچے مجھے دیکھ کر رو پڑتے ہیں اسی طرح بدین سندہ سے لیکر گلگت تک کے بچے اپنے شہید سرپرستوں کے زیر استعمال رہنے والی چیزیں دیکھ کر ماتم کرتے ہیں، ان الم رسیدہ معصوم دلوں سے اس وقت فریاد بلند ہوتی ہے جب وہ قوم کے لیڈران کو مختلف موضوعات پر بات کرتے، لائحہ عمل بناتے دیکھتے ہیں لیکن ٹارگٹ کلنگ پر کوئی لائحہ عمل نہیں بناتے، یہ جو شہداء کے بچے بچیوں کی آہ ہے یہ بیشک اس قوم کے خواص تک نہ پہنچتی ہو لیکن آسمانوں تک ضرور جاتی ہوگی. ہاں البتہ اس عوام کو امید ہے کہ ہر سیاہ رات کے بعد روشن سحر لازمی آتی ہے سو اس قوم کو یقین ہے کہ ان کی قربانیاں رائگاں نہیں جائیں گی.
بس آپ وہاں مولا حسین (ع) کے قریب ہیں ان سے صرف اتنا سا عرض کیجئے گا کہ دعا کریں کہ اللہ (ج) اس قوم کو بھی شہید عارف حسین، شہید نمر، شیخ زکزاکی، سید حسن نصراللہ سا کوئی قائد عطا فرمائے جسے ھر وقت غیروں سے سیاسی مصالحت کرنے سے زیادہ اپنے شہداء کے خون کے چھینٹے اور لواحقیں کے آنسوؤں نظر آتے ہوں.
www.fb.com/arezuyeaab
یہ ایک اردو اسلامی ویب بلاگ ہے، جس کا مقصد نشر معارف اسلامی و معارف اہل بیت علیہم السلام ہے.